Jahandad nawaz

Call Directions

Jahandad nawaz Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Jahandad nawaz, Lawyer & Law Firm, Sahiwal.

⚖️ سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم فیصلہپہلے ریکارڈ شدہ بیان کو بعد کی کارروائی میں بھی قابلِ غور قرار دے دیا گیاسپریم کورٹ...
31/08/2026

⚖️ سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم فیصلہ

پہلے ریکارڈ شدہ بیان کو بعد کی کارروائی میں بھی قابلِ غور قرار دے دیا گیا

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا کہ اگر کسی گواہ یا شکایت کنندہ کا بیان پہلے کسی مجاز عدالت کے سامنے ریکارڈ ہو چکا ہو، ملزم کو اس گواہ پر مکمل جرح (Cross-Examination) کا موقع حاصل رہا ہو، اور بعد ازاں گواہ فوت ہو جائے، تو قانون کی مقررہ شرائط پوری ہونے کی صورت میں اس کا سابقہ بیان بعد کی عدالتی کارروائی میں بھی قابلِ غور ہو سکتا ہے۔

🔹 قانونی اصول

1۔ سابقہ بیان کی اہمیت
اگر بیان مجاز عدالت کے سامنے ریکارڈ ہوا اور ملزم کو جرح کا مکمل حق حاصل تھا تو محض اس بنیاد پر اسے ناقابلِ قبول قرار نہیں دیا جا سکتا کہ گواہ بعد کی کارروائی میں موجود نہیں۔

2۔ گواہ کی وفات
اگر گواہ بعد میں فوت ہو جائے اور عدالت میں بطور گواہ پیش نہ ہو سکے، تو قانون کے تقاضے پورے ہونے پر اس کا پہلے ریکارڈ شدہ بیان زیرِ غور لایا جا سکتا ہے۔

3۔ Article 47 — Qanun-e-Shahadat Order, 1984
سپریم کورٹ نے سابقہ بیان کو آرٹیکل 47، قانونِ شہادت آرڈر 1984 کی روشنی میں قابلِ غور سمجھا، جہاں بالخصوص یہ عوامل اہم تھے:

• بیان competent Court کے سامنے ریکارڈ ہوا؛
• ملزم کو cross-examination کا مکمل موقع ملا؛
• فریقین بنیادی طور پر وہی تھے؛
• سابقہ بیان اسی واقعہ سے متعلق تھا۔

4۔ FIR کا فوری اندراج
واقعہ کے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کے اندر FIR کا اندراج بھی عدالت کے سامنے ایک اہم پہلو تھا، جس سے فوری اطلاع کے عنصر کو تقویت ملی۔

5۔ FIR میں ملزم کا واضح نام
ملزم کا نام FIR میں واضح طور پر درج تھا اور اس پر مخصوص کردار اور فائرنگ کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

⚖️ سزاؤں کے حوالے سے اہم نکتہ

سپریم کورٹ نے conviction اور High Court کی جانب سے دی گئی عمر قید میں مداخلت نہیں کی، تاہم ہدایت کی کہ دونوں counts پر عائد عمر قید کی سزائیں concurrently چلیں گی۔

📌 اہم قانونی اصول

اگر کسی گواہ کا بیان پہلے مجاز عدالت کے سامنے ریکارڈ ہو چکا ہو، ملزم کو اس پر مکمل جرح کا حق حاصل رہا ہو، اور بعد ازاں گواہ فوت ہو جائے، تو قانون کی مقررہ شرائط پوری ہونے کی صورت میں سابقہ بیان بعد کی کارروائی میں بھی قابلِ غور ہو سکتا ہے۔

📚 Case Reference: 2026 SCMR 1139

⚖️ Islam Law Associates
Legal Excellence • Professional Commitment • Justice

سپریم کورٹ کے اصول کی روشنی میں اہم فیصلہ: 2 سال سے زائد ٹرائل مکمل نہ ہونے پر ملزم ضمانت کا حقدار قرارہائی کورٹ کا اہم ...
30/08/2026

سپریم کورٹ کے اصول کی روشنی میں اہم فیصلہ: 2 سال سے زائد ٹرائل مکمل نہ ہونے پر ملزم ضمانت کا حقدار قرار

ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ — طویل ٹرائل پر ضمانت بعد از گرفتاری منظور

محمد فاضل کے خلاف 2015 میں قتل، اقدامِ قتل، اغواء اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج ہوا تھا۔ وہ 2 جنوری 2024 سے جیل میں قید تھا۔

ملزم نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کے خلاف ٹرائل میں غیر معمولی تاخیر ہو رہی ہے، لہٰذا دفعہ 497 کے تیسرے پرووائزو Cr.P.C. کے تحت اسے ضمانت دی جائے۔

عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ ملزم کی گرفتاری کے بعد تقریباً 2 سال 7 ماہ 23 دن گزر چکے تھے، لیکن اس دوران ایک بھی استغاثہ کے گواہ کا بیان ریکارڈ نہیں ہوا تھا۔

عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل میں ہونے والی تاخیر بنیادی طور پر پراسیکیوشن اور مدعی کی جانب سے تھی، جبکہ ملزم یا اس کی طرف سے کسی شخص نے اس تاخیر کا سبب نہیں بنایا۔

عدالت نے واضح کیا کہ دفعہ 497 کے تیسرے پرووائزو کے تحت اگر کسی ایسے ملزم کا ٹرائل، جس پر سزائے موت والے جرم کا الزام ہو، اس کی گرفتاری کے بعد دو سال کے اندر مکمل نہ ہو اور تاخیر ملزم کی وجہ سے نہ ہوئی ہو تو اسے ضمانت کا قانونی حق حاصل ہوجاتا ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ ملزم کا ماضی میں مفرور رہنا بھی اس قانونی حق میں رکاوٹ نہیں بن سکتا، بشرطیکہ قانون کے تحت ضمانت کی دیگر شرائط پوری ہوتی ہوں۔

مزید یہ کہ دفعہ 497 کے چوتھے پرووائزو میں بعض استثنائی حالات موجود ہیں، مثلاً ملزم کا خطرناک یا عادی مجرم ہونا یا دہشت گردی کے ایسے جرم میں ملوث ہونا جس کی سزا موت یا عمر قید ہو۔ موجودہ کیس میں پراسیکیوشن ایسا کوئی مواد پیش نہ کرسکی جس سے ملزم کو ان استثنائی حالات میں شامل کیا جاسکے۔

عدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلوں Noor Agha v. The State (2025 SCMR 1679)، Fayaz Khan v. Mohsin Shah (2026 SCMR 1076) اور Muhammad Usman v. The State (2024 SCMR 28) سمیت دیگر نظائر کی روشنی میں قرار دیا کہ ملزم کا قانونی حق پیدا ہوچکا ہے۔

عدالتی حکم

درخواست منظور کرتے ہوئے محمد فاضل کو 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں اور اسی مالیت کی دو ضمانتوں کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا گیا۔

اہم اصول:
🔹 ٹرائل میں غیر معمولی تاخیر ہو اور تاخیر ملزم کی وجہ سے نہ ہو تو دفعہ 497(1) کے تیسرے پرووائزو کے تحت ضمانت بطور قانونی حق مل سکتی ہے۔
🔹 صرف سابقہ مفروری کی بنیاد پر اس قانونی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا

⚖️ پوسٹ مارٹم رپورٹ قانون کے مطابق ثابت نہ ہو تو اسے سزا کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتالاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہلاہور ہا...
29/08/2026

⚖️ پوسٹ مارٹم رپورٹ قانون کے مطابق ثابت نہ ہو تو اسے سزا کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ

لاہور ہائی کورٹ نے فوجداری اپیل نمبر 12055/J/2022، عمر حیات بنام سرکار اور فوجداری نظرثانی نمبر 10970/2022، محمد حنیف بنام سرکار و دیگر میں ملزم عمر حیات کی عمر قید کی سزا ختم کرتے ہوئے اسے بری کر دیا۔

یہ فیصلہ معزز جسٹس طارق سلیم شیخ نے 15.01.2026 کو سنایا۔

📌 مقدمہ کے حقائق

استغاثہ کے مطابق 13.07.2018 کو تقریباً 6:15 بجے عمر حیات اور دیگر ملزمان نے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں محمد آصف کو گولی لگی اور وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا۔

مقدمہ میں الزام عائد کیا گیا کہ عمر حیات نے محمد آصف پر فائر کیا، جبکہ دیگر ملزمان نے بھی فائرنگ کی۔

مقدمہ کی سماعت کے بعد ایڈیشنل سیشن جج، جڑانوالہ نے 21.01.2022 کو تین ملزمان، شوکت علی، عاشق اور مہرہ کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا، جبکہ عمر حیات کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302(ب) کے تحت عمر قید اور مقتول کے قانونی ورثاء کو 10 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کی سزا سنائی۔

⚖️ لاہور ہائی کورٹ کے اہم قانونی اصول

عدالت نے قرار دیا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ خود بخود قابلِ قبول شہادت نہیں بن جاتی۔

پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر کو عدالت میں بطور گواہ پیش نہ کیا جائے تو رپورٹ کو ثانوی شہادت کے طور پر پیش کرنے کے لیے قانونِ شہادت کے متعلقہ تقاضے پورے کرنا ضروری ہیں۔

صرف یہ کہنا کہ پوسٹ مارٹم کرنے والا ڈاکٹر ملک سے باہر چلا گیا ہے، ثانوی شہادت پیش کرنے کے لیے کافی نہیں۔ استغاثہ کو ڈاکٹر کی عدم دستیابی کی مناسب قانونی بنیاد ثابت کرنا ہوگی۔

موجودہ مقدمہ میں نہ تو پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر کو بطور گواہ پیش کیا گیا، نہ ثانوی شہادت پیش کرنے کے لیے مناسب درخواست دی گئی اور نہ ہی کسی ایسے اہل گواہ کو پیش کیا گیا جو مذکورہ رپورٹ کو قانون کے مطابق ثابت کر سکتا۔ اس لیے عدالت نے پوسٹ مارٹم رپورٹ کو قابلِ غور شہادت سے خارج کر دیا۔

🔹 وکیل کا اعتراض نہ کرنا بھی قانونی نقص ختم نہیں کرتا

عدالت نے واضح کیا کہ دفاعی وکیل کی جانب سے پوسٹ مارٹم رپورٹ عدالت میں پیش کیے جانے پر اعتراض نہ کرنا بھی اس بنیادی قانونی نقص کو ختم نہیں کرتا۔

فوجداری مقدمہ میں استغاثہ پر لازم ہے کہ وہ اپنے مقدمہ میں استعمال ہونے والی اہم شہادت کو قانون کے مطابق ثابت کرے۔

🔹 طبی شہادت ملزم کی شناخت نہیں کرتی

عدالت نے یہ اصول بھی دہرایا کہ طبی شہادت عموماً زخم کی نوعیت، مقام اور ہتھیار کی نوعیت وغیرہ کے حوالے سے چشم دید شہادت کی تائید کر سکتی ہے، لیکن طبی شہادت بذاتِ خود قاتل کی شناخت نہیں کرتی۔

🔹 برآمد شدہ اسلحہ بھی کافی نہیں تھا

مقدمہ میں ایک پستول برآمد کیا گیا، جبکہ جائے وقوعہ سے ملنے والا تیس بور کا کارتوس فرانزک معائنے کے مطابق برآمد شدہ پستول سے فائر شدہ ثابت نہیں ہوا۔

عدالت نے قرار دیا کہ اسلحہ کی برآمدگی بنیادی طور پر تائیدی شہادت ہوتی ہے۔ اگر چشم دید شہادت قابلِ اعتماد نہ رہے اور فرانزک شہادت بھی ملزم کو جرم سے منسلک نہ کرے تو صرف اسلحہ کی برآمدگی کی بنیاد پر جرم ثابت نہیں کیا جا سکتا۔

🔹 چشم دید شہادت میں اہم تضادات

عدالت نے استغاثہ کے گواہوں کے بیانات کا تفصیلی جائزہ لیا اور قرار دیا کہ ان کے بیانات میں وقوعہ، فائرنگ کے دورانیہ، فائر کیے گئے فائرز اور دیگر اہم معاملات کے حوالے سے متعدد تضادات موجود تھے۔

مزید برآں، ایسے افراد جو وقوعہ کے وقت موقع پر موجود تھے، انہیں بطور گواہ پیش نہیں کیا گیا۔ عدالت نے اس عدم پیشی کو بھی استغاثہ کے خلاف قابلِ غور امر قرار دیا۔

🔹 شک کا فائدہ رعایت نہیں بلکہ قانونی حق ہے

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف جرم کو شک و شبہ سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

عدالت نے واضح کیا کہ شک کا فائدہ ملزم کو دیا جانا کوئی رعایت نہیں بلکہ ملزم کا قانونی حق ہے۔
چنانچہ عدالت نے عمر حیات کی سزا اور سزا کے نتیجے میں دی گئی سزا کو ختم کرتے ہوئے اسے مقدمہ قتل کے الزام سے بری کر دیا اور فوری طور پر جیل سے رہا کرنے کا حکم دیا، بشرطیکہ وہ کسی دوسرے مقدمہ میں مطلوب نہ ہو۔

⚖️ اہم قانونی اصول

اگر فوجداری مقدمہ میں اہم دستاویزی یا طبی شہادت قانون کے مطابق ثابت نہ کی جائے اور باقی شہادت بھی قابلِ اعتماد نہ ہو تو محض الزام، برآمدگی یا کمزور چشم دید شہادت کی بنیاد پر ملزم کو سزا نہیں دی جا سکتی۔

انتہائی افسوسناک سانحہپمز اسپتال، اسلام آباد کے گائنی وارڈ میں آتشزدگی کے نتیجے میں 15 معصوم نومولود بچوں کی ہلاکت کی خب...
26/08/2026

انتہائی افسوسناک سانحہ

پمز اسپتال، اسلام آباد کے گائنی وارڈ میں آتشزدگی کے نتیجے میں 15 معصوم نومولود بچوں کی ہلاکت کی خبر نے دل کو انتہائی رنج و غم میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ ایک ایسا دردناک سانحہ ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ معصوم جانوں کا اس طرح دنیا سے چلے جانا پوری قوم کے لیے انتہائی افسوس اور تشویش کا باعث ہے۔

اللہ تعالیٰ ان ننھے فرشتوں کو اپنی بے پایاں رحمت میں جگہ عطا فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے اور ان کے والدین و تمام لواحقین کو یہ عظیم صدمہ برداشت کرنے کے لیے صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

اگر اس المناک سانحے کے پیچھے کسی قسم کی غفلت، لاپرواہی یا انتظامی کوتاہی شامل ہے تو اسے محض ایک حادثہ قرار دے کر فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ضروری ہے کہ اس واقعے کی شفاف، غیر جانبدارانہ اور فوری تحقیقات کی جائیں، حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں اور جو بھی ذمہ دار ہو، اسے قانون کے مطابق سخت جواب دہ بنایا جائے۔

حکمرانوں اور متعلقہ اداروں سے اپیل ہے کہ وہ ان معصوم بچوں کو اپنے بچوں کی طرح سمجھتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کے زخموں پر مرہم رکھیں اور انہیں انصاف فراہم کریں۔ معصوم جانوں کا ضیاع صرف افسوس اور تعزیتی بیانات کا نہیں بلکہ عملی اور مؤثر کارروائی کا تقاضا کرتا ہے۔

26/08/2026

12 ربیع الاول، عید میلاد النبی ﷺ مبارک 🌙🤍
وہ بابرکت دن جب رحمتُ للعالمین ﷺ کی آمد سے دنیا نورِ ہدایت سے منور ہوئی۔ حضور اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ پوری انسانیت کے لیے محبت، امن، عدل، برداشت، اخوت اور انسانیت کا کامل درس ہے۔
آئیے اس عظیم اور بابرکت موقع پر عہد کریں کہ ہم اسوۂ حسنہ ﷺ کو اپنی زندگیوں کا حقیقی حصہ بنائیں گے، اپنے کردار کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق سنواریں گے اور معاشرے میں محبت، بھائی چارے، امن اور انصاف کے فروغ کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔
تمام اہلِ اسلام کو 12 ربیع الاول، عید میلاد النبی ﷺ کی دل کی گہرائیوں سے مبارکباد۔ 🌙
طالبِ دعا
محمد جہانداد نواز

18/08/2026

سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان کو طبی معائنے اور علاج کے لیے ہسپتال منتقل کرنے سے متعلق حکم کو محض سیاسی تناظر میں دیکھنا شاید اس فیصلے کے اصل انسانی پہلو کو نظرانداز کرنا ہوگا۔
سیاسی اختلاف کسی بھی شخص سے ہو سکتا ہے وہ اپنی جگہ ہے لیکن بیماری اور صحت کا معاملہ کسی سیاسی وابستگی کا محتاج نہیں۔ ایک زیرِ حراست شخص کو بھی وہ بنیادی طبی سہولیات ملنی چاہئیں جو اس کی صحت اور انسانی وقار کا تقاضا ہوں۔
آج اس فیصلے پر مختلف چہروں پر مختلف تاثرات دکھائی دے رہے ہیں۔ کسی کے لیے یہ اطمینان کا باعث ہے، کسی کے لیے امید کا، اور کسی کے لیے شاید ایک مشکل سیاسی مرحلے میں اہم پیش رفت۔ لیکن ان تمام جذبات سے بالاتر ایک حقیقت موجود ہے: ایک انسان کی صحت کا معاملہ۔
ہمیں اس فیصلے کو نہ کسی کی سیاسی فتح سمجھنا چاہیے اور نہ کسی کی شکست۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ کیا قانون، عدالت اور ریاستی نظام ہر شہری کے لیے یکساں نہیں ہے؟
اگر عمران خان کو علاج کی ضرورت ہے تو انہیں بہترین ممکنہ طبی سہولت ملنی چاہیے، اور اگر طبی ماہرین ان کے لیے کسی مخصوص علاج یا نگرانی کو ضروری قرار دیتے ہیں تو اسے سیاسی بحث کا حصہ بنانے کے بجائے طبی اصولوں کے مطابق دیکھا جانا چاہیے۔
اسی طرح یہ اصول صرف عمران خان تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ جو معیار آج ایک شخص کے لیے درست سمجھا جا رہا ہے، وہ کل ہر سیاسی مخالف، ہر قیدی اور ہر شہری کے لیے بھی یکساں ہونا چاہیے۔
اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر انسانی تکلیف کے معاملے میں انسانیت سب سے مقدم ہونی چاہیے۔
سیاست بدلتی رہتی ہے، اقتدار آتا جاتا رہتا ہے؛ لیکن انسانی وقار اور انصاف کے اصول مستقل رہنے چاہئیں۔
اللہ تعالیٰ عمران خان کو صحتِ کاملہ عطا فرمائے اور ہمارے ملک میں ایسا نظام قائم ہو جہاں سیاسی اختلاف کے باوجود انسانی حقوق اور قانون کی بالادستی برقرار رہے۔

علامہ اقبال نے انسان کو خودی، عزت، خود اعتمادی اور اپنی تقدیر خود بنانے کا درس دیا۔ قائداعظم نے ایسے پاکستان کا تصور پیش...
14/08/2026

علامہ اقبال نے انسان کو خودی، عزت، خود اعتمادی اور اپنی تقدیر خود بنانے کا درس دیا۔ قائداعظم نے ایسے پاکستان کا تصور پیش کیا جہاں ہر شہری برابر ہو، قانون سب کے لیے یکساں ہو اور ریاست عوام کی خدمت کرے۔
لیکن آج ایک عام پاکستانی کے لیے آزادی کا مطلب صرف جھنڈا لہرانا نہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ اسے انصاف ملے، اس کے بچوں کو تعلیم اور بہتر مستقبل ملے، اسے روزگار ملے اور سرکاری اداروں میں اس کے ساتھ عزت سے پیش آیا جائے۔
فیض احمد فیض نے بھی آزادی کی صبح میں موجود محرومیوں کو محسوس کیا تھا۔ شاید اسی لیے ہمیں آج بھی خود سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ کیا ہم نے وہ پاکستان بنا لیا ہے جس کا خواب ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا؟
14 اگست کو جشن ضرور منائیں، پاکستان زندہ باد ضرور کہیں، مگر یہ عہد بھی کریں کہ قانون کی بالادستی، انصاف، مساوات اور انسانی عزت کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔
پاکستان کا قیام ہماری پہلی آزادی تھی؛ ایک عادل، باوقار اور حقیقی معنوں میں آزاد معاشرہ بنانا ہماری دوسری آزادی ہے۔
آزادی مبارک — مگر آزادی کی تکمیل ابھی باقی ہے۔

13/08/2026

جشنِ آزادی مبارک 🇵🇰
14 اگست 1947 ہماری قومی تاریخ کا وہ عظیم دن ہے جب پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک آزاد مملکت کے طور پر ابھرا۔
آج ہم اپنے اُن بزرگوں، شہداء اور مجاہدینِ آزادی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے آزادی کی خاطر بے مثال قربانیاں دیں۔
اللہ تعالیٰ ہمارے پیارے وطن پاکستان کو ہمیشہ امن، خوشحالی، استحکام اور ترقی عطا فرمائے۔ آمین 🤲🇵🇰
جشنِ آزادی مبارک!
رانا جہاندار نواز ایڈووکیٹ
کی جانب سے تمام اہلِ وطن کو دل کی گہرائیوں سے جشنِ آزادی مبارک۔ 🇵🇰💚
پاکستان زندہ باد! 🇵🇰

⚖️ فیصلہ تو آ گیا، مگر ایک سوال پھر بھی باقی ہے…14 دسمبر 1978 کو شروع ہونے والا مقدمہمختلف عدالتی مراحل سے گزرتا ہوابالآ...
11/08/2026

⚖️ فیصلہ تو آ گیا، مگر ایک سوال پھر بھی باقی ہے…
14 دسمبر 1978 کو شروع ہونے والا مقدمہ
مختلف عدالتی مراحل سے گزرتا ہوا
بالآخر 10 اگست 2026 کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپنے منطقی انجام کو پہنچا۔
یعنی تقریباً 48 سال!
سپریم کورٹ نے یقیناً ایک اہم قانونی اصول واضح کر دیا کہ رجسٹرڈ مختارنامے کی قانونی حیثیت کیا ہے، زمین فروخت کرنے کا اختیار کس حد تک پھیل سکتا ہے اور نظرثانی کی عدالت کے اختیارات کی حدود کیا ہیں۔
لیکن اس فیصلے کے ساتھ ایک اور سوال بھی ہمارے سامنے کھڑا ہوتا ہے:
❓ کیا 48 سال بعد ملنے والا انصاف واقعی انصاف ہے؟
ایک شخص نے 1978 میں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
اس وقت شاید اس کے بچے جوان تھے،
شاید اس کے والدین زندہ تھے،
شاید اس کی زندگی کے بہت سے خواب باقی تھے۔
مگر فیصلہ آنے میں تقریباً نصف صدی گزر گئی۔
چار دہائیاں عدالتوں، اپیلوں، نظرثانیوں اور قانونی مراحل میں گزر گئیں۔
تو پھر سوال صرف یہ نہیں کہ:
"فیصلہ کس کے حق میں آیا؟"
سوال یہ بھی ہے کہ:
"فیصلہ کب آیا؟"
کیونکہ انصاف صرف درست فیصلہ دینے کا نام نہیں؛
بروقت فیصلہ دینا بھی انصاف کا بنیادی تقاضا ہے۔
اگر ایک مقدمہ تین، پانچ یا دس سال نہیں بلکہ 48 سال لے لے تو ہمیں اپنے پورے عدالتی نظام کے بارےمیں ضرور سوچنا چاہیے:
کیا ہمارا قانونی نظام انصاف فراہم کر رہا ہے، یا صرف مقدمات کے اختتام کا انتظار کر رہا ہے؟
قانون کی کتاب میں حق مل جانا اپنی جگہ،
لیکن اگر وہ حق انسان کی زندگی میں واپس نہ آ سکے تو اس انصاف کی عملی قدر کیا رہ جاتی ہے؟
انصاف میں تاخیر صرف وقت کی تاخیر نہیں ہوتی؛
یہ کبھی نسلوں کی تاخیر بن جاتی ہے۔
یہ فیصلہ ہمیں ایک طرف اہم قانونی اصول دیتا ہے،
مگر دوسری طرف ہمارے نظامِ انصاف کے سامنے ایک بہت بڑا سوال بھی چھوڑ جاتا ہے:
"انصاف ہوگا تو کب ہوگا؟"
⚖️ Justice delayed is not merely justice delayed — sometimes, it becomes justice denied.

C.P.L.A. 244-P/2016میسرز غلام صدیق، غلام حبیب اینڈ کمپنی پرائیویٹ، پشاور، بذریعہ چیف ایگزیکٹو مسٹر غلام حبیب بنام حکومتِ...
11/08/2026

C.P.L.A. 244-P/2016
میسرز غلام صدیق، غلام حبیب اینڈ کمپنی پرائیویٹ، پشاور، بذریعہ چیف ایگزیکٹو مسٹر غلام حبیب بنام حکومتِ NWFP (موجودہ خیبر پختونخوا)، بذریعہ چیف انجینئر، ورکس ڈیپارٹمنٹ، پشاور و دیگر

جناب جسٹس عرفان سعادت خان
22-07-2026
قانونِ شہادت (Qanun-e-Shahadat Order)، 1984 کے آرٹیکل 114 کے تحت اگر کوئی فریق اپنے بیان، اعلان یا طرزِ عمل کے ذریعے دوسرے فریق کو کسی مخصوص صورتِ حال یا امر کے بارے میں یقین دلاتا ہے اور دوسرا فریق اس یقین پر بھروسہ کرتے ہوئے کوئی اقدام کرتا ہے، تو پہلے فریق کو بعد ازاں اپنے اس بیان یا نمائندگی سے انحراف کرنے سے روکا جاتا ہے، خصوصاً جب اس انحراف سے دوسرے فریق کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔
موجودہ مقدمے میں درخواست گزار نے حتمی ادائیگی کو بلاشرکتِ غیرے قبول کیا اور “No Demand Certificate” (عدمِ مطالبہ کا سرٹیفکیٹ) بھی جاری کیا۔ لہٰذا وہ بعد ازاں ثالثی (Arbitration) کے ذریعے Idle Charges (مشینری/وسائل کے غیر فعال رہنے کے اخراجات) یا Price Escalation (قیمتوں میں اضافے) کے دعوے کو دوبارہ زندہ نہیں کر سکتا۔
اگر اس کے برعکس اجازت دی جائے تو اس سے حتمی تصفیوں (Final Settlements) کی قانونی حیثیت اور تقدس متاثر ہوگا، طے شدہ تجارتی معاملات میں غیر یقینی پیدا ہوگی، اور سرکاری رقوم کو پرانے اور غیر ضروری تاخیر سے اٹھائے گئے دعووں کے خطرے سے دوچار ہونا پڑے گا۔

C.P.L.A.244-P/2016
M/s Ghulam Siddiqe, Ghulam Habib & Company Pvt Peshawar thr: its Chief Executive Mr. Ghulam Habib v. Govt of NWFP (Now Khyber Pakhtunkhwa) thr: Chief Engineer & Works Deptt: Peshawar & others
Mr. Justice Irfan Saadat Khan
22-07-2026
Under Article 114 of the Qanun-e-Shahadat Order, 1984, where a party, by its declaration or conduct, induces another to believe in a particular state of affairs and to act upon that belief, it is precluded from subsequently resiling from that representation to the prejudice of the other party. The petitioner, having unequivocally accepted the final payment and issued a “No Demand Certificate”, cannot subsequently seek to revive claims for idle charges or price escalation through recourse to arbitration.To permit otherwise would undermine the sanctity of final settlements,introduce uncertainty into concluded commercial transactions, and expose public funds to stale and belated claims.

Address

Sahiwal
57000

Telephone

+923006524378

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jahandad nawaz posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share