Cheema Law Company

Cheema Law Company Cheema Law Company is providing consultancy and legal services in Tax matters.Keep your financial ma

13/08/2026
Don’t Delay File Today
03/08/2026

Don’t Delay File Today

File your Income Tax Returns on time to avoid ATL Surcharge
03/07/2026

File your Income Tax Returns on time to avoid ATL Surcharge

30/06/2026

کہانی پچیس ہزار کے سرچارج کی فنانس ایکٹ کی زبانی

جو بل پیش ہوا وہ اب ایکٹ بن چکا یعنی اب وہ قانون ہے۔
یہ پچیس ہزار سرچارج بارے کیا بتا رہا ہے؟
فرض کرتے ہیں آپ ابھی فائلر نہیں ہیں ایکٹو لسٹ میں نہیں ہیں۔ اگلا سال شروع ہوگیا تو کیا آپ کو ایکٹو لسٹ یا فائلر ہونے کے لئے پچیس ہزار ادا کرنے ہونگے؟
نہیں ایسا نہیں ہے۔ آپ دو ہزار چھبیس کی ریٹرن فائل کریں اور بغیر سرچارج ادا کئے آپ فائلر بن جائیں گے ایکٹو پئیر لسٹ میں آجائیں گے۔
تو سرچارج کب ادا کرنا ہوگا؟
سرچارج ادا کرنے کی ضرورت تب ہوگی جب دو ہزار چھبیس کی ریٹرن ڈیو ڈیٹ تک آپ فائل نہیں کرتے۔
ڈیو ڈیٹ کب ہے ؟
30 ستمبر 2026 ہے اس میں ایف بی آر عموما ایکسٹینشن بھی دیتا ہے اگر نہ بھی دے تو بھی 30 ستمبر تک آپ دو ہزار چھبیس کی ریٹرن فائل کریں اور بغیر سرچارج ادا کئے فائلر بنیں ، ایکٹو ٹیکس پئیر لسٹ میں آئیں۔
تو پھر سرچارج کب سے ادا کرنا ہوگا اور کتنا ادا کرنا ہوگا؟
اگر آپ 30 ستمبر 2026 کو اپنی ریٹرن فائل نہیں کرتے جو کہ ڈیو ڈیٹ ہے پھر آپ کو ایکٹو ٹیکس پئیر لسٹ میں آنے کے لئے سرچارج ادا کرنا ہوگا۔۔
یہ سرچارج کتنا ادا کرنا ہوگا کیا پچیس ہزار ادا کرنا ہوگا؟
نہیں ۔ اگر آپ تیس ستمبر 2026 کے بعد 2026 کی ریٹرن فائل کرتے ہیں اور کمشنر کو انڈرٹیکنگ دیتے ہیں کہ اس ڈیٹ سے چھ مہینے تک میں کوئی پراپرٹی نہیں خریدوں گا تو بھی آپ کو پچیس ہزار سرچارج ادا نہیں کرنا پڑے گا ۔

17/05/2026

صرف “فائلر اسٹیٹس” کے لیے غلط ریٹرن… اور پھر شروع ہوتا ہے نوٹسز، جرمانوں اور آڈٹ کا وہ سلسلہ جس کا اختتام آسان نہیں ہوتا ⚠️

یہ ایک عام مگر انتہائی حساس مسئلہ ہے جسے اکثر لوگ سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ آج کل بہت سے افراد (خاص طور پر زمین نام کرواتے یا بیچتے وقت) صرف “فائلر اسٹیٹس” حاصل کرنے کی خواہش میں اپنی انکم ٹیکس ریٹرن کو مکمل اور درست انداز میں جمع نہیں کرواتے۔ بظاہر یہ ایک معمولی سی بات لگتی ہے، لیکن حقیقت میں یہی عمل مستقبل میں سنگین قانونی اور مالی مسائل کی بنیاد بن سکتا ہے۔
انکم ٹیکس ریٹرن دراصل آپ کی پوری مالی زندگی کا آئینہ ہوتا ہے۔ اس میں آپ کی آمدن، کاروباری لین دین، جائیداد، گاڑیوں کی خرید و فروخت، بینک اکاؤنٹس کی سرگرمیاں اور دیگر مالی ذرائع شامل ہوتے ہیں۔ جب ان معلومات کو مکمل اور درست طریقے سے ظاہر نہیں کیا جاتا تو ریٹرن اپنی اصل قانونی حیثیت کھو دیتا ہے اور ایک کمزور بنیاد پر کھڑا مالی ریکارڈ بن جاتا ہے۔جس پر ایف بی آر کے نوٹسز آنا عام سی بات ہے
بدقسمتی سے بعض اوقات لوگ صرف ٹیکس میں رعایت حاصل کرنے یا “Active Filer” بننے کے لیے ادھوری معلومات فراہم کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ ایسے افراد کی مدد بھی لے لیتے ہیں جنہیں ٹیکس قوانین اور مالی شفافیت کی مکمل سمجھ نہیں ہوتی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ریٹرن میں ایسی خامیاں رہ جاتی ہیں جو بعد میں ایف بی آر کے نوٹسز، آڈٹ اور جرمانوں کی صورت میں سامنے آتی ہیں۔
یہ بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ٹیکس ریٹرن کوئی رسمی کاغذی کارروائی نہیں بلکہ ایک قانونی دستاویز ہے جو آپ کے مالی کردار کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس میں کی گئی معمولی سی غلطی بھی مستقبل میں بڑے مسائل پیدا کر سکتی ہے، جو نہ صرف مالی نقصان کا باعث بنتے ہیں بلکہ آپ کی مالی ساکھ کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
اسی لیے ضروری ہے کہ ٹیکس معاملات میں ہمیشہ ایک ماہر اور تجربہ کار کنسلٹنٹ سے رہنمائی لی جائے جو نہ صرف ریٹرن کو درست طریقے سے تیار کرے بلکہ آپ کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے بہتر مالی منصوبہ بندی بھی فراہم کرے۔ ایک اچھا مشیر آپ کو وقتی فائدے کے بجائے طویل مدتی تحفظ اور اعتماد دیتا ہے۔
آخر میں یہی سمجھنا سب سے اہم ہے کہ شفاف اور درست ٹیکس فائلنگ ہی ایک محفوظ مالی مستقبل کی ضمانت ہے۔ وقتی سہولت کے لیے کی گئی غلطی بعد میں ایسی پیچیدگی بن سکتی ہے جس کا حل تلاش کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔


07/05/2026

جائیداد مالکان کے لیے بڑی خوشخبری: سیکشن 7E اب باضابطہ طور پر ختم! 🏛️🚫

فیڈرل کانسٹیٹیوشنل کورٹ نے انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 7E کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے آئین سے متصادم قرار دے دیا ہے۔ اگر آپ رئیل اسٹیٹ کے اس پورے معاملے پر نظر رکھے ہوئے تھے تو آپ جانتے ہوں گے کہ یہ ایک بہت بڑا فیصلہ ہے۔

ذرا یاد کریں: سیکشن 7E تھا کیا؟ 🤔
فنانس ایکٹ 2022 کے تحت متعارف کروائے گئے سیکشن 7E میں جائیداد پر ایک متنازعہ ٹیکس عائد کیا گیا تھا۔ اگر کسی شخص کی ایک سے زائد جائیداد خالی پڑی ہو اور اس سے کوئی کرایہ بھی وصول نہ ہو رہا ہو، تب بھی قانون یہ فرض کرتا تھا کہ اس جائیداد سے اس کی مارکیٹ ویلیو کے 5 فیصد کے برابر آمدن حاصل ہو رہی ہے، اور اسی فرضی آمدن پر وفاقی ٹیکس عائد کر دیا جاتا تھا۔

اصل مسئلہ: آئینی حدود سے تجاوز ⚖️
لوگ اس قانون سے پریشان ضرور تھے، لیکن اصل معاملہ آئینی تھا۔ پاکستان کے آئین کے مطابق وفاقی حکومت صرف حقیقی آمدن پر ٹیکس لگا سکتی ہے، جبکہ غیر منقولہ جائیداد پر ٹیکس لگانے کا اختیار صوبوں کے پاس ہے۔ ماہرینِ قانون کا مؤقف تھا کہ وفاقی حکومت نے پراپرٹی ٹیکس کو "انکم ٹیکس" کا نام دے کر اپنی آئینی حدود سے تجاوز کیا۔

عدالت کا حتمی فیصلہ 🏛️
فیڈرل کانسٹیٹیوشنل کورٹ نے بھی اسی مؤقف سے اتفاق کیا۔ عدالت نے سیکشن 7E کو الٹرا وائرز (یعنی اختیارات سے تجاوز) قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ وفاقی حکومت کے پاس ایسا ٹیکس نافذ کرنے کا آئینی اختیار موجود نہیں تھا۔

یہ فیصلہ نہ صرف آئینی حدود کو بحال کرتا ہے بلکہ ملک بھر کے جائیداد مالکان کے لیے بھی ایک بڑی راحت کی خبر ہے! 🏠✨


Address

Office No 34, Second Floor, Al Rehman Trade Center
Sargodha
54100

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

03006003536

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Cheema Law Company posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Cheema Law Company:

Shortcuts

Share