01/10/2024
پی ٹی آئی بلے کے نشان کیس میں وکیل حامد خان صاحب نے ایک اہم نکتہ اٹھایا تھا، جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے غور نہیں کیا تھا۔ وہی نکتہ جسٹس سید منصور علی شاہ نے مخصوص نشستوں کے کیس کے فیصلے میں واضح کر دیا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یہ حیرت کی بات ہے کہ الیکشن کمیشن اس معاملے میں بنیادی فریق کے طور پر پیش ہوا اور سنی اتحاد کونسل اور پی ٹی آئی کے خلاف دلائل دیے۔
الیکشن کمیشن کا کردار اس معاملے میں نیم عدالتی نوعیت کا تھا۔ اور جیسا کہ وفاقی محتسب کیس اور اے رحیم فوڈز کیس میں عدالت نے قرار دیا تھا، کوئی بھی ادارہ جب اپنے نیم عدالتی اختیارات استعمال کر رہا ہو، تو اگر اس کا فیصلہ کسی اعلیٰ فورم یا عدالت میں کالعدم قرار دے دیا جائے، تو وہ ادارہ متاثرہ فریق نہیں بن سکتا۔ ایسے ادارے کو نہ تو فیصلے کو چیلنج کرنے کا حق ہوتا ہے اور نہ ہی اپیل میں بنیادی فریق بن کر پیش ہونے کا۔
اس کیس میں الیکشن کمیشن کو صرف عدالت کی مدد کے لیے پیش ہونا چاہیے تھا، نہ کہ ایک فریق بن کر معاملہ لڑنے کے لیے۔"