08/04/2026
یہ مقدمہ رقم کی وصولی (Suit for Recovery) سے متعلق تھا جو ایک dishonored cheque کی بنیاد پر دائر کیا گیا۔ مدعی کا مؤقف تھا کہ مدعا علیہ نے ایک چیک جاری کیا جو پیشی پر ڈس آنر ہو گیا، لہٰذا وہ واجب الادا رقم کی ادائیگی کا قانونی طور پر پابند ہے۔ ٹرائل کورٹ نے دستیاب شواہد اور ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے مدعی کے حق میں دعویٰ ڈگری کر دیا۔
مدعا علیہ/اپیلانٹ نے اپنے دفاع میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ مذکورہ چیک بطور guarantee cheque جاری کیا گیا تھا، اس لیے وہ براہِ راست ادائیگی کا ذمہ دار نہیں۔ عدالت نے اس دلیل کا جائزہ لیتے ہوئے Section 126 of Contract Act, 1872 کی روشنی میں قرار دیا کہ contract of guarantee میں تین فریق ہوتے ہیں یعنی surety، principal debtor اور creditor۔ تاہم، ریکارڈ سے یہ ثابت نہ ہو سکا کہ مدعا علیہ کسی تیسرے فریق کے لیے بطور ضامن (surety) کام کر رہا تھا، بلکہ وہ خود ہی principal debtor کے زمرے میں آتا ہے، جس کے باعث اس پر براہِ راست ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ متنازعہ چیک Section 6 of Negotiable Instruments Act, 1881 کے تحت ایک negotiable instrument ہے، جس پر Section 118 کے تحت موجود statutory presumptions لاگو ہوتے ہیں، جن کے مطابق یہ تصور کیا جاتا ہے کہ چیک عوض (consideration) کے بدلے جاری کیا گیا ہے، جب تک اس کے برعکس کوئی مضبوط ثبوت پیش نہ کیا جائے۔ مدعا علیہ اس قانونی مفروضے کو زائل کرنے میں ناکام رہا۔
ریکارڈ کے جائزے سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ مدعا علیہ/اپیلانٹ ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں کسی قسم کی material illegality، irregularity، misreading یا non-reading of evidence کی نشاندہی نہیں کر سکا۔ اس لیے ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ نے شواہد کا درست اور جامع جائزہ لیا اور مروجہ قانونی اصولوں کے مطابق Order ###VII, C.P.C. کے تحت دعویٰ کو درست طور پر ڈگری کیا۔ لہٰذا، ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں مداخلت سے انکار کرتے ہوئے اپیل کو خارج کر دیا۔
📢 علم پھیلانا صدقہ جاریہ ہے۔ قانون سے آگاہی نہ صرف آپ کا حق ہے بلکہ آپ کی ذمہ داری بھی ہے۔ خود سیکھیں اور دوسروں تک پہنچائیں۔ مزید قانونی معلومات کے لیے پیج کو فالو اور شیئر کریں