31/08/2026
⚖️ سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم فیصلہ
پہلے ریکارڈ شدہ بیان کو بعد کی کارروائی میں بھی قابلِ غور قرار دے دیا گیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا کہ اگر کسی گواہ یا شکایت کنندہ کا بیان پہلے کسی مجاز عدالت کے سامنے ریکارڈ ہو چکا ہو، ملزم کو اس گواہ پر مکمل جرح (Cross-Examination) کا موقع حاصل رہا ہو، اور بعد ازاں گواہ فوت ہو جائے، تو قانون کی مقررہ شرائط پوری ہونے کی صورت میں اس کا سابقہ بیان بعد کی عدالتی کارروائی میں بھی قابلِ غور ہو سکتا ہے۔
🔹 قانونی اصول
1۔ سابقہ بیان کی اہمیت
اگر بیان مجاز عدالت کے سامنے ریکارڈ ہوا اور ملزم کو جرح کا مکمل حق حاصل تھا تو محض اس بنیاد پر اسے ناقابلِ قبول قرار نہیں دیا جا سکتا کہ گواہ بعد کی کارروائی میں موجود نہیں۔
2۔ گواہ کی وفات
اگر گواہ بعد میں فوت ہو جائے اور عدالت میں بطور گواہ پیش نہ ہو سکے، تو قانون کے تقاضے پورے ہونے پر اس کا پہلے ریکارڈ شدہ بیان زیرِ غور لایا جا سکتا ہے۔
3۔ Article 47 — Qanun-e-Shahadat Order, 1984
سپریم کورٹ نے سابقہ بیان کو آرٹیکل 47، قانونِ شہادت آرڈر 1984 کی روشنی میں قابلِ غور سمجھا، جہاں بالخصوص یہ عوامل اہم تھے:
• بیان competent Court کے سامنے ریکارڈ ہوا؛
• ملزم کو cross-examination کا مکمل موقع ملا؛
• فریقین بنیادی طور پر وہی تھے؛
• سابقہ بیان اسی واقعہ سے متعلق تھا۔
4۔ FIR کا فوری اندراج
واقعہ کے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کے اندر FIR کا اندراج بھی عدالت کے سامنے ایک اہم پہلو تھا، جس سے فوری اطلاع کے عنصر کو تقویت ملی۔
5۔ FIR میں ملزم کا واضح نام
ملزم کا نام FIR میں واضح طور پر درج تھا اور اس پر مخصوص کردار اور فائرنگ کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
⚖️ سزاؤں کے حوالے سے اہم نکتہ
سپریم کورٹ نے conviction اور High Court کی جانب سے دی گئی عمر قید میں مداخلت نہیں کی، تاہم ہدایت کی کہ دونوں counts پر عائد عمر قید کی سزائیں concurrently چلیں گی۔
📌 اہم قانونی اصول
اگر کسی گواہ کا بیان پہلے مجاز عدالت کے سامنے ریکارڈ ہو چکا ہو، ملزم کو اس پر مکمل جرح کا حق حاصل رہا ہو، اور بعد ازاں گواہ فوت ہو جائے، تو قانون کی مقررہ شرائط پوری ہونے کی صورت میں سابقہ بیان بعد کی کارروائی میں بھی قابلِ غور ہو سکتا ہے۔
📚 Case Reference: 2026 SCMR 1139
⚖️ Islam Law Associates
Legal Excellence • Professional Commitment • Justice