House of Law

House of Law Winners don't do different things but they do things differently.

Legends ⭐ DBA Sahiwal.
17/03/2024

Legends ⭐ DBA Sahiwal.

10/08/2022
14/07/2022

آج سے 18 سال قبل پنجاب یونیورسٹی کی ایک طالبہ، وجیہہ عروج، نے یونیورسٹی پر ایک بہت دلچسپ کیس کیا۔ انہیں ایک پرچے میں غیر حاضر قرار دیا گیا تھا جبکہ وہ اس دن پرچہ دے کر آئیں تھیں۔ یہ صاف صاف ایک کلرک کی غلطی تھی.۔.
وجیہہ اپنے والد کے ہمراہ ڈپارٹمنٹ پہنچیں تاکہ معاملہ حل کر سکیں۔ وہاں موجود ایک کلرک نے ان کے والد سے کہا’آپ کو کیا پتہ آپ کی بیٹی پیپر کے بہانے کہاں جاتی ہے۔‘ یہ جملہ وجیہہ پر پہاڑ بن کر گرا۔ وہ کبھی کلرک کی شکل دیکھتیں تو کبھی اپنے والد کی۔ انہیں سمجھ نہ آیا کہ وہ کیا کریں۔ وہ اپنے ہی گھر والوں کے سامنے چور بن گئیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کی والدہ بھی انہیں عجیب نظروں سے دیکھنا شروع ہو گئیں تھیں۔
کیا ہی اچھا ہوتا کہ کلرک صرف اپنے کام سے کام رکھتا۔ وجیہہ کے بارے میں اپنی رائے دینے کی بجائے وہ حاضری رجسٹر چیک کرتا یا اس دن کے پرچوں میں ان کا پرچہ ڈھونڈتا۔ لیکن اس نے اپنے کام کی بجائے وجیہہ کے بارے میں رائے دینا زیادہ ضروری سمجھا، یہ سوچے بغیر کہ اس کا یہ جملہ وجیہہ کی زندگی کس قدر متاثر کر سکتا ہے۔
وجیہہ نے یونیورسٹی پر کیس کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کیس میں ان کا ساتھ ان کے والد نے دیا۔ کیس درج ہونے کے چار ماہ بعد یونیورسٹی نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے عدالت میں ان کا حل شدہ پرچہ پیش کر دیا لیکن معاملہ اب ایک ڈگری سے کہیں بڑھ کر تھا۔ وجیہہ نے یونیورسٹی سے اپنے کردار پر لگے دھبے کا جواب مانگا۔ یہ قانونی جنگ 17 سال چلتی رہی۔ گذشتہ سال عدالت نے وجیہہ کے حق میں فیصلہ سنایا اور یونیورسٹی کو آٹھ لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔
وجیہہ نے اس ایک جملے کا بھار17 سال تک اٹھایا۔ وہ تو جی دار تھیں، معاملہ عدالت تک لے گئیں۔ ہر لڑکی ایسا نہیں کر سکتی۔ خاندان کی عزت ان کے بڑھتے قدم تھام لیتی ہے ورنہ یقین مانیں ہم میں سے ہر کوئی عدالت کے چکر کاٹتا پھرے اور اپنے منہ سے کسی لڑکی کے بارے میں نکلے ایک ایک جملے کی وضاحت دیتا پھرے۔
وجیہہ کے والدین نے ان کی ڈگری مکمل ہوتے ہی ان کی شادی کر دی۔ انہیں ڈر تھا کہ بات مزید پھیلی تو کہیں وجیہہ کے رشتے آنا ہی بند نہ ہو جائیں۔ وجیہہ بہت کچھ کرنا چاہتی تھیں لیکن اس ایک جملے کی وجہ سے انہیں وہ سب نہیں کرنے دیا گیا۔ وہ اپنی زندگی سے مطمئن ہیں لیکن ان کے دل میں کچھ نہ کر پانے کی کسک بھی موجود ہے۔
یہ مکمل تحریر انڈپینڈنٹ اردو میں 6 نومبر 2019 کو شائع ہوئی جس کا کچھ حصہ یہاں بیان کیا گیا ۔

11/06/2022

کالج اسٹوڈنٹس کے ایک گروپ نے وکیل صاحب سے پوچھا
”سر وکالت کے کیا معنی ہیں؟“
وکیل صاحب نے کہا
میں اس کے لئے ایک مثال دیتا ہوں
فرض کریں کہ میرے پاس دو آدمی آتے ہیں ایک بالکل صاف ستھرا اور دوسرا بہت گندہ۔ اب میں ان دونوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ دونوں نہا کر صاف ستھرے ہو جائیں۔
اب آپ لوگ بتائیں کہ ان میں سے کون نہائے گا؟
ایک اسٹوڈنٹ نے کہا ظاہر ہے
جو گندہ ہے وہ نہائے گا
وکیل نے کہا نہیں صرف صاف آدمی ہی نہائے گا کیونکہ اسے صفائی کی عادت ہے جب کہ گندے آدمی کو تو صفائی کی اہمیت ہی نہیں معلوم ۔۔۔
وکیل نے پھر پوچھا اب بتاؤ کون نہائے گا؟
دوسرے اسٹوڈنٹ نے کہا صاف آدمی
وکیل نے کہا نہیں گندہ شخص نہائے گا کیونکہ کہ اسے صفائی کی ضرورت ہے۔۔
وکیل دوبارہ پوچھنے لگا کہ اب بتاؤ کون نہائے گا؟
دو اسٹوڈنٹ ایک ساتھ بولے جو گندہ ہے وہ نہائے گا
وکیل نے کہا نہیں دونوں نہائیں گے کیونکہ صاف آدمی کو نہانے کی عادت ہے اور گندے آدمی کو نہانے کی ضرورت ہے
اب بتاؤ کون نہائے گا؟
سب اسٹوڈنٹ ساتھ بولے جی دونوں نہائیں گے
وکیل نے کہا غلط کوئی بھی نہیں نہائے گا کیونکہ گندے کو نہانے کی عادت نہیں اور صاف آدمی کو نہانے کی ضرورت نہیں
اب بتاؤ کون نہائے گا؟
ایک اسٹوڈنٹ نے بہت نرمی سے کہا سر آپ ہر بار الگ الگ جواب دیتے ہیں اور ہر جواب صحیح معلوم لگتا ہے تو ہمیں صحیح جواب کیسے معلوم ہوگا؟
وکیل صاحب بولے بس یہی وکالت ہے۔ اہم یہ نہیں کہ حقیقت کیا ہے بلکہ اہمیت اس بات کی ہے کہ آپ اپنی بات کو صحیح ثابت کرنے کے لئے کتنی ممکنہ دلیل دے سکتے ہیں!
کیا سمجھے؟
نہیں سمجھے؟
تو پھر یہی وکالت ہے جناب

05/06/2022

صدر سپریم کورٹ بار احسن بھون 14000 Bzu لاء سٹودنٹس کا امتحان رکوانے سپریم کورٹ پہنچ گئے

احسن بھون کی طرف سے سپریم کورٹ میں بی زیڈ یو کے امتحانات رکوانے کیلے رٹ دائر کر دی گئی جس کی وجہ سے سپلی امتحان کی رولنمرز سلپ روک دی گئی ہیں

یاد رہے کہ گزشتہ ڈھائی سال سے یہ امتحان رکے ہوئے تھے سابقہ گورنر عمر سرفراز چیمہ نے تین مختلف یونیورسٹی کے وی سی صاحبان سے انکوائریز کروانے کے بعد اور طلباء نمائندگان کا موقف سننے کے بعد طلباء کو بے قصور قرار دیتے ہوئے یونیورسٹی کو امتحان لینے کا حکم جاری کیا تھا

ان کے اس فیصلے سے ان کی نیک نامی اور شہرت میں اضافہ ہوا تھا اس کریڈٹ کو ختم کرنے کے لیے مخالف سیاسی پارٹی نے احسن بھون ایڈووکیٹ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے اس امتحان کو روکنےکے لیے سپریم کورٹ میں رٹ دائر کر دی ہے

05/04/2022
20/01/2022

*بادشاہ کا موڈ اچھا تھا!!!*

*وہ نوجوان وزیر کی طرف مڑا اور مسکرا کر پوچھا*
*”تمہاری زندگی کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے“*

*وزیر شرما گیا‘ اس نے منہ نیچے کر لیا‘ بادشاہ نے قہقہہ لگایا اور بولا*
*”تم گھبراﺅ مت‘ بس اپنی زندگی کی سب سے بڑی خواہش بتاﺅ“*

*وزیر گھٹنوں پر جھکا اور عاجزی سے بولا*
*”حضور آپ دنیا کی خوبصورت ترین سلطنت کے مالک ہیں‘ میں جب بھی یہ سلطنت دیکھتا ہوں تو میرے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے اگر اس کا دسواں حصہ میرا ہوتا تو میں دنیا کا خوش نصیب ترین شخص ہوتا“*
*وزیر خاموش ہو گیا‘*

*بادشاہ نے قہقہہ لگایا اور بولا*
*”میں اگر تمہیں اپنی آدھی سلطنت دے دوں تو؟“*

*وزیر نے گھبرا کر اوپر دیکھا اور عاجزی سے بولا*
*”بادشاہ سلامت یہ کیسے ممکن ہے‘ میں اتنا خوش قسمت کیسے ہو سکتا ہوں“*

*بادشاہ نے فوراً احکامات لکھنے کا حکم دیا‘ بادشاہ نے پہلے حکم کے ذریعے اپنی آدھی سلطنت نوجوان وزیر کے حوالے کرنے کا فرمان جاری کر دیا‘*
*دوسرے حکم میں بادشاہ نے وزیر کا سر قلم کرنے کا آرڈر دے دیا‘*

*وزیر دونوں احکامات پر حیران رہ گیا‘ بادشاہ نے احکامات پر مہر لگائی اور وزیر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا*
*”تمہارے پاس تیس دن ہیں‘ تم نے ان 30 دنوں میں صرف تین سوالوں کے جواب تلاش کرنا ہیں‘ تم کامیاب ہو گئے تو میرا دوسرا حکم منسوخ ہو جائے گا اور تمہیں آدھی سلطنت مل جائے گی اور اگر تم ناکام ہو گئے تو پہلا حکم خارج سمجھا جائے گا اور دوسرے حکم کے مطابق تمہارا سر اتار دیا جائے گا“*

*وزیر کی حیرت پریشانی میں بدل گئی‘ بادشاہ نے اس کے بعد فرمایا*
*”میرے تین سوال لکھ لو“*

*وزیر نے لکھنا شروع کر دیا‘ بادشاہ نے کہا*
*”انسان کی زندگی کی سب سے بڑی سچائی کیا ہے؟“*

*وہ رکا اور بولا*
*”دوسرا سوال‘ انسان کی زندگی کا سب سے بڑا دھوکا کیا ہے“*

*وہ رکا اور پھر بولا*
*”تیسرا سوال‘ انسان کی زندگی کی سب سے بڑی کمزوری کیا ہے“*

*بادشاہ نے اس کے بعد نقارے پر چوٹ لگوائی اور بآواز بلند فرمایا*
*”تمہارا وقت شروع ہوتا ہے اب“*

*وزیر نے دونوں پروانے اٹھائے اور دربار سے دوڑ لگا دی‘اس نے اس شام ملک بھر کے دانشور‘ ادیب‘ مفکر اور ذہین لوگ جمع کئے اور سوال ان کے سامنے رکھ دیئے‘*

*ملک بھر کے دانشور ساری رات بحث کرتے رہے لیکن وزیر نے دوسرے دن دانشور بڑھا دیئے لیکن نتیجہ وہی نکلا‘ وہ آنے والے دنوں میں لوگ بڑھاتا رہا مگر اسے کوئی تسلی بخش جواب نہ مل سکا یہاں تک کہ وہ مایوس ہو کر دارالحکومت سے باہر نکل گیا‘*
*وہ سوال اٹھا کر پورے ملک میں پھرا مگر اسے کوئی تسلی بخش جواب نہ مل سکا‘ وہ مارا مارا پھرتا رہا‘ شہر شہر‘ گاﺅں گاﺅں کی خاک چھانتا رہا‘ شاہی لباس پھٹ گیا‘ پگڑی ڈھیلی ہو کر گردن میں لٹک گئی‘ جوتے پھٹ گئے اور پاﺅں میں چھالے پڑ گئے‘*

*یہاں تک کہ شرط کا آخری دن آ گیا‘ اگلے دن اس نے دربار میں پیش ہونا تھا‘*
*وزیر کو یقین تھا یہ اس کی زندگی کا آخری دن ہے‘ کل اس کی گردن کاٹ دی جائے گی اور جسم شہر کے مرکزی پُل پر لٹکا دیا جائے گا‘*
*وہ مایوسی کے عالم میں دارالحکومت کی کچی آبادی میں پہنچ گیا‘ آبادی کے سرے پر ایک فقیر کی جھونپڑی تھی‘ وہ گرتا پڑتا اس کٹیا تک پہنچ گیا‘ فقیر سوکھی روٹی پانی میں ڈبو کر کھا رہا تھا‘ ساتھ ہی دودھ کا پیالہ پڑا تھا اور فقیر کا کتا شڑاپ شڑاپ کی آوازوں کے ساتھ دودھ پی رہا تھا‘*
*فقیر نے وزیر کی حالت دیکھی‘ قہقہہ لگایا اور بولا ”جناب عالی! آپ صحیح جگہ پہنچے ہیں‘ آپ کے تینوں سوالوں کے جواب میرے پاس ہیں“*

*وزیر نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا اور پوچھا*
*”آپ نے کیسے اندازہ لگا لیا‘ میں کون ہوں اور میرا مسئلہ کیا ہے“*
*فقیر نے سوکھی روٹی کے ٹکڑے چھابے میں رکھے‘ مسکرایا‘ اپنا بوریا اٹھایا اور وزیر سے کہا*
*”یہ دیکھئے‘ آپ کو بات سمجھ آ جائے گی“*

*وزیر نے جھک کر دیکھا‘ بوریئے کے نیچے شاہی خلعت بچھی تھی‘ یہ وہ لباس تھا جو بادشاہ اپنے قریب ترین وزراءکو عنایت کرتا تھا‘* *فقیر نے کہا*
*”جناب عالی میں بھی اس سلطنت کا وزیر ہوتا تھا‘ میں نے بھی ایک بار آپ کی طرح بادشاہ سے شرط لگانے کی غلطی کر لی تھی‘نتیجہ آپ خود دیکھ لیجئے“*
*فقیر نے اس کے بعد سوکھی روٹی کا ٹکڑا اٹھایا اور دوبارہ پانی میں ڈبو کر کھانے لگا‘* *وزیر نے دکھی دل سے پوچھا*
*”کیا آپ بھی جواب تلاش نہیں کر سکے تھے“*

*فقیر نے قہقہہ لگایا اور جواب دیا*
*”میرا کیس آپ سے مختلف تھا‘ میں نے جواب ڈھونڈ لئے تھے‘ میں نے بادشاہ کو جواب بتائے‘ آدھی سلطنت کا پروانہ پھاڑا‘ بادشاہ کو سلام کیا اور اس کٹیا میں آ کر بیٹھ گیا‘ میں اور میرا کتا دونوں مطمئن زندگی گزار رہے ہیں“*
*وزیر کی حیرت بڑھ گئی لیکن یہ سابق وزیر کی حماقت کے تجزیئے کا وقت نہیں تھا‘*
*جواب معلوم کرنے کی گھڑی تھی* *چنانچہ وزیر اینکر پرسن بننے کی بجائے فریادی بن گیا اور اس نے فقیر سے پوچھا*
*”کیا آپ مجھے سوالوں کے جواب دے سکتے ہیں“*

*فقیر نے ہاں میں گردن ہلا کر جواب دیا*
*”میں پہلے دو سوالوں کا جواب مفت دوں گا لیکن تیسرے جواب کےلئے تمہیں قیمت ادا کرنا ہو گی“*

*وزیر کے پاس شرط ماننے کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا‘ اس نے فوراً ہاں میں گردن ہلا دی‘فقیر بولا*

*”دنیا کی سب سے بڑی سچائی موت ہے‘ انسان کوئی بھی ہو‘ کچھ بھی ہو‘ وہ اس سچائی سے نہیں بچ سکتا“*

*وہ رکا اور بولا*
*”انسان کی زندگی کا سب سے بڑا دھوکا زندگی ہے‘ ہم میں سے ہر شخص زندگی کو دائمی سمجھ کر اس کے دھوکے میں آ جاتا ہے“*

*فقیر کے دونوں جواب ناقابل تردید تھے‘ وزیر سرشار ہو گیا‘ اس نے اب تیسرے جواب کےلئے فقیر سے شرط پوچھی‘ فقیر نے قہقہہ لگایا‘ کتے کے سامنے سے دودھ کا پیالہ اٹھایا‘ وزیر کے ہاتھ میں دیا اور کہا*

*”میں آپ کو تیسرے سوال کا جواب اس وقت تک نہیں دوں گا جب تک آپ یہ دودھ نہیں پیتے“*
*وزیر کے ماتھے پر پسینہ آ گیا ‘اس نے نفرت سے پیالہ زمین پر رکھ دیا‘ وہ کسی قیمت پر کتے کا جھوٹا دودھ نہیں پینا چاہتا تھا‘ فقیر نے کندھے اچکائے اور کہا*
*” تمہارے پاس اب دو راستے ہیں‘ تم انکار کر دو اور شاہی جلاد کل تمہارا سر اتار دے یا پھر تم یہ آدھ پاﺅ دودھ پی جاﺅ اور تمہاری جان بھی بچ جائے اور تم آدھی سلطنت کے مالک بھی بن جاﺅ‘ فیصلہ بہرحال تم نے کرنا ہے“*

*وزیر مخمصے میں پھنس گیا‘ ایک طرف زندگی اور آدھی سلطنت تھی اور دوسری طرف کتے کا جھوٹا دودھ تھا‘*
*وہ سوچتا رہا‘*
*سوچتا رہا یہاں تک کہ جان اور مال جیت گیا اور سیلف ریسپیکٹ ہار گئی‘* *وزیر نے پیالہ اٹھایا اور ایک ہی سانس میں دودھ پی گیا‘*

*فقیر نے قہقہہ لگایا اور بولا ”میرے بچے‘*
*انسان کی سب سے بڑی کمزوری غرض ہوتی ہے‘*

*یہ اسے کتے کا جھوٹا دودھ تک پینے پر مجبور کر دیتی ہے اور یہ وہ سچ ہے جس نے مجھے سلطنت کا پروانہ پھاڑ کر اس کٹیا میں بیٹھنے پر مجبور کر دیا تھا‘* *میں جان گیا تھا‘ میں جوں جوں زندگی کے دھوکے میں آﺅں گا‘میں موت کی سچائی کو فراموش کرتا جاﺅں گا اور میں موت کو جتنا فراموش کرتا رہوں گا‘ میں اتنا ہی غرض کی دلدل میں دھنستا جاﺅں گا اور مجھے روز اس دلدل میں سانس لینے کےلئے غرض کا غلیظ دودھ پینا پڑے گا لہٰذا میرا مشورہ ہے‘ زندگی کی ان تینوں حقیقتوں کو جان لو‘ تمہاری زندگی اچھی گزرے گی“*
*وزیر خجالت‘ شرمندگی اور خود ترسی کا تحفہ لے کر فقیر کی کٹیا سے نکلا اور محل کی طرف چل پڑا‘ وہ جوں جوں محل کے قریب پہنچ رہا تھا اس کے احساس شرمندگی میں اضافہ ہو رہا تھا‘ اس کے اندر ذلت کا احساس بڑھ رہا تھا‘ وہ اس احساس کے ساتھ محل کے دروازے پر پہنچا‘*
*اس کے سینے میں خوفناک ٹیس اٹھی‘ وہ گھوڑے سے گرا‘ لمبی ہچکی لی اور اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی*

*ہمیں کسی دن کسی سکون کی جگہ پر بیٹھ کر زندگی کے ان بنیادی سوالوں پر ضرور غور کرناچاہیے‘ ہمیں یہ سوچنا چاہیے ہم لوگ کہیں زندگی کے دھوکے میں آ کر غرض کے پیچھے تو نہیں بھاگ رہے کہیں حلال و حرام کی تمیز تو نہیں بھول گئے اپنے بچوں کو حرام لقمہ تو نہیں کھلا رہے اور ہم لوگ کہیں موت کو فراموش تو نہیں کر بیٹھے‘*

*ہم کہیں اس کہانی کے وزیر تو نہیں بن گئے ‘*
*مجھے یقین ہے ہم لوگوں نے جس دن یہ سوچ لیا اس دن ہم غرض کے ان غلیظ پیالوں سے بالاتر ہو جائیں گے* *انشااللّه*

24/11/2021

Writ petition filed against DPG exames.
Your Case:'Muhammad Naeem Vs PPSC through its Secretary etc', Case #:'73444/21' is fixed before bench type:'Single' And bench name:'Mr. Justice Shams Mehmood Mirza' on '25-Nov-2021' in 'Supplementary' Cause List

Address

Sahiwal

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when House of Law posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category