Khalid Hayat Tullah Advocate High court

Khalid Hayat Tullah Advocate High court Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Khalid Hayat Tullah Advocate High court, Lawyer & Law Firm, Chamber #16 DC block Sahiwal, Sahiwal.

26/06/2026
24/06/2026

⚖️ قانونی آگاہی سیریز — دی کے اینڈ ایم لاء فرم (The K&M Law Firm)
​📌 کیا مالک کی وفات کے بعد مختارِ عام (Power of Attorney Holder) جائیداد کی رجسٹری کروا سکتا ہے؟
​لاہور ہائیکورٹ کا ایک تاریخی اور شیشے کی طرح صاف فیصلہ، جو ہر خریدار اور پراپرٹی کے کاروبار سے وابستہ شخص کے لیے جاننا لازمی ہے!
​📝 کیس کے حقائق (Brief Facts):
​1984ء میں خورشید شاہ نامی شخص نے ایک "مختارنامہِ عام" جاری کیا۔ تقریباً 19 سال بعد، 30 جنوری 2003ء کو اس مختارِ عام نے جائیداد چند خریداروں کو بیچی اور رجسٹری کے لیے سب رجسٹرار ڈسکہ کے پاس پیش کی۔ دورانِ تصدیق پتا چلا کہ اصل مالک (موکل) صبح ہی وفات پا چکا ہے۔ سب رجسٹرار نے رجسٹری سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ: "مالک کے مرتے ہی مختارنامہ ختم ہو جاتا ہے۔"
​خریداروں نے اس انکار کے خلاف رجسٹریشن ایکٹ کی دفعہ 77 کے تحت دیوانی عدالت سے رجوع کیا، اور یہ مقدمہ اپیل در اپیل ہوتا ہوا جب لاہور ہائیکورٹ پہنچا تو عدالتِ عالیہ نے درج ذیل سنہرے اصول وضع کیے:
​🛑 لاہور ہائیکورٹ کے وضع کردہ 3 اہم قانونی اصول:
​1۔ مالک کی موت اور مختارنامے کا فوری خاتمہ (Section 201 Contract Act):
عدالت نے قانونِ معاہدہ کی دفعہ 201 کے تحت رولنگ دی کہ جیسے ہی مختارنامہ دینے والے (Principal) کا انتقال ہوتا ہے، اس کا دیا ہوا تمام تر قانونی اختیار (Agency) اسی سیکنڈ خودبخود ختم ہو جاتا ہے۔ مالک کی موت کے بعد مختارِ عام محض ایک عام انسان رہ جاتا ہے، وہ جائیداد منتقل کرنے یا رجسٹری پر دستخط کرنے کا کوئی قانونی مجاز نہیں رہتا۔ اس کا ایسا ہر عمل باطل اور کالعدم (Void) ہوگا۔
​2۔ سب رجسٹرار کا دائرہ اختیار اور فرض:
رجسٹریشن ایکٹ کی دفعات 32 اور 34 کے تحت سب رجسٹرار کا یہ قانونی فرض ہے کہ وہ جائیداد بیچنے والے کی اہلیت اور اختیار کی جانچ پڑتال کرے۔ چونکہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے مطابق مالک صبح ہی فوت ہو چکا تھا، اس لیے سب رجسٹرار کا رجسٹری روکنا بالکل قانون کے مطابق تھا۔
​3۔ دفعہ 77 کے تحت دعویٰ کا محدود دائرہ:
عدالتِ عالیہ نے واضح کیا کہ رجسٹریشن ایکٹ کی دفعہ 77 کے تحت ہونے والے مقدمے کا دائرہ اختیار بہت محدود ہوتا ہے۔ اس میں عدالت صرف یہ دیکھتی ہے کہ رجسٹرار کا رجسٹری سے انکار درست تھا یا غلط۔ اس مقدمے میں جائیداد کی اصل ملکیت (Title) یا معاہدے کے سچے جھوٹے ہونے کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
​💡 خریداروں کے لیے اب اگلا قانونی راستہ کیا ہے؟
​عدالت نے خریداروں کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے قانون کا ایک اور دروازہ کھولا ہے۔ ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ دفعہ 77 کا مقدمہ ہارنے سے خریداروں کا حقِ ملکیت ختم نہیں ہوتا۔ چونکہ انہوں نے رقم ادا کی ہے، اس لیے وہ مرحوم مالک کے قانونی ورثاء کے خلاف "دعویٰ تعمیلِ مختص" (Specific Performance of Contract) دائر کر کے، عدالت میں اپنا سودا ثابت کر کے جائیداد حاصل کر سکتے ہیں۔
​حاصلِ کلام: جائیداد کے معاملات میں کاغذات کی ٹائمنگ اور قانونی باریکیاں آپ کی عمر بھر کی کمائی کو محفوظ یا برباد کر سکتی ہیں! کسی بھی معاہدے سے پہلے قانونی ماہر سے مشاورت لازمی کریں۔
​💼 دی کے اینڈ ایم لاء فرم (The K&M Law Firm)
​📍 چیمبر نمبر 16، ڈی سی بلاک، ڈسٹرکٹ کورٹس، ساہیوال۔
​📞 رابطہ نمبرز:
​0300-9085654
​0300-8142858
​0305-6170590
​ Court

24/06/2026

نجی معاہدے یا صلح نامے کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے: لاہور ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ
​یہ فیصلہ خاندانی مقدمات میں نہایت اہم نظیر کی حیثیت رکھتا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے معزز جج نے قرار دیا کہ والدین کسی نجی معاہدے، صلح نامے یا فیملی کورٹ کے سامنے ہونے والے سمجھوتے کے ذریعے نابالغ بچے کے مستقبل کے حقوق ختم نہیں کر سکتے۔ ان حقوق میں بالخصوص نان نفقہ (Maintenance) اور وراثت (Inheritance) شامل ہیں۔
​فیصلے کے اہم قانونی نکات
​نابالغ کے حقوق والدین کی ملکیت نہیں
​ماں یا باپ نابالغ بچے کے قانونی حقوق سے دستبردار نہیں ہو سکتے۔
​والدین صرف سرپرست (Guardian) ہیں، حقوق کے مالک نہیں۔
​مستقبل کا نان نفقہ معاف نہیں کیا جا سکتا
​اگر صلح نامے میں یہ لکھ دیا جائے کہ آئندہ کبھی نان نفقہ کا دعویٰ نہیں کیا جائے گا تو ایسی شرط قانوناً مؤثر نہیں ہوگی۔
​نان نفقہ ایک مسلسل اور جاری ذمہ داری ہے۔
​وراثت کا حق بھی ختم نہیں کیا جا سکتا
​کوئی ماں یا باپ نابالغ کی طرف سے یہ وعدہ نہیں کر سکتا کہ بچہ مستقبل میں والد کی جائیداد میں حصہ نہیں مانگے گا۔
​وراثتی حق قانون کے تحت پیدا ہوتا ہے اور پیشگی طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔
​وکلاء کے لیے عملی اہمیت
​طلاق یا خلع کے بعد ہونے والے صلح ناموں میں اکثر یہ شرط شامل کی جاتی ہے کہ "بچہ آئندہ کبھی خرچہ یا وراثت کا دعویٰ نہیں کرے گا"۔
​اس فیصلے کے بعد ایسی تمام غیر قانونی شرائط کو عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔
​فیملی کورٹس کو بھی ایسے سمجھوتوں کی منظوری دیتے وقت نابالغ کے بہترین مفاد (Welfare of Minor) کو مقدم رکھنا ہوگا۔
​یہ فیصلہ خاص طور پر ان مقدمات میں دفاع یا دعویٰ کے لیے مفید ہے جہاں فریق مخالف پرانے صلح نامے کی بنیاد پر نابالغ کے قانونی حقوق کو دبانے کی کوشش کرتا ہے۔
​مزید قانونی رہنمائی اور مشاورت کے لیے رابطہ کریں:
​⚖️ The K&M Law Firm
​🏢 چیمبر نمبر 16، ڈی سی بلاک، ڈسٹرکٹ کورٹس، ساہیوال
03009085654
03008142858

23/06/2026

سپریم کورٹ آف پاکستان نے بچوں کے نان و نفقہ (Maintenance) میں سالانہ اضافے کے طریقۂ کار سے متعلق ایک اہم قانونی تنازع کا فیصلہ کرتے ہوئے قانون کے ایک بنیادی اصول کی وضاحت کی ہے۔ تنازع اس امر پر پیدا ہوا کہ اصل عدالتی ڈگری میں نان و نفقہ کی رقم میں ہر سال 20 فیصد اضافے کا حکم تو دیا گیا تھا، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا تھا کہ یہ اضافہ سادہ بنیاد (Simple Increase) پر ہوگا یا مرکب بنیاد (Compound Increase) پر۔

ہائی کورٹ نے اس حکم کی تشریح کرتے ہوئے سالانہ اضافے کو مرکب بنیاد پر شمار کرنے کا مؤقف اختیار کیا، لیکن سپریم کورٹ نے اس تشریح سے اتفاق نہیں کیا۔ عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ جب تک ڈگری یا فیصلے میں واضح اور غیر مبہم الفاظ میں مرکب اضافے (Compounding) کا ذکر موجود نہ ہو، سالانہ اضافہ صرف اصل مقررہ رقم کی بنیاد پر ہی شمار کیا جائے گا، نہ کہ ہر سال بڑھنے والی رقم کو بنیاد بنا کر۔

سپریم کورٹ نے مزید یہ اصول بھی واضح کیا کہ عملدرآمد کرنے والی عدالت (Executing Court) کا دائرۂ اختیار محدود ہوتا ہے اور وہ ڈگری میں کوئی نئی ذمہ داری، اضافی مالی بوجھ یا ایسی تشریح شامل نہیں کر سکتی جو اصل فیصلے کا حصہ نہ ہو۔ عملدرآمدی عدالت صرف اسی حد تک ڈگری نافذ کر سکتی ہے جس حد تک وہ صادر کی گئی ہو اور اسے ڈگری میں ترمیم یا توسیع کا اختیار حاصل نہیں۔

عدالتِ عظمیٰ نے مستقبل کے لیے فیملی کورٹس کو یہ رہنمائی بھی فراہم کی کہ نان و نفقہ میں سالانہ اضافے کے احکامات جاری کرتے وقت واضح طور پر یہ بیان کیا جائے کہ اضافہ سادہ بنیاد پر ہوگا یا مرکب بنیاد پر، تاکہ بعد ازاں کسی قسم کے ابہام، غیر ضروری مقدمہ بازی اور متضاد تشریحات سے بچا جا سکے، اور فریقین کے حقوق و ذمہ داریوں کے حوالے سے قانونی یقین (Legal Certainty) برقرار رہے۔

تجزیہ:
سپریم کورٹ آف پاکستان کے حالیہ فیصلے نے سالانہ اضافے (annual enhancement) کے تعین سے متعلق قانونی اصول کو واضح کرتے ہوئے یہ قرار دیا ہے کہ اگر ڈگری یا حکمِ عدالت میں مرکب بنیاد (compound basis) پر اضافے کا صراحتاً ذکر موجود نہ ہو تو اضافہ اصل مقررہ رقم (base amount) پر ہی شمار کیا جائے گا۔ اس اصول کی روشنی میں، لاہور ہائی کورٹ کے مقدمہ Saba Gul میں اختیار کی گئی وہ تشریح، جس کے نتیجے میں سالانہ اضافہ مرکب بنیاد پر شمار کیا گیا تھا، اب نظیری اہمیت (precedential value) برقرار نہیں رکھتی اور اس حد تک سپریم کورٹ کے بیان کردہ اصول کے تابع سمجھی جائے گی۔"
*Mahar Khalid Hayat Tullah Advocate
03009085654
03049885298

یکم جولائی سے صوبہ پنجاب کے تمام اضلاع میں فرد بیع ایشو کرنے پہ پابندی اب زمین کے تمام کام گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ پر ہوں ...
23/06/2026

یکم جولائی سے صوبہ پنجاب کے تمام اضلاع میں فرد بیع ایشو کرنے پہ پابندی اب زمین کے تمام کام گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ پر ہوں گے
بورڈ آف ریونیو پنجاب سے نوٹیفکیشن جاری

Address

Chamber #16 DC Block Sahiwal
Sahiwal

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Khalid Hayat Tullah Advocate High court posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Khalid Hayat Tullah Advocate High court:

Shortcuts

Share