Advocate Fahad Mughal

Advocate Fahad Mughal A dedicated legal professional practicing at the District & High Court in Sialkot Pakistan.
(1)

With expertise in Income Tax and FBR matters, Corporate, and Family Law, we provide comprehensive legal consultation & representation with integrity and precision.

‏سندھ کے ضلع دادو کی ایک عدالت نے ام رباب چانڈیو کے والد، دادا اور چچا کے قتل کیس میں نامزد تمام 8 ملزمان کو بری کر دیا۔...
30/03/2026

‏سندھ کے ضلع دادو کی ایک عدالت نے ام رباب چانڈیو کے والد، دادا اور چچا کے قتل کیس میں نامزد تمام 8 ملزمان کو بری کر دیا۔ آٹھ سال پرانے اس مقدمے میں 2 ارکان سندھ اسمبلی بھی شامل تھے۔ وکیل صلاح الدین پنہور نے فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیل کا اعلان کیا ہے۔ فیصلے کے موقع پر سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے۔ ام رباب چانڈیو گزشتہ آٹھ برس سے اپنے اہلِ خانہ کے قاتلوں کو سزا دلوانے کی جدوجہد کر رہی تھیں۔

خیر سگالی کے 16 روپے ۔ موبی لنک جاز ۔دوستو، یہ کوئی 50 سال پرانی بات نہیں ہے کہ 16 روپے کی قیمت 16 ہزار کے برابر ہو، بلک...
16/02/2026

خیر سگالی کے 16 روپے ۔ موبی لنک جاز ۔

دوستو، یہ کوئی 50 سال پرانی بات نہیں ہے کہ 16 روپے
کی قیمت 16 ہزار کے برابر ہو، بلکہ یہ قصہ
ایک بڑی ٹیلی کام کمپنی " موبی لنک جاز " کی مبینہ سخاوت
کا ہے ۔

چند دن قبل میں نے ویڈیو ڈاؤن لوڈنگ ایپ SnapTube کے ذریعے
فیس بک کی ایک ویڈیو ڈاؤن لوڈ کرنے کی ۔

ویڈیو ڈاؤن لوڈنگ کے دوران خود بخود میرے نمبر پر ایک ویلیو ایڈڈ
سروس ایکٹیویٹ ہو گئی اور بیلنس کٹ گیا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ میرے نمبر پر ایک OTP آیا جو
ایپ نے خود ہی ریڈ (Read) کر کے سسٹم میں درج کر دیا
اور میری مرضی کے بغیر سروس ایکٹو ہو گئی ۔
یوزر ایگریمنٹس کے چیک باکس پر بھی خود بخود کلک ہو گیا ۔

چونکہ پہلے بھی دو تین بار ایسا ہو چکا تھا تو میں نے اس سب کی
سکرین ریکارڈنگ کر لی ۔۔

میں نے اس غیر قانونی کٹوتی کی سٹیزن پورٹل (Citizen Portal) کے
ذریعے PTA کو شکایت درج کروائی ۔

پی ٹی اے کے فوری ایکشن پر موبی لنک جاز نے نہ صرف وہ سروس ختم کی
بلکہ 16 روپے میرے اکاؤنٹ میں واپس بھیج دیے ۔۔

بات صرف 16 روپے کی نہیں بلکہ اس غیر قانونی طریقے (Unfair Practice) کی تھی،

جس کے ذریعے یہ کمپنیاں عوام کا خون چوس رہی ہیں ۔۔
میں اپنی محنت سے کمائے ہوئے 16 روپے بھی ان لٹیروں
کو کیوں دوں؟
ایک عام بندے کے لیے شاید یہ 16 روپے معمولی ہوں،
لیکن اگر آپ حساب لگائیں تو یہ کمپنیاں روزانہ کی بنیاد پر
کروڑوں صارفین سے اسی طرح چند روپے کاٹ کر
اربوں روپے کی ناجائز کٹوتی کر رہی ہیں ۔

یہ خیر سگالی نہیں، بلکہ ایک منظم ڈکیتی ہے جو ڈیجیٹل سروسز
کے نام پر کی جا رہی ہے ۔

آج ہی اپنے اردگرد، اپنے گھر والوں، دوستوں اور
بوڑھے والدین کے موبائل فونز چیک کریں ۔
آپ یہ دیکھ کر دنگ رہ جائیں گے کہ ہر دوسرے نمبر پر
پانچ سے چھ ایسی فضول سروسز ایکٹیو ہوں گی جن کا نہ کسٹمر کو
علم ہوتا ہے اور نہ ہی ان کا کوئی فائدہ ۔

حد تو یہ ہے کہ سادہ کی پیڈ والے فونز جن پر انٹرنیٹ کا
نام و نشان نہیں، ان پر بھی بھاری چارجز والی
انٹرنیٹ گیمنگ اور میوزک سروسز ایکٹیو کر دی جاتی ہیں۔

یہ معصوم اور ان پڑھ صارفین کی جیبوں پر براہِ راست
ڈاکا ہے جنہیں یہ بھی نہیں معلوم ہوتا کہ ان کا بیلنس
کہاں غائب ہو رہا ہے ۔

جاز کی Simosa ایپ سے یا #6611* ڈائل کر کے
آپ یہ سروس چیک اور ختم کر سکتے ہیں ۔

اور یہ چیک کیجیے کہ اپ کے نمبر پر کتنی سروسز ایکٹو ہیں ۔۔
اور روزانہ کی بنیاد پر کتنے چارجز ہو رہے ہیں ۔

اس لیے میں نے موبی لنک جاز کے ہیڈ آفس اسلام آباد کو
ایک لیگل نوٹس بھیجا ۔

نوٹس میں ان سے تحریری جواب طلب کیا گیا کہ صارف کی اجازت کے بغیر
سروسز کیسے اور کیوں ایکٹیویٹ ہو جاتی ہیں؟
ساتھ ہی میں نے ہرجانے کا مطالبہ بھی کیا ۔

چند دن قبل ہیڈ آفس سے جواب موصول ہوا جس میں کہا
گیا کہ ۔۔
• میرے نمبر سے اس طرح کی تمام سروسز ختم کر
دی گئی ہیں۔

• میرا نمبر بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے تاکہ آئندہ ایسی کوئی
سروس خود بخود ایکٹیو نہ ہو۔

• اور سب سے دلچسپ بات یہ لکھی کہ جو 16 روپے
واپس کیے گئے تھے، وہ کمپنی کی طرف سے "خیر سگالی" (Goodwill Gesture) کے طور پر دیے گئے تھے،

• کمپنی کا اس میں کوئی قصور نہیں ۔

کمپنی کی اس ڈھٹائی پر اب میرا ارادہ ہے کہ یہ معاملہ
بہاولپور کی کنزیومر کورٹ (Consumer Court) لے کر جاؤں ۔

کیا پہلے کسی دوست کا اس حوالے سے کوئی تجربہ رہا ہے؟

کیا ہمیں ان کمپنیوں کی اس " خیر سگالی " کے پیچھے چھپی
لوٹ مار کے خلاف آواز نہیں اٹھانی چاہیے؟

اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں ۔

کمنٹ میں موبی لنک جاز کو ٹیگ کریں ۔

یکم فروری 2026 سے نئے قانون لاگو  بیرون ملک روزگار کے لیے جانے والوں پر 2 بڑی پابندیاں عائد — پروٹیکٹر کے نئے اصول!حکومت...
29/01/2026

یکم فروری 2026 سے نئے قانون لاگو
بیرون ملک روزگار کے لیے جانے والوں پر 2 بڑی پابندیاں عائد — پروٹیکٹر کے نئے اصول!

حکومت پاکستان اور بیورو آف امیگریشن نے بیرون ملک کام (Work Visa) پر جانے والے شہریوں کے لیے دو نئی اور لازمی شرائط نافذ کر دی ہیں۔ اگر آپ ان پر عمل نہیں کریں گے تو نہ پروٹیکٹر لگے گا اور نہ ہی جہاز میں بیٹھنے دیا جائے گا۔

1. سافٹ اسکلز ٹریننگ (Soft Skills Training) - لازمی شرط
اب "پروٹیکٹر" لگوانے سے پہلے آپ کو آن لائن ٹریننگ مکمل کر کے سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہوگا۔
• یورپ کے لیے: 1 جنوری 2026 سے یہ شرط نافذ ہو چکی ہے۔
• خلیجی ممالک (سعودی عرب، دبئی، قطر وغیرہ) کے لیے: یہ شرط 1 فروری 2026 سے لاگو ہوگی۔
• طریقہ کار: یہ سرٹیفکیٹ آپ "PakSoftSkills" ایپ یا سرکاری ویب سائٹ softskills oec سے حاصل کر سکتے ہیں۔
2. ای-پروٹیکٹر سرٹیفکیٹ (e-Protector) - ایئرپورٹ کے لیے
• یکم فروری 2026 سے پرانے مہر والے سسٹم کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل "e-Protector" سرٹیفکیٹ بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔
• ایئرپورٹ پر بورڈنگ پاس تب ہی ملے گا جب آپ کے پاس یہ ڈیجیٹل ثبوت ہوگا۔

خلاصہ (Summary):
پہلے آن لائن ٹریننگ کریں، پھر پروٹیکٹر لگوائیں، اور سفر سے پہلے اپنا e-Protector ڈاؤن لوڈ کرنا نہ بھولیں!

⚠️ Disclaimer: This content is based on official notifications from the Bureau of Emigration & Overseas Employment.

29/12/2025

سپریم کورٹ کا فیصلہ
بھائی نے بہن کے خلاف دعوی کیا ہے وہ اسکی بہن نہیں ہے بلکہ اسکے مرحوم باپ نے اسے adopt کیا تھا۔لہزا adopted child ہونے کی وجہ سے وہ اس کے باپ کی جائیداد کی وارث نہیں ہے۔۔
ساتھ ہی بھائی نے بہن جسکا نام لیلی تھا اسکے DNA کروانے کے لئے عدالت میں درخواست دائر کردی جو کہ منظور ہو گی کہ اسکا ڈی این کو اسکے بھائی اور ماں سے compare کیا جائے۔۔ثرائل کورٹ نے درخواست منظور کرلی جو فیصلہ ہائی کورٹ تک برقرار رہا۔۔جب ان فیصلوں کے خلاف بہن سپریم کورٹ آئی تو قاضی فاز عیسی نے مندرجہ زیل گراونڈز کو ڈسکس کرتے ہوئے بھائی کا دعوی ہی بھاری جرمانے کے ساتھ خارج کر دیا۔۔پوائنٹس درج زیل تھے۔
1 کسی کو اسکی مرضی کے بغیر ڈی این اے کروانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا جو کہ right of privacy آرٹیکل 14 آئین پاکستان کے خلاف ہے۔۔
2۔ نادرہ کے تمام ڈاکومنٹس یہ بتا رہے ہیں کہ لیلی عبدلقیوم یعنی مرحوم کی بیٹی ہے ۔۔اور آرٹیکل 128 قانون شہادت آرڈر کی اسے protection حاصل ہے۔
کوئی یہ تو دعوی کر سکتا ہے کہ میرا ڈی این اے میرے باپ سے میچ کروایا جائے کہ میں اسکی اولاد ہوں ۔۔لیکن کوی یہ نہیں کہہ سکتا کہ فلاں فلاں کی اولاد نہیں ہے اسکا ڈی این اے کروایا جائے۔۔لہزا بچوں کو سوشل stigma سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ ایسے دعوی جات کو بھاری جرمانے سے خارج کیا جائے۔۔reference
PLD 2018 SC 149

16/12/2025

2025 CLC 1158

ہبہ کو ثابت کرنے کے لیے آٹھ لازمی شرائط
ہائی کورٹ

عدالتِ عالیہ کے سامنے ایک ایسا مقدمہ آیا جس میں ایک بھائی نے اپنے والد کی جائیداد سے بہن کو اس کے شرعی حق سے محروم کرنے کے لیے ہبہ (Gift) کا جعلی دعویٰ کیا۔ ابتدائی عدالت اور اپیلٹ کورٹ نے بھائی کے مؤقف کو تسلیم کرتے ہوئے فیصلہ اس کے حق میں دے دیا، تاہم ہائی کورٹ نے دونوں فیصلوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے بہن کے حق میں فیصلہ صادر کیا۔

عدالتِ عالیہ نے واضح کیا کہ جو فریق کسی معاملے سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہو، اسی پر اس معاملے کو ثابت کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ چونکہ بھائی ہبہ کا بینیفشری تھا، اس لیے اس پر لازم تھا کہ وہ ہبہ کو قانونی اور قابلِ اعتماد شہادت سے ثابت کرے۔

عدالت نے قرار دیا کہ کسی بھی ہبہ کو قانونی طور پر ثابت کرنے کے لیے درج ذیل آٹھ بنیادی شرائط کا پورا ہونا ناگزیر ہے:

1. ایجاب (Offer): ہبہ کرنے والے کی جانب سے واضح اور غیر مبہم اعلان۔

2. قبول (Acceptance): ہبہ لینے والے کی جانب سے صریح قبولیت۔

3. قبضہ (Delivery of Possession): جائیداد کا حقیقی قبضہ ہبہ لینے والے کے سپرد ہونا۔

4. ہبہ کنندہ کی نیت (Donor’s Intention): ہبہ خلوصِ نیت پر مبنی ہو، فراڈ یا فریب پر نہیں۔

5. آزادیٔ ارادہ (Free Consent): ہبہ کسی دباؤ، جبر یا دھوکے کے بغیر کیا گیا ہو۔

6. گواہان کی موجودگی (Witnesses): ایجاب و قبول معتبر گواہوں کے روبرو ہوا ہو۔

7. محکمہ مال میں درست اندراج (Mutation in Revenue Record): لینڈ ریونیو ایکٹ کے مطابق انتقال کا اندراج کیا گیا ہو۔

8. شہادت میں مطابقت (Consistency in Evidence): گواہان کے بیانات اور سرکاری ریکارڈ میں کوئی تضاد موجود نہ ہو۔

عدالت کے مشاہدات کے مطابق بھائی کے پیش کردہ گواہوں کے بیانات آپس میں متضاد تھے۔ روزنامچہ واقعاتی (Roznamcha Waqiati) اور ایجاب و قبول کے وقت کے بارے میں بھی واضح تضاد پایا گیا۔ مزید یہ کہ بیٹے کی بطور گواہ شہادت ناقابلِ قبول قرار دی گئی کیونکہ وہ ایجاب و قبول کے وقت موجود ہی نہیں تھا۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ لینڈ ریونیو ایکٹ، 1967 کی دفعہ 42 کے تحت انتقال کا عوامی اعلان (Public Attestation) ثابت نہیں کیا جا سکا، جو ہبہ کے قانونی ثبوت کے لیے ایک لازمی تقاضا ہے۔

Advocate Fahad Afzal
0304692509

منشیات مقدمات کے ٹرائلز میں پراسیکیوٹرز کے لیے لاہور ہائیکورٹ کی سخت قانونی ہدایاتاگر پراسیکیوٹر اس وقت خاموش اور غیر فع...
09/12/2025

منشیات مقدمات کے ٹرائلز میں پراسیکیوٹرز کے لیے لاہور ہائیکورٹ کی سخت قانونی ہدایات

اگر پراسیکیوٹر اس وقت خاموش اور غیر فعال رہا جب پراسیکوشن کے گواہان نے کراس ایگزامینیشن کے دوران ملزم/درخواست گزار کے حق میں اعترافی بیانات دیے، اور پراسیکیوٹر نے نہ تو ان گواہان کو (hostile) قرار دینے کی کوشش کی اور نہ ہی ان کے بیانات کو قانون شہادت آرڈیننس 1984 کے آرٹیکل 151 کے تحت چیلنج کیا، تو اس عمل کو روکنے کے لیے اس عدالت نے درج ذیل قانونی ہدایات جاری کی ہیں:

✍️1. تمام قانونی افسران لازمی طور پر اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ پراسیکوشن کے گواہان کے بیانات، ملزم کے بیانات سیکشن 342 Cr.P.C کے تحت، اور دفاعی شہادت کے دوران مکمل طور پر چوکنا، فعال اور متحرک رہیں، بالخصوص منشیات کے مقدمات میں جہاں معمولی غفلت بھی منشیات اسمگلرز کی بریت کا سبب بن سکتی ہے۔

✍️2. اگر کوئی پراسیکوشن کا گواہ، بشمول پولیس اہلکار، حقائق سے انحراف کرے یا جان بوجھ کر ملزم کے حق میں بیان دے، تو قانونی افسر فوراً آرٹیکل 150 اور 151 قانون شہادت آرڈیننس 1984 کے تحت اپنے قانونی اختیارات استعمال کرے تاکہ گواہ کی صداقت، قابلیت اعتبار اور رویے کا جائزہ لیا جا سکے۔

✍️3. قانونی افسران کو پولیس گواہان کی جانب سے دی جانے والی کسی بھی جان بوجھ یا غیر جان بوجھ کی رعایت کو غیر چیلنج شدہ نہیں چھوڑنا چاہیے۔ انہیں پراسیکوشن کے کیس کے تحفظ کے لیے مناسب قانونی اقدامات کرنا لازمی ہیں۔ وہ پولیس اہلکاروں/گواہان کے خلاف محکمانہ قانونی کارروائی کی سفارش بھی کریں جو ملزم کے حق میں اعترافی بیانات دیتے ہیں۔

✍️4. پراسیکیوٹر جنرل پنجاب، لاہور کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ ذاتی طور پر اس معاملے کی جانچ کریں، کمزور پراسیکوشن کی وجوہات معلوم کریں، اور کارکردگی میں بہتری اور جوابدہی یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔ وہ پنجاب بھر کے تمام قانونی افسران کو جامع ہدایات جاری کریں تاکہ مقدمات کے دوران قانونی ضابطہ کار کی سختی سے پابندی کی جائے اور آرٹیکل 150 اور 151 قانون شہادت آرڈیننس 1984 کے تحت اختیارات استعمال کیے جائیں۔

✍️5. ان ہدایات کی خلاف ورزی پر تادیبی کارروائی لازمی ہوگی، کیونکہ ریاست کے قانونی نمائندگان کی غفلت جہاں انصاف کے نظام کو متاثر کرے، برداشت نہیں کی جائے گی۔

مزید برآں، پولیس اسٹیشن کے رجسٹر نمبر XIX میں ضبط شدہ منشیات کا اندراج نہیں کیا گیا، حالانکہ یہ پولیس رولز 1934 کے تحت لازمی تھا۔ اس اندراج کی غیر موجودگی منشیات کی محفوظ حوالگی کے ثبوت کو متاثر کرتی ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان بھی اس کو سنگین نقائص مانتی ہے، جس کے نتیجے میں ملزم/درخواست گزار بری ہو سکتا ہے۔ اگر ضبط شدہ منشیات کی محفوظ حوالگی اور منتقلی (Chain of Custody) پروسیکوشن کی جانب سے ثابت نہ کی گئی ہو، تو اس طرح پراسیکوشن کا کیس مشکوک اور ناقابل اعتماد بن جاتا ہے۔

Crl. Appeal.56371/23
Shameer Khan Vs The State etc.
👨‍⚖️ Justice Muhammad Tariq Nadeem
📍2025 LHC 6970
Dated: 19-11-2025
Signed 01-12-2025

لاہور ہائی کورٹ نے اہم فیصلہ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ قریبی رشتہ داروں (والدین، اولاد، میاں بیوی وغیرہ) کے درمیان دیا گی...
03/12/2025

لاہور ہائی کورٹ نے اہم فیصلہ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ قریبی رشتہ داروں (والدین، اولاد، میاں بیوی وغیرہ) کے درمیان دیا گیا گفٹ اگر بینکنگ چینل کے بغیر بھی ہو، تو اسے خود بخود ٹیکس ایبل Income نہیں سمجھا جا سکتا۔ محکمہ کا مؤقف یہ تھا کہ قانون کے مطابق غیر بینکنگ گفٹ لازماً “Income from Other Sources” بنتا ہے، مگر عدالت نے یہ مؤقف مسترد کر دیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ فنانس ایکٹ 2019 کے ذریعے شامل کی گئی دفعہ 39(1)(la) ایک فائدہ مند اور طریقہ کار سے متعلق ترمیم ہے، اس لیے یہ ماضی کے سالوں پر بھی لاگو ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رشتہ داروں سے ملنے والے تحائف کا سختی سے بینک چینل سے گزرنا ضروری نہیں، بلکہ ٹیکس دہندہ کو حق حاصل ہے کہ وہ ثبوت اور وضاحت کے ذریعے یہ ثابت کرے کہ رقم واقعی تحفہ تھی۔

تاہم عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ:
✔ گفٹ کی حقیقت ثابت کرنا ابھی بھی ضروری ہے
✔ ڈونر کی مالی حیثیت، نیت، دستاویزات اور ٹرانزیکشن کی سچائی ثابت کرنا لازم ہے
✔ محض زبانی دعویٰ کافی نہیں

چونکہ ٹربیونل نے گفٹ کے حوالے سے کوئی تفصیلی جانچ پڑتال نہیں کی تھی، اس لیے عدالت نے اس کے فیصلے کالعدم کرتے ہوئے معاملہ دوبارہ بھیج دیا تاکہ تمام شواہد کی بنیاد پر یہ طے کیا جائے کہ واقعی گفٹ تھا یا نہیں

ایف بی آر نے تمام افراد کیلئے انکم ٹیکس ریٹرن کی ای-فائلنگ لازمی قرار دے دیاسلام آباد، 10 نومبر 2025ء — فیڈرل بورڈ آف ری...
12/11/2025

ایف بی آر نے تمام افراد کیلئے انکم ٹیکس ریٹرن کی ای-فائلنگ لازمی قرار دے دی

اسلام آباد، 10 نومبر 2025ء — فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کے طریقہ کار میں اہم ترمیم کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اب تمام افراد (Individuals) کے لیے انکم ٹیکس ریٹرن کے ساتھ ساتھ ودہولڈنگ اسٹیٹمنٹ کی الیکٹرانک فائلنگ لازمی ہوگی۔ یہ فیصلہ انکم ٹیکس رولز 2002 میں ترمیم کے ذریعے کیا گیا ہے۔
اس حوالے سے جاری کردہ نوٹیفکیشن S.R.O 2107(I)/2025 کے مطابق رول 73 کے سب رول (2DD) کو تبدیل کرتے ہوئے کہا گیا ہے ک

تفصیلات کے مطابق یہ ترمیم انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 237 کے تحت کی گئی ہے، جبکہ اس سے قبل اس ترمیم کا مسودہ 3 نومبر 2025ء کو S.R.O 2070(I)/2025 کے تحت شائع کیا گیا تھا، جسے حتمی منظوری کے بعد نافذ کر دیا گیا ہے۔

01/11/2025

Punjab Bar Council elections 2025-30

30/10/2025

ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلاف
گر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی

عوام الناس کیلئے خوشخبری پیرا فورس کے تمام کیسز علاقہ مجسٹریٹس کو دے دیئے گئے ہیں اب پیرا فورس کسی کو بھی ناجائز تنگ کرے...
24/10/2025

عوام الناس کیلئے خوشخبری پیرا فورس کے تمام کیسز علاقہ مجسٹریٹس کو دے دیئے گئے ہیں اب پیرا فورس کسی کو بھی ناجائز تنگ کرے گی تو اس کا وکیل اس کے ساتھ کھڑا ہو گا اور مکمل قانونی معاونت دے گا

Address

Sialkot

Telephone

+971509806342

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Advocate Fahad Mughal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Advocate Fahad Mughal:

Share