Law Legends

Law Legends We follows certain practices and customs in order to deal with crime, business, social relationships, property, finance, etc.

The Law is controlled and enforced by the controlling authority.

عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے میں تاخیر = آپکو حق سے محرومی کر سکتا ⚖ہر مقدمہ، اپیل اور دعویٰ وقت کی ایک حد کے اندر دائر کرن...
20/01/2026

عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے میں تاخیر = آپکو حق سے محرومی کر سکتا ⚖
ہر مقدمہ، اپیل اور دعویٰ وقت کی ایک حد کے اندر دائر کرنا لازم ہوتا ہے۔

📌 چند نہایت اہم قانونی وقت جس کے اندر آپکو عدالت جانا ہوتا -

🔹 سول (دیوانی) اپیل (ڈسٹرکٹ کورٹ) — 30 دن
🔹 ہائی کورٹ میں پہلی اپیل — 90 دن
🔹 ہائی کورٹ میں دوسری اپیل — 60 دن
🔹 ریویژن (Revision) — 90 دن

💰 رقم کی وصولی / معاہدے کی خلاف ورزی — 3 سال
🏠 غیر منقولہ جائیداد کا قبضہ — 12 سال
📜 ڈگری کی تکمیل (Ex*****on) — 12 سال

📝 تحریری جواب (Written Statement)
عدالتی سمن کے بعد:
➡️ 30 دن (زیادہ سے زیادہ 90 دن تک توسیع)

🚗 موٹر ایکسیڈنٹ کلیم
❗ کوئی مخصوص حد نہیں، مگر تاخیر کیس کو کمزور کر سکتی ہے

⚠️ چیک ڈس آنر (سیکشن 138)
📨 قانونی نوٹس — 30 دن کے اندر
📄 مقدمہ — نوٹس کی 15 دن کی مدت ختم ہونے کے بعد 30 دن میں

📢 یاد رکھیں:
قانون مدد ضرور دیتا ہے، مگر سوئے ہوئے شخص کو نہیں جگاتا۔
وقت گزر جائے تو مضبوط سے مضبوط کیس بھی کمزور ہو جاتا ہے۔

06/01/2026

*لے پالک بیٹی بھی سگی بیٹی کی طرح باپ سے خرچہ نان و نفقہ لینے کی حقدار ہوتی ہے*

PLJ 2023 lahore note 111

لاہور ہائیکورٹ نے پاسپورٹ قوانین 2021 کے تحت انتظامیہ کے اختیارات کا نہایت باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے یہ بنیادی قانون...
29/12/2025

لاہور ہائیکورٹ نے پاسپورٹ قوانین 2021 کے تحت انتظامیہ کے اختیارات کا نہایت باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے یہ بنیادی قانونی نکتہ طے کیا کہ ذیلی قانون سازی (Rules) کسی صورت بھی قانونِ اصل (Passports Act, 1974) سے تجاوز نہیں کر سکتی۔ عدالت نے واضح کیا کہ پاسپورٹس ایکٹ 1974 کی دفعہ 8 میں صرف پاسپورٹ کو منسوخ (cancel)، ضبط (impound) یا ضبطی میں لینے (confiscate) کے اختیارات دیے گئے ہیں، جبکہ پاسپورٹ کو “Inactivate” کرنے کا اختیار قانون میں سرے سے موجود ہی نہیں۔ اس کے باوجود Rule 23 کے تحت پاسپورٹ کو غیر فعال کرنا نہ صرف قانونی دائرہ اختیار سے تجاوز ہے بلکہ یہ شہریوں کے بنیادی حقوق پر غیر آئینی قدغن بھی ہے، اس لیے عدالت نے اس اختیار کو Ultra Vires قرار دیا۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ پاسپورٹ کو Inactivate کرنے کا طریقہ کار درحقیقت Due Process سے بچنے کا ایک غیر رسمی اور خفیہ ذریعہ بن چکا ہے، جس کے نتیجے میں شہریوں کو بغیر نوٹس، بغیر شوکاز اور بغیر سماعت کے ان کے حقِ سفر سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ ایسے اقدامات شہریوں کو ایئرپورٹس پر اچانک ذلت، سماجی رسوائی اور شدید ذہنی اذیت سے دوچار کرتے ہیں، جو قانون، انصاف اور آئین کے منافی ہے۔ عدالت کے مطابق دفعہ 8 میں دیا گیا باقاعدہ قانونی طریقہ کار شفافیت اور احتساب کو یقینی بناتا ہے، جبکہ Rule 23 کے تحت Inactivation انتظامیہ کو من مانی اور غیر جوابدہ اختیارات فراہم کرتا ہے۔

اسی طرح عدالت نے Passport Control List (PCL) میں کسی شخص کا نام پانچ سال یا اس سے زائد مدت تک رکھنے سے متعلق Rule 22(2)(c) کا بھی تفصیلی جائزہ لیا اور یہ قرار دیا کہ ایسی پابندی کے لیے نہ تو کسی واضح قانونی بنیاد کا تعین کیا گیا ہے اور نہ ہی خلاف ورزی کی نوعیت کے مطابق کوئی درجہ بندی موجود ہے۔ عدالت کے نزدیک ایک ہی مدت کی پابندی کو ہر قسم کی مبینہ خلاف ورزی پر لاگو کرنا، خواہ وہ معمولی غیر قانونی قیام ہو یا سنگین جرائم، منصفانہ، معقول اور متناسب نہیں ہے بلکہ یہ اختیار کے ناجائز اور من مانے استعمال کے مترادف ہے۔

عدالت نے اس اصول کو بھی دوٹوک الفاظ میں بیان کیا کہ حقِ سفر شہری آزادی کا لازمی جزو ہے اور اس پر کوئی پابندی صرف اسی وقت لگائی جا سکتی ہے جب وہ قانون کے مطابق، معقول، شفاف اور تناسب (Proportionality) کے اصول پر پوری اترتی ہو۔ غیر معینہ یا طویل مدت کی پابندیاں، جن کے لیے کوئی واضح معیار یا رہنمائی فراہم نہ کی گئی ہو، Unguided Discretion کے زمرے میں آتی ہیں جو بالآخر Arbitrariness میں تبدیل ہو جاتی ہے اور قانون میں ناقابلِ قبول ہے۔

مزید برآں عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ اصل قانون سازی کے مقاصد پر عدالت سوال نہیں اٹھاتی، تاہم ذیلی یا تفویض شدہ قانون سازی (Delegated Legislation) اگر قانونِ اصل کے مقصد، دائرہ اختیار یا آئینی حقوق سے متصادم ہو تو وہ عدالتی نظرِثانی کے دائرے میں آتی ہے۔ موجودہ معاملے میں عدالت نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ پاسپورٹ قوانین 2021 کی مذکورہ شقیں قانونِ اصل سے متجاوز ہیں اور شہری حقوق کو غیر متناسب طور پر محدود کرتی ہیں، اس لیے انہیں برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔

بالآخر عدالت نے قرار دیا کہ Rule 23 کے تحت پاسپورٹ Inactivate کرنے کا اختیار اور Rule 22(2)(c) کے تحت پانچ سال یا زائد مدت کی پابندی دونوں قانوناً کالعدم ہیں۔ وفاقی حکومت کو ہدایت دی گئی کہ وہ تیس دن کے اندر قوانین کو پاسپورٹس ایکٹ 1974 کے مطابق ہم آہنگ کرے، جبکہ درخواست گزار کی representation کو دوبارہ زیرِ غور لانے کا حکم دیا گیا۔ یہ فیصلہ شہری آزادیوں، قانونی طریقہ کار اور انتظامی اختیارات کی حدود کے حوالے سے ایک اہم اور اصولی عدالتی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

21/12/2025

ائیرپورٹ پر مسافر کو آف لوڈ کرنے سے پہلے وجہ بتانا لازم ہائی کورٹ کا بڑا حکم
اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں تاکہ اب کسی کا مالی نقصان نہ ہو

لاہور ہائی کورٹ، ملتان بینچ نے
W.P No. 13661/2025
میں ایک اہم اور اصولی فیصلہ دیتے ہوئے مسافروں کے بنیادی حقوق کا واضح تحفظ کر دیا ہے۔

عدالتِ عالیہ کے مطابق اب اگر کسی مسافر کو پاکستان کے کسی بھی ائیرپورٹ پر آف لوڈ کیا جاتا ہے تو:

🔹 متعلقہ اتھارٹی پر لازم ہو گا
🔹 کہ مسافر کو تحریری طور پر آف لوڈ کرنے کی وجہ فراہم کی جائے
🔹 محض زبانی وضاحت یا یہ کہنا کہ “سسٹم میں نام ہے” قانوناً کافی نہیں ہو گا

یہ فیصلہ آئینِ پاکستان کے تحت مسافروں کے ان حقوق کی توثیق کرتا ہے:

✔️ آرٹیکل 4 — قانون کے مطابق سلوک
✔️ آرٹیکل 9 — شخصی آزادی
✔️ آرٹیکل 10-A — فیئر ٹرائل اور شفاف طریقہ کار

عدالت نے واضح کیا ہے کہ:

> آف لوڈنگ انتظامی صوابدید نہیں بلکہ ایک ایسا عمل ہے جو قانون اور آئین کے تابع ہے،
اس لیے ہر آف لوڈنگ کا تحریری جواز دینا لازمی ہے۔

📌 اگر کسی مسافر کو بغیر تحریری وجہ کے آف لوڈ کیا جائے تو وہ:

متعلقہ ادارے کے خلاف
Off loading passenger from aeroplane and consequences thereto
لاہور ہائی کورٹ میں آئینی رِٹ پٹیشن دائر کرنے کا مکمل حق رکھتا

غیر منقولہ جائیداد پر ناجائز قبضہ کااب سیشن ٹرائل درج ذیل آفیسرز کریں گے
05/12/2025

غیر منقولہ جائیداد پر ناجائز قبضہ کااب سیشن ٹرائل درج ذیل آفیسرز کریں گے

05/12/2025

فرد بدر کیا ہے؟

بدر کے معنی ہی غلطی کے ہیں ۔۔ واضح نہ ہونے کے ہیں ۔
رجسٹر حقداران زمین کی تیاری کے وقت جو پٹواری کی غلطی سے کوئی ریکارڈ کا اندراج سالم خانے 17 عدد میں جس جگہ بھی ، لفظ،نام ،کوئی حق، یا کوئی دیگر غلط لکھا گیا ہو جبکہ اس کا اصل صحیح ہو ، اس کی درستی کو صحیح کرنے کا نام فرد بدر ہے ۔ اگر اس کا اصل بھی ٹھیک نہ ہو تو اس کو صحیح کرنے کا الگ الگ طریقہ ہے ۔۔۔ یہ فرد بدر صرف رجسٹر حقداران کی تیاری میں ہونیوالی غلطی کی درست کرنے کا نام ہے ۔ جبکہ اس کے برعکس باقی کاغذات مال میں ہونیوالی غلطیوں کی درستی کا علیحدہ علیحدہ طریقہ کار وضع شدہ ہے ۔ رجسٹر گرداوری تیار کرتے وقت غلط اندراج کو صحیح کرنے کیلیئے ،اور انتقال پر ہونیوالی غلطی کی درستگی کیلیئے ،روزنامچہ میں ہونیوالی غلطی کی درستگی کیلیئے، لال کتاب کے اندراج میں غلطی ،فیلڈ بک مین غلطی کی درستی کا طریقہ ، شجرہ پارچہ میں تحریری غلطی کا طریقہ۔سب علیحدہ سے طریقہ ہے ۔ یعنی جمعبندی کی غلطی کی درستی کے علاوہ کسی اور کاغذ میں غلطی کی درستگی کیلیئے فرد بدر کا سہارا نہیں لیا جا سکتا - نیا چار سالہ تحریر کرتے ہوئے جب عمل انتقالات کیا جا رہا ہوتا ہے سابقہ خط خوش نویس نہ ہونے کی وجہ سے مثلا خانہ ملکیت بندے کا نام میر محمد جبکہ لکھنے والے نے امیر محمد لکھ دیا یا اس کے علاوہ وہ کوئی بھی اندراج جو غلط قلمزن ہوا ہوں اس کی حسب ضابطہ درستگی کو فرد بدر کہتے ہیں.قلمی غلطی جو کہ سہواآ ریکارڈ مال واقعہ ھوئی ھو۔کو درست کرنے کےلئے بنایا جاتا ھے۔
فرد بدر ایک ایسا فارم ہوتا ہے جس میں ہر ایسے اندراج کی درستگی کا حکم لکھا جاتا ہے جو کتاب کی غلطی کی وجہ سے قائم ہوا ہو یا سہواً درج ہونے سے رہ گیا ہو اس پر تحریر شدہ حکم ہو بہو انتقال تصور ہوگا

10/11/2025

زیرو ایف آئی آر ایک ایسی ابتدائی رپورٹ ہوتی ہے جو کسی بھی تھانے میں درج کی جا سکتی ہے، چاہے جرم اُس تھانے کے علاقے میں ہوا ہو یا نہیں۔

تفصیل

عام طور پر ایف آئی آر (First Information Report) اسی تھانے میں درج کی جاتی ہے جس کے علاقے میں جرم ہوا ہو۔
لیکن زیرو ایف آئی آر اس اصول سے استثناء ہے۔

اگر کسی وجہ سے متاثرہ شخص (Victim) فوراً متعلقہ تھانے تک نہ پہنچ سکے — جیسے کہ:

ایمرجنسی ہو
علاقے کا تھانہ دور ہو
سفر میں ہو
کسی دوسرے شہر میں ہو
تو وہ قریب ترین تھانے میں جا کر ایف آئی آر درج کروا سکتا ہے۔

زیرو ایف آئی آر کیسے کام کرتی ہے؟

تھانہ کیس کو "Zero Number" کے ساتھ درج کرتا ہے۔
ابتدائی تفتیش کے بعد وہ ایف آئی آر اصل دائرہ اختیار (Jurisdiction) والے تھانے کو منتقل (Transfer) کر دیتا ہے۔
متعلقہ تھانہ پھر مکمل تفتیش کرتا ہے۔

فائدے
متاثرہ شخص کو فوری قانونی تحفظ مل جاتا ہے۔
مقدمے میں وقت ضائع نہیں ہوتا۔
جرم کے شواہد محفوظ رہتے ہیں۔

مثال
اگر کوئی شخص لاہور سے اسلام آباد جاتے ہوئے گجرات میں کسی واردات کا شکار ہو جائے،
تو وہ لاہور یا اسلام آباد میں بھی زیرو ایف آئی آر درج کروا سکتا ہے
پھر وہ ایف آئی آر گجرات کے تھانے کو منتقل کر دی جائے گی۔

06/11/2025

لے پالک (Adopted) بچے کی قانونی حیثیت قانونی گود لینا
پاکستان میں کوئی باقاعدہ قانونی "Adoption Law" موجود نہیں۔ اس لیے لے پالک بچے کو اصلی بیٹا یا بیٹی کی قانونی حیثیت حاصل نہیں ہوتی جیسا کہ مغربی ممالک میں ہوتا ہے۔ Guardians and Wards Act 1890:
اگر کوئی جوڑا یا فرد بچے کی سرپرستی (Guardianship) حاصل کرنا چاہے تو اسے عدالت میں درخواست دینی ہوتی ہے۔
یہ وراثتی حق نہیں دیتا، صرف پرورش کا حق دیتا ہے۔
وراثت (Inheritance):
لے پالک بچہ شرعی و قانونی وارث نہیں ہوتا۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ وہ بچہ آپ کی جائیداد سے حصہ پائے تو:۔
نادرہ قوانین کے مطابق، بچے کا باپ کے خانے میں اصلی والد کا نام درج کیا جانا ضروری ہوتا ہے۔
لے پالک بچہ قانونی طور پر آپ کے نام سے شناختی دستاویزات حاصل نہیں کر سکتا، جب تک کہ قانونی گارڈین شپ نہ ہو
(سورہ احزاب کی آیات 4 اور 5)
کسی آدمی کے سینے میں اللہ تعالٰی نے دو دل نہیں رکھے اور اپنی جن بیویوں کو تم ماں کہہ بیٹھتے ہو انہیں اللہ نے تمہاری ( سچ مچ کی ) مائیں نہیں بنایا ، اور نہ تمہارے لے پالک لڑکوں کو ( واقعی ) تمہارے بیٹے بنایا ہے یہ تو تمہارے اپنے منہ کی باتیں ہیں اللہ تعالٰی حق بات فرماتا ہے اور وہ ( سیدھی ) راہ سجھاتا ہے کے مطابق کوئی بچہ گود لے سکتا ہے، لیکن کوئی اپنا ولدیت تبدیل نہیں کر سکتا، گود لینے والے بچے کو اس کے حقیقی باپ کے نام سے مخاطب کرنا ضروری ہے اور اگر کسی کو گود لینے والے بچے کے والد کا نام معلوم نہ ہو، تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا کہ اسلام میں ان کے ساتھ بھائیوں جیسا سلوک کیا جائے۔
2023 PLD FC 1

لے پالک بیٹا اور بیٹی متوفی کے شرعی وارث نہ ہیں مگر نان و نفقہ کے حقدار ہیں
PLJ 2023 LAHORE(NOTE) 111
2018 MLD 407
2010 ylr 1327 lahore

اسلام میں گود لینے (adoption) کا کوئی تصور نہیں ہے۔ لے پالک اولاد وراثت میں حصہ دار نہ ہے۔
2020 YLR 2317

لے پالک (گود لیے گئے) بچے کی شرعی و قانونی حیثیت کے بارے لاہور ہائیکورٹ کا نہایت معلوماتی رہنما فیصلہ
2024 YLR 1073
اپنے الفاظ کا وزن پہچانیں، لے پالک کو اپنی بیٹی یا بیٹا قرار دینے کے بعد انکار کی گنجائش نہیں!
📖 قانون آپ کے الفاظ کو گواہی سمجھتا ہے!
📚 PLJ 2005 SC 785

گود لیا گیا بچہ دو سال سے کم عمر کا ہو، اور اسے گود لینے والی ماں کی طرف سے کم از کم ایک دن رات براہ راست دودھ پلایا جاتا تھا جس سے رضاعی "رجائی" تعلق پیدا ہوتا تھا اور اس طرح بچہ محرم اور خاندان کے لیے کسی نئے بچے کی ضرورت نہیں تھا۔ گود لینے والے والدین کی حقیقی اولاد--- وراثت کی صورت میں، تاہم، ایک رضائی بچے کو بھی گود لینے والے والدین کی جائیداد پر کوئی حق نہیں تھا، حالانکہ گود لینے والے والدین اپنی جائیداد کا ایک تہائی حصہ اپنے گود لینے والے بچے کے لیے لکھ سکتے ہیں۔
2015 pld 336 lahore
مدعا علیہ خاتون اس کی حقیقی بہن نہیں تھی بلکہ اسے اس کے والدین نے گود لیا تھا-قانون شہادت کی دفعہ 128، 1984 --- آرٹیکل 128 میں دیے گئے وقت کے اندر صرف ایک قابل باپ ہی بچے کی ولدیت کو چیلنج کر سکتا ہے--- فریقین کے والد نے کبھی مدعاعلیہ کی ولدیت کو چیلنج نہیں کیا تھا--- قانون شہادت کی دفعہ 128 کے مطابق ایک بہن نے اپنے بھائی کو چیلنج نہیں کیا۔ ولدیت--- مدعی کی طرف سے دائر مقدمہ سپریم کورٹ نے خارج کر دیا تھا۔
2019 PLD 449 SC
غیر مسلم معاشرہ میں گود لینے کے تمام حقوق موجود ہیں،
گود لینے والے والدین کو، معاشرے میں سرکاری اور نجی سماجی تنظیموں نے بھی قبول کیا اور ایسی سماجی تنظیموں اور کلبوں وغیرہ میں حقوق اور مراعات کو تسلیم کیا، جس میں تنظیم یا کلب کی رکنیت بھی شامل ہے، جیسا کہ معاملہ ہو سکتا ہے ایک گود لیا ہوا بچہ اپنے گود لینے والے والدین کی جائیداد بھی حاصل کر سکتا ہے۔
2015 GBLR 38 SUPREME-
متوفی کی بہنیں ہونے کے ناطے اس نے گود لینے والے بیٹے کے ڈی این اے ٹیسٹ کے مواد کے ساتھ درخواست دائر کی تھی۔ اور وراثت کا حقدار نہیں تھا-ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کی پٹیشن اور اعتراضات کو خارج کر دیا گیا تھا اور درخواست گزاروں کے حق میں جانشینی کا سرٹیفکیٹ جاری کر دیا گیا تھا---درخواست گزاروں کی جانب سے پیش کیے گئے دستاویزات سرکاری تھے جن سے جواب دہندگان نے اختلاف نہیں کیا تھا- جواب دہندگان کو رائے کی موت کے بعد ان قانونی دستاویزات کا اعلان اور منسوخی کا مطالبہ کرنا چاہیے تھا۔ ماں---بچے کی قانونی حیثیت یا متوفی کے بیٹے کے طور پر اس کی حیثیت کو کسی زبانی ثبوت سے غلط ثابت نہیں کیا جا سکتا
گود لینے والا بچہ وراثت کا حقدار ٹھہرایا گیا
2020 Clc 1670
نابالغ عیسائی تھی اور اس کے والدین نے اجازت دی تھی- ہائی کورٹ نے درخواست گزار کو نابالغ کو امریکہ لے جانے کی اجازت دی تھی اور اسے گود لینے کے لیے سرکنڈیشن کی اجازت دی گئی تھی۔ امریکہ جا کر بچی کا نام وہاں کے قوانین کے مطابق درج کروا لے گود لی ہوئی بچی بیرون ملک چلی گئی
2011 Pld 6 isd

11/10/2025
بیوی کو گھر سے زبردستی نکالنے کو جرم بنانےکی تیاریقومی اسمبلی میں نیا قانون پیش کر دیا گیا— اگر شوہر یا خاندان کا کوئی ف...
14/08/2025

بیوی کو گھر سے زبردستی نکالنے کو جرم بنانےکی تیاری

قومی اسمبلی میں نیا قانون پیش کر دیا گیا— اگر شوہر یا خاندان کا کوئی فرد بیوی کو بغیر قانونی وجہ کے گھر سے نکالے گا تو:
⚖ کم از کم 3 ماہ سے 6 ماہ تک قید
💰 دو لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ایک ساتھ!
یہ قانون خواتین کو گھر سے غیر قانونی بے دخلی سے بچانے کے لیے بنایا گیا ہے۔
اب ہر عورت کو اپنے گھر میں محفوظ رہنے کا حق حاصل ہے۔
📜 نیا سیکشن 498D — پاکستان پینل کوڈ میں شامل کرنے کی کوشش
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خاندانی نظام خطرے میں ہے پہلے ہی لوگ رشتے کرتے ہوئے سو طرح کے ناز نخرے کرتے ہیں اب دیکھیں گے کہ کونسی ایسی خاتون ہے جسے گھر کی زینت بنائیں جو گھر پر قبضہ نہ کرے، اس سےخواتین کا ایک بڑا طبقہ رشتوں کی دوڑ سے باہر ہو جائے گا، کرنے والے کام یہ ہیں
جو گفٹس، جہیز کا سامان ہے اسے نکاح نامہ کے ساتھ رجسٹرڈ کریں،
حق مہر کے رولز واضح کریں اس پر گفتگو لازمی قرار دیں،
شادی سے پہلے تھلیسیمیا ایڈز و ضروری طبی ٹیسٹ کروانے کا راستہ دیں نہ کہ ایسا راستہ بنائیں جس میں خاندانی نظام مزید مشکلات کا شکار ہو

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Law Legends posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Law Legends:

Share

Category