Lead Law Experts & Tax Consultants

Lead Law Experts & Tax Consultants "حق کے راستے میں اگر ساری کائنات بھی تمہارے خلاف ہو
تو ?

لاہور ہائیکورٹ کے تین رکنی بینچ نے ایک اہم قانونی نکتہ پر فیصلہ صادر کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ خرچہ نان و نفقہ کی ڈگری کے...
26/02/2026

لاہور ہائیکورٹ کے تین رکنی بینچ نے ایک اہم قانونی نکتہ پر فیصلہ صادر کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ خرچہ نان و نفقہ کی ڈگری کے قابلِ اپیل ہونے کا تعین ہر مدعی کے لیے علیحدہ مقرر کردہ ماہانہ رقم کی بنیاد پر کیا جائے گا، نہ کہ تمام مدعیان کو دی گئی مجموعی رقم کی بنیاد پر۔
عدالت کے روبرو بنیادی سوال یہ تھا کہ آیا اگر ہر مدعی کو پانچ ہزار روپے ماہوار سے کم خرچہ نان و نفقہ دیا گیا ہو، لیکن مجموعی طور پر تمام مدعیان کی رقم پانچ ہزار روپے ماہوار سے زائد بنتی ہو، تو کیا ایسی ڈگری سیکشن 14(2)(c) فیملی کورٹس ایکٹ 1964 کے تحت قابلِ اپیل ہوگی؟

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ قانون کی صریح عبارت کے مطابق اپیل کے حق کا تعین “فی کس” بنیاد پر ہوگا۔ لہٰذا اگر فیملی کورٹ ہر مدعی کو 5000 روپے ماہوار سے کم خرچہ نان و نفقہ کی ڈگری دیتی ہے، تو ایسی ڈگری کے خلاف اپیل دائر نہیں کی جا سکتی، خواہ مجموعی طور پر تمام مدعیان کو ملنے والی رقم 5000 روپے ماہوار سے زیادہ
مثال کے طور پر اگر چار مدعیان کو 4500 روپے ماہوار فی کس خرچہ نان و نفقہ دیا جائے تو اگرچہ مجموعی رقم 18000 روپے ماہوار بنتی ہے، تاہم چونکہ ہر مدعی کو انفرادی طور پر 5000 روپے سے کم رقم دی گئی ہے، اس لیے ایسی ڈگری اپیل کے دائرہ میں نہیں آئے گی۔
عدالت نے واضح کیا کہ Family Courts Act, 1964 کی دفعہ 14(2)(c) کی تشریح کرتے ہوئے قانون ساز کی نیت کو مدنظر رکھنا ضروری ہے، اور اس شق میں استعمال ہونے والے الفاظ انفرادی حق کو ظاہر کرتے ہیں، نہ کہ مجموعی رقم کو۔ یہ فیصلہ فیملی مقدمات میں اپیل کے دائرہ اختیار کے تعین کے حوالے سے ایک رہنما نظیر کی حیثیت رکھتا ہے۔
رٹ پٹیشن نمبر 126306/2017
محمد اسلم بنام جج فیملی کورٹ فیروزوالہ و دیگر

JUDGMENT SHEET
LAHORE HIGH COURT LAHORE
(JUDICIAL DEPARTMENT)
Writ Petition No.126306 of 2017
Muhammad Aslam
Vs.
Judge Family Court, Ferozewala, etc.
Date of Hearing
07.03.2023
For the petitioner
Mr. Muhammad Asif Mian, Advocate
For Govt. of Punjab
M/s Muhammad Shan Gul and Qamar Zaman Qureshi, Advocate General and Additional Advocate General respectively
For Respondents No.3 & 4
M/s Abaid Ullah Bhatti, Adnan Tariq, Muhammad Asif Chohan and Mian Muhammad Sajid, Advocates
Amici Curiae
M/s Muhammad Shahzad Shaukat, Zafar Iqbal Kalanori, Khalid Ishaq and Malik Muhammad Awais Khalid, Advocates
JUDGMENT
RAHEEL KAMRAN, J:- This judgment shall deal
with ten petitions brought under Article 199 of the Constitution of the Islamic Republic of Pakistan, 1973 ('the Constitution') i.e. W.P.No.126306 of 2017, W.P.No.7911 of 2017, W.P.No.98903 of 2017, W.P.No.119360 of 2017, W.P.No.159598 of 2018, W.P.No.1594 of 2019, W.P.No.61038 of 2019, W.P.No.1807 of 2021, W.P.No.308 of 2022 and W.P.No.8768 of 2023, as these involve similar questions in controversy.

24/01/2026

جعلی چیک دینے کے بعد راضی نامہ ۔
تازہ ترین عدالتی فیصلہ !
*Compromise Deed -* راضی نامہ کی شرائط
Dishonring of cheque - Grant of pre or post arrest Bail.
It was held in Salman Khalid vs. The State etc. reported in PLD 2020 Lahore 97, decided by Anwaar-ul-Haq Pannun, Judge, that -
High Court provided guidelines for proceeding with cases u/s 489-F, PPC, involving compromise at Pre~arrest or post arrest Bail stage stated.
Following are the guidelines as provided by the High Court:.
راضی نامہ تحریری اور دستخط شدہ ہونا چاہیے
(i) A compromise deed shall be in writing and duly signed or thumb marked by the accused as well as the person in whose favour, the dishonoured cheque was issued by the accused or any other person duly authorized by the payee
ملزم کے وکیل، یا اس کے نامزدشدہ شخص کے بیان کو قلمبندکیاجائے۔
(ii) In case of post arrest bail, the Court seized with the Bail application due to the accused being in jail, shall also record the statement of the counsel, representing accused or any other person duly authorized by the accused for this purpose.
ضمانت کی سطح پر راضی نامہ کی تمام شرائط عدالت کو واضح کردینی چاہیے، اور ملزم شرائط کی تابع داری کرے گا۔
(iii) The Court, while giving effect to the compounding character of the offence, at Bail stage shall reflect the terms and conditions of the compromise in its Bail granting order besides clearly stating that the accused shall only be entitled to enjoy the liberty, he has earned by way of concession of bail, provided he honours the terms of compromise deed.
ملزم راضی نامہ میں بیان کردہ تاریخ کے اندر اندر واجب ادا رقم اداکرےگا۔اگررقم ادانہ کی، تو ضمانت کی رعایت سے محروم ہوسکتاہے۔البتہ مدعی رحم دلی کا مظاہرہ بھی کرسکتاہے۔
(iv) The accused shall make payment of amount of cheque or settled b/w the parties, to the payee on the date fixed in compromise deed or in case of any exigency within next three days. In case of any default, even in making payment of any installment, the accused shall lose his right to enjoy the concession of Bail. The complainant, however may show grace and accept any request on part of the accused for extension of time.
اگرمقررہ وقت تک رقم نہ دی، تو ضمانت نامہ منسوخی کیے بغیر ہی ضمانت منسوخ تصورہوگی۔
(v) In case of default, in absence of a consent of the complainant, for extension of time, in making the payment of amount settled b/w the parties through compromise, the Bail granting order shall be deemed to have been vacated automatically on the expiry of date fixed.
راضی نامہ پر عمل نہ کرنا، موقف سے انحراف تصورہوگا، اور ضمانت کا غلط استعمال گردانہ جائےگا
(vi) After seeking relief of Bail on the basis of compromise, the Non~compliance of its terms and conditions will amount to breach of commitment and misuse of concession of Bail by the accused for the period he enjoy the said concession in the form of liberty instead of facing the rigors of jail.
مدعی ضمانت منسوخی کی بجائے ٹرائل کورٹ کو متفرق درخواست دے کہ راضی نامہ کی خلاف ورزی کی گئی ہے،اور ٹرائل کورٹ ملزم کو دوبارہ گرفتارکرواسکتی ہے۔
(vii) The complainant shall not be obliged to file a formal application for cancellation of Bail u/s 497(5) CrPC either before the trial Court or before any higher Court which had passed the Bail granting order. However, the complainant, in case of default in making payment by the accused, may file only a miscellaneous application before the trial Court inviting its attention towards the default made by the accused, thereupon, learned trial Court shall pass an order for committing the accused to custody.
یہ راضی نامہ کی ایک علیحدہ قسم کے طور پرٹرائل کورٹ ریکارڈ مرتب کرے۔
(viii) All the trial Courts seized with the trial/ proceedings for the offence u/s 489-F, PPC, shall prepare a separate category of compromise cases with some special identity so that the case may be dealt with, in terms of Bail granting order.
اگرراضی نامہ پر موثر عمل ہوتاہے، تو کاروائی مقدمہ اختتام کوپہنچ سکتی ہے۔ایسا عدالت درخواست پربھی کرسکتی ہے، اور ازخود کاروائی پربھی ایسا قدم اُٹھاسکتی ہے۔
(ix) In case, the trial Court, is satisfied that the terms of the compromise have been fulfilled and acted upon, the Court, on its own motion or on the application of either party shall give effect to the compromise, by way of 0333 6023706 Rafiq Khan Lound Adv Rafiq Khan Advocate High Court LLM termination of proceedings in the case.

پنجاب بار نے بیریسٹر میاں اشفاق کا لائسنس سسپنڈ کر دیا ہے ہم سب اپنے کراچی بار کے وکلا بھائیو کے ساتھ ہیں
01/01/2026

پنجاب بار نے بیریسٹر میاں اشفاق کا لائسنس سسپنڈ کر دیا ہے ہم سب اپنے کراچی بار کے وکلا بھائیو کے ساتھ ہیں

📢 پنجاب میں زمین کا زبانی انتقال ختم! اب زمین کی منتقلی کے لیے باقاعدہ رجسٹرڈ کاغذات (رجسٹری) ہونا لازمی ہے۔ اپنی جائیدا...
31/12/2025

📢 پنجاب میں زمین کا زبانی انتقال ختم!
اب زمین کی منتقلی کے لیے باقاعدہ رجسٹرڈ کاغذات (رجسٹری) ہونا لازمی ہے۔ اپنی جائیداد کے قانونی تحفظ کے لیے ہمیشہ رجسٹری کروائیں۔

https://punjab-zameen.gov.pk/

یہ نوٹیفکیشن بورڈ آف ریونیو، پنجاب کی جانب سے 30 دسمبر 2025 کو جاری کیا گیا ہے۔ اس کا آسان اردو میں خلاصہ اور وضاحت درج ...
31/12/2025

یہ نوٹیفکیشن بورڈ آف ریونیو، پنجاب کی جانب سے 30 دسمبر 2025 کو جاری کیا گیا ہے۔ اس کا آسان اردو میں خلاصہ اور وضاحت درج ذیل ہے:
مرکزی فیصلہ: زبانی انتقال پر پابندی
اس نوٹیفکیشن کا سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ اب پنجاب میں زمین کی خرید و فروخت یا منتقلی کے لیے "زبانی بیان" (Oral Statement) کی بنیاد پر انتقال درج نہیں کیا جائے گا۔
اہم نکات کی تفصیل:
رجسٹری لازمی ہے: اب زمین کی فروخت (Sale)، رہن (Mortgage)، تبادلہ (Exchange) یا تحفہ (Gift/Hiba) کی صورت میں انتقال صرف اس وقت ہوگا جب آپ کے پاس رجسٹرڈ دستاویز (Registry) موجود ہو۔ یہ رجسٹریشن ایکٹ 1908 کے تحت ہونی چاہیے۔
زبانی انتقال ختم: پہلے پٹواری یا ریونیو افسر کے سامنے زبانی بیان دے کر جو انتقال ہو جاتے تھے، ان پر اب پابندی لگا دی گئی ہے۔
وراثت کے لیے استثنیٰ (Exception): یہ نیا قانون وراثت (Inheritance) کے انتقال پر لاگو نہیں ہوگا۔ وراثت کے انتقالات پہلے کی طرح مروجہ قانون کے مطابق ہی ہوتے رہیں گے۔
فوری نفاذ: یہ حکم فوری طور پر پورے پنجاب میں نافذ العمل کر دیا گیا ہے۔
سخت کارروائی: تمام ریونیو افسران (پٹواری، تحصیلدار وغیرہ) کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس پر سختی سے عمل کریں۔ حکم کی خلاف ورزی کرنے والے افسر کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔یہ نوٹیفکیشن بورڈ آف ریونیو، پنجاب کی جانب سے 30 دسمبر 2025 کو جاری کیا گیا ہے۔ اس کا آسان اردو میں خلاصہ اور وضاحت درج ذیل ہے:
مرکزی فیصلہ: زبانی انتقال پر پابندی
اس نوٹیفکیشن کا سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ اب پنجاب میں زمین کی خرید و فروخت یا منتقلی کے لیے "زبانی بیان" (Oral Statement) کی بنیاد پر انتقال درج نہیں کیا جائے گا۔
اہم نکات کی تفصیل:
رجسٹری لازمی ہے: اب زمین کی فروخت (Sale)، رہن (Mortgage)، تبادلہ (Exchange) یا تحفہ (Gift/Hiba) کی صورت میں انتقال صرف اس وقت ہوگا جب آپ کے پاس رجسٹرڈ دستاویز (Registry) موجود ہو۔ یہ رجسٹریشن ایکٹ 1908 کے تحت ہونی چاہیے۔
زبانی انتقال ختم: پہلے پٹواری یا ریونیو افسر کے سامنے زبانی بیان دے کر جو انتقال ہو جاتے تھے، ان پر اب پابندی لگا دی گئی ہے۔
وراثت کے لیے استثنیٰ (Exception): یہ نیا قانون وراثت (Inheritance) کے انتقال پر لاگو نہیں ہوگا۔ وراثت کے انتقالات پہلے کی طرح مروجہ قانون کے مطابق ہی ہوتے رہیں گے۔
فوری نفاذ: یہ حکم فوری طور پر پورے پنجاب میں نافذ العمل کر دیا گیا ہے۔
سخت کارروائی: تمام ریونیو افسران (پٹواری، تحصیلدار وغیرہ) کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس پر سختی سے عمل کریں۔ حکم کی خلاف ورزی کرنے والے افسر کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

پنجاب میں قبضوں کے خلاف قانون معطلی کا تحریری فیصلہ جاری۔۔۔ ڈی سی کی سربراہی میں کمیٹیوں نے اختیارات سے تجاوز کیا اسلیے ...
22/12/2025

پنجاب میں قبضوں کے خلاف قانون معطلی کا تحریری فیصلہ جاری۔۔۔ ڈی سی کی سربراہی میں کمیٹیوں نے اختیارات سے تجاوز کیا اسلیے قانون معطل کر دیا گیا! جلد فل بینچ بنا کر سماعتوں کا آغاز کیا جائے گا

لاہور ہائی کورٹ کا تحریری فیصلہ جاری
لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے جاری
کردہ اس عدالتی حکم نامے کے مطابق، عدالت نے "پنجاب پروٹیکشن آف اونر شپ آف ایموویبل پراپرٹی ایکٹ 2025" کے تحت ہونے والی کارروائیوں اور خود اس قانون کی قانونی حیثیت پر بڑے سوالات اٹھاتے ہوئے اہم ریلیف دیا ہے۔
اس فیصلے کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
1. کیس کا پس منظر
یہ کیس ممتاز حسین بنام حکومتِ پنجاب (W.P. No. 76106 of 2025) کے عنوان سے ہے۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ ڈسپیوٹ ریزولیوشن کمیٹی (DRC) نے ڈپٹی کمشنر جھنگ کی سربراہی میں ان کی جائیداد کے حوالے سے جو احکامات جاری کیے، وہ غیر قانونی اور آئین کے خلاف ہیں۔
2. حکومت کا موقف اور اعتراف
سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت میں اہم اعترافات کیے:
قانون کی تبدیلی:
بتایا گیا کہ جس "آرڈیننس" کے تحت کارروائی شروع ہوئی تھی، وہ 18 دسمبر 2025 کو ختم ہو کر "ایکٹ" کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
کمیٹیوں کا اختیارات سے تجاوز:
سرکاری وکیل نے تسلیم کیا کہ ڈسپیوٹ ریزولیوشن کمیٹیوں کے پاس جائیداد کا قبضہ (Possession) واگزار کروانے یا دینے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔
غیر قانونی اقدامات: یہ بھی مانا گیا کہ کمیٹیوں نے اپنے مینڈیٹ سے باہر نکل کر کام کیا اور جب تک ٹربیونل نوٹیفائی نہیں ہوتا، کمیٹیوں کے پاس کوئی قانونی اختیار نہیں تھا۔
3. عدالت کے اہم مشاہدات
عدالت نے اپنے حکم نامے میں درج ذیل نکات پر تشویش کا اظہار کیا:
بنیادی حقوق کی خلاف ورزی: عدالت نے کہا کہ اس قانون کے تحت کی جانے والی کارروائیوں میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 23 اور 24 (جائیداد رکھنے کے حقوق) اور آرٹیکل 10-A (شفاف ٹرائل کا حق) کو بظاہر نظر انداز کیا گیا ہے۔
سول عدالتوں کی موجودگی: عدالت نے نوٹ کیا کہ جہاں پہلے سے سول عدالتوں میں کیس چل رہے ہوں، وہاں ان کمیٹیوں کا مداخلت کرنا غیر قانونی ہے۔
4. لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ (حکمِ امتناع)
عدالت نے اس کیس میں درج ذیل بڑے حکم جاری کیے ہیں:
قانون کی معطلی: عدالت نے پنجاب پروٹیکشن آف اونر شپ آف ایموویبل پراپرٹی ایکٹ 2025 کی دفعات (Provisions) کو معطل کر دیا ہے اور اس کے تحت ہونے والی تمام کارروائیوں پر اسٹے (Stay) دے دیا ہے۔
جائیداد کی واپسی: ڈسپیوٹ ریزولیوشن کمیٹی کو حکم دیا گیا ہے کہ جائیداد کی صورتحال کو فوری طور پر اسی حالت میں بحال کیا جائے جس میں وہ درخواست دائر ہونے سے پہلے تھی (یعنی اگر قبضہ لیا گیا ہے تو واپس دیا جائے)۔
فل بینچ کی تشکیل:
کیس کی حساسیت اور قانونی پیچیدگی کو دیکھتے ہوئے، عدالت نے اسے فل بینچ (زیادہ ججز پر مشتمل بینچ) کے سامنے پیش کرنے کی سفارش کی ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل کو نوٹس:
آئین کی تشریح کے لیے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو معاونت کے لیے نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔

سادہ الفاظ میں، لاہور ہائی کورٹ نے اس نئے پراپرٹی ایکٹ کے تحت ہونے والی کارروائیوں کو روک دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ انتظامی کمیٹیاں (DRCs) عدالتوں کا متبادل نہیں بن سکتیں اور نہ ہی وہ زبردستی کسی سے جائیداد کا قبضہ چھین سکتی ہیں۔
゚viralシalシ

19/12/2025

*اے سی اور پٹواری کو جج بننے کا اتنا شوق ہے تو امتحان دیکر سسٹم کا حصہ بنیں ،چیف جسٹس عالیہ نیلم*

آپکا پیرا کیا کر رہا ہے کیا اب پیرا لوگوں کو ڈگریاں دے گا، چیف جسٹس عالیہ نیلم

یہ قانون کس نے بنایا ہے ؟کیا کسی قانونی دماغ سے مشاورت کی ؟عدالت کا سرکاری وکیل سے استفسار
چیف جسٹس مس عالیہ نیلم کا پنجاب حکومت کے پراپرٹی سے متعلق بنائے گئے قانون پر تحفظات کا اظہار

یہ کیا مذاق ہورہا ہے؟یہ پٹواری اور اے سی کو جج بننے کا شوق چڑھا ہے ایک معاملہ سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے تو پٹواری کیسے کارروائی کر سکتا ہے؟چیف جسٹس مس عالیہ نیلم
کیا پاکستان اب جنگل بن گیا ہےجو پٹواری اور تحصیل دار جعلی دستاویزات تیار کرتا ہے وہی لوگوں کی پراپرٹیوں کا فیصلہ کرے گا چیف جسٹس عالیہ نیلم

پٹواری کو تو آپ نے نعوز باللہ خدا بنا دیا ہے چیف جسٹس عالیہ نیلم

ہم یہ ظلم نہیں ہونے دیں گے چیف جسٹس عالیہ نیلم

📢 اہم عدالتی نوٹیفکیشن ‼️آج چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مس عالیہ نیلم صاحبہ کے تحت لاہور ہائی کورٹ کی ماتحت عدلیہ کے  ایڈیش...
17/12/2025

📢 اہم عدالتی نوٹیفکیشن ‼️

آج چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مس عالیہ نیلم صاحبہ کے تحت لاہور ہائی کورٹ کی ماتحت عدلیہ کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز اور سول ججز کی وفاقی آئینی عدالت (Federal Constitutional Court of Pakistan) میں خدمات سپرد کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔

⚖️

07/12/2025

اسلام آباد کی شاہراہِ دستور پر کم عمر ڈرائیور کی V8 گاڑی کی ٹکر سے دو لڑکیوں کی ہلاکت کے مقدمے میں پانچ دن میں متاثرہ خاندانوں نے ملزم کو معاف کر دیا۔

اسلام آباد پولیس کے مطابق حادثے کے وقت کم عمر ڈرائیور کا شناختی کارڈ تھا اور نہ ہی ڈرائیونگ لائسنس جبکہ اُس نے اعتراف کیا تھا کہ وہ سنیپ چیٹ ویڈیو بنا رہا تھا جب گاڑی بے قابو ہوئی۔

ملزم ابوذر کو چار دن کے جسمانی ریمانڈ کے بعد سنیچر کی سہ پہر اُس وقت اسلام آباد کی ضلعی عدالتوں کے کمپلیکس میں لایا گیا جب عدالتوں کا وقت ختم ہو چکا تھا۔
ان کے مقدمے کے لیے خصوصی طور پر جج شائستہ کنڈی کی عدالت لگائی گئی۔

ملزم جسٹس محمد آصف ریکی کا بیٹا ہے جن کو بلوچستان ہائیکورٹ سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں رواں سال جنوری میں ٹرانسفر کیا گیا تھا۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ملزم ابوذر کو اسلام آباد پولیس اور عدالتی عملے نے خصوصی پروٹوکول دیا اور صحافیوں کو عدالت سے دور رکھنے کی کوشش کرتے رہے۔

جسٹس آصف ریکی کے بیٹے کی گاڑی کی ٹکر سے دو لڑکیوں کی ہلاکت کے کیس میں متاثرہ خاندانوں پر صلح کے لیے دباؤ ڈالنے میں مبینہ طور پر اسلام آباد پولیس کے ایک ڈی ایس پی نے کردار ادا کیا۔

جج شائستہ کنڈی کو بتایا گیا کہ ملزم اور متاثرہ خاندانوں کے درمیان صلح ہو گئی ہے اور اُنہوں نے جسٹس ریکی کے بیٹے ابوذر کو معاف کر دیا ہے۔

جوڈیشل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی کی عدالت میں متاثرہ خاندانوں کے افراد نے بیان ریکارڈ کرائے جس کے بعد ملزم ابوذر کی ضمانت منظور کرتے ہوئے فوری طور پر رہا کیا گیا۔

پولیس میں موجود ایک ذریعے کے مطابق ملزم کو ایک دن کے لیے بھی جیل جانے سے بچانے کے لیے اُس کا خاندان سرگرم رہا۔

اگر آج ضمانت نہ ہوتی تو ملزم کو عدالتی ریمانڈ پر جیل منتقل کیا جاتا۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق مرنے والی لڑکی کے بھائی کا بیان ریکارڈ کیا گیا جبکہ اس کی والدہ کا آن لائن لیا گیا۔

مرنے والی دوسری لڑکی کے والد کا بیان عدالت میں ریکارڈ کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق تھانہ سیکریٹریٹ میں ملزم ابوذر کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ کے دوران پولیس اہلکاروں نے وی آئی پی مہمان کے طور پر رکھا جہاں وہ دن بھر اپنے فون پر گیم کھیلتے رہتے۔ اُن سے کسی قسم کی پوچھ گچھ نہیں کی۔

ملزم کے لیے کھانا کبھی گھر سے اور کبھی فاسٹ فوڈ منگوایا جاتا رہا جس میں پولیس اہلکاروں کے لیے بھی حصہ رکھا جاتا۔

اسلام آباد سیف سٹی کیمروں کی رکھوالی پر تعینات ایک ذریعے کے مطابق حادثے کی سی سی ٹی وی فوٹیج انتہائی ہولناک ہے اور اعلٰی حکام کی جانب سے اس کو لیک ہونے سے روکنے کے لیے خاص انتظامات کیے گئے۔

A Waheed Murad

PUNJAB REGULATION OF KITE FLYING ORDINANCE 2025.Ordinance X of 2025Promulgation Date :Dec 01, 2025
04/12/2025

PUNJAB REGULATION OF KITE FLYING ORDINANCE 2025.
Ordinance X of 2025
Promulgation Date :
Dec 01, 2025

24/11/2025

Follow the Lead Law Experts & TaxConsultants channel on WhatsApp:

پنجاب بھر میں جانشینی سرٹیفیکٹ حاصل کرنے کیلے ڈیکلاین (انکار  سرٹیفیکیٹ) سرٹیفیکیٹ کی ضرورت نہیں۔ براہ راست عدالت سے   ر...
20/11/2025

پنجاب بھر میں جانشینی سرٹیفیکٹ حاصل کرنے کیلے ڈیکلاین (انکار سرٹیفیکیٹ) سرٹیفیکیٹ کی ضرورت نہیں۔ براہ راست عدالت سے رجوع کرنے کا اختیار بحال کردیا گیا

پنجاب لیٹر آف ایڈمنسٹریشن اینڈ سکسیشن سرٹیفیکیٹ ایکٹ 2021 کے سیکشن 3 میں ترمیم کرتے ہوئے 31 جولائی 2025 کو سول کورٹ کا اختیار سماعت بحال کر دیا گیاہے۔۔۔۔۔۔۔۔

Address

Rawalpindi

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923325172007

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Lead Law Experts & Tax Consultants posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share