QISSA KHANI

QISSA KHANI ​📜 Sadiyon purane kisse, ankahi daastanein aur sachhi kahaniyan. Welcome to the world of Horror, Mystery, & True Crime. Har roz ek naya qissa! ✨

😱 وہ کمرہ جو 10 سال سے بند تھا — Part 3عمران بچے کو دیکھ کر پیچھے ہٹ گیا۔"میرا کوئی بھائی نہیں ہے!" اس نے کانپتی آواز می...
08/27/2026

😱 وہ کمرہ جو 10 سال سے بند تھا — Part 3

عمران بچے کو دیکھ کر پیچھے ہٹ گیا۔

"میرا کوئی بھائی نہیں ہے!" اس نے کانپتی آواز میں کہا۔

بچہ خاموش رہا، پھر آہستہ سے بولا:

"تمہیں یہی بتایا گیا تھا..."

اس نے اپنی جیب سے ایک پرانی چابی نکالی اور عمران کی طرف بڑھا دی۔

"یہ چابی ابو نے مجھے دی تھی۔ کہا تھا، جب عمران واپس آئے تو اسے دے دینا۔"

عمران نے چابی ہاتھ میں لی تو اسے اچانک اپنے بچپن کی ایک دھندلی سی یاد آئی...

ایک چھوٹا بچہ، ایک سرخ گیند، اور اسی کمرے کا دروازہ۔

وہ گھبرا کر دیوار پر لگی تصاویر کی طرف دیکھنے لگا۔

اب اسے ایک تصویر میں وہی بچہ نظر آیا۔

تصویر کے پیچھے صرف ایک تاریخ لکھی تھی:

"10 سال پہلے — آخری رات۔"

عمران نے بچے سے پوچھا:

"اس رات کیا ہوا تھا؟"

بچے کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

"دادا نے مجھے یہاں چھپایا تھا... کیونکہ ابو مجھے مارنا چاہتے تھے۔"

عمران حیران رہ گیا۔

اچانک باہر سے قدموں کی آواز آنے لگی۔

ٹھک... ٹھک... ٹھک...

بچہ فوراً بولا:

"وہ آ گئے ہیں!"

عمران نے پوچھا:

"کون؟"

بچے نے دروازے کی طرف دیکھا اور سرگوشی کی:

"ہمارے ابو..."

اسی لمحے عمران کے فون پر ایک نامعلوم نمبر سے تصویر آئی۔

تصویر میں ان دونوں بھائیوں کا بچپن دکھائی دے رہا تھا۔

لیکن تصویر کے پیچھے ایک آدمی کھڑا تھا۔

عمران نے زوم کیا تو اس کا دل دہل گیا۔

وہ آدمی...

آج بھی بالکل ویسا ہی نظر آ رہا تھا۔ 😨

پھر دروازے کے باہر سے ایک بھاری آواز آئی:

"عمران... اپنے بھائی کو میرے حوالے کر دو۔"

عمران نے بچے کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا۔

اور اسی لمحے کمرے کی دیوار کے پیچھے سے ایک خفیہ دروازہ کھل گیا۔

جاری رہے گا...

💬 آپ کے خیال میں خفیہ دروازہ کہاں جاتا ہے؟

😱 وہ کمرہ جو 10 سال سے بند تھا — Part 2عمران دروازے کے سامنے ساکت کھڑا تھا۔اندر سے دوبارہ آواز آئی:"عمران... دروازہ مت ک...
08/26/2026

😱 وہ کمرہ جو 10 سال سے بند تھا — Part 2

عمران دروازے کے سامنے ساکت کھڑا تھا۔

اندر سے دوبارہ آواز آئی:

"عمران... دروازہ مت کھولنا۔"

عمران حیران رہ گیا۔

وہی آواز چند سیکنڈ پہلے اسے اندر آنے کے لیے بلا رہی تھی، مگر اب اسے روک رہی تھی۔

اس نے فوراً فون کی ٹارچ آن کی اور دروازے کے نیچے سے اندر روشنی ڈالی۔

اندر ایک چھوٹا سا لکڑی کا صندوق نظر آ رہا تھا۔

اچانک صندوق خود ہی آہستہ سے کھل گیا۔

عمران کے فون پر ایک نیا میسج آیا:

"صندوق مت کھولنا۔ تمہارے دادا نے اسے اسی لیے بند رکھا تھا۔"

عمران کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی۔

اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔

پورا کوریڈور خالی تھا۔

پھر اندر سے بچے کے رونے کی آواز آئی:

"عمران... مجھے یاد نہیں رہا کہ میں یہاں کیوں ہوں۔"

عمران نے کانپتے ہاتھ سے دروازے کا پرانا تالا چھوا۔

اسی لمحے تالا خود بخود کھل گیا۔

دروازہ آہستہ سے چرچراتا ہوا کھلنے لگا۔

عمران نے اندر جھانکا۔

کمرہ بالکل خالی تھا۔

صرف دیوار پر درجنوں پرانی تصاویر لگی تھیں۔

وہ ایک ایک تصویر دیکھتا آگے بڑھا۔

پہلی تصویر میں اس کے دادا تھے۔

دوسری میں اس کا والد۔

تیسری تصویر دیکھ کر عمران کے قدم رک گئے۔

تصویر میں وہ خود کھڑا تھا...

مگر تصویر کے نیچے تاریخ لکھی تھی:

"10 سال پہلے۔"

عمران نے گھبرا کر تصویر اتاری۔

اسی وقت اس کے پیچھے سے بچے کی آواز آئی:

"یہ تم نہیں ہو..."

عمران آہستہ سے پلٹا۔

کمرے کے کونے میں ایک چھوٹا بچہ کھڑا تھا۔

وہ بالکل عمران جیسا تھا۔

بچے نے سر اٹھا کر کہا:

"میں تمہارا وہ بھائی ہوں... جس کے بارے میں سب نے تم سے جھوٹ بولا۔" 😨

جاری رہے گا...

💬 آپ کے خیال میں عمران کے دادا نے اس بچے کو 10 سال تک کیوں چھپایا؟



😱 وہ کمرہ جو 10 سال سے بند تھا — Part 1عمران کو اپنے دادا کا پرانا گھر وراثت میں ملا۔گھر کی صفائی کرتے ہوئے اسے اوپر کی ...
08/26/2026

😱 وہ کمرہ جو 10 سال سے بند تھا — Part 1

عمران کو اپنے دادا کا پرانا گھر وراثت میں ملا۔
گھر کی صفائی کرتے ہوئے اسے اوپر کی منزل پر ایک ایسا کمرہ ملا جس کے دروازے پر زنگ لگا تالا تھا۔
عمران نے پڑوسی سے پوچھا:
"یہ کمرہ ہمیشہ بند کیوں رہتا تھا؟"
پڑوسی کا چہرہ اچانک سنجیدہ ہوگیا۔

وہ بولا:
"بیٹا، اس کمرے کی چابی کبھی مت ڈھونڈنا۔"
عمران نے ہنس کر بات ٹال دی۔
لیکن اسی رات تقریباً 3 بجے اسے اوپر سے کسی چیز کے گرنے کی آواز آئی۔
دھڑام!
وہ ٹارچ لے کر اوپر گیا۔
کمرے کا تالا ابھی بھی لگا ہوا تھا۔
مگر دروازے کے نیچے سے روشنی باہر آ رہی تھی۔
عمران کے ہاتھ کانپنے لگے۔

اس نے دروازے کے قریب جا کر کان لگایا۔
اندر سے کسی بچے کے رونے کی آواز آ رہی تھی۔
"امی... مجھے یہاں سے نکالو..."
عمران فوراً پیچھے ہٹ گیا۔
اسی لمحے اس کے فون پر ایک نامعلوم نمبر سے تصویر آئی۔
تصویر میں وہی بند کمرہ تھا...

مگر تصویر اسی وقت اندر سے لی گئی تھی۔
اور تصویر کے کونے میں ایک چھوٹا بچہ کھڑا تھا۔
عمران نے زوم کیا تو اس کے ہاتھ سے فون گر گیا۔
کیونکہ وہ بچہ...

بالکل عمران جیسا دکھائی دے رہا تھا۔ 😨
پھر بند دروازے کے اندر سے ایک آواز آئی:
"عمران... تم آخر واپس آ ہی گئے۔"

جاری رہے گا...

💬 آپ کے خیال میں اس بند کمرے میں کون تھا؟

😱 دروازے کے پیچھے کون تھا؟ — Part 4سارہ نے آہستہ سے پیچھے مڑ کر دیکھا...اس کے پیچھے وہی نقاب پوش شخص کھڑا تھا۔سارہ چیخنے...
08/24/2026

😱 دروازے کے پیچھے کون تھا؟ — Part 4

سارہ نے آہستہ سے پیچھے مڑ کر دیکھا...
اس کے پیچھے وہی نقاب پوش شخص کھڑا تھا۔
سارہ چیخنے ہی والی تھی کہ اس شخص نے فوراً انگلی ہونٹوں پر رکھ کر اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔
پھر اس نے اپنے ہاتھ سے چاندی کی انگوٹھی اتاری اور سارہ کے سامنے رکھ دی۔

"یہ انگوٹھی تمہارے بھائی کی نہیں ہے..."
سارہ حیران رہ گئی۔
نقاب پوش شخص نے اپنا ماسک اتارا۔
سارہ کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔
وہ اس کا بھائی نہیں تھا... بلکہ اس کے والد کا پرانا دوست تھا، جسے سارہ دس سال پہلے مردہ سمجھتی تھی۔
اس نے آہستہ سے کہا:

"تمہارا بھائی باہر گاڑی میں نہیں ہے۔"
سارہ نے فوراً کھڑکی سے نیچے دیکھا۔
گاڑی ابھی بھی کھڑی تھی۔
لیکن اگلے ہی لمحے گاڑی کا دروازہ کھلا...
اور ایک شخص باہر نکلا۔
سارہ کے ہاتھ سے فون گر گیا۔

کیونکہ وہ شخص بالکل اس کے بھائی جیسا نظر آ رہا تھا۔
نقاب پوش شخص نے سرگوشی کی:
"وہ تمہارا بھائی نہیں... اس کا رازدار ہے۔"
اسی وقت نیچے کھڑے شخص نے اوپر دیکھ کر مسکرایا۔
پھر اس نے اپنا فون نکالا۔

سارہ کے فون پر فوراً ایک میسج آیا:
"اب تمہارے پاس صرف پانچ منٹ ہیں۔ فیصلہ کرو... کس پر یقین کرنا ہے؟"

سارہ نے دونوں طرف دیکھا۔
ایک شخص کمرے میں تھا...
اور دوسرا نیچے گاڑی کے پاس۔
دونوں خود کو اس کا محافظ بتا رہے تھے۔
پھر اچانک دروازے پر زور دار دستک ہوئی:
ٹھک! ٹھک! ٹھک!

باہر سے آواز آئی:
"سارہ! دروازہ کھولو... اصل قاتل میں ہوں!" 😨

جاری رہے گا...

💬 آپ کے خیال میں اصل قاتل کون ہے: کمرے والا یا گاڑی کے پاس کھڑا شخص؟

😱 دروازے کے پیچھے کون تھا؟ — Part 3سارہ نے تصویر دوبارہ غور سے دیکھی۔اس کی نظریں نقاب پوش شخص کے ہاتھ پر رک گئیں۔اس کے ہ...
08/23/2026

😱 دروازے کے پیچھے کون تھا؟ — Part 3

سارہ نے تصویر دوبارہ غور سے دیکھی۔
اس کی نظریں نقاب پوش شخص کے ہاتھ پر رک گئیں۔
اس کے ہاتھ میں ایک چاندی کی انگوٹھی تھی، جس پر ایک خاص نشان بنا ہوا تھا۔

سارہ کو اچانک یاد آیا...
یہی انگوٹھی اس کے بھائی کے ہاتھ میں بھی تھی۔
اس نے فوراً بھائی کو کال کی، مگر فون بند تھا۔
اسی لمحے گھر کی بجلی چلی گئی۔
پورا کمرہ اندھیرے میں ڈوب گیا۔

پھر الماری کے اندر سے موبائل کی روشنی نظر آئی۔
سارہ آہستہ آہستہ آگے بڑھی اور فون اٹھایا۔
اس پر ایک لائیو ویڈیو چل رہی تھی۔
ویڈیو میں وہ خود نظر آ رہی تھی...

مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ کیمرہ اس کے کمرے کے اندر لگا ہوا تھا۔
اچانک ویڈیو میں ایک شخص اس کے پیچھے سے گزرا۔
سارہ نے فوراً پیچھے مڑ کر دیکھا۔

کوئی نہیں تھا۔
پھر فون پر ایک میسج آیا:
"اگر زندہ رہنا چاہتی ہو تو گھر سے فوراً نکل جاؤ۔ دروازہ مت کھولنا۔"
سارہ نے کھڑکی کی طرف دیکھا۔
نیچے ایک گاڑی کھڑی تھی۔
گاڑی میں اس کا بھائی بیٹھا تھا۔
اس نے اوپر دیکھ کر ہاتھ سے اشارہ کیا:
"کھڑکی سے باہر آؤ!"

سارہ نے ابھی کھڑکی کھولنے کے لیے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اس کے فون پر ایک آخری تصویر آئی۔
تصویر میں اس کا بھائی گاڑی کے اندر نہیں...
بلکہ اس کے پیچھے کمرے میں کھڑا تھا۔ 😨
سارہ نے آہستہ سے پیچھے دیکھا...
اور کسی نے اس کے کان میں سرگوشی کی:
"اب تمہیں حقیقت معلوم ہو گئی ہے۔"

جاری رہے گا...

💬 آپ کے خیال میں سارہ کے پیچھے کون کھڑا تھا؟

😱 دروازے کے پیچھے کون تھا؟ — Part 2سارہ نے الماری میں چھپا ہوا کیمرہ دیکھا تو اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔اچانک اس کے فون پر ا...
08/22/2026

😱 دروازے کے پیچھے کون تھا؟ — Part 2

سارہ نے الماری میں چھپا ہوا کیمرہ دیکھا تو اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔
اچانک اس کے فون پر ایک نیا میسج آیا:
"کیمرہ مت ہٹانا... وہی تمہیں بچا رہا ہے۔"
سارہ نے فوراً کمرے کی لائٹ بند کر دی اور بستر کے پیچھے چھپ گئی۔
باہر دروازے پر پھر دستک ہوئی۔
ٹھک... ٹھک... ٹھک...
اس بار آواز اس کے بھائی کی نہیں تھی۔
ایک بھاری آواز آئی:
"سارہ، مجھے معلوم ہے تم نے کیمرہ ڈھونڈ لیا ہے۔"
سارہ نے خوف سے اپنا منہ بند کر لیا۔
پھر اچانک اس کے فون پر ایک ویڈیو آئی۔
ویڈیو میں وہی کمرہ نظر آ رہا تھا...
لیکن ویڈیو تین گھنٹے پہلے کی تھی۔
اس میں ایک نقاب پوش شخص خاموشی سے کمرے میں داخل ہوا، الماری کے پیچھے کیمرہ لگایا، اور جاتے ہوئے کیمرے کی طرف دیکھ کر کہا:
"جب وہ سچ جان جائے گی، تو اسے اپنے بھائی پر شک ہوگا۔"
سارہ کا دل رک سا گیا۔
اسی لمحے اسے اپنے بھائی کا فون آیا۔
بھائی نے صرف اتنا کہا:
"سارہ، کسی پر یقین مت کرنا... حتیٰ کہ مجھ پر بھی نہیں۔"
کال اچانک کٹ گئی۔
پھر الماری کے اندر سے ایک لفافہ نیچے گرا۔
سارہ نے لفافہ کھولا تو اندر ایک پرانی تصویر تھی۔
تصویر میں سارہ، اس کا بھائی... اور وہی نقاب پوش شخص کھڑا تھا۔
تصویر کے پیچھے صرف ایک جملہ لکھا تھا:
"تم اسے پہلے ہی جانتی ہو۔" 😨

جاری رہے گا...

💬 آپ کے خیال میں نقاب پوش شخص کون ہے؟

😱 دروازے کے پیچھے کون تھا؟رات کے 2:13 بجے سارہ کے فون پر اس کے اپنے نمبر سے کال آئی۔وہ گھبرا گئی، کیونکہ فون اس کے ہاتھ ...
08/22/2026

😱 دروازے کے پیچھے کون تھا؟

رات کے 2:13 بجے سارہ کے فون پر اس کے اپنے نمبر سے کال آئی۔
وہ گھبرا گئی، کیونکہ فون اس کے ہاتھ میں تھا۔
کال اٹھائی تو دوسری طرف اس کی اپنی آواز سنائی دی:
"دروازہ مت کھولنا... چاہے باہر کوئی بھی ہو۔"
سارہ کے جسم میں خوف کی لہر دوڑ گئی۔
اسی لمحے...
ٹھک... ٹھک... ٹھک...
دروازے پر دستک ہوئی۔
باہر سے اس کے بھائی کی آواز آئی:
"سارہ! دروازہ کھولو، میں ہوں۔"
سارہ نے فوراً اپنے بھائی کو کال کی۔
بھائی نے فون اٹھاتے ہی کہا:
"میں ابھی شہر سے باہر ہوں... تمہارے گھر کے قریب بھی نہیں!"
سارہ کے ہاتھ کانپنے لگے۔
دروازے کے باہر موجود شخص نے دوبارہ کہا:
"سارہ، مجھے معلوم ہے تم اندر ہو۔"
سارہ خاموش رہی۔
پھر اس کے فون پر ایک تصویر آئی۔
تصویر میں وہ خود اپنے کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی...
اور تصویر ابھی اسی لمحے کھینچی گئی تھی۔
اس نے ڈرتے ہوئے پورے کمرے میں دیکھا۔
کوئی نظر نہیں آیا۔
پھر اسے اپنے پیچھے الماری کا دروازہ تھوڑا سا کھلا دکھائی دیا۔
وہ آہستہ سے پیچھے ہٹی۔
الماری کے اندر سے ایک اور فون بجنے لگا۔
اس نے فون نکالا۔
اس کی اسکرین پر صرف ایک میسج تھا:
"اب دروازہ کھول دو... میں باہر نہیں ہوں۔" 😨
سارہ نے فوراً الماری کے اندر دیکھا۔
وہاں ایک چھوٹا کیمرہ لگا ہوا تھا۔
اور کیمرے کی اسکرین پر...
سارہ خود نظر آ رہی تھی۔
لیکن وہ تصویر اس کے پیچھے سے بن رہی تھی۔
😱 آخر اس کے گھر میں کون موجود تھا؟

جاری رہے گا...

💬 آپ ہوتے تو دروازہ کھولتے یا پولیس کو کال کرتے؟

😱 آخری وائس میسجرات کے 1:17 بجے عارف کے فون پر اس کے بڑے بھائی کا وائس میسج آیا۔عارف نے میسج چلایا۔دوسری طرف بھائی کی گھ...
08/21/2026

😱 آخری وائس میسج
رات کے 1:17 بجے عارف کے فون پر اس کے بڑے بھائی کا وائس میسج آیا۔
عارف نے میسج چلایا۔
دوسری طرف بھائی کی گھبرائی ہوئی آواز تھی:
"عارف... کسی پر بھروسہ مت کرنا۔ اگر میں صبح تک واپس نہ آؤں تو الماری کے نیچے دیکھنا۔"
میسج ختم ہو گیا۔
عارف نے فوراً بھائی کو کال کی، مگر فون بند تھا۔
صبح پولیس کے ساتھ وہ بھائی کے گھر پہنچا۔ گھر کا دروازہ کھلا تھا، مگر اندر کوئی نہیں تھا۔
عارف کو وائس میسج یاد آیا۔
اس نے الماری ہٹائی تو فرش کے نیچے ایک چھوٹا سا ڈبہ ملا۔
ڈبے میں ایک USB، کچھ کاغذات اور ایک تصویر تھی۔
تصویر میں عارف کا بھائی تین لوگوں کے ساتھ کھڑا تھا۔
عارف نے تصویر غور سے دیکھی تو حیران رہ گیا۔
ان تین لوگوں میں سے ایک شخص وہ خود تھا۔
لیکن تصویر دس سال پرانی تھی، جب عارف صرف سولہ سال کا تھا۔
اسی لمحے اس کے فون پر ایک نیا میسج آیا:
"تمہیں حقیقت جاننے کا حق ہے۔ USB ابھی مت کھولنا۔"
عارف نے گھبرا کر پیچھے دیکھا۔
دروازے کے باہر کوئی کھڑا تھا۔
اس نے آہستہ سے دروازہ کھولا...
مگر باہر صرف ایک لفافہ پڑا تھا۔
لفافے پر لکھا تھا:
"اگر USB کھول دی تو اگلا نمبر تمہارا ہوگا۔"
عارف نے USB ہاتھ میں پکڑی اور سوچنے لگا...
آخر دس سال پرانی تصویر میں وہ خود کیوں تھا؟ 😨
جاری رہے گا...
💬 آپ کے خیال میں USB میں کیا راز ہے؟ کمنٹ میں بتائیں۔

❤️ وہ تصویر جو ہر سال آتی تھیسعد کو ہر سال اپنی سالگرہ پر ایک نامعلوم نمبر سے صرف ایک تصویر موصول ہوتی تھی۔پہلے سال تصوی...
08/19/2026

❤️ وہ تصویر جو ہر سال آتی تھی
سعد کو ہر سال اپنی سالگرہ پر ایک نامعلوم نمبر سے صرف ایک تصویر موصول ہوتی تھی۔
پہلے سال تصویر میں ایک چھوٹا سا بچہ تھا۔
دوسرے سال وہی بچہ اسکول یونیفارم میں تھا۔
تیسرے سال وہ سائیکل چلا رہا تھا۔
سعد حیران تھا کہ یہ تصاویر اسے کون بھیج رہا ہے۔
پانچویں سال اس نے جواب میں لکھا:
"آپ کون ہیں؟ اور یہ تصاویر مجھے کیوں بھیجتے ہیں؟"
کچھ دیر بعد جواب آیا:
"اگر حقیقت جاننا چاہتے ہو تو کل شام پرانے پل کے پاس آنا۔"
سعد وہاں پہنچا تو ایک نوجوان لڑکی اس کا انتظار کر رہی تھی۔
اس نے کہا:
"میرا نام مریم ہے۔ یہ تصاویر میرے بھائی کی ہیں۔"
سعد حیران رہ گیا۔
مریم نے بتایا کہ بچپن میں ایک حادثے کے دوران سعد کے والد نے اس کے بھائی کی جان بچائی تھی۔ جانے سے پہلے انہوں نے صرف اتنا کہا تھا:
"اگر کبھی میرا بیٹا تمہیں ملے تو اسے بتانا کہ اس کے والد ایک بہادر انسان تھے۔"
مریم کے بھائی کا کچھ سال پہلے انتقال ہو چکا تھا، مگر اس نے ہر سال سعد کی سالگرہ پر وہ تصاویر بھیجنے کا وعدہ کیا تھا۔
سعد کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
پھر مریم نے آخری تصویر اس کے ہاتھ میں دی۔
اس تصویر میں سعد کے والد مریم کے بھائی کو گود میں اٹھائے ہوئے تھے۔
تصویر کے پیچھے صرف ایک جملہ لکھا تھا:
"کچھ نیکیاں انسان کے جانے کے بعد بھی رشتے بنا دیتی ہیں۔" ❤️
سعد نے مریم کی طرف دیکھا اور مسکرا دیا۔
کبھی کبھی ایک پرانی یاد... دو اجنبی دلوں کو ہمیشہ کے لیے قریب لے آتی ہے۔
اگر کہانی نے دل چھو لیا تو اسے ضرور شیئر کریں۔ ❤️

Address

Los Angeles
Los Angeles, CA

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when QISSA KHANI posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share