Ch Muhammad Ali Azam

Call Directions

Ch Muhammad Ali Azam Advocate High Court | Specializing in Civil, Criminal, Family & Cyber Law | Rawalpindi | Contact: 0311-9914006

شاپنگ بیگ کی رقم کیوں وصول کی؟کپڑوں کے بڑے برینڈ کو بھاری جرمانہپشاور کی صارف عدالت نے آج 16 ستمبر کو ایک فیصلہ دیا ہے۔ف...
17/09/2026

شاپنگ بیگ کی رقم کیوں وصول کی؟کپڑوں کے بڑے برینڈ کو بھاری جرمانہ

پشاور کی صارف عدالت نے آج 16 ستمبر کو ایک فیصلہ دیا ہے۔فیصلہ صارف عدالت کے جج نصراللہ گنڈا پور نے سنایا۔ یہ درخواست صارف عدالت میں 14 فروری کو دائر کی گئی ،جس میں درخواست گزار شفق عامر نے موقف اختیار کیا کہ اس نے کپڑوں کے برینڈ KHAADI سے 7000 روپے کی خریداری کی اور اس دوران اس سے شاپنگ بیگ کی مد میں 30 روپے لیے گئے۔
عدالت نے فیصلے میں لکھا ہے کہ برینڈ نے نہ صرف 30 روپے لیے بلکہ بیگ پر لوگو کی مدمیں اپنی تشہیر بھی کی،عدالت نے برینڈ کو صارف کو نہ صرف 30 روپے واپس کرنے کادیا بلکہ ساتھ میں 25 ہزار روپے صارف کو دینے اور 25 ہزار قومی خزانے میں جمع کروانے کا حکم بھی دیا۔اب آپ سے بھی کوئی اپنے برینڈ کے شاپنگ بیگ کی رقم مانگے تو اس کو یہ فیصلہ ضرور پڑھائیں ورنہ صارف عدالت ضرور جائیں۔

جنسی ہراسانی ثابت ہونے پر ملازمت سے برخاستگی اور دس لاکھ روپے جرمانہ ، وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت فوزیہ وقار نے  خ...
18/08/2026

جنسی ہراسانی ثابت ہونے پر ملازمت سے برخاستگی اور دس لاکھ روپے جرمانہ ، وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت فوزیہ وقار نے خاتون ملازمہ کی جنسی ہراسانی کی شکایت پر سزا سنا دی ۔

وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت محترمہ فوزیہ وقار نے 17 اگست 2026 کو ایک وفاقی سرکاری ادارے میں پیش آنے والے جنسی ہراسانی کے مقدمے میں اپنا حتمی فیصلہ صادر کیا۔ شکایت ایک خاتون ملازمہ نے دائر کی تھی جو اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹری کے عہدے پر تعینات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 14 نومبر 2025 کو ادارے کا ایک جونیئر کلرک ان کے دفتر میں آیا اور ان کے ساتھ بدتمیزی کی، ناپسندیدہ جنسی پیش قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں دیوار کے ساتھ دھکیلا اور زبردستی ان کا منہ بند کیا۔ شکایت کنندہ کے مطابق وہ اسی وقت اس واقعے کی اطلاع دینے ایک اعلیٰ افسر، ڈپٹی ڈائریکٹر (ایڈمن) کے پاس گئیں۔
گواہان کے بیانات نے بھی واقعے کی فوری اطلاع دہی اور شکایت کنندہ کی ذہنی اذیت کی تصدیق کی۔ وفاقی محتسب نے شکایت کنندہ کی گواہی کو قابلِ اعتبار اور دیگر شواہد سے مصدقہ قرار دیتے ہوئے یہ فیصلہ دیا کہ ملزم نمبر ایک کا طرزِ عمل " ایکٹ 2010ء" کی دفعہ 2(h)(i) کے تحت جنسی ہراسانی کے زمرے میں آتا ہے۔

نتیجتاً ملزم نمبر ایک کے خلاف جنسی ہراسانی کا الزام ثابت پایا گیا، اور مذکورہ قانون کی دفعہ 4(4)(ii)(d) کے تحت انہیں ملازمت سے برطرفی کی سنگین سزا سنائی گئی۔ ان پر دس لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا، جس میں سے آٹھ لاکھ روپے شکایت کنندہ کو بطور تلافی ادا کیے جائیں گے، جبکہ دو لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کرائے جائیں گے۔

دوسری جانب، یہ الزام کہ ملزم نمبر دو نے ملزم نمبر ایک کو تحفظ فراہم کیا یا سہولت کاری کی، ثابت نہ ہو سکا۔ فیصلے میں واضح کیا گیا کہ انہوں نے معاملے کو متعلقہ حکام کے سامنے لانے کے لیے مناسب اقدامات کیے تھے، چنانچہ انہیں بری قرار دیا گیا اور ان کے خلاف شکایت خارج کر دی گئی۔

وفاقی محتسب نے شکایت ملزم نمبر ایک کے خلاف منظور کی جبکہ ملزم نمبر دو کے خلاف مسترد کر دی۔
وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت، کام کی جگہ پر ہراسانی کے خلاف برسرپیکار ہے ۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ عمران خان سے جیل ملاقات کراتے ہیں تو ملاقات کرنے والے جیل رول کی خلاف...
18/08/2026

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ عمران خان سے جیل ملاقات کراتے ہیں تو ملاقات کرنے والے جیل رول کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور باہر آ کر سیاسی گفتگو کرتے ہیں جس پر جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ اگر وہ خلاف ورزی کرتے ہیں تو کیا ریاست بھی خلاف ورزی کرے گی؟ بہنوں کی ملاقات کرانا کوئی احسان نہیں بلکہ اُن کا بنیادی حق ہے، ریاست کا کام نہیں کہ وہ خلاف ورزی کرے

18/08/2026
میڈیا پر خبر چلتی ہے کہ ٹاون شپ پولیس اسٹیشن لاہور میں دو خواتین حرکت قلب بند ہونے سے جان کی بازی ہار گئیںیہ خبر پڑھتے ہ...
09/08/2026

میڈیا پر خبر چلتی ہے کہ ٹاون شپ پولیس اسٹیشن لاہور میں دو خواتین حرکت قلب بند ہونے سے جان کی بازی ہار گئیں
یہ خبر پڑھتے ہی خیال آیا کہ یہ جھوٹ لگتا ہے کہ دو خواتین کی اچانک سے حرکت قلب کیسے بند ہو گئی
کیونکہ ابھی چند دن پہلے ہی کی تو بات ہے کہ انویسٹی گیشن آفیسر نے معذور بچی کیساتھ پولیس اسٹیشن میں ہی زیادتی کر ڈالی تھی جس پر پورا تھانہ معطل ہوا تھا۔

خیر وقت گزرنے کیساتھ معاملہ کھلتا جارہا ہے
ان خواتین کا سب سے بڑا جرم یہ تھا کہ یہ خانہ بدوش تھیں
تھانے میں تفتیش سے پہلے یہ جاننے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ملزم کتنا بااثر ہے پھر اس حساب سے معاملات آگے بڑھتے ہیں
جب پتہ چلا یہ خانہ بدوش ہیں غریب ہیں ان پڑھ ہیں اور خوبصورت بھی ہیں تو باقی کی باتیں آپ خود سمجھ جائیں کہ کیا ہوا ہو گا 😢😢😢
لواحقین کا کہنا ہے انکی بچیوں کی موت حرکت قلب بند ہونے سے نہیں بلکہ انکو ق۔ت۔ل کیا گیا ہے
مقتولہ کی والدہ کا کہنا ہے گردن پر بھی تشدد کے نشان تھے اور ناک سے خون بھی بہہ رہا تھا
پولیس نے میڈیا پر موت کی خبر چلا دی مگر اہل خانہ کو نہ بتایا گیا
پوسٹمارٹم کے بعد لاشیں بھاری نفری کی موجودگی میں رات تین بجے انکی جھونپڑی پر لے جائیں گی اور فورا تدفین کے لیے پریشر ڈالا گیا
خاندان والوں نے انکار کیا تو تین گھنٹے کی مہلت ملی اور پولیس کی بھاری نفری وہیں موجود رہی
پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی میں صبح چھ بجے تدفین کی گئی
لواحقین کا کہنا ہے کہ کوئی ایف آئی آر بھی نہیں تھی جس کی بنیاد پر ان کو گرفتار کیا گیا
پتہ نہیں پولیس کی وردی پہنے ان مردہ دل والوں کو کیسے سمجھ آے گا کہ غریب کے لواحقین بھی دل رکھتے ہیں انکو بھی اپنے بچوں کیساتھ ہونیوالے ظلم پر تکلیف ہوتی ہے
اگر اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیق ہو جاے تو یہ غازی آباد پولیس اسٹیشن سے بھی بڑا کیس بن کر ابھرے گا
سچ پوچھیں تو مجھے تو اپنی پولیس کو دیکھ کر تحفظ کے احساس کی بجاے خوف آنے لگتا ہے

قرآنِ کریم، اسلامی تصوف، اور اخلاقیات  کی روشنی میں انسانی نفس کی ترقی، تربیت اور کیفیات کی بنیاد پر نفس کی تین بنیادی ق...
09/08/2026

قرآنِ کریم، اسلامی تصوف، اور اخلاقیات کی روشنی میں انسانی نفس کی ترقی، تربیت اور کیفیات کی بنیاد پر نفس کی تین بنیادی قسمیں (یا تین کیفیات) بیان کی گئی ہیں:

1. نفسِ امارہ (برائی پر اُکسانے والا نفس)
یہ نفس کی ابتدائی اور خام حالت ہے، جس میں انسان اپنی خواہشات، جذبات اور حیوانی تقاضوں کا غلام ہوتا ہے۔ یہ نفس انسان کو برائی، سرکشی اور نافرمانی کی طرف رغبت دلاتا ہے۔
قرآنی حوالہ:
إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ (سورۃ یوسف: 53)"بیشک نفس تو برائی کا بہت زیادہ حکم دینے والا ہے۔"
خصائص و علامات:
خواہشاتِ نفسانی اور سرکشی کا غلبہ۔اچھے اور برے کی تمیز کے بغیر فوری تسکین کی تلاش۔گناہ کرنے کے بعد پشیمانی یا ندامت کا احساس نہ ہونا۔
اصلاح کا طریقہ:
مجاہدہ، ضبطِ نفس، عبادات کی پابندی اور اپنی خواہشات پر شرعی و اخلاقی حدود عائد کرنا۔

2. نفسِ لوامہ (ملامت کرنے والا نفس)
یہ نفس کی وہ حالت ہے جہاں انسان کے اندر ضمیر (Conscience) بیدار ہو جاتا ہے۔ جب انسان سے کوئی غلطی یا گناہ سرزد ہوتا ہے تو اس کا نفس اندر سے اسے ملامت کرتا ہے اور توبہ کی طرف مائل کرتا ہے۔
قرآنی حوالہ:
وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ (سورۃ القیامۃ: 2)"اور میں ملامت کرنے والے نفس کی قسم کھاتا ہوں۔"
خصائص و علامات:
گناہ اور نیکی کے درمیان کشمکش۔غلطی پر ندامت، شرمندگی اور استغفار کا جذبہ۔خود احتسابی (Self-criticism) کا فعال ہونا۔اصلاح کا طریقہ:
کثرتِ استغفار، نیک لوگوں کی صحبت اور مسلسل خود احتسابی تاکہ انسان گناہ سے یکسر نکل کر سکون پائے۔

3. نفسِ مطمئنہ (اطمینان پا جانے والا نفس)
یہ نفس کا اعلیٰ ترین اور تزکیہ شدہ مقام ہے۔ اس مرحلے پر انسان کی خواہشات اللہ تعالی کی رضا کے تابع ہو جاتی ہیں۔ گناہ کی رغبت ختم ہو جاتی ہے اور دل کو کامل اطمینان، سکون اور یقین حاصل ہوتا ہے۔
قرآنی حوالہ:
يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ۝ ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً (سورۃ الفجر: 27-28)"اے اطمینان والی روح! اپنے رب کی طرف لوٹ جا، اس حال میں کہ تو اس سے راضی ہو اور وہ تجھ سے راضی ہو۔"
خصائص و علامات:
اللہ کی رضا اور تقدیر پر کامل اطمینان۔تمام حالات (خوشی و غمی) میں صبر اور شکر۔نیکی اور اطاعت میں لذت اور سکون محسوس ہونا

07/08/2026

غریب کے غبارے اسلام آباد کی ترقی میں سخت رکاوٹ پیدا کر رہے تھے،
لہٰذا پولیس نے غبارے ہوا میں اڑا دیے۔۔۔ 🎈

آزادی کے مہینے میں ایک سوال پھر کھڑا ہے:

کیا آزادی صرف تقریروں، جھنڈوں اور نعروں کا نام ہے؟

آئینِ پاکستان شہری کو جان و آزادی کا تحفظ (آرٹیکل 9)، انسانی وقار (آرٹیکل 14)، پُرامن اجتماع کی آزادی (آرٹیکل 16)، اظہارِ رائے کی آزادی (آرٹیکل 19) اور قانون کے سامنے مساوات (آرٹیکل 25) کی ضمانت دیتا ہے۔

اگر غریب کے ہاتھ میں پکڑا ہوا ایک غبارہ بھی خطرہ بن جائے،
تو پھر سوال غبارے کا نہیں۔۔۔ آزادی کے مطلب کا ہے۔

14 اگست ..... مگر آزادی صرف منانے کی نہیں،
آئینی حقوق کی حفاظت کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ 🇵🇰

🚨 راولپنڈی پولیس میں احتساب کی ایک اور مثالشہری کی شکایت پر سی پی او راولپنڈی حسن مشتاق سکھیرا نے فوری نوٹس لیتے ہوئے کا...
06/08/2026

🚨 راولپنڈی پولیس میں احتساب کی ایک اور مثال

شہری کی شکایت پر سی پی او راولپنڈی حسن مشتاق سکھیرا نے فوری نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کی۔

🔹 کانسٹیبل محسن ضیاء اور اس کے دو پرائیویٹ ساتھی انکوائری میں الزامات ثابت ہونے پر سی پی او آفس سے گرفتار کر لیے گئے۔

🔹 ملزمان کے خلاف اغواء اور بھتہ خوری کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔

شکایت کے مطابق پولیس اہلکار اور اس کے ساتھیوں نے مقدمہ درج کرنے کی دھمکی دے کر شہری کو اغواء کیا اور رقم وصول کرنے کے بعد رہا کیا۔

سی پی او حسن مشتاق سکھیرا کا کہنا ہے:

«"بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور شہریوں کے ساتھ ظلم و زیادتی پر زیرو ٹالرنس پالیسی ہے۔"»

مزید کہا گیا کہ تمام پولیس افسران و اہلکار اپنے کردار اور فرائض کی انجام دہی میں ذمہ داری اور احتیاط کا مظاہرہ کریں۔ ملزمان کے خلاف مضبوط شواہد کے ساتھ چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

پشاور ہائی کورٹ نے افغان شہری کے ساتھ شادی کرنے والی پاکستانی خاتون کی طرف سے دائر کردہ رٹ پٹیشن کو منظور کرتے ہوئے درخو...
04/08/2026

پشاور ہائی کورٹ نے افغان شہری کے ساتھ شادی کرنے والی پاکستانی خاتون کی طرف سے دائر کردہ رٹ پٹیشن کو منظور کرتے ہوئے درخواست گزار کے افغان شوہر کو چھ مہینے کے اندر اندر پاکستانی اوریجن کارڈ جاری کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔
عدالت نے افغان شہری کو کارڈ کے اجراء تک پاکستان سے ڈیپورٹ نہ کرنے کا حکم بھی جاری کیا۔
یہ احکامات پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس وقار احمد اور جسٹس انعام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے پاکستانی خاتون مسماۃ کائنات علی کی طرف سے جاری کردہ ایک رٹ پیٹشن پر جاری کئے.

درخواست گزار کی وکیل مس ثناء گلزار نے عدالت سے درخواست کی کہ چونکہ آجکل پاکستان میں افغان مہاجرین کے خلاف کاروائیوں میں اضافہ کیا گیا ہے لہذا کارڈ کے اجراء تک درخواست گزار کے شوہرکو پاکستان سے ملک بدر نہ کرنے کا حکم جاری کیا جائے۔
عدالت عظمی نے دلائل سننے کے بعد درحواست گزار کے شوہر کو چھ مہینے کے اندر اندر پاکستانی اوریجن کارڈ جاری کرنے کے احکامات جاری کئے۔ عدالت نے قرار دیا کہ جب تک افغان شہری کو کارڈ کا جاری نہیں ہوتا اس وقت تک انہیں افغانستان ڈیپورٹ نہیں کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ پشاور میں افغان مہاجرین کے نمائندوں کا دعوی ہے کہ پاکستان میں قریباً پانچ لاکھ ایسے پاکستانی اور افغان خاندان موجود ہیں جن کے آپس میں رشتے ہوئے ہیں۔ پشاور ہائی کورٹ اس سے پہلے بھی سینکڑوں ایسے افغان شہریوں کو بیدخلی کو روک چکا ہے جنہوں نے پاکستانی خواتین سے شادیاں کی ہیں۔

لاہور میں اے ایس آئی کی لڑکی سے مبینہ زیادتی پر ایس ایچ او سمیت 78 اہلکاروں کا پورا تھانہ معطل
04/08/2026

لاہور میں اے ایس آئی کی لڑکی سے مبینہ زیادتی پر ایس ایچ او سمیت 78 اہلکاروں کا پورا تھانہ معطل

Address

Rawalpindi

Telephone

+923119914006

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ch Muhammad Ali Azam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share