Business & IP Legal Services | Protecting brands & businesses.
📲 Inbox for legal support.
10/02/2026
Protect your business. Secure your ideas. Grow with confidence.
We provide complete Business & Intellectual Property Legal Services including:
✔ Company Registration
✔ Trademark & Brand Protection
✔ Contracts & Agreements
✔ Legal Consultation for Startups
Your business deserves legal strength from day one.
📩 Message us today.
06/12/2024
نکاح کے دوران پیدائش----نسب کا حتمی ثبوت:👇
آرٹیکل 128 قانو نِ شہادت آرڈر 1984:
آرٹیکل 128 قانو نِ شہادت آرڈر 1984 کے مطابق، اگر کسی عورت کے ہاں بچے کی پیدائش نکاح کے دوران یا طلاق کے دو سال کے اندر ہوتی ہے، بشرطیکہ وہ طلاق کے بعد غیر شادی شدہ رہے، تو یہ بچے کی قانونی حیثیت کا حتمی ثبوت ہوگا۔ یہ ایک ایسا حقائق ہے جو "حتمی ثبوت" کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کے خلاف کوئی شہادت پیش نہیں کی جا سکتی۔
آرٹیکل 2(ف)(9) قانو نِ شہادت آرڈر 1984 کے تحت، جب ایک حقیقت کو دوسرے حقیقت کا حتمی ثبوت قرار دیا جائے تو عدالت ایک حقیقت کے ثابت ہونے پر دوسری حقیقت کو ثابت سمجھے گی اور اسے جھٹلانے کے لیے کوئی شہادت پیش کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ آرٹیکل 128 کے تحت اگر کسی بچے کی پیدائش اس مدت کے دوران ہوتی ہے تو یہ اس بات کا حتمی ثبوت ہوگا کہ وہ جائز بچہ ہے۔ نکاح کے آغاز، طلاق کی تاریخ اور بچے کی پیدائش کی تاریخ جو آرٹیکل 128 کے تحت دی گئی مدت میں آتی ہے، ثابت ہونے کے بعد عدالت کسی قسم کی شہادت کو قبول نہیں کرے گی جو بچے کی جائز حیثیت کو جھٹلا سکے۔
آرٹیکل 128(1)(ا) میں ذکر ہے کہ اگرچہ نکاح کے دوران یا طلاق کے دو سال کے اندر بچے کی پیدائش جائزیت کا حتمی ثبوت ہے، لیکن مخصوص حالات میں شوہر بچے کی ولدیت کو تسلیم نہ کرنے کا حق رکھتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شوہر بچے کی ولدیت کو کس وقت تسلیم نہ کرنے کا حق رکھتا ہے؟
شریعت ایکٹ 1962 کا سیکشن 2
مغربی پاکستان مسلم پرسنل لاء (شریعت) ایپلیکیشن ایکٹ 1962 کے سیکشن 2 کے تحت، "کسی بھی رسم و رواج یا رواج کے باوجود، ... جائزیت یا ناجائزیت سے متعلق تمام معاملات میں، مسلم پرسنل لاء (شریعت) فیصلہ کا اصول ہوگا، بشرطیکہ موجودہ قانون کے تحت کوئی اور حکم نہ ہو۔"
شریعت کے اصولوں کے مطابق، بچے کی ولدیت کو فوری طور پر بچے کی پیدائش کے فوراً بعد یا نفاس کی مدت (زیادہ سے زیادہ 40 دن) کے اندر تسلیم نہ کرنے کی اجازت ہے۔ امام ابو حنیفہ، امام محمد، اور امام یوسف کے مطابق، اس مدت کے بعد ولدیت کو تسلیم نہ کرنے کی کوئی قانونی گنجائش نہیں۔ یہ اصول فتاویٰ عالمگیری اور ہدایہ میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔
معاشرتی اور اخلاقی پہلو
یہ اصول خواتین اور معصوم بچوں کی عزت و وقار اور خاندانی نظام کی اہمیت کو برقرار رکھنے کے لیے ہیں۔ جب بھی گزارہ الاؤنس کا دعویٰ دائر کیا جاتا ہے، اکثر مرد بچے کی ولدیت کو جھٹلاتے ہوئے ڈی این اے ٹیسٹ کی درخواست کرتے ہیں۔ یہ عمل عدالت کے نظام اور بچوں کی فلاح کے خلاف ہے اور اسے سختی سے روکنا چاہیے۔
حوالہ کیس
سخاوت حسین بمقابلہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج بھلوال و دیگر
(2024 ایل ایچ سی 5579)
27 نومبر 2024
جسٹس احمد ندیم ارشد
13/11/2024
12/11/2024
پنجاب کے دفتروں کے 50 فیصد عملے کو آن لائن کام پر منتقل کرنے کا حکم
دفاتر میں صرف 50 فیصد اسٹاف کو بلایا جائے گا، مراسلہ
50 فیصد اسٹاف گھروں سے کام کرنے کا پابند ہوگا، مراسلہ
مختلف محکموں کے درمیان میٹنگز بھی آن لائن کرنی ہوں گی، مراسلہ
دفاتر آنے والے افراد کار پول ان کرنے کے پابند ہوں گے، مراسلہ
فیصلے کا اطلاق پنجاب کے تمام سرکاری، نیم سرکاری، خودمختار اداروں پر ہوگا، مراسلہ
ٹرانسپورٹ سے خطرناک مادوں کا اخراج اسموگ بڑھا رہا ہے، مراسلہ
سڑکوں پر ٹریفک کم کرنے کے پیش نظر فیصلہ کیا گیا، مراسلہ
50 فیصد عملے کو آن لائن کرنے کے فیصلے کا فوری اطلاق کرنے کا حکم
ڈی جی ماحولیات پنجاب ڈاکٹر عمران حامد نے تمام سیکریٹریز، سربراہان کو ہدایت جاری کردیں
23/09/2024
پنجاب بھر کے اراضی ریکارڈ سنٹر مین تعینات ریونیو آفیسر کو محکمانہ ہدایت جاری کر دی گی ہے جسکے تحت کسی عدالتی مقدمہ مین حکم امتناع/ سٹیٹس کو جاری ہونے کے صرف اتنا رقبہ لاک کرین گین جو کہ معززعدالت نے بتایا ہو گا۔۔کیونکہ اراضی ریکارڈ سنٹر مین وطیرہ بن چکا ہے کہ اگر ایک مقدمہ مین مدعی نے مدعا الہیھم پر سٹے آرڈر صرف دو کنال کی حد تک لگایا ہے اور اس کھیوٹ مین مدعاالھیم کی ٹوٹل اراضی دس کنال ہے تو اراضی سنٹر کا عملہ یا تو تمام کھیوٹ بلاک کر دیتا تھا یا مدعاالھیم کا ٹوٹل رقبہ یعنی دس کنال کو بلاک کر دیتا تھا۔اب صرف رقبہ بلاک وہ کرنا ہے جو عدالت طے کرے گی یعنی جس اراضی کا تنازعہ چل رہاہے اگر تنازعہ دو کنال کا ہے تو صرف دو کنال رقبہ لاک ہو گا اور اگر تنازعہ پانچ کنال کا ہے تو رقبہ لاک پانچ کنال ہو گا اور مزیر اراضی سنٹر کا ریوینیو آفیسر سا یل کی درخواست پر لکھ کر ماتحت عملہ کو ہدایت کرے گا کہ سٹے آرڈر کو کیسے اور کتنا رقبہ لاک کرنا ہے۔۔۔اب اس عذاب سے جان ختم ہو گی ہے کی سٹے آتے ہی تمام کھیوٹ لاک اور مدعاالھیم کا سب رقبہ لاگ کر دیا جاتاتھا اور اس کے باوجود اگر ریونیو آفیسر تنازعے والے رقبہ سے زاہد رقبہ بلاک کرتا ہے
Be the first to know and let us send you an email when Wains Legal Consultants posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.