Advocate Umar Naseer Sandrana

Advocate Umar Naseer Sandrana legal adviser ⚖️criminal-civil-family-banking

Another achievement case FiR No 562/22  offence 376/452 ppc warburton in the court SHUMAILA YAQOOB ASJ NNK(accused parso...
27/01/2026

Another achievement
case FiR No 562/22 offence 376/452 ppc warburton
in the court SHUMAILA YAQOOB ASJ NNK
(accused parson acquitted From the charge )

"عمر نصیر سندرانہ ایڈووکیٹ ہائیکورٹ بطور پروفیشنل وکیل اپنے مزدور بھائیوں ڈرائیورز کے ساتھ ہیں ڈسٹرکٹ واربرٹن , ننکانہ، ...
02/12/2025

"عمر نصیر سندرانہ ایڈووکیٹ ہائیکورٹ بطور پروفیشنل وکیل اپنے مزدور بھائیوں ڈرائیورز کے ساتھ ہیں ڈسٹرکٹ واربرٹن , ننکانہ، شیخوپورہ اور گردونواح میں جاری ٹریفک کے نائے قوانین سے متاثر شہریوں کو مکمل قانونی خدمات، ضمانت اور سپرداری بغیر کسی فیس کے فراہم کریں گے۔ ہمارا مقصد عوام کی قانونی رہنمائی اور ان کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

10/10/2025

30/07/2025

سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

طلاق یافتہ بیٹی کو والد کی پنشن حق کی بنیاد پر دینے کا فیصلہ

پنشن خیرات یا بخشش نہیں بلکہ ایک آئینی اور قانونی حق ہے، فیصلہ

طلاق کا وقت والد کی وفات سے پہلے یا بعد میں غیر متعلقہ ہے، فیصلہ

الحمدللہبعدالت جناب مصباح اسلم صاحبہ علاقہ مجسڑیٹ تھانہ واربرٹن ننکانہ صاحب میں چار کس ملزمان  غلام مرتصیٰ وغیرہ کو 2 سا...
27/06/2025

الحمدللہ
بعدالت جناب مصباح اسلم صاحبہ علاقہ مجسڑیٹ تھانہ واربرٹن ننکانہ صاحب میں چار کس ملزمان غلام مرتصیٰ وغیرہ کو 2 سال قیداور 20 ہزار جرمانہ فی کس کی سزاسنائی ملزمان شیخوپورہ جیل منتقل

14/04/2025
Another achievement case FiR No 313/23  offence 376/338A warburton in the court ANJUM MUMTAZ MALIK ASJ NNK(All accused p...
14/04/2025

Another achievement
case FiR No 313/23 offence 376/338A warburton
in the court ANJUM MUMTAZ MALIK ASJ NNK
(All accused parsons acquitted)

04/04/2025

legal information

02/04/2025

Fornication!!!!!!!!!!

*"Coram Non Judice"*
*کا اطلاق: جب عدالت کا اختیار چیلنج ہو جائے" ریپ اور زنا میں فرق: تعزیراتِ پاکستان اور فوجداری ضابطہ کی روشنی میں عدالتی جائزہ""دفعہ 376 اور 496-B کا تقابلی جائزہ: زنا بالجبر اور زنا میں قانونی فرق" فوجداری قانون میں زنا کے مقدمات: دفعہ 203-C کے تحت پولیس اختیارات کی حدود"*

PLJ 2024 Cr.C 409 (لاہور ہائی کورٹ، بہاولپور بینچ)

فیصلہ ۔۔
باہمی رضامندی سے قائم ہونے والا جسمانی تعلق زنا بالجبر (ریپ) کی تعریف میں نہیں آتا، بلکہ یہ زنا (fornication) کے زمرے میں آتا ہے جس کا تعین تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 496-B کے تحت ہوتا ہے۔ مزید برآں، زنا کے مقدمے میں کارروائی صرف شکایت کی بنیاد پر ہی ہو سکتی ہے جیسا کہ فوجداری ضابطہ کی دفعہ 203-C میں واضح کیا گیا ہے، اور کسی اور طریقے سے نہیں۔ عدالت نے یہ قرار دیا کہ پولیس رپورٹ کو شکایت تصور نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا، ٹرائل کورٹ کی جانب سے تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 376 کے تحت دی گئی سزا کو کالعدم قرار دیتے ہوئے عدالتی کارروائی کو "coram non judice"
(غیر مجاز عدالت کی کارروائی) قرار دیا گیا۔

تجزیاتی جائزہ: PLJ 2024 Cr.C 409 کے قانونی تناظر میں
یہ مقدمہ بنیادی طور پر رضامندی سے قائم ہونے والے جنسی تعلق اور ریپ (Zina-bil-Jabr) کے مابین فرق کو واضح کرتا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ جب جنسی تعلق باہمی رضامندی سے قائم ہو، تو یہ تعزیراتِ پاکستان (PPC) کی دفعہ 376 (ریپ) کے دائرہ کار میں نہیں آتا بلکہ دفعہ 496-B (زنا) کے زمرے میں آتا ہے۔ مزید برآں، عدالت نے فوجداری ضابطہ (Cr.P.C) کی دفعہ 203-C کی روشنی میں واضح کیا کہ زنا کے مقدمے میں کارروائی صرف شکایت کی بنیاد پر ہو سکتی ہے اور پولیس رپورٹ کو باضابطہ شکایت تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

قانونی نکات کی وضاحت:
1. دفعہ 376، تعزیراتِ پاکستان (PPC) – ریپ
یہ دفعہ کسی عورت کے خلاف زبردستی یا بغیر رضامندی کے جنسی تعلق کو جرم قرار دیتی ہے، جس کی سزا موت یا عمر قید ہو سکتی ہے۔ تاہم، اگر عورت کی باہمی رضامندی شامل ہو، تو یہ جرم ریپ کے زمرے میں نہیں آتا۔

2. دفعہ 496-B، تعزیراتِ پاکستان – زنا
یہ دفعہ اس شخص کو سزا دیتی ہے جو کسی عورت کے ساتھ باہمی رضامندی سے نکاح کے بغیر جنسی تعلق قائم کرے۔ اس کا تعلق fornication (غیر ازدواجی جنسی تعلق) سے ہے، اور اس میں سزا پانچ سال تک قید اور جرمانہ ہو سکتی ہے۔

3. دفعہ 203-C، فوجداری ضابطہ (Cr.P.C) – شکایت کا طریقہ کار
یہ دفعہ یہ تقاضا کرتی ہے کہ زنا کے مقدمے میں صرف شکایت کنندہ (یعنی فریق متاثرہ) کی طرف سے دائر کردہ شکایت پر ہی مقدمہ درج ہو سکتا ہے، اور پولیس اس پر از خود کارروائی نہیں کر سکتی۔ یعنی اگر کوئی مرد اور عورت باہمی رضامندی سے جنسی تعلق قائم کریں، تو پولیس کسی تیسرے فریق کی شکایت پر ایف آئی آر درج نہیں کر سکتی۔

عدالتی فیصلہ اور قانونی نتائج:
پولیس رپورٹ کو شکایت تصور نہیں کیا جا سکتا – اس لیے دفعہ 496-B کے تحت درج مقدمہ قانونی طور پر برقرار نہیں رہ سکتا۔
ریپ کی سزا کالعدم قرار دی گئی – کیونکہ مقدمے کے حقائق کے مطابق یہ رضامندی سے قائم ہونے والا تعلق تھا، جو ریپ کے زمرے میں نہیں آتا۔
عدالتی کارروائی کو "coram non judice" قرار دیا گیا – یعنی ٹرائل کورٹ کا فیصلہ غیر قانونی قرار پایا کیونکہ یہ ایک ایسے مقدمے پر سزا دے رہا تھا جو اس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا تھا۔
نتیجتاً مختصراً ۔۔۔۔۔
یہ فیصلہ پاکستان کے فوجداری قوانین کے تناظر میں ایک اہم نظیر (precedent) ہے جو اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ باہمی رضامندی سے قائم ہونے والے جنسی تعلق کو زنا بالجبر (ریپ) قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مزید برآں، زنا کے مقدمات میں پولیس کے دائرہ اختیار کو محدود کرتے ہوئے یہ فیصلہ قانون کے غلط استعمال کو روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

Address

Sandrana House Near Police Station Warburton
Warburton

Telephone

+92 333 4423222

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Advocate Umar Naseer Sandrana posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Advocate Umar Naseer Sandrana:

Share