Uffan Iftikhar law associates

Uffan Iftikhar law associates A leading law firm , deals in criminal law , white collar crime , Nab , CNSA , FIA , SUPREME COURT

25/08/2026

آرمی پرسنل سے اگر کوئی جرم، Non Prohibited Area یعنی سول ایریاز میں ہو جائے تو اس کیس کے ٹرائل کا طریقہ کار کیا ہوگا ۔پاکستان آرمی ایکٹ 1952 کے باب 5 کی دفعہ 24 سے لیکر 59 تک فوج کے اندرونی جرائم کے متعلق آگاہی کرتی ہیں ۔دفعہ 59 سول جرائم کے متعلق ہے ، یعنی اگر کوئی یونیفارم پرسن، پاکستان پینل کوڈ یا کسی بھی مخصوص ایکٹ کے خلاف کوئی جرم، Prohibited ایریاز کی حدود سے باہر کرتا ہے تو اس کے خلاف ابتدائی تمام قانونی کاروائی Code of Criminal Procedure, 1898 کے تحت ہی ہو گی، مثلاً، ملزم کے خلاف متعلقہ تھانہ میں رپٹ درج کروانا، پھر ملزم کے خلاف متعلقہ دفعات کی FIR درج ہونا، ملزم کو مقامی پولیس نے گرفتار کرنا، ملزم کا فزیکل یا جوڈیشل ریمانڈ مجسٹریٹ سے لینا، ملزم کا ضمانت لینا یا نہ لینا ، پولیس ملزم کا چالان عدالت میں پیش کرنا، اب اس کے بعد آرمی ایکٹ کام اس طرح کام کرے گا کہ اُس ملزم کا آفیسر کمانڈنگ، آرمی ایکٹ کی دفعہ 94 اور مجموعہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 549 کے تحت متعلقہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج صاحب کو خط لکھتا ہے اور ان دفعات کے تحت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج وہ آرمی ملزم جس نے وہ جرم کیا ہے، جس کا ٹرائل فوجداری کورٹ میں زیرِ سماعت تھا، اس ملزم کو تمام دستاویزات کے ساتھ اس ملزم کے کمانڈنگ آفیسر کے حوالے کر دیا جاتا ہے ۔ وہ یونیفارم والا ملزم اپنی یونٹ کے کمانڈنگ آفیسر کی تحویل میں چلا جائے گا، پھر وہاں یونٹ میں ملزم کے خلاف تمام تر کارروائی آرمی ایکٹ کے تحت ہی ہو گی ۔

کورٹ مارشل کی اقسام:-
پاکستان آرمی ایکٹ 1952 کے باب 9 کی دفعہ 80 کے مطابق کورٹ مارشل کی درج ذیل 4 اقسام ہیں۔
1. جنرل کورٹ مارشل
2. ڈسٹرکٹ کورٹ مارشل
3. فیلڈ جنرل کورٹ مارشل
4. سمری کورٹ مارشل
کسی بھی کورٹ مارشل کے شروع ہونے سے قبل ملزم کے آفیسر کمانڈنگ، ملزم کے جرم کی Summary of Evidence پاکستان آرمی ایکٹ رولز کے رول نمبر 13 کے تحت ریکارڈ کرواتے ہیں ۔پاکستان آرمی ایکٹ رولز کے رول کی نمبر 23 کے تحت کورٹ مارشل شروع ہونے سے چوبیس گھنٹے پہلے وہ سمری آف ایوڈینس (SOE) ملزم کے حوالے کر دی جاتی ہے تاکہ ملزم وہ SOE اپنے پاس رکھے یا اپنے وکیل صاحب کے حوالے کرے ۔آرمی ایکٹ رولز کے تحت ملزم کی موجودگی میں Summary of Evidence ریکارڈ ہوتی ہے تو ملزم کے خلاف جتنے بھی گواہ پیش ہوتے ہیں تو ملزم خود ان پر کراس ایگزمن کر سکتا ہے ، اگر ملزم اُس گواہ پر کراس ایگزمن کرنے سے انکار کر دیتا ہے تو Summary of Evidence ریکارڈ کرنے والے آفیسر کو SOE پر ضرور لکھنا پڑے گا کہ ملزم نے گواہ پر کراس ایگزمن کرنے سے انکار کر دیا ہے ، اس طرح SOE ریکارڈ کرنے والا آفیسر بھی گواہ پر کراس ایگزمن کر کے تحریری طور پر SUMMARY OF EVIDENCE کی بُک میں لکھے گا۔آرمی ایکٹ کے تحت ایک ملزم کو آزادی ہوتی ہے کہ وہ اپنی صفائی اور دفاع کے لئے اپنے کورٹ مارشل میں، پاک فوج سے کوئی بھی آفیسر بطورِ Defending Officer پاکستان آرمی ایکٹ رولز کے رول نمبر 81 کے تحت چُن سکتا ہے یا پھر وہ ملزم پاکستان آرمی ایکٹ رولز کے رول نمبر 82 کے تحت اپنی مرضی کا پرائیویٹ وکیل بھی کر سکتا ہے۔جب بھی کسی بار سے کوئی وکیل کورٹ مارشل کے ٹرائل میں جائے تو اسے چاہیے کہ وہ ملزم کی Summary of Evidence کا مطالعہ بہت غور و فکر سے کرے۔ کیونکہ استغاثہ کے تمام گواہوں نے Summary of Evidence کے مطابق ہی گواہیاں دینی ہیں ۔

05/08/2026

Integrity, competence, Honesty, Bravery!! The level of judgment is highly ranked!

Thanks for being a top engager and making it onto my weekly engagement list! 🎉Muhammad Sher Awan, Raja Sadiq, Raja Kamra...
05/07/2026

Thanks for being a top engager and making it onto my weekly engagement list! 🎉

Muhammad Sher Awan, Raja Sadiq, Raja Kamran, Fazil Raziq, Muhammad Gulfraz Qureshi

05/07/2026
Thanks for being a top engager and making it onto my weekly engagement list! 🎉Muhammad Sher Awan, Raja Sadiq, Raja Kamra...
30/06/2026

Thanks for being a top engager and making it onto my weekly engagement list! 🎉

Muhammad Sher Awan, Raja Sadiq, Raja Kamran, Fazil Raziq, Muhammad Gulfraz Qureshi, Ch Ikhlas, Muhammad Alyaan, Fahad Raja, Mohammad Qadeer Kiani, Adi Ahmed

24/06/2026

2026 SCM R 317
302(b)---Qatl-i-amd
Conviction maintained

Delay in postmortem---Ocular and medical account in conformity---Minor discrepancies---Effect---Accused was convicted and sentenced by Trial Court to imprisonment for life--

Held: Minor variations in ocular account and medical evidence of prosecution about seat of injury, were inconsequential
Eye-witness was not expected to give photo-picture of each and every injury received by deceased, in a state of panic and sensation which developed at the time of occurrence due to attack and firing of accused---Delay in conducting postmortem examination on dead-body of deceased was not fatal to prosecution case---Medical evidence produced through doctor, fully supported ocular account of prosecution brought on record by prosecution witnesses---Prosecution proved its case against accused beyond shadow of any doubt and two Courts below had rightly passed judgments against accused---Supreme declined to interfere the judgment.
Leave to Appeal was dismissed.

2004سے وکالت شروع کی، آج 2026 ہے۔آج تقریباً 300 نمبر ڈیلیٹ کیے، جو 10، 15 بلکہ 20 سال سے صرف سیو تھے، مگر کبھی رابطہ نہ ...
23/06/2026

2004سے وکالت شروع کی، آج 2026 ہے۔
آج تقریباً 300 نمبر ڈیلیٹ کیے، جو 10، 15 بلکہ 20 سال سے صرف سیو تھے، مگر کبھی رابطہ نہ ہوا۔
رشتے نمبر سیو رکھنے سے نہیں، بلکہ ملنے، حال پوچھنے، چائے پر بیٹھنے اور خوشی غمی میں ساتھ دینے سے قائم رہتے ہیں۔

سقراط کی درس گاہ کا صرف ایک اصول تھا، اور وہ تھا*برداشت،*یہ لوگ ایک دوسرے کے خیالات تحمل کے ساتھ سُنتے تھے، یہ بڑے سے بڑ...
22/06/2026

سقراط کی درس گاہ کا صرف ایک اصول تھا، اور وہ تھا
*برداشت،*
یہ لوگ ایک دوسرے کے خیالات تحمل کے ساتھ سُنتے تھے، یہ بڑے سے بڑے اختلاف پر بھی ایک دوسرے سے الجھتے نہیں تھے، سقراط کی درسگاہ کا اصول تھا اس کا جو شاگرد ایک خاص حد سے اونچی آواز میں بات کرتا تھا یا پھر دوسرے کو گالی دے دیتا تھا یا دھمکی دیتا تھا یا جسمانی لڑائی کی کوشش کرتا تھا اس طالب علم کو فوراً اس درسگاہ سے نکال دیا جاتا تھا۔ سقراط کا کہنا تھا برداشت سوسائٹی کی روح ہوتی ھے، سوسائٹی میں جب برداشت کم ہوجاتی ہے تو مکالمہ کم ہوجاتا ھے اور جب مکالمہ کم ہوتا ہے تو معاشرے میں وحشت بڑھ جاتی ھے۔اس کا کہنا تھا اختلاف دلائل اور منطق پڑھے لکھے لوگوں کا کام ہے، یہ فن جب تک پڑھے لکھے عالم اور فاضل لوگوں کے پاس رہتا ہے اُس وقت تک معاشرہ ترقی کرتا ھے۔لیکن جب مکالمہ یا اختلاف جاہل لوگوں کے ہاتھ آجاتا ہے تو پھر معاشرہ انارکی کا شکار ہوجاتا ھے ۔۔ وہ کہتا تھا۔۔
کوئی عالم اُس وقت تک عالم نہیں ہوسکتا جب تک اس میں برداشت نہ آجائے، وہ جب تک ہاتھ اور بات میں فرق نہ رکھے۔

Address

Office No 3 Basement Sami Arcade , High Court Road Rawalpindi
Rawalpindi

Telephone

03005244504

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Uffan Iftikhar law associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share