21/07/2026
⚖️ سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: خواتین کو وراثت سے محروم کرنے والا جرگہ، رسم یا جعلی انتقال قانوناً باطل ہے
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ کسی بھی خاتون کو وراثت سے محروم کرنے کے لیے بنائی گئی رسم، قبائلی رواج، جرگے کا فیصلہ یا دھوکہ دہی سے کیا گیا انتقال (Mutation) نہ صرف اسلامی تعلیمات بلکہ پاکستانی قانون کے بھی خلاف ہے، اس لیے ایسی کارروائی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ اگر کسی شخص نے فراڈ، جعل سازی یا غلط بیانی کے ذریعے جائیداد اپنے نام منتقل کروائی ہو تو اس بنیاد پر بعد میں ہونے والی تمام منتقلیاں بھی قانونی تحفظ سے محروم ہوں گی۔ عدالت نے اس معروف قانونی اصول کو دہرایا کہ “Fraud vitiates everything”، یعنی دھوکہ دہی ہر قانونی کارروائی کو بے اثر کر دیتی ہے۔ جب بنیاد ہی غیر قانونی ہو تو اس پر قائم ہونے والے تمام بعد کے اقدامات بھی برقرار نہیں رہ سکتے۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ انتقال (Mutation) صرف ریونیو ریکارڈ کی ایک انتظامی کارروائی ہے، یہ کسی شخص کی ملکیت کا حتمی ثبوت نہیں ہوتا۔ اصل ملکیت اور وراثتی حقوق کا فیصلہ عدالت قانونی شہادت، مستند دستاویزات اور اسلامی قانونِ وراثت کی روشنی میں کرتی ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ مرحوم کی جائیداد پر صرف وہی افراد حق رکھتے ہیں جو اسلامی قانونِ وراثت کے مطابق قانونی وارث ہوں۔ اگر کوئی شخص جھوٹا وارث بن کر یا دھوکہ دہی سے جائیداد اپنے نام منتقل کروا لے تو ایسی منتقلی عدالت میں برقرار نہیں رہ سکتی۔
فیصلے میں عدالت نے مزید واضح کیا کہ جرگہ، پنچایت یا کوئی مقامی رسم و رواج کسی بھی خاتون کو قرآن و سنت سے حاصل شدہ وراثتی حق سے محروم نہیں کر سکتے۔ ایسا ہر فیصلہ ابتدا ہی سے باطل (Void ab Initio) تصور ہوگا۔ عدالت نے یہ بھی یاد دلایا کہ West Pakistan Muslim Personal Law (Shariat) Application Act, 1962 ایسے تمام رسم و رواج کو غیر مؤثر قرار دیتا ہے جو اسلامی احکام سے متصادم ہوں۔
سپریم کورٹ نے وراثت کی تقسیم کے حوالے سے ہدایت دی کہ ہر وارث کو اس کا حصہ اسلامی قانونِ وراثت کے مطابق دیا جائے۔ مثال کے طور پر اگر مرحوم کے ورثاء میں صرف ایک بیٹی موجود ہو تو اسے قرآن و سنت کے مطابق مقررہ حصہ ملے گا، جبکہ باقی جائیداد دیگر مستحق شرعی ورثاء میں تقسیم ہوگی۔ کسی ایک وارث کو پوری جائیداد کا مالک قرار نہیں دیا جا سکتا جب تک قانون اس کی اجازت نہ دے۔
عدالت نے ایک اور اہم اصول بھی دہرایا کہ اگر ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ دونوں شواہد کی بنیاد پر ایک ہی نتیجے پر پہنچیں، تو سپریم کورٹ عام طور پر ان Concurrent Findings of Fact میں مداخلت نہیں کرتی، الا یہ کہ ثابت ہو جائے کہ شواہد کو غلط پڑھا گیا، نظر انداز کیا گیا، فیصلہ من مانا تھا یا عدالت نے اپنے قانونی اختیار سے تجاوز کیا۔
یہ فیصلہ خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ، فراڈ کے خلاف قانونی اصولوں اور اسلامی قانونِ وراثت کے نفاذ کے حوالے سے ایک اہم نظیر ہے، جو واضح کرتا ہے کہ کسی بھی خاتون کو رسم، جرگے یا جعلی انتقال کے ذریعے اس کے قانونی و شرعی حقِ وراثت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔