Advocate Asad Nawaz Tullah

Call Directions Website Contact the business

Advocate Asad Nawaz Tullah Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Advocate Asad Nawaz Tullah, Criminal lawyer, Opposite Family Courts offc. 35, Sahiwal.

This page just to inform uh Basic laws in Pakistan...
If uh have any type of queries then uh people can contact with me or visit my office Al-Sadiq law associates Chamber 35 opposite Family Court Sahiwal

Tehsil Courts Daska district Sialkot 👨🏼‍⚖️❤️😎❤️
19/08/2026

Tehsil Courts Daska district Sialkot 👨🏼‍⚖️❤️😎❤️

on my special day.. ❣️ dear Mehar Ali Raza Adv  #استاد صرف پڑھاتے ہی نہیں بلکہ جینے کا طریقہ بھی سکھاتے ہیں آپ ہمیشہ ہما...
18/07/2026

on my special day.. ❣️
dear Mehar Ali Raza Adv
#استاد صرف پڑھاتے ہی نہیں بلکہ جینے کا طریقہ بھی سکھاتے ہیں آپ ہمیشہ ہماری رہنمائی کرتے ہیں حوصلہ بڑھاتے ہیں. آپ کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ آپ ہر وقت #خوش مزاج رہتے ہیں محفل میں ہنسی مذاق بھی ہوتا ہے، #سیکھنے کا موقع بھی ملتا ہے اور پورا دن #خوشگوار گزر جاتا ہے۔ ہمیشہ اور اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنے کی #ترغیب دیتے ہیں۔ مجھے آپ کا #شاگرد ہونے پر بہت #فخر ہے۔ ٰ آپ کو ہمیشہ صحت، خوشیاں، #عزت اور کامیابیاں عطا فرمائے۔ #آمین

Alhumdullilah For Everything 🥰     Asad Nawaz Advocate Asad Nawaz Tullah
17/07/2026

Alhumdullilah For Everything 🥰

Asad Nawaz Advocate Asad Nawaz Tullah

لاہور ہائی کورٹ نے کریمنل جسٹس سسٹم میں مجسٹریٹس کی جانب سےاینٹی ریپ ایکٹ کی دفعہ 14 کے تحت متاثرہ کا بیانات ریکارڈ کرنے...
07/06/2026

لاہور ہائی کورٹ نے کریمنل جسٹس سسٹم میں مجسٹریٹس کی جانب سےاینٹی ریپ ایکٹ کی دفعہ 14 کے تحت متاثرہ کا بیانات ریکارڈ کرنے کے روایتی انداز پر اہم ریمارکس دیے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ اگر دفعہ 164 کا بیان مروجہ طریقہ کار (ویڈیو ریکارڈنگ اور جرح کے موقع) کے بغیر ریکارڈ کیا جائے تو اس کی قانونی حیثیت کیا ہوگی۔
لاہور ہائی کورٹ (ملتان بینچ) کا یہ فیصلہ ایک ملزم، **سونارا خان عرف سونہارا خان**، کی بعد از گرفتاری ضمانت (Post-arrest Bail) کی منظوری سے متعلق ہے، جس پر ایک نابالغ لڑکی سے جنسی بدسلوکی (سیکشن 377-B تعزیراتِ پاکستان - PPC) کا الزام تھا۔
جسٹس طارق سلیم شیخ نے اس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے درج ذیل اہم نکات اور قانونی اصولوں کی وضاحت کی ہے:
# # # 1۔ کیس کا پس منظر اور الزامات
* **ایف آئی آر (FIR) کا موقف:** متاثرہ لڑکی کی ماں (شکایت کنندہ) کے مطابق، 12 جولائی 2025ء کو اس کی 14/15 سالہ بیٹی (K.B.) گنے کے کھیت میں چارہ کاٹ رہی تھی کہ ملزم سونارا خان اور اس کے ساتھی طاہر نے اسے اکیلا پا کر نازیبا اشارے کیے، ہراساں کیا اور اس کے نازک اعضاء کو ہاتھ لگایا۔ لڑکی کے شور مچانے پر جب گھر والے پہنچے تو ملزم فرار ہو گئے۔
* **سیکشن 161 کا بیان:** پولیس تفتیش کے دوران لڑکی اور گواہان نے پہلے اسی کہانی کی تصدیق کی۔
# # # 2۔ ملزم کے وکیل کا مؤقف اور تضاد
ملزم کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ملزم بے گناہ ہے اور اسے جھوٹا پھنسایا گیا ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ جب مجسٹریٹ کے سامنے لڑکی کا **دفعہ 164 ضابطہ فوجداری (Cr.P.C) کے تحت بیان** ریکارڈ کیا گیا، تو اس نے بالکل الگ کہانی سنائی۔
> **لڑکی کا دفعہ 164 کا بیان:** لڑکی نے مجسٹریٹ کو بتایا کہ ملزم نے صرف اس کی کلائی پکڑی تھی اور اسے پیسے دکھائے تھے، جس پر اس نے شور مچا دیا۔ اس بیان میں نازک اعضاء کو چھونے یا جنسی بدسلوکی کا کوئی ذکر نہیں تھا۔
>
# # # 3۔ عدالت کی قانونی تشریحات (دفعہ 164 اور اینٹی ریپ ایکٹ 2021)
عدالت نے دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے جانے والے بیانات کی قانونی حیثیت پر تفصیلی روشنی ڈالی:
* **بغیر جرح کے بیان کی حیثیت:** اگر دفعہ 164 کا بیان ملزم کی غیر موجودگی میں ریکارڈ کیا جائے اور ملزم کے وکیل کو جرح (Cross-examination) کا موقع نہ ملے، تو اسے ٹرائل کے دوران بنیادی ثبوت (Substantive Evidence) کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم، اسے تفتیشی ریکارڈ کا حصہ مانا جائے گا اور ضمانت کے مرحلے پر تضاد پرکھنے کے لیے دیکھا جا سکتا ہے۔
* **اینٹی ریپ ایکٹ 2021 کی خلاف ورزی:** عدالت نے نوٹ کیا کہ اینٹی ریپ ایکٹ کی دفعہ 14 کے تحت متاثرہ کا بیان لازمی طور پر **ویڈیو ریکارڈ** ہونا چاہیے اور ملزم کے وکیل کو **جرح کا موقع** ملنا چاہیے، لیکن اس کیس میں مجسٹریٹ نے ان دونوں قانونی تقاضوں کو پورا نہیں کیا۔
# # # 4۔ عدالت کا فیصلہ اور ضمانت کی وجہ
عدالت نے پایا کہ ایف آئی آر اور لڑکی کے دفعہ 164 کے بیان میں **شدید تضاد** ہے۔
* سیکشن 377-B (جنسی بدسلوکی) صرف تب لاگو ہوتا ہے جب چھونا، ٹٹولنا یا کوئی فحش حرکت ثابت ہو۔ جبکہ لڑکی کے اپنے بیان کے مطابق ملزم نے صرف ہاتھ پکڑا، جو کہ دفعہ 354 PPC (عورت کی حیا پر حملہ) کے زمرے میں آ سکتا ہے اور یہ ایک قابلِ ضمانت (Bailable) جرم ہے۔
* اس تضاد کی وجہ سے عدالت نے قرار دیا کہ کیس مزید انکوائری/تفتیش کا محتاج ہے (**Further Inquiry** تحت دفعہ 497(2) Cr.P.C)۔ چنانچہ عدالت نے ملزم کی ضمانت **2 لاکھ روپے** کے مچلکوں کے عوض منظور کر لی۔
# # # 5۔ مجسٹریٹوں کے لیے اہم ہدایات
جسٹس طارق سلیم شیخ نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ پنجاب میں مجسٹریٹ دفعہ 164 کے بیانات روایتی اور لاپرواہی کے انداز میں ریکارڈ کرتے ہیں۔ عدالت نے پنجاب کے تمام سیشن ججز کو درج ذیل احکامات جاری کیے:
1. مجسٹریٹ بیانات کو گواہ یا متاثرہ کے اپنے الفاظ میں لکھیں، نہ کہ لکھی لکھائی قانونی زبان میں۔
2. اینٹی ریپ ایکٹ 2021 کے تحت بیانات کی ویڈیو ریکارڈنگ اور ملزم کے وکیل کو جرح کا موقع دینے کے قانون پر سختی سے عمل کرایا جائے۔
3. سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق، ریپ یا جنسی زیادتی کی متاثرہ خواتین کے بیانات ترجیحی طور پر **خاتون مجسٹریٹ** کے سامنے ہی ریکارڈ کیے جائیں۔

In the court of Justice Tariq Nadeem Sheikh
18/05/2026

In the court of Justice Tariq Nadeem Sheikh

Finally   Near pull 134/ 9L
03/05/2026

Finally

Near pull 134/ 9L

لاہور ہائی کورٹ نے سائلین کی بائیو میٹرک ویری فیکیشن کیلیے باقاعدہ ایس او پیز جاری کردیے۔Asad nawaz tullah advocate high...
13/03/2026

لاہور ہائی کورٹ نے سائلین کی بائیو میٹرک ویری فیکیشن کیلیے باقاعدہ ایس او پیز جاری کردیے۔
Asad nawaz tullah advocate high court
office 35 District court sahiwal
03064422710

17 دن بعد نئ گاڈی گاڑی جل کر راکھ۔ملک اسحاق احمد نامی شخص نے 15 جنوری 2010 کو ایک نئی Toyota Corolla XLI خریدی۔گاڑی نئی ...
10/03/2026

17 دن بعد نئ گاڈی گاڑی جل کر راکھ۔

ملک اسحاق احمد نامی شخص نے 15 جنوری 2010 کو ایک نئی Toyota Corolla XLI خریدی۔
گاڑی نئی تھی، کمپنی کی تھی-

لیکن صرف 17 دن بعد ۔ وہ اپنی زمین پر کام کر رہے تھے کہ اچانک گاڑی کے ڈیش بورڈ سے دھواں نکلنا شروع ہوگیا۔ آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ پوری گاڑی جل گئی ,مالک کا ہاتھ بھی جل گیا.

یعنی نئی گاڑی صرف 17 دن میں مکمل تباہ۔

ملک اسحاق نے کمپنی سے کہا:

یا تو ,نئی گاڑی دیں, یا پیسے واپس کریں اور نقصان کا معاوضہ بھی دیں
لیکن کمپنی نے ذمہ داری لینے سے انکار کردیا۔
لہٰذا انہوں نے کیس دائر کردیا Consumer Court میں-

کنزیومر کورٹ کا فیصلہ
کنزیومر کورٹ نے فیصلہ دیا:

کمپنی:
گاڑی کی قیمت 12,69,000 روپے واپس کرے
10٪ مارک اپ دے ,وکیل فیس اور خرچہ بھی ادا کرے

کمپنی اس فیصلے سے خوش نہیں تھی۔
لہٰذا انہوں نے اپیل کی
ہائی کورٹ میں۔

عدالت نے کیا کیا؟

عدالت نے سچ جاننے کے لئے ماہرین سے گاڑی کا معائنہ کروایا۔
دو ماہرین نے گاڑی کا جائزہ لیا۔

انہوں نے:
تصاویر لیں ,فیوز باکس کا معائنہ کیا
گاڑی کے تمام حصے دیکھے.

ماہرین کی رپورٹ نے حیران کن حقیقت بتائی۔

انہوں نے کہا:

گاڑی میں کوئی بعد کی تبدیلی نہیں تھی۔

مثلاً:

کمپنی کا دعویٰ تھا کہ:
پاور ونڈوز لگائی گئی تھیں۔
لیکن معائنے میں پتہ چلا:

گاڑی میں ابھی بھی اصل دستی ونڈوز (Manual Windows) ہی موجود تھیں۔یعنی کمپنی کا دعویٰ غلط ثابت ہوا۔

ماہرین نے نتیجہ دیا:

گاڑی کے فیوز باکس اور ریلے میں مینوفیکچرنگ فالٹ تھا۔

اسی خرابی کی وجہ سے:
شارٹ سرکٹ ہوا ,آگ لگی ,پوری گاڑی جل گئی
یعنی مسئلہ کمپنی کی مینوفیکچرنگ خرابی تھا۔

عدالت نے کہا:

اگر کوئی چیز کمپنی کی بنائی ہوئی ہو اور اس میں مینوفیکچرنگ خرابی ہو
تو وہ چیز Defective Product کہلاتی ہے۔

اور قانون کے مطابق:کمپنی اس کی ذمہ دار ہوتی ہے۔

عدالت کا دلچسپ جملہ

عدالت نے ایک خوبصورت بات لکھی:
“Cars in our economy are lifelong assets

یعنی:

ہمارے معاشرے میں گاڑی ایک بڑی اور قیمتی سرمایہ کاری ہوتی ہے۔
لوگ بڑی امید سے گاڑی خریدتے ہیں۔

یہ کیس پاکستان میں کنزیومر رائٹس کے لئے بہت اہم ہے۔

یہ بتاتا ہے کہ:
بڑی کمپنی بھی قانون سے بالاتر نہیں
اگر چیز خراب ہو تو صارف انصاف لے سکتا ہے
عدالتیں صارف کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں

Share for information and awareness

in Sha Allah zafar warraich sb general secretarymultan high court
28/02/2026

in Sha Allah zafar warraich sb general secretary
multan high court

نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌWish uh very   luck Sir. In Sha     for G.S High Court Multan.I humbly   all my   &...
28/02/2026

نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ
Wish uh very luck Sir. In Sha for G.S High Court Multan.
I humbly all my & to plz support & cast ur vote in favor of warraich sb for the position of Secretary. ur support & trust will be highly appreciated.

Address

Opposite Family Courts Offc. 35
Sahiwal

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Advocate Asad Nawaz Tullah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Advocate Asad Nawaz Tullah:

Shortcuts

Share