Awais khan Advocate

Awais khan Advocate Young leader & Ex-candidate for the constituency PK-08 of PKMAP. Advocate High Court & currently pursuing PhD in Law at CUPL.

Dedicated to advance the cause of Pashtuns. Focused on impactful leadership & legal advocacy for a better future.

15/07/2026

Jihad according to Maulana Khanzeb

14/07/2026


چین کا ماسٹر گریجویٹ، برطانیہ کے ماسٹر گریجویٹ سے ہزار درجے بہتر

جب میں برطانیہ آیا تو سوچا تھا کہ اب دنیا کے بہترین ماسٹر گریجویٹس سے ملاقات ہوگی۔ لیکن چند ملاقاتوں کے بعد اندازہ ہوا کہ ڈگری دیوار پر لگی ہوئی ہے، علم کہیں راستے میں گم ہو گیا ہے۔ بڑے فخر سے قصے سنائے جاتے تھے کہ اسائنمنٹس کس سے لکھوائیں، Dissertation کس کو پیسے دے کر بنوایا، اور حاضری تک کس طرح "منیج" کروائی۔ حیرت اس بات پر نہیں ہوئی کہ یہ سب ہوا، حیرت اس بات پر ہوئی کہ لوگ اسے کامیابی سمجھ کر سینہ تان کر بیان بھی کر رہے تھے۔ ان میں سے کئی پاکستان کے خوشحال خاندانوں سے تھے۔ جب سولہ ہزار پاؤنڈ فیس دینا معمولی بات ہو، تو چند ہزار مزید خرچ کرکے ڈگری خریدنے کا راستہ بھی آسان لگنے لگتا ہے۔

پھر میں نے ان سے ان کی ریسرچ کے بارے میں سوال کیے۔ "موضوع کیا تھا؟ طریقۂ کار کیا تھا؟ نتائج کیا نکلے؟" جواب میں یا خاموشی ملی، یا موضوع بدل دیا گیا۔ تقریباً نوے فیصد لوگوں کو اپنے ہی Dissertation کا صحیح تعارف تک نہیں آتا تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ڈگری انہوں نے نہیں، کسی اور نے حاصل کی ہو۔ یونیورسٹی سے زیادہ سیکیورٹی کی شفٹوں، ٹیک اوے کی ڈیوٹیوں اور اوور ٹائم کے حساب کتاب میں گزر گئے۔ تعلیم صرف بینک بیلنس بڑھانے کا ذریعہ بن جائے تو پھر ڈگری صرف فریم کی زینت رہ جاتی ہے، ذہن کی نہیں۔

اب ذرا چین، جنوبی کوریا اور جاپان کا رخ کریں۔ وہاں کے گریجویٹس سے بات کریں تو پانچ منٹ میں اندازہ ہو جاتا ہے کہ انہوں نے ڈگری نہیں، علم حاصل کیا ہے۔ ایک سوال پوچھیں تو ریسرچ کا پس منظر، طریقۂ کار، نتائج، خامیاں، مستقبل کی سمت، سب کچھ تفصیل سے سمجھا دیتے ہیں۔ انہیں اپنی تحقیق یاد ہوتی ہے کیونکہ وہ واقعی ان کی اپنی محنت ہوتی ہے۔ وہاں کسی نے پیسے دے کر اسائنمنٹ نہیں لکھوائی ہوتی، نہ ہی حاضری خریدی ہوتی۔ اس کے بجائے انہوں نے لیبارٹری میں وقت گزارا ہوتا ہے، لائبریری میں راتیں کاٹی ہوتی ہیں، اور اپنی فیلڈ میں مہارت حاصل کی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم مکمل ہونے تک بہت سے طلبہ چینی، کوریائی یا جاپانی زبان بھی سیکھ لیتے ہیں۔ دوسری طرف یہاں بعض لوگ دو سال برطانیہ رہنے کے باوجود بولتے ہوئے بھی اعتماد محسوس نہیں کرتے۔

نتیجہ:
پیسہ ہونا بڑی بات نہیں، علم حاصل کرنا بڑی بات ہے۔ چین، جنوبی کوریا اور جاپان شاید ہر کسی کو مستقل رہائش نہ دیں، لیکن وہاں گزارا ہوا وقت آپ کو ایسی مہارت دے دیتا ہے کہ آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں۔ جبکہ صرف مہنگی ڈگری، اگر علم کے بغیر ہو، تو وہ صرف ایک کاغذ ہے جس کی قیمت فریم سے زیادہ نہیں۔

Address

Swat
19060

Telephone

+923128830004

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Awais khan Advocate posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Awais khan Advocate:

Shortcuts

Share