Adv Faisal Wattoo

Adv Faisal Wattoo Lawyer at District Bar Association Sheikhupura
03014999805

21/10/2025
26/12/2022

جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں ایک شخص ٹیکسی میں سوار ہوا۔ زبان نہ آنے کی وجہ سے زیادہ بات تو نہ کر سکا، بس اس انسٹیٹوٹ کا نام لیا جہاں اسے جانا تھا۔ ٹیکسی ڈرائیور سمجھ گیا، اس نے سر جھکایا اور مسافر کو دروازہ کھول کر بٹھایا۔ اسطرح بٹھانا انکا کلچر ہے۔
سفر کا آغاز ہوا تو ٹیکسی ڈرائیور نے میٹر آن کیا، تھوڑی دیر کے بعد بند کر دیا اور پھر تھوڑی دیر بعد دوبارہ آن کر دیا۔ مسافر حیران تھا مگر زبان نہ آنے کی وجہ سے چپ رہا۔ جب انسٹیٹوٹ پہنچا تو استقبال کرنے والوں سے کہنے لگا، پہلے تو آپ اس ٹیکسی ڈرائیور سے یہ پوچھیں کہ اس نے دورانِ سفر کچھ دیر گاڑی کا میٹر کیوں بند رکھا؟
لوگوں نے ٹیکسی ڈرائیور سے پوچھا تو وہ بولا ’’راستے میں مجھ سے غلطی ہوئی، مجھے جس جگہ سے مڑنا تھا، وہاں سے نہ مڑ سکا، اگلا یوٹرن کافی دور تھا، میری غلطی کے باعث دو ڈھائی کلومیٹر سفر اضافی کرنا پڑا، اس دوران میں نے گاڑی کا میٹر بند رکھا، جو مسافت میں نے اپنی غلطی سے بڑھائی اس کے پیسے میں مسافر سے نہیں لے سکتا‘‘۔

میں حیران ہوں کہ اس ڈرائیور نے نہ چِلہ لگایا تھا، نہ وہ نماز پڑھتا تھا، نہ کلمہ، نہ اس کی داڑھی تھی، نہ جُبہ، نہ ٹوپی مگر دیانتداری تھی۔ ہمارے پاس سب کچھ ہے مگر ایمانداری نہیں ہے۔ ہم مسلمان ضرور ہیں مگر ہمارے پاس اسلام نہیں ہے۔ اسلام پگڑی، کُرتے، پاجامے اور داڑھی کا نام نہیں بلکہ اسلام سچ بولنے، صحیح ناپنے تولنے کا نام ہے۔ اسلام دیانتداری کا نام ھے۔۔
آئیے
اب ہم اپنا موازنہ کر لیتے ہیں،اس قوم سے اپنا موازنا کریں ہم لوگ کہاں کھڑے ہیں

فارم ب بنوانے کا طریقہ کار ۔1۔ سب سے پہلے اپ نے اپنے متعلقہ ویلج کونسل افس سے برتھ سرٹیفیکیٹز بنوانے ہے جس میں 3 سے 6 دن...
16/12/2022

فارم ب بنوانے کا طریقہ کار ۔
1۔ سب سے پہلے اپ نے اپنے متعلقہ ویلج کونسل افس سے برتھ سرٹیفیکیٹز بنوانے ہے جس میں 3 سے 6 دن تک لگ سکتے ہے۔
2۔ برتھ سرٹیفیکیٹز بنوانے کے بعد نادرا افس جا کر اپلائی کریں ، وہاں اپکو ایک فارم دیا جائے گا جس کو اپ گزڈیڈ افیسر سے تصدیق کر کے واپس نادرا افس میں جمع کرنا ہوگا۔ ساتھ برتھ سرٹیفیکیٹز ، سکول سرٹیفیکیٹز اٹیج کریں۔
نوٹ۔ 6 دسمبرسے نادرا نے پالسی چینج کی ہے۔ کہ کسی بھی گھرانے میں جتنے بچے ہو ، ان کے برتھ سرٹیفیکیٹز ، ان کے میرج سرٹیفیکیٹز ، اگر والدین میں کوئی وفات پایا ہو تو ان کا ڈیتھ سرٹیفیکیٹز بنوانا لازم کیا ہے۔ یہ پالیسی وقتی طور پر ہے ان سے عوام کو انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے ہیں ۔لیکن یہ سب ہمارے فائدے کیلئے ہیں اس کا مقصد یہ ہے کہ چند مہینے بعد نادرا کا ریکارڈ 95٪ کلئر ہو۔ جائے گا ۔ اور اس میں عوام کو بہت اسانی ہوگی۔۔

۔ #

02/10/2022

نام تبدلی، درستگی یا تاریخ پیدائش تعلیمی اسناد اور شناختی کارڈ پر کیسے کروائی جائے؟

تعلیمی اسناد پر یا شناختی کارڈ پر نام درستگی، تاریخ پیدائش درستگی بہت ہی عام مسئلہ ہے جو تقریباً ہر تیسرے چوتھے بندے کو پیش آتا ہے اپنی غلطی سے یا دفتری عملے کی غلطی سے.

اگر کسی کو یہ مسئلہ درپیش آیا ہے تو متاثرہ شخص مندرجہ ذیل قانونی طریقے سے نام درستگی یا تاریخ پیدائش درستگی کروا سکتا ہے specific relief Act کے سیکشن 42 کے مطابق متاثرہ شخص عدالت میں دعویٰ برائے درستگی نام یا تاریخ پیدائش کا دعویٰ کرسکتا ہے ..

اس دعویٰ کو دعویٰ استقرار حق یا Suit For declaration بھی کہتے ہیں..

اس دعوی سے پہلے آپ نادرا میں شناختی کارڈ پر اپنا نام یا تاریخ پیدائش درستگی کی درخواست دیں گے عموماً نام کی تبدیلی نادرا والے کر دیتے ہیں لیکن تاریخ پیدائش کے لیے وہ آپکو عدالتی ڈگری لینے کا کہیں گے مطلب عدالت میں کیس کر کے اپنی تاریخ پیدائش درست کروائیں.

عدالت میں کیس کیسے ہوگا؟

جیسا کے اوپر بتایا کے متاثرہ شخص عدالت میں دعویٰ استقرار حق کرے اس دعویٰ میں نادرا کو پارٹی بنائے گا.

عدالت نادرا کو نوٹس بھجوانے کے بعد باقاعدہ ٹرائل شروع ہو جائے گا جس میں عدالت اس شخص کو کہے گی کہ اپنے حق میں کوئی ثبوت پیش کرو جس سے ثابت ہو تمہاری تاریخ پیدائش کا غلط اندراج ہوا ہے شناختی کارڈ پر. وہ شخص Birth certificate جس کو یونین کونسل جاری کرتی ہے وہ پیش کرے گا یونین کونسل کا ریکارڈ بھی ہیش کیا جاسکتا ہے اگر برتھ سرٹیفکیٹ نہ ہو یا میٹرک کی ڈگری رزلٹ کارڈ یا دیگر شواہد عدالت میں پیش کرے کا جس سے ثابت ہو کے نادرا نے غلط اندراج کر دیا ہے تاریخ پیدائش کا یا نام کا. عدالت ڈگری Decree پاس کر دے گی جس کے بعد نادرا آپکی تاریخ پیدائش کو درست کر دے گا.

تعلیمی اسناد پر تبدیلی نام یا تاریخ پیدائش؟

ایک دفعہ شناختی کارڈ پر تاریخ پیدائش یا نام کی درستگی ہو جائے تو پھر متعلقہ تعلیمی بورڈ اور یونیورسٹی بھی آپکا نام تاریخ پیدائش تبدیل کرنے کی پاپند ہے اپ یونیورسٹی یا تعلیمی بورڈ کی فیس ادا کرنے کے بعد اپنا نام یا تاریخ پیدائش اسناد سے درست کروا سکتے ہیں

اس تمام کیس کا خرچہ کتنا ہوگا؟

اس تمام معاملے اور عدالتی کیس میں کوئی زیادہ خرچہ نہیں ہوتا بس وکیل صاحب کی فیس ہوگی دعویٰ استقرار حق میں عدالتی فیس نہیں ہوتی۔

27/09/2021

*اصل حقائق فیصلہ سپریم کورٹ عورتوں کا جائیداد میں وراثتی حصہ

سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایک پٹیشن سادات خان وغیرہ بنام شاہد الرحمٰن وغیرہ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف تین رکنی بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر تھی۔ دوران سماعت جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ اگر وراثت کے کیس میں ماں اپنے زندگی میں اپنی حق کو چلینچ نہ کرے تو بعد میں اولاد اپنے ماں کے حق کو لینے کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا نہیں سکتا۔ کیس کے حقائق سے ہٹ کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اصل ماجرا یہ ہے کہ جب کسی بھی غیر منقولہ جائیداد کو اگر باپ اپنے زندگی میں ہی اپنے اولاد کے درمیان گفٹ/تملیک کر دیں اور بہن اپنے زندگی میں اس گفٹ/تملیک نامہ کو علم ھونے کے باوجود چلینچ نہ کرے، تو بعد میں اس کے بیٹے اس مبینہ تملیک نامے کو چلینچ نہیں کر سکیں گے۔ قانون کی زبان میں اس اصول کو Acquiescence یا رضامندی یا اگر آپ کے سامنے کوئی کام ہو رہا ہو اور آپ خاموش رہے تو یہ اس بندے کے رضامندی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس سے پہلے 2013 میں جسٹس ناصر الملک نے رضامندی کے اصول پر تاریخی فیصلہ صادر فرما چکے ہے۔ اور رضامندی کے اصول کے تحت 2013 کے بعد بہت سارے فیصلے سپریم کورٹ اور مختلف ہائی کورٹس سے بھی ارہے ہیں اور موجودہ فیصلہ بھی انہی فیصلوں کی ایک کڑی ہے۔
خواتیں کو وراثت سے کوئی بھی بندہ یا ادارہ محروم نہیں کر سکتا کیونکہ یہ حق قرآن نے دیا ہے اور قیامت تک قیوم رہے گا۔ ملک کے اعلیٰ عدالتیں گاہے بگاہے قانونی اصولوں کی تشریح کرتے رہتے ہیں۔
اس سے پہلے جسٹس فائزعیسی، جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس جمال خان مندوخیل کے فیصلے موجود ہیں کہ عورت کو میراث سے محروم کرنے کی خاطر کوئی بھی Transaction غیر قانونی ہے چاہیے اُس کو کیے ہوئے ایک ہزار سال بھی گزر جائے وہ غیر قانونی ہی رہے گا، اور عدالتیں اس میں مداخلت کرکے خواتین کو اس کا جائز حق دلائیں گے۔

15/09/2021
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle (p.b.u.h) said,   Our Lord, the Blessed, the Superior, comes every night down on t...
31/08/2021

Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle (p.b.u.h) said, Our Lord, the Blessed, the Superior, comes every night down on the nearest Heaven to us when the last third of the night remains, saying: Is there anyone to invoke Me, so that I may respond to invocation? Is there anyone to ask Me, so that I may grant him his request? Is there anyone seeking My forgiveness, so that I may forgive him?

16/04/2021

ایف آئی آر درج کرواتے ھوئے مندرجہ ذیل باتوں کا خاص خیال رکھیں

تاریخ وقوعہ

وقت ( وقت کو ہمیشہ تقریبا لکھنا چاہیئے مثلا صبح تقریبا 8 بجے یا شام تقریبا 6 بجے )
جائے وقوعہ واضح کرنا ہے تا کہ تھانہ اپنی حدود کے معاملہ میں لیت ولعل سے کام نہ لے
الزام الیہ یا الزام الیہان کی تعداد

نوٹ: اصل ملزم کے علاوہ کسی دوسرے شخص کو بلاوجہ بطور ملزم نہ لکھیں کیونکہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے اگر FIR میں اصل ملزم کے ساتھ کسی دوسرے شخص کو بلاوجہ نامزد کیا جائے تو پھر ٹرائل میں اصل ملزم بھی اس تضاد کی وجہ سے عدالت میں سزا سے بچ جاتا ہے

اگر ملزم یا ملزمان نامعلوم ہیں تو ان کا حلیہ لکھیں اور ساتھ یہ لکھیں کہ سامنے آنے پر انھیں پہنچانا جاسکتا ھے

الزام علیہ کے پاس ہتھیار

اگر الزام علیہ 1 سے زیادہ ہیں تو ان تمام کے پاس ہتھیاروں کی اقسام

وقوعہ کا ذکر اور وقوعہ میں ملزمان کا عملی کردار مثلا کس نے لوھے کا راڈ مارا یا کس نے پتھر مارا وغیرہ اور جس کی ایماء پر یہ ہوا ہو اس کا موقع پر ہونا ضروری نہیں

اگر مدعی نے کوئی مال اس وقوعہ میں کھویا ھے تو اس کی مالیت

گواھوں کے نام ولدیت سکنہ

اگر گواھوں کی تعداد زیادہ ھو تو کوشش کریں کہ جو ضروری گواہ ہیں صرف ان کا نام لکھیں کیونکہ گواھوں کی زیادہ تعداد بعد میں ٹرائل کے وقت Cross Examination کے وقت کچھ مسائل درپیش آتے ہیں اس لئے صرف ضروری گواھوں کا نام شامل کریں

وقوعہ میں جرم کی نوعیت
ہم جس جرم کی ایف آئی آر کروانا چاہتے ہیں کتاب کے مطابق اس کی وضاحت کریں مثلاء میرے ایک کیس میں حملہ آور نے زیادتی کی کوشش کے دوران لڑکی کی گردن کاٹ دی جو لڑکی بچ گئی ایف آئی آر لکھنے والے نے وقوعہ تو لکھا لیکن الفاظ " جان سے مار دینے کی نیت سے" نہیں لکھے جو بعد میں دوران ٹرائل 324 لگ گئی لیکن statute کے الفاظ کے مطابق جرم کا اطلاق کروانا اشد ضروری ہے

وجہ عناد اگر موجود ہو تو لکھیں

اگر ایف آئی آر کی درخواست دینے میں کچھ دیر ھوئی ھے تو اس دیر کی وجہ
میڈیکل رپورٹ
الزام علیہ کے خلاف FIR درج کرنے کی استدعا
درخواست دہندہ کا نام ولدیت قوم سکنہ وغیرہ
درخواست دہندہ کے دستخط یا نشان انگوٹھا اور اس کے نیچے تاریخ اور کوشش کریں کہ درخواست دینے کا وقت بھی لکھ دیں تو بہتر ھوگا

شناختی کارڈ کی کاپی اور موبائل نمبر

ایک بات یاد رکھیں کہ ایف آئی آر مقدمہ کی بنیاد ہوتی ہے ایک مظبوط ایف آئی آر ملزمان کو سزا کرا سکتی ہے اور ایک کمزور ایف آئی آر ملزمان کو باعزت بری بھی کرسکتی ہے۔
طاہر پرویز ملک ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
03004107086/03344107086
خصوصی کاوش :شاہد اقبال خان ایڈووکیٹ
0302 3775292
ملک لاء ایسوسی ایٹس 45 ماڈل ٹاون کورٹس لاہور
111 fane road Lahore

Address

Ferozewattwan
Sheikhupura
9805

Telephone

+923014999805

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Adv Faisal Wattoo posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share