09/06/2026
سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم قانونی اصول
📌 "Remand معمول نہیں، استثناء ہے"
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے حالیہ فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اگر اپیلیٹ کورٹ کے سامنے مقدمے کا مکمل ریکارڈ اور تمام ثبوت موجود ہوں تو وہ محض سہولت یا معمول کے طور پر مقدمہ واپس (Remand) نہیں بھیج سکتی، بلکہ اسے خود قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہوگا۔
عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا کہ:
✅ Remand صرف غیر معمولی حالات میں دیا جا سکتا ہے۔
✅ کسی فریق کو اپنی کمزوریاں دور کرنے یا نئے سرے سے مقدمہ مضبوط بنانے کا موقع دینا Remand کا مقصد نہیں۔
✅ اپیلیٹ کورٹ کی ذمہ داری ہے کہ دستیاب ریکارڈ کا جائزہ لے کر خود فیصلہ کرے۔
✅ جو فریق مقدمے میں پیش ہو کر بعد میں خود غیر حاضر ہو جائے، وہ اپنی ہی کوتاہی کو بنیاد بنا کر دوبارہ ٹرائل یا نئے موقع کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
⚖️ Ratio Decidendi
"When complete record is available before the Appellate Court, it must decide the case itself rather than remanding the matter."
اردو ترجمہ: "جب اپیلیٹ کورٹ کے پاس مکمل ریکارڈ موجود ہو تو مقدمہ واپس بھیجنے کے بجائے اسے خود فیصلہ کرنا چاہیے۔"
📚 Muhammad Zubair v. Mst. Raheela Gul C.P.L.A. No.5464/2025 Supreme Court of Pakistan Decided on: 02-06-2026 �
c.p._5464_2025_r.pdf