Iqbal Ahmed Gondal Advocate

Iqbal Ahmed Gondal Advocate legal services available in family courts, criminal, civil, labour, contract, land revenue, partnership and company laws disputes

legal services
civil litigation insolvency cases contracts property cases criminal defense family courts divorce recovery suits land revenue courts service tribunals and labour courts trials expert
tax consultant
contact number 03025879485

16/01/2026

معاشرے میں مکالمہ ایک اچھی روایت ہے ہمارے ارد گرد کے حالات تقاضا کرتے ہیں کہ ان پر قلم اٹھایا جائے اور ایک دوسرے کو اس پر اپنے خیالات کے اظہار کا موقع دیا جا...

16/01/2026

بڑھتی عمروں تک اور بچوں کی پسند کی شادی نہ کرنے کے نتائج

09/01/2026

Police Docket in Criminal Cases and MLC by Medical Officer

09/01/2026
01/01/2026
01/11/2025

آج پنجاب بھر میں وکلاء کے پنجاب بار کونسل ممبران کے چناؤ کے لئے انتخابات ہیں پنجاب بار کونسل ایکٹ کی رو سے ان وکلاء ممبران کا منسفی میں کیا کردار متعین شدہ ہے اور پاکستان میں انصاف کی زبوں حالی کیوں ہے
آج 1 نومبر 2025 کو پنجاب بھر میں وکلاء کی جانب سے پنجاب بار کونسل ممبران کے انتخابات ہونے ہیں جیسا کہ پنجاب بار کونسل کے آفیشل نوٹیفکیشن اور ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی رپورٹ اس کی تصدیق کرتی ہے یہ انتخابات قانونی پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسلز ایکٹ 1973 کی روشنی میں منعقد ہوتے ہیں اور ان کے زریعے کونسل کے 75 ممبران بار کونسل کا انتخاب ہوتا ہے جو صوبائی وکلاء کی نمائندگی کرتے ہیں
پنجاب بار کونسل ایکٹ کی رو سے ان ممبران کا عدلیہ میں کردار
_________________________
پنجاب بار کونسل ایکٹ جو کہ قانونی پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسلز ایکٹ 1973 کا حصہ ہے کے مطابق منتخب وکلاء ممبران پنجاب بار کونسل کی تشکیل کرتے ہیں جس کا چئیرمن ایڈووکیٹ جنرل برائے پنجاب ہوتا ہے جبکہ وائس چیئرمین منتخب شدہ ممبران میں سے سالانہ منتخب ہوتا ہے ان ممبران کا بنیادی کردار قانونی پیشے کی نگرانی اور ضابطہ کار سے متعلق ہے جو بلواسطہ طور پر عدلیہ کی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے اہم کردار درج ذیل ہیں
وکلاء کی شمولیت اور رول کی تیاری: ممبران کونسل کے زریعے وکلاء کی شمولیت کا معیار طے کرتے ہیں امتحانات کا انعقاد کرتے ہیں صوبائی اور ضلعی رولز تیار کرتے اور برقرار رکھتے ہیں اور ہائی کورٹ کے سامنے پریکٹس کرنے والے وکلاء کی فہرست بناتے ہیں یہ عمل عدلیہ میں معیاری قانونی نمائندگی کو یقینی بناتا ہے
ڈسپلنری کاروائیاں:
وہ وکلاء کے خلاف شکایات سنتے ہیں پروفیشنل مس کنڈیکٹ کی تحقیقات کرتے ہیں اور سزا جیسے تنبیہہ معطل کرنے یا پریکٹس سے نکالنے کا اعلان کرتے ہیں یہ عدلیہ کی آزادی اور انصاف کی فراہمی کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے کیونکہ عدالتوں سے بھی شکایات آتی ہیں
عدلیہ کی تقرریوں میں کردار:
پنجاب بار کونسل ایک منتخب ممبر کو جوڈیشل کمیشن آف پاکستان JCP میں بھیجتی ہے جو ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرریوں پر مشاورت اور ووٹنگ کرتا ہے یہ براہ راست عدلیہ کی تشکیل میں ان کی شرکت کو ظاہر کرتا ہے
دیگر کردار:
وکلاء کے حقوق کی حفاظت عدلیہ میں انصاف کی بہتری کیلئے اقدامات قانون کی اصلاح کے لئے تجاویز اور بار ایسوسی ایشنز کی تسلیم شدگی یہ سب عدلیہ کی کارکردگی کو سہارا دیتے ہیں لیکن ممبران براہ راست جج نہیں بنتے بلکہ قانونی نظام کی نگرانی کرتے ہیں
یہ کردار بار کونسل کو قانونی پیشے کو منظم کرنے کا اختیار دیتے ہیں جو عدلیہ کی آزادی اور معیار کو برقرار رکھنے میں اہم ہے
پاکستان میں انصاف کی زبوں حالی کی وجوہات:
پاکستان کا عدالتی نظام دنیا بھر میں تاخیر ، بیک لاگ اور ناکارہ پن کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنا ہوا ہے جہاں لاکھوں مقدمات سالوں تک الجھے رہتے ہیں اس کی اہم وجوہات درج ذیل ہیں جو مختلف رپورٹس اور تجزیات میں سامنے آئی ہیں
1. تاخیر اور مقدمات کا انبار:
عدالتوں میں ججوں کی کمی پرانے قوانین اور پیچیدہ پروسیجرز کی وجہ سے مقدمات میں تاخیر ہوتی ہے مسال کے طور پر پنجاب کی ضلعی عدالتوں میں بیک لاگ کی وجہ سے وکلاء کی ہڑتالیں فریقین کی عدم دستیابی اور عدالتی عملے کی غفلت ہے
2. بد عنوانی اور سیاسی مداخلت:
عدلیہ میں بدعنوانی عام ہے اور بہت سی بدعنوانیاں بار اور بینچ کی ملی بھگت سے بھی ہوتی ہیں جو انصاف کی فراہمی کو متاثر کرتی ہیں سیاسی دباؤ اور حکمرانوں کی مداخلت ججوں کی آزادانہ فیصلہ کی صلاحیت کو کمزور کرتی ہے جس سے عوام کا اعتماد ختم ہوتا ہے
ناقص انفراسٹرکچر اور وسائل کی کمی:
عدالتوں میں بنیادی سہولیات جیسے کمپیوٹرائزیش اور لائبریریوں کی کمی ناکافی عملے اور ججوں کی تربیت کی کمی مسائل کو بڑھاتی ہے
وکلاء کی ہڑتالیں اور ناکارہ وکالت:
بار کونسلز سے وابستہ وکلاء کی بار بار ہڑتالوں سے نہ صرف سماعت مقدمات متاثر ہوتی ہے بلکہ پریکٹس کرنے والے وکلاء کی پریکٹس بھی متاثر ہوتی ہے اور بار کونسل ممبران کئی مہینے صرف دو تین کروڑ روپے پکڑ کر ججوں سے ملی بھگت کے ساتھ سی این جی اور ایسے دیگر مقدمات کو طول دینے کے لئے معمولی سوجھ بوجھ اور کم تجربات کے حامل نوجوان وکلاء کو ہائی کورٹ بینچ اور اسی طرح کی دیگر خیرہ کن نعرہ بازیوں میں سڑکوں پر لاتے اور مہینوں عدالتی نظام کو مفلوج کئے رکھتے ہیں کئی بے گناہ اور ضمانت کے حقدار لوگ بھی وکلاء کی ہڑتالوں کی وجہ سے جیلوں میں بند رہنے پر مجبور ہوتے ہیں جبکہ ناقص وکالت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں انصاف کو مزید کمزور کرتی ہیں
3. قانونی اصلاحات کی کمی:
پرانے قوانین اور عدالتی نظام کی جدیدیت نہ ہونے کی وجہ سے کیسز کا حل تیز نہیں ہوتا جس سے غریب عوام سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں
ان مسائل کا حل بار کونسلز حکومت اور عدلیہ کی مشترکہ کوششوں سے ممکن ہے جیسے ڈیجیٹلائزیشن ججوں کی بھرتی اور بدعنوانیوں کے خلاف سخت اقدامات ، آج کے انتخابات کے بعد منتخب ہو کر آنے والی قیادتیں ان مسائل پر غور کر سکتی ہیں

31/10/2025

سابق سینیٹر اور امیر صوبہ مشتاق احمد خان صاحب کے جماعت اسلامی سے علیحدگی کے اعلان سے جماعت اسلامی کا کارکن بہت پریشان ہے جناب امیر العظیم صاحب کی وضاحت کے بعد مرکزی قیادت کا موقف بھی سامنے آ گیا ہمیں تو اطراف میں کسی کی غلطی کا گمان نہیں جماعت اسلامی نے ابتداء کی تو تصور تھا کہ قرآن وسنت کے مطابق افراد کی اخلاقی تربیت کر کے افراد کی ایک با کردار جماعت بنائی جائے گی جو اس دور زوال میں امر باالمعروف اور نہی عن المنکر کے لئے امت مسلمہ میں انقلاب برپا کرے گی جماعت اسلامی میں معاملات کو چلانے کے لئے کبھی بھی فرد کو عقل کل کا درجہ نہیں دیا گیا بلکہ ابتدا سے ہی مشاورت اس کے لئے فیصلہ کن امر رہی جماعت کے تمام معاملات شوری کے مشاورت سے طے پاتے تھے ۔ بلا شبہ قرآن سنت کی روشنی میں انفرادی تربیت کا عمل نہایت پائیدار ہوتا لیکن یہ مشکل اور وقت طلب تھا جبکہ معاشرے کی جمہوری رفتار بہت تیز تھی جس کے بہت آگے بڑھ جانے اور جماعت اسلامی کے صالحین کا اس معاشرے میں جمہوری عمل میں شامل نہ ہونے کے سبب اثر اور امر باالمعروف اور نہی عن المنکر کے لئے اقدام ضروری لیکن ان کا اس میں عمل دخل نہ ہونے کی بنا پر انفرادی صالح پن کی بے توقیری نمایاں تھی لہذا وقت کی رفتار اور نبض کا ادراک رکھنے والے صالحین میں سے رفقائے شوری نے قومی سیاست میں شامل ہونے اور اپنا معاشرتی کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا جو اگرچہ مشکل تھا لیکن اس کے بغیر چارہ نہیں تھا اس موقع پر بہت سے صالحین کو معاشرتی سیاسی عمل میں شامل ہونا پسند نہ آیا تو وہ جماعت اسلامی سے جدا ہو گئے یوں جماعت اسلامی کے لئے اختلاف رائے میں انقلاب کے بنیادی فلسفہ تربیت افراد اور قیادت امت کی یگانگت رکھنے والے صالحین رفقاء کے جماعت ہی سے الگ ہو جانے کا جماعت اسلامی کو یہ پہلا تجربہ ہوا وہ لوگ جو جماعت اسلامی سے اس نظری اختلاف کے سبب الگ ہوئے وہ علیحدہ خدمت دین میں تو لگے رہے لیکن جماعت اسلامی جیسا بلند قد و قامت کبھی حاصل نہ کر پائے دوسری طرف جماعت اسلامی اگرچہ محتاط لیکن ملک کے سیاسی عمل میں اتر کر سیاسی نظام کا حصہ بننے لگی جماعت اسلامی کے اس انفرادی تربیتی دور کے افراد نے بلاشبہ قومی سیاسی نظام میں خوبصورت ترین کردار ادا کیا لیکن اب سیاسی عمل میں کچھ سیاسی طاقت کے حصول کی مجبوریاں تھیں سیاسی طاقت کے لئے آٹے میں نمک کی مقدار کوئی کار آمد نتیجے کی حامل نہ تھی پھر وقت کے ساتھ ساتھ بوڑھی اور جوان قیادتوں کے ولولوں اور شعور و احساس کا فرق بھی تھا نوجوان ولولے فوری نتائج کے متمنی تھے اور فورآ قوت لایموت کے حصول کے قائل کہ اتنی پارلیمانی گنتی مکمل ہو کہ ایک بار اقتدار کی سیڑھیوں پر گرفت ہو تو سب کچھ تبدیل کر کے رکھ دیا جائے لہذا اس ضرورت کے لئے انفرادی تربیت سے کشید کردہ افراد سے کسی فوری انقلابی تبدیلی کے ناممکنات معاشرتی واقعات اور آمدہ تقاضوں کے پیش نظر جماعت اسلامی نے اتحادوں میں شمولیت اور پارلیمانی تجربات کے آزمودہ کار لوگوں کو پارلیمانی ضرورت کے تحت اپنایا اور انفرادی تربیت میں خود سے کچھ نہ کچھ فطری کمزوری واقع ہونا شروع ہو گئی جو یقیناً نہ جماعت اسلامی کے مقاصد میں شامل تھی نہ ہی قائدین کی نیتوں پر شکوک وشبہات کی دلیل بلکہ حالات کے تحت اتفاقات کا نتیجہ تھی جماعت اسلامی نے سنہ1970ء کے الیکشن میں انفرادی حصہ لے کر اپنی بصیرت بھی منوائی اور اپنا کردار بھی نمایاں کیا سنہ1977ء کے الیکشن میں قومی اتحاد میں شامل ہو کر انفرادی تربیت سے اگلے قدم جمہوری سیاسی عمل سے بھی اگلا قدم سیاسی جماعتوں کے اتحاد سے اقتدار میں شراکت داری کا نیا تجربہ کیا بلا شبہ جماعت اسلامی کو پارلیمانی نظام میں شمولیت کا موقع ملا لیکن اب انفرادی تربیت ، دعوت دین کے لئے عوامی رابطوں اور گلیوں محلوں میں اور مقامی سطح پر کارکنوں کی تربیت کی طرف جماعت اسلامی کو ضرورت کا احساس کم ہوا چونکہ پارلیمانی نظام سے اقتدار تک پہنچنے کے لئے اور بہت سے زرائع سامنے تھے دوسری طرف جن لوگوں نے پارلیمنٹ میں بڑی کرسیوں پر بیٹھنے کے مزے لئے تھے ان کی نگاہوں میں اور بھی بہت سے خواب اترنے لگے تو ان لوگوں نے ایسا ایک فلسفہ اقتدار ترتیب دے لیا کہ نہ تو انفرادی تربیت کے نظام کی ضرورت ہے اور نہ ہی اس پر وقت ضائع کیا جا سکتا ہے نہ جماعت اسلامی اکیلی اقتدار تک پہنچ سکتی ہے تو اتحاد ضروری ہیں بس پھر اگلی سواری میان نواز شریف کی اسلامی جمہوری اتحاد کی گاڑی پھر اتحادوں پہ اتحاد نتیجے میں جماعت اسلامی کے پاس نہ تو اس ڈھنگ کی تربیت رہی نہ وہ شفاف کردار رہا نہ ہی عوام میں وہ وقعت عمران خان جیسے شخص کے ساتھ بھی جماعت اسلامی شامل ہوئی اور عمران خان کی اقوام متحدہ کی تقریر پر جناب امیر العظیم صاحب کے نعرے کہ امت مسلمہ کے لیڈر نے کمال کردیا اسلام کا پیغام ستر سال میں پہلی بار عمران خان نے پہنچایا راقم نے امیر جماعت اسلامی جناب سراج الحق صاحب کے نام لکھا کہ عمران خان تو کیا سر ظفر اللہ خان اس سے پہلے اقوام متحدہ میں گھنٹوں کے حساب سے تقریر فرما کر اسلام کا پیغام پہنچا کر کشمیر جہاد کا فیصلہ کروا آئے اللّٰہ آپ سے پوچھے گا راقم نے پیر حمید الدین سیالوی رح کو بھی لکھا کہ رسول اللہ آپ کو حشر والے دن پکڑیں گے کہ پیر مہر علی شاہ گولڑوی کی مرزائیوں کے خلاف کتاب آپ نے نہیں پڑھی تھی ۔ جماعت اسلامی سے لوگ ترقی کا رستہ چنتے پارلیمنٹ میں پہنچ کر میاں نواز شریف یا عمران خان صاحب کی پینگوں میں جھولے لیتے اور جماعت اسلامی کے اندر رہ کر یا جماعت اسلامی سے علیحدگی بھی اختیار کرتے رہے نعیم الرحمان صاحب نے نوجوانوں کو آئی ٹی کی تربیت کا جو پروگرام دیا ہے بلاشبہ نوجوانوں کے لئے بہت کارگر اور بے مثال ہے الخدمت فاؤنڈیشن جماعت اسلامی کا بہت بڑا کارنامہ اور کردار ہے لیکن جماعت اسلامی اب محلوں گلیوں میں لوگوں کو دعوت دین دیتی اور ہفتہ وار پروگرام کرتی کہیں نظر نہیں آتی ارتقاء نے جماعت اسلامی کو نہ پی ٹی آئی بننے دیا نہ مسلم لیگ یا پیپلز پارٹی اور نہ ہی جماعت اسلامی رہنے دیا تو پھر ہزاروں مشتاق احمد خان آتے اور جاتے رہیں گے
اقبال احمد گوندل ایڈووکیٹ سرگودھا

29/10/2025

ہائے کیا گزری ہے دل پہ
ملک ممتاز اعوان صاحب ایڈووکیٹ سرگودھا بار کی معروف علمی ادبی روحانی شخصیت ہیں ان سے علیک سلیک کچھ عرصہ سے رواں ہے گزشتہ ان کے ساتھ ایوان عدل لاہور میں ان کے ایک ہم زلف کے مقدمے میں معاونت کا شرف رہا طے تھا کہ میرے لانے لیجانے اور طعام و سرود کی زمہ داری ان کی ہو گی اور کسی بھی بڑے سے بڑے ہوٹل سے ہمارے طعام و سرود و نوش سے منکر نہ ہو سکیں گے چنانچہ انہوں نے نبھایا اور ہمیں شکایت نہ ہوئی پتہ نہیں موصوف کو کیا سوجھی ایک روز ہمیں ایوانِ عدل سے ہائی کورٹ لائے وہاں آکر فرمایا آج دوپہر کا کھانا سردار عنصر بلوچ صاحب ایڈووکیٹ کے چیمبر پر ملک ذیشان اعوان صاحب ایڈووکیٹ کے پلے سے کھائیں گے پہلے تو عذر پیش کیا کہ حضور بندہ یوں ملک ذیشان اعوان صاحب سے کھانا مناسب نہیں سمجھتا دیگر ہماری کفالت آپ کے اقرار نامہ کا حصہ ہے جس سے آپ منحرف نہیں ہو سکتے حضور نے کچھ ملک ذیشان صاحب کی اعلیٰ ملکیت کے سبب ہمارے لاہور میں آمد سے باخبر ہونے اور آپ کی بلا قدم بوسی واپسی ان کی ناراضگی کا سبب ہونے کا عذر پیش کیا تو ناچار دل پر بن آئی تیار ہو چل پڑے خیر
در دوست گہے بر سرِ عرش
ہمی تیز رو کہ نہ دیر شد
چیمبر پر سردار صاحب کے بھانجے ایڈووکیٹ صاحب اور ایک دیگر صاحب سے ملاقات ہوئی چائے کی آفر ہم نے بہ سرو چشم قبول کر لی ڈیڑھ گھنٹہ انتظار کے بعد ہم نے استفسار کر لیا تو واقعی چائے بنانے کی تیاریاں زور وشور سے شروع کر دی گئیں
آہ
تو نہ قاتل ہو کوئی اور ہی ہو
تیرے کوچے کی شہادت ہی سہی
چائے کا انتظام غالباً ہمارے لئے کوئی دو تین روز پہلے ہی کر لیا گیا ہوا تھا بس اس میں میٹیریل تبدیلی صرف تازہ پانی کی ہوئی تھی لیکن ہم نے
زہر رخ جبیں پیو خندہ دلی سے
نہ زبان سے نکلے دبی آہ تک بھی
جو آہ نکلی زبان و دل سے
تو اتار دیں گے دستار و جبہ عاشقانہ
وہ چائے معدے میں بصد ادب انڈیل ہی پائے تھے کہ ملک ذیشان اعوان صاحب مرشدِ کامل راہ روانِ خاکاں نزول کرد بر سرِ جہان ایں
اور پھر ہمیں جو من و سلویٰ کے لڈو پھوٹے تھے ملک ذیشان اعوان صاحب کی رشین زبان میں ملک ممتاز اعوان صاحب دامت برکاتہم کی تواضع اور درون پردہ ہماری بھی خاطر داری ہے ہمیں بے وقت اس قدر مشتعل کیا کہ شیطان نے شاید ابنِ آدم کو ایک بار پھر بھٹکا دیا بے ادبی کے انتہائی اقدام کے طور پر ہم
چھوڑ دیا تیری چوکھٹوں کو
نہ خیال ادب و ہنر رہا
نہ حضوری ہی کی شناخت باقی
ہمیں حوش تب آیا جب سیڑھیاں اتر کر مال روڈ پر پہنچ چکے تھے
سردار عنصر بلوچ صاحب کی قدم بوسی کے لئے ہم جناب علی شیر رانا صاحب کی دعوت پر حاضری کے لئے پیش خدمت ہوئے کمال نظر کرم ہوا ہمارے ساتھ تصویریں اتریں پھر ہمیں بار روم کے اندر ساتھ چلنے کا حکم ہوا کہ وہاں چائے کا ایک کپ پینا انتہائی ضروری ہے چار سو سال تک تحصیل ساہیوال کے حکمران بلوچ خاندان کی چائے ہماری خوش نصیبی تھی
ہو جو در شاہاں سے پکار تم کو
تو سر کے بل یونہی چل کے آؤ
کمال ہنر و ادب یہی ہے
جمال در شاہ ہانہ
خان صاحب فوراً چائے کا حکم فرما چکے تھے
ناچیز بندہ خادم خادم خادماں کو کیا شادماں
بہت خاص پہلو میں نشست عطا ہوئی کیمرے مضطرب تھے فورآ حکم صنم گری کرد
تصاویر اتار لی گئیں ہماری حاضری مکمل ہو چکی تھی
ہر کس را اختیار نیست جذ مرتبہ و قد و خوئے او
کمال ایں شاہانہ ای کہ نگاہ بر انتخاب کردند
چائے والے کو آواز فرمائی کہ چائے ذرا پکا کے لانا
اشارہ آبروئے نازنین کی خبر
ہم عاشقان رو سیاہ سمجھیں
لیکن ہم ڈھیٹ تھے چائے کا کپ تو پی کر ہی اٹھے
مستاں نوں کی دنیا نال
دھکے کھونے بوھے بوھے
ھوکیاں مستانہ دے نال
سجناں دے ہن حسن کمال
مظہر للہ چائے کی دعوت بھی نہیں دیتا مجھے حضرت مقبول الرسول صاحب للہی رحمۃ اللّٰہ علیہ کا احترام تو ملحوظ رکھنا ہے
اقبال احمد گوندل ایڈووکیٹ سرگودھا

Address

Sargodha

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Iqbal Ahmed Gondal Advocate posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category