10/26/2026
چاچڑاں شریف کا بوٹنگ سفاری پارک — امید کی ایک نئی کرن!
دریائے سندھ سے TDCP بوٹنگ سفاری پارک چاچڑاں شریف کی کشتیاں منتقل کیے جانے پر دل بے حد افسردہ ہوا۔ یہ محض چند کشتیوں کی منتقلی کا معاملہ نہیں، بلکہ ایک ایسے سیاحتی منصوبے سے وابستہ امیدوں کا سوال ہے جو اس پسماندہ خطے میں سیاحت کے فروغ، روزگار کی فراہمی اور معاشی خوشحالی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
تقریباً چار سال قبل میری اور ڈسکور پاکستان ٹی وی کے سی ای او جناب ڈاکٹر قیصر رفیق صاحب کی سفارشات پر، سابق سیکرٹری سیاحت و آثارِ قدیمہ پنجاب، جناب ڈاکٹر احسان بھٹہ صاحب کی کاوشوں سے اس منصوبے کا آغاز ہوا تھا۔ تاہم، افسوس کہ عملی طور پر کشتیاں چلانے کے علاوہ منصوبے کی دیگر سہولیات تاحال مکمل طور پر فعال نہ ہو سکیں۔
اسی معاملے کے حل اور منصوبے کی بحالی کے لیے لاہور میں اہم ملاقاتیں ہوئیں۔ اس سلسلے میں سیکرٹری اوقاف پنجاب جناب ڈاکٹر احسان بھٹہ صاحب، سیکرٹری سیاحت جناب سقراط امان رانا صاحب اور منیجنگ ڈائریکٹر TDCP جناب عاصم رضا صاحب سے ملاقات کی اور چاچڑاں شریف کے عوام کے جذبات اور علاقے میں سیاحتی سرگرمیوں کی بحالی سے متعلق اپنے تحفظات اور گزارشات پیش کیں۔
الحمدللہ، ان ملاقاتوں میں مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایم ڈی TDCP جناب عاصم رضا صاحب نے بتایا کہ پارک کے لیے زمین خریدی جا چکی ہے اور چند روز میں ریزورٹ کے ترقیاتی کام میں تیزی لانے کا ارادہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کشتیاں واپس لانے کے حوالے سے پیش رفت کی جائے گی۔
مجھے خوشی ہے کہ متعلقہ افسران نے میری گزارشات کو سنجیدگی سے سنا اور موقع پر فیلڈ عملے سے رابطہ کرکے کام میں تیزی لانے کی ہدایت بھی کی۔
مجوزہ منصوبے میں بچوں کے لیے جھولے، کینٹین، ٹکٹنگ بوتھ، واش رومز، فشنگ اور دیگر تفریحی سہولیات شامل ہوں گی۔ ان سہولیات کی تکمیل سے چاچڑاں شریف اور گردونواح کے عوام کو معیاری تفریح میسر آئے گی اور علاقے کو ایک نمایاں سیاحتی مقام کے طور پر متعارف کرانے میں مدد ملے گی۔
24 کروڑ روپے مالیت کا یہ منصوبہ محض ایک تفریحی پارک نہیں، بلکہ پورے علاقے کی معاشی ترقی میں سرمایہ کاری ہے۔ اس سے مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں، چھوٹے کاروباروں کو فروغ مل سکتا ہے، سیاحوں کی آمدورفت بڑھے گی اور مقامی معیشت کو تقویت ملے گی۔
میں جناب ڈاکٹر احسان بھٹہ صاحب، جناب سقراط امان رانا صاحب اور جناب عاصم رضا صاحب کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ انہوں نے چاچڑاں شریف کے اس اہم مسئلے کو توجہ دی اور مثبت پیش رفت کی یقین دہانی کرائی۔ اب ہماری امید ہے کہ یہ وعدے جلد عملی اقدامات میں تبدیل ہوں گے اور اس منصوبے کو اس کی اصل روح کے مطابق فعال بنایا جائے گا۔
آخر میں ایک اہم سوال اپنی سیاسی قیادت سے بھی ہے۔
عوامی نمائندگی کا اصل مقصد صرف ووٹ حاصل کرکے اقتدار تک پہنچنا نہیں، بلکہ اپنے علاقے کے مسائل حل کرنا، ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کرنا اور عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھانا ہے۔ افسوس کہ چاچڑاں شریف جیسے تاریخی اور سیاحتی امکانات سے مالامال علاقے کو وہ توجہ نہیں مل سکی جس کا یہ حق دار ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے سیاسی نمائندگان ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہوکر آگے بڑھیں، اس منصوبے کی تکمیل کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور علاقے کے عوام کو عملی ترقی کے ثمرات پہنچائیں۔
چاچڑاں شریف کی ترقی، دریائے سندھ کی سیاحت اور مقامی عوام کی خوشحالی ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔
ان شاء اللہ، امید ہے کہ بوٹنگ سفاری پارک جلد مکمل سہولیات کے ساتھ فعال ہوگا اور چاچڑاں شریف ایک بار پھر سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنے گا۔
آصف گشکوری