Team - Irfan Ullah Warraich

Team - Irfan Ullah Warraich PRESIDENT DBA Sialkot (2025-26)

26/08/2026
اس مقدمہ میں درخواست گزار محمد مصطفیٰ نے ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 491 کے تحت لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ میں حبسِ بے جا (Habe...
28/05/2026

اس مقدمہ میں درخواست گزار محمد مصطفیٰ نے ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 491 کے تحت لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ میں حبسِ بے جا (Habeas Corpus) کی درخواست دائر کی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ اس کی کمسن بیٹی کنزہ رانی کو جواب دہندگان دانیہ بی بی عرف نسرین اور مزمل نے غیر قانونی تحویل میں رکھا ہوا ہے۔ درخواست گزار نے استدعا کی کہ چونکہ وہ بچی کا فطری سرپرست (Natural Guardian) ہے، اس لیے اسے اپنی بیٹی کی تحویل سے محروم نہیں کیا جا سکتا اور نابالغ بچی غیر متعلقہ افراد کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔

عدالت نے ابتدائی سماعت پر Rule Nisi جاری کیا اور بعد ازاں کمسن بچی کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ بچی نے درخواست گزار کو اپنا والد تسلیم کیا لیکن اس کے ساتھ جانے سے انکار کرتے ہوئے بتایا کہ والد کی دوسری شادی اور سوتیلی ماں کے رویے کی وجہ سے وہ ذہنی طور پر غیر محفوظ محسوس کرتی ہے۔ اس نے عدالت کو بتایا کہ وہ اپنی خالہ کے گھر رہنا چاہتی ہے۔ چونکہ بچی نابالغ تھی، اس لیے عدالت نے اسے فوری طور پر خالہ کے سپرد کرنے کے بجائے عارضی طور پر دارالامان بھیجنے کا حکم دیا تاکہ اس کی تحویل قانون کے مطابق طے کی جا سکے۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کی معاونت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس معاملہ پر پنجاب Destitute and Neglected Children Act, 2004 کا اطلاق ہوتا ہے۔ ان کے مطابق ایسے بچوں کی تحویل اور فلاح سے متعلق معاملات چائلڈ پروٹیکشن یونٹ اور اس قانون کے تحت قائم عدالت کے ذریعے طے کیے جاتے ہیں، لہٰذا بچی کو چائلڈ پروٹیکشن آفیسر کے حوالے کیا جانا چاہیے تاکہ اس کی تحویل قانون کے مطابق ریگولیٹ ہو سکے۔

عدالت کے روبرو یہ قانونی نکتہ بھی زیر بحث آیا کہ پاکستان میں سنِ بلوغت اور (Majority) کی عمر کیا ہے۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ Majority Act، Guardian and Wards Act اور اسلامی قانون کے مطابق 18 سال کی عمر کو بالغ ہونے کی حد تسلیم کیا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ آرڈیننس 2026 نے بھی لڑکی کی شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کر دی ہے۔ اس بنیاد پر عدالت کے سامنے یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ تقریباً 17 سالہ بچی اب بھی قانوناً child کے زمرے میں آتی ہے اور خصوصی قانونی تحفظ کی مستحق ہے۔

عدالت نے “destitute and neglected child” کی تعریف کا بھی تفصیلی جائزہ لیا اور قرار دیا کہ ایسا بچہ جو والدین کے کنٹرول سے باہر ہو، مناسب رہائش یا کفالت سے محروم ہو یا والدین اس کی مناسب نگرانی نہ کر سکتے ہوں، وہ اس قانون کے دائرہ میں آ سکتا ہے۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ کنزہ رانی بظاہر اس تعریف کی بعض شقوں کے اندر آتی ہے، تاہم چونکہ اس کی عمر 15 سال سے زائد ہے، اس لیے پنجاب Destitute and Neglected Children Act, 2004 کے تحت قائم عدالت اس کی تحویل ریگولیٹ کرنے کی مجاز نہیں۔ عدالت نے سیکشن 4 کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ اس قانون کے تحت کارروائی صرف ایسے بچوں کے بارے میں ہو سکتی ہے جن کی عمر 15 سال سے کم ہو۔

ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ بچی اپنے والد کے گھر میں غیر مطمئن ہے اور ممکنہ گھریلو تشدد کا شکار بھی ہو سکتی ہے، اس لیے Punjab Protection of Women Against Violence Act, 2016 کے تحت اسے تحفظ دیا جا سکتا ہے۔ تاہم عدالت نے قرار دیا کہ اس قانون کے تحت کارروائی صرف متاثرہ شخص کی رضامندی سے ہی ممکن ہے اور اس کا مقصد بنیادی طور پر shelter اور protection فراہم کرنا ہے، نہ کہ تحویل کا مستقل تعین کرنا۔ چونکہ بچی خود اپنی مرضی سے اپنی خالہ کے ساتھ رہنا چاہتی تھی، اس لیے مذکورہ قانون کی دفعات اس صورتحال پر مکمل طور پر لاگو نہیں ہوتیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں اہم آئینی اور انسانی حقوق کے اصول بھی بیان کیے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایک مہذب معاشرے میں کسی ایسے سمجھدار اور بڑی عمر کے بچے کو زبردستی والدین کے گھر میں رکھنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا جو وہاں خوف، ذہنی اذیت یا عدم تحفظ محسوس کرتا ہو۔ عدالت نے کہا کہ شخصی آزادی ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور اس حق کو خاندان یا معاشرتی دباؤ کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔ والدین کا کردار جبر کے ذریعے اطاعت کروانا نہیں بلکہ بچوں کی رہنمائی اور ان کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ہے۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ مذہبی اور معاشرتی روایات کو انسانی وقار، آزادی اور تحفظ کے بنیادی اصولوں کے مطابق سمجھنا چاہیے۔ اسلام بھی انسانی جان، عزت اور ذہنی سکون کے تحفظ پر زور دیتا ہے، لہٰذا ایسی تشریحات جو کسی فرد کو خوف یا نقصان کی حالت میں رہنے پر مجبور کریں، اسلامی تعلیمات کی روح کے منافی ہیں۔

عدالت نے آخر میں یہ قانونی اصول طے کیا کہ اگر کوئی بچہ 15 سال سے زائد عمر کا ہو، والدین کا گھر چھوڑ چکا ہو اور اپنی مرضی سے کسی دوسرے مقام پر رہ رہا ہو، تو صرف Punjab Protection of Women Against Violence Act, 2016 یا Punjab Destitute and Neglected Children Act, 2004 کے تحت اس کی تحویل میں مداخلت نہیں کی جا سکتی۔ تاہم اگر والد یا کوئی اور فریق تحویل کا دعویٰ کرنا چاہے تو اس کے لیے مناسب فورم Guardian Court ہے، جو بچے کی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گی۔

نتیجتاً عدالت نے کنزہ رانی کو فوری طور پر دارالامان سے رہا کرنے کا حکم دیا اور قرار دیا کہ اسے زبردستی والد کے ساتھ یا کسی shelter home میں نہیں رکھا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر والد چاہیں تو وہ Guardian Court سے رجوع کر سکتے ہیں، جہاں معاملہ قانون کے مطابق طے کیا جائے گا۔

لاہور ہائیکورٹ ، آٹزم متاثرہ بچوں میں نان و نفقہ سے متعلق خصوصی معیار مقرر کرنے کی درخواست مسترد جسٹس عابد حسین چٹھہ نے...
28/05/2026

لاہور ہائیکورٹ ، آٹزم متاثرہ بچوں میں نان و نفقہ سے متعلق خصوصی معیار مقرر کرنے کی درخواست مسترد

جسٹس عابد حسین چٹھہ نےعلیہا نورالامین مینگل کی درخواست مسترد کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا

آٹسٹک بچی نے اپنا ماہانہ خرچہ عام بچوں کی طرح صرف 1لاکھ روپے مقرر کرنے کے فیملی عدالت کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا

آٹزم متاثرہ بچوں کے تعلیم، علاج اور دیگر اخراجات پر عام بچوں کی نسبت4گناہ زیاہ خرچہ آتا ہے، درخواست گزار

نورالامین مینگل کی پہلی بیوی سے اولاد ایچی سن کالج اور دیگر مہنگے تعلیمی اداروں میں پڑھ رہی ہے، درخواست گزار

نورالامین مینگل اور انکی پہلی فیملی کا لائف سٹائل انکی ظاہر ی اور خفیہ دولت اور وسائل کی نشاندہی کرتا ہے، درخواست گزار

فیملی عدالت نے والد کی ظاہری اور خفیہ آمدنی زیادہ ہونے کے باوجود آٹسٹک بچی کا خرچہ کم مقرر کیا ہے، درخواست گزار

آٹسٹک بچوں کا نان و نفقہ عام بچوں کی طرح مقرر نہیں کیا جا سکتا بلکہ اسکا معیار الگ ہونا چاہیے، درخواست گزار

فیملی عدالت کا فیصلہ سپریم کورٹ کے طے شدہ فیصلوں کی خلاف ورزی اور حقائق کے خلاف ہے، درخواست گزار

فیملی عدالت نے آٹسٹک بیٹی کا 1لاکھ خرچہ زیادہ مقرر کیا ہے، وکیل نورالامین مینگل

آٹسٹک بیٹی کا خرچہ کم کر کے 50ہزار کیا جائے، نورالامین مینگل کی لاہور ہائیکورٹ سے استدعا

لاہور ہائیکورٹ نے آٹسٹک بچی کا خرچہ بڑھانے اور نورالامینگل کی خرچہ کم کرنے کی دونوں درخواستیں خارج کر دیں

فیملی عدالت اور اپیل عدالت نے بچی کا خرچہ تمام حالات کا جائزہ لے کر درست مقرر کیا ہے، جسٹس عابد حسین چٹھہ

لاہور ہائیکورٹ کو آئینی رٹ درخواست میں فیملی اور اپیل عدالت کی فائنڈنگ میں مداخلت نہیں کر سکتی، جسٹس عابد حسین چٹھہ

Address

192-District Courts
Sialkot

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Telephone

03006101812

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Team - Irfan Ullah Warraich posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Team - Irfan Ullah Warraich:

Shortcuts

Share