Malik Yaseen

Malik Yaseen Don't Wait the perfect moments, take the moment and make it perfect Business Setup

🎉 Just completed level 3 and am so excited to continue growing as a creator on Facebook!
08/12/2025

🎉 Just completed level 3 and am so excited to continue growing as a creator on Facebook!

08/12/2025

‏ایک شہنشاہ جب دنیا کو فتح کرنے کے ارادے سے نکلا تو اس کا گزر افریقہ کی ایک ایسی بستی سے ہوا جو دنیا کے ہنگاموں سے دور ا...
02/13/2025

‏ایک شہنشاہ جب دنیا کو فتح کرنے کے ارادے سے نکلا تو اس کا گزر افریقہ کی ایک ایسی بستی سے ہوا جو دنیا کے ہنگاموں سے دور اور بڑی پرسکون تھی۔ یہاں کے باشندوں نے جنگ کا نام تک نہ سنا تھا اور وہ فاتح

ور مفتوح کے معنی سے ناآشنا تھے‘ بستی کے باشندے شہنشاہ اعظم کو مہمان کی طرح ساتھ لے کر اپنے سردار کی جھونپڑی میں پہنچے۔ سردار نے اس کا بڑی گرم جوشی سے استقبال کیا اور پھلوں سے شہنشاہ کی تواضع کی۔

کچھ دیر میں دو قبائلی فریق مدعی اور مدعا الیہ کی حیثیت سے اندر داخل ہوئے۔ سردار کی یہ جھونپڑی عدالت کا کام بھی دیتی تھی۔
‏مدعی نے کہا۔
”میں نے اس شخص سے زمین کا ایک ٹکڑا خریدا تھا۔ ہل چلانے کے دوران اس میں سے خزانہ برآمد ہوا میں نے یہ خزانہ اس شخص کو دینا چاہا لیکن یہ نہیں لیتا۔ میں یہ کہتا ہوں کہ یہ خزانہ میرا نہیں ہے کیوں کہ میں نے اس سے صرف زمین خریدی تھی۔ اور اسے صرف زمین کی قیمت ادا کی تھی، خزانے کی نہیں“

مدعا الیہ نے جواب میں کہا۔
”میرا ضمیر ابھی زندہ ہے۔ میں یہ خزانہ اس سے کس طرح لے سکتا ہوں‘ میں نے تو اس کے ہاتھ زمین فروخت کردی تھی۔ اب اس میں سے جو کچھ بھی برآمد ہو یہ اس کی قسمت ہے اور یہی اس کا مالک ہے ، میرا اب اس زمین اور اس میں موجود اشیاء سے کوئی تعلق نہیں ہے “
‏سردار نے غور کرنے کے بعد مدعی سے دریافت کیا۔
”تمہارا کوئی لڑکا ہے؟“

”ہاں ہے!“

پھر مدعا الیہ سے پوچھا۔
”اور تمہاری کوئی لڑکی بھی ہے؟“

”جی ہاں....“ مدعا الیہ نے بھی اثبات میں گردن ہلا دی۔

”تو تم ان دونوں کی شادی کرکے یہ خزانہ ان کے حوالے کردو۔“

اس فیصلے نے شہنشاہ کو حیران کردیا ۔ وہ فکر مند ہوکر کچھ سوچنے لگا۔
‏سردار نے متردد شہنشاہ سے دریافت کیا۔ ”کیوں کیا میرے فیصلے سے آپ مطمئن نہیں ہیں؟“

”نہیں ایسی بات نہیں ہے۔“ شہنشاہ نے جواب دیا۔ ”لیکن تمہارا فیصلہ ہمارے نزدیک حیران کن ضرور ہے۔“

سردار نے سوال کیا۔ ”اگر یہ مقدمہ آپ کے رو برو پیش ہوتا تو آپ کیا فیصلہ سناتے؟“

شہنشاہ نے کہا کہ ۔ ” پہلی تو بات یہ ہے کہ اگر یہ مقدمہ ہمارے ملک میں ہوتا تو زمین خریدنے والے اور بیچنے والے کے درمیان کچھ اس طرح کا جھگڑا ہوتا کہ بیچنے والا کہتا کہ : میں نے اسے زمین بیچی ہے اور اس سے زمین کی قیمت وصول کی ہے ، اب جبکہ خزانہ نکل آیا ہے تو اس کی قیمت تو میں نے وصول ہی نہیں کی ، اس لیے یہ میرا ہے ۔
جبکہ خریدنے والا کہتا کہ:
میں نے اس سے زمین خریدلی ہے ، تو اب اس میں جو کچھ ہے وہ میری ملکیت ہے اور میری قسمت ہے ۔
‏سردار نے شہنشاہ سے پوچھا کہ ، پھر تم کیا فیصلہ سناتے؟

شہنشاہ نے اس کے ذہن میں موجود سوچ کے مطابق فورا جواب دیا کہ:
ہم فریقین کو حراست میں لے لیتے اور خزانہ حکومت کی ملکیت قرار دے کر شاہی خزانے میں داخل کردیا جاتا۔“

”بادشاہ کی ملکیت!“ سردار نے حیرت سے پوچھا۔ ”کیا آپ کے ملک میں سورج دکھائی دیتا ہے؟“

”جی ہاں کیوں نہیں؟“

”وہاں بارش بھی ہوتی ہے....“

”بالکل!“
‏”بہت خوب!“ سردار حیران تھا۔ ”لیکن ایک بات اور بتائیں کیا آپ کے ہاں جانور بھی پائے جاتے ہیں جو گھاس اور چارہ کھاتے ہیں؟“

”ہاں ایسے بے شمار جانور ہمارے ہاں پائے جاتے ہیں۔“

”اوہ خوب‘ میں اب سمجھا۔“ سردار نے یوں گردن ہلائی جیسے کوئی مشکل ترین بات اس کی سمجھ میں آگئی ہو۔
”تو اس ناانصافی کی سرزمین میں شاید ان ہی جانوروں کے طفیل سورج روشنی دے رہا ہے اور بارش کھیتوں کو سیراب کررہی ہے۔

مشہور ٹک ٹاکرکوئین ڈارو جس نے پیسوں کی لالچ میں اپنےاپنے 2 بچے اور شوہر کو چھوڑ دیا تھا آج نئے شوہر نے بھی طلاق دے دی ۔ ...
02/09/2025

مشہور ٹک ٹاکرکوئین ڈارو جس نے پیسوں کی لالچ میں اپنےاپنے 2 بچے اور شوہر کو چھوڑ دیا تھا آج نئے شوہر نے بھی طلاق دے دی ۔ خواتین کیلئے بہت بڑا سبق ہے شوہر ہمیشہ اپنی بیگم کو برائی سے روکتے ہیں اور جتنا بھی غصہ ہو جائیں پھر بھی وہی سب سے زیادہ خیال بھی رکھتے ہیں ۔ اگر باہر کا مرد آپکو زیادہ پیار دیتا ہے تو اسکا یہ مطلب نہیں ہے کہ جب آپ اسکی بیگم بنو گی تو وہ آپکو کچھ نہیں کہے گا ۔ جیسے اللّه کسی کو شریک بنانا پسند نہیں کرتا ایسے ہی کوئی بھی شوہر اپنی بیگم کا دوسرا یار پسند نہیں کرتا ۔ اسلئے جس سے شادی ہوجائے اس سے مخلص ہو جائیں اسی میں بہتری ہے ۔

جب میں مر جاؤں گا تو مجھے کوئی فکر نہیں ہوگی… اور نہ ہی اپنے بے جان جسم کی کوئی پرواہ ہوگی… کیونکہ میرے مسلمان بھائی وہ ...
02/09/2025

جب میں مر جاؤں گا تو مجھے کوئی فکر نہیں ہوگی… اور نہ ہی اپنے بے جان جسم کی کوئی پرواہ ہوگی… کیونکہ میرے مسلمان بھائی وہ سب کچھ کریں گے جو ضروری ہے، یعنی:
• وہ میرے کپڑے اتار دیں گے…
• مجھے غسل دیں گے…
• مجھے کفن میں لپیٹیں گے…
• مجھے میرے گھر سے نکالیں گے…
• اور مجھے میرے نئے مسکن (قبر) تک لے جائیں گے…
• بہت سے لوگ میری نمازِ جنازہ میں شریک ہوں گے…
• بلکہ کئی لوگ اپنی مصروفیات اور ملاقاتیں منسوخ کر دیں گے، صرف میری تدفین کے لیے…
یہ وہ لوگ ہوں گے جن میں سے شاید بہت کم نے کبھی میری نصیحتوں پر دھیان دیا ہو۔
پھر میری چیزیں ختم کر دی جائیں گی…
• میری چابیاں…
• میری کتابیں…
• میرا بیگ…
• میرے جوتے…
• میرے کپڑے…
اور اگر میرے اہلِ خانہ نیک ہوں گے، تو وہ ان چیزوں کو صدقہ کر دیں گے تاکہ وہ مجھے فائدہ دے سکیں۔
یقین رکھیں کہ دنیا مجھ پر نہیں روئے گی…
• دنیا کا نظام نہیں رکے گا…
• معیشت چلتی رہے گی…
• اور میری جگہ کسی اور کو نوکری مل جائے گی…
• میرا مال ورثاء کو منتقل ہو جائے گا…
جبکہ ان سب چیزوں کا حساب مجھ سے لیا جائے گا!
• تھوڑے کا بھی…
• زیادہ کا بھی…
• ذرہ ذرہ کا بھی…
اور موت کے وقت سب سے پہلے جو چیز مجھ سے چھین لی جائے گی، وہ میرا نام ہوگا!
جب میں مر جاؤں گا تو لوگ کہیں گے: “جنازہ کہاں ہے؟”
اور میرا نام نہیں پکاریں گے!
جب وہ میری نمازِ جنازہ پڑھیں گے تو کہیں گے: “جنازہ لاؤ!”
اور میرا نام نہیں پکاریں گے!
جب وہ مجھے دفن کریں گے تو کہیں گے: “میت کو قریب کرو!”
اور میرا نام نہیں پکاریں گے!
لہذا مجھے میرے نسب، میری قومیت، میرے عہدے اور میری شہرت پر کوئی غرور نہیں ہونا چاہیے!
یہ دنیا کتنی حقیر ہے…
اور وہ حقیقت کتنی عظیم ہے جس کی طرف ہم بڑھ رہے ہیں!
لہذا اے زندہ انسان! جان لو کہ تم پر تین طرح کا غم کیا جائے گا:
1. وہ لوگ جو تمہیں سرسری جانتے ہیں، کہیں گے: “بیچارہ!”
2. تمہارے دوست کچھ گھنٹوں یا دنوں تک غم کریں گے، پھر اپنی باتوں اور ہنسی مذاق میں مشغول ہو جائیں گے۔
3. گہرا غم تمہارے گھر والوں کو ہوگا، جو ایک ہفتہ، دو ہفتے، ایک ماہ، دو ماہ یا ایک سال تک رہے گا…
پھر وہ تمہیں یادوں کے گوشے میں ڈال دیں گے!
تمہاری کہانی دنیا والوں کے لیے ختم ہو جائے گی…
اور تمہاری اصل کہانی شروع ہو جائے گی…
تم سے چھن جائے گا:
• حسن…
• دولت…
• صحت…
• اولاد…
تم گھر، محلات، اور بیوی کو چھوڑ دو گے…
اور تمہارے ساتھ صرف تمہارے اعمال رہ جائیں گے!
اور یہی حقیقی زندگی کی شروعات ہوگی!
سوال یہ ہے:
آج سے اپنی قبر اور آخرت کے لیے کیا تیار کیا؟
یہ حقیقت سوچنے کی متقاضی ہے…
لہذا…
• فرض نمازوں کا خیال رکھو…
• نفل عبادات کرو…
• خفیہ صدقہ کرو…
• اچھے اعمال کرو…
• رات کی نماز ادا کرو…
تاکہ تم بچ سکو۔
اگر تم نے لوگوں کو اس تحریر کے ذریعے نصیحت کی جب تم زندہ ہو، تو قیامت کے دن تمہیں اس کا اجر ملے گا، ان شاء اللہ!
“اور نصیحت کرتے رہو، کیونکہ نصیحت مومنوں کو فائدہ دیتی ہے۔” (الذاریات: 55)

02/09/2025

Hi everyone! 🌟 You can support me by sending Stars - they help me earn money to keep making content you love.

Whenever you see the Stars icon, you can send me Stars!

🤍❤️🤍The history of   🤍🥀✍️began with the discovery of two critical principles: The first is camera obscura image projecti...
02/06/2025

🤍❤️🤍


The history of 🤍🥀✍️
began with the discovery of two critical principles: The first is camera obscura image projection, the second is the discovery that some substances are visibly altered by exposure to light[2]. There are no artifacts or descriptions that indicate any attempt to capture images with light sensitive materials prior to the 18th century.
View from the Window at Le Gras 1826 or 1827, believed to be the earliest surviving camera photograph.[1] Original (left) and colorized reoriented enhancement (right).
Around 1717, Johann Heinrich Schulze used a light-sensitive slurry to capture images of cut-out letters on a bottle. However, he did not pursue making these results permanent. Around 1800, Thomas Wedgwood made the first reliably documented, although unsuccessful attempt at capturing camera images in permanent form. His experiments did produce detailed photograms, but Wedgwood and his associate Humphry Davy found no way to fix these images.
In 1826, Nicéphore Niépce first managed to fix an image that was captured with a camera, but at least eight hours or even several days of exposure in the camera were required and the earliest results were very crude. Niépce's associate Louis Daguerre went on to develop the daguerreotype process, the first publicly announced and commercially viable photographic process. The daguerreotype required only minutes of exposure in the camera, and produced clear, finely detailed results. On August 2, 1839 Daguerre demonstrated the details of the process to the Chamber of Peers in Paris. On August 19 the technical details were made public in a meeting of the Academy of Sciences and the Academy of Fine Arts in the Palace of Institute. (For granting the rights of the inventions to the public, Daguerre and Niépce were awarded generous annuities for life.)[3][4][5] When the metal based daguerreotype process was demonstrated formally to the public, the competitor approach of paper-based calotype negative and salt print processes invented by William Henry Fox Talbot was already demonstrated in London (but with less publicity).[5] Subsequent innovations made photography easier and more versatile. New materials reduced the required camera exposure time from minutes to seconds, and eventually to a small fraction of a second; new photographic media were more economical, sensitive or convenient. Since the 1850s, the collodion process with its glass-based photographic plates combined the high quality known from the Daguerreotype with the multiple print options known from the calotype and was commonly used for decades. Roll films popularized casual use by amateurs. In the mid-20th century, developments made it possible for amateurs to take pictures in natural color as well as in black-and-white.
The commercial introduction of computer-based electronic digital cameras in the 1990s soon revolutionized photography. During the first decade of the 21st century, traditional film-based photochemical methods were increasingly marginalized as the practical advantages of the new technology became widely appreciated and the image quality of moderately priced digital cameras was continually improved. Especially since cameras became a standard feature on smartphones, taking pictures (and instantly publishing them online) has become a ubiquitous everyday practice around the world.
!

یہ حقیقت ہے کہ ہم جھوٹ بولتے ہیں اور کہتے ہیں: "ہم خیریت سے ہیں"  لیکن ہم سوتے نہیں ہیں۔  کوئی اپنی یادوں کی فلم دوبارہ ...
02/06/2025

یہ حقیقت ہے کہ ہم جھوٹ بولتے ہیں اور کہتے ہیں: "ہم خیریت سے ہیں"
لیکن ہم سوتے نہیں ہیں۔
کوئی اپنی یادوں کی فلم دوبارہ دیکھتا ہے،
تو کوئی اپنے مستقبل کے بارے میں سوچتا ہے!
کچھ لوگ اپنا سر تکیے پر رکھتے ہیں اور خاموشی سے روتے ہیں!
کچھ لوگ کسی کے شوق میں تڑپتے ہیں جسے وقت نے ان سے دور کر دیا ہے،
اور کچھ ایسے ہیں جو کسی کی بےرخی سے تھک کر اس کی کال کا انتظار کرتے ہیں!
دوسری طرف، کوئی کسی شخص پر آنسو بہا رہا ہے جو اب قبر کے نیچے ہے
اور جس کی واپسی اب ناممکن ہے،
ہم میں سے کچھ ایسے ہیں جو بہت سے لوگوں کے درمیان بھی تنہائی محسوس کرتے ہیں!
اور کچھ ایسے ہیں جو صرف مایوسی اور دھوکہ محسوس کرتے ہیں۔
رات، دراصل، ایک کہانی ہے جو صرف وہی سمجھ سکتا ہے جس نے اسے جیا ہو۔
ہم سب ایک ہی رات کے نیچے رہتے ہیں،
لیکن ہر ایک کی اپنی کہانی ہوتی ہے... 🖤

رسول الله ﷺ نے فرمایا:الله کی قسم! میں تم پر فقر (غربت، محتاجی) سے نہیں ڈرتا (کہ تمہیں اس سے نقصان پہنچے گا)، لیکن میں ا...
02/05/2025

رسول الله ﷺ نے فرمایا:

الله کی قسم! میں تم پر فقر (غربت، محتاجی) سے نہیں ڈرتا (کہ تمہیں اس سے نقصان پہنچے گا)، لیکن میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ تم پر دنیا کشادہ کر دی جائے، جیسے وہ تم سے پہلے لوگوں پر کشادہ کی گئی تھی، پھر تم اس میں ویسے ہی رغبت اور مقابلہ کرنے لگو جیسے اُنہوں نے کیا، اور یہ (دنیا) تمہیں بھی ہلاک کر دے، جیسے اس نے اُنہیں ہلاک کر دیا.

بخاری 4015
(بخاری 3158، 6425؛ مسلم 7425؛ ترمذی 2462؛ ماجہ 3997؛ مشکوٰۃ 5163)

Address

Dubai United Arab Emirates
Dublin, CA
31815

Opening Hours

Monday 9am - 6pm
Tuesday 9am - 6pm
Wednesday 9am - 6pm
Thursday 9am - 6pm
Saturday 9am - 6pm
Sunday 9am - 6pm

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Malik Yaseen posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share