S S Law Associates

S S Law Associates Professional lawyers, providing legal solutions for Civil, Criminal, Immigration & Corporate matters

29/07/2025

گواہان چشم دید اور میڈیکل شہادت میں تضاد کی صورت میں سزا نہ ہوگی۔
(2021 SCMR 612).

تمام معزز شہری جن کے ہاتھوں کے فنگر پرنٹس بوجہ بڑھاپا، بیماری، حادثہ یا دیگر وجوہات مٹ چکے ہیں یا معدوم ہو چکے ہیں وہ مع...
29/07/2025

تمام معزز شہری جن کے ہاتھوں کے فنگر پرنٹس بوجہ بڑھاپا، بیماری، حادثہ یا دیگر وجوہات مٹ چکے ہیں یا معدوم ہو چکے ہیں وہ معزز شہری بینک اکاؤنٹ کھلوانے یا موبائل سم نکلوانے یا دیگر وہ کام جہاں بائیو میٹرک کی ضرورت پڑ سکتی ہے تو وہ وہاں یہ ہائیکورٹ لاہور کا آرڈر دکھا کر اپنا کام کروا سکتے ہیں۔ مفاد عامہ کے لیے ہے۔



































































29/07/2025

"حضانت" اور "ولایت" میں فرق
(PLD 2025 Lahore 540)
(PLJ 2024 Lahore 413)

یہ بات واضح کرنا نہایت ضروری ہے کہ مسلم قانون میں "ولایت" (Guardianship) اور "حضانت" (Custody) میں فرق موجود ہے۔ جیسا کہ تقریباً ہر قانونی نظام میں، مسلمان قانون کے مطابق بھی باپ بچے کا قدرتی ولی ہوتا ہے، یعنی وہ بچے کے شخص اور اس کے مال کا قانونی نگران ہوتا ہے۔

تاہم، اسلام ماں کو بچے کی حضانت کا پہلا حق دار تسلیم کرتا ہے۔ اس کی واضح وجہ یہ ہے کہ ایک انسانی بچے کی پرورش، دیکھ بھال، کفالت اور تربیت ماں کے ذریعے بہتر طور پر ممکن ہے تاکہ وہ ایک مفید انسان بن سکے۔ ماں میں فطری طور پر محبت و شفقت پائی جاتی ہے، اس لیے وہ اس ذمہ داری کے لیے موزوں ترین شخصیت سمجھی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بچے کی دیکھ بھال کے لیے "حضانت" کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

"حضانت" کا لفظ عربی کے لفظ "حِضْن" سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ہیں "ماں کی گود"۔ یعنی بچے کو ماں کی گود میں دینا تاکہ وہ اسے محبت اور نگہداشت کے ساتھ پال سکے۔

اسلام اور قانون دونوں میں ماں کے حقِ حضانت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ اگر باپ دعویٰ کرے کہ وہ بچے کا ولی ہے تو بھی قانوناً ماں کو مخصوص عمر تک بچے کی حضانت کا حق حاصل رہے گا۔

اگر ماں نے کسی وقت کسی شرط پر یا کسی مجبوری کے تحت اپنا حق حضانت ترک بھی کر دیا ہو تو وہ ترک کا کوئی قانونی اثر نہیں ہوگا، اور ماں سے اس ترک پر قانونی مواخذہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اگر اس کے حضانت کے حق کے ترک میں کوئی قانونی رکاوٹ موجود نہ ہو تو وہ دوبارہ اپنا حقِ حضانت حاصل کرنے کی اہل ہوتی ہے اور اس سے محروم نہیں کی جا سکتی۔

قانونِ فوجداری کی دفعہ 491 کے تحت سیشن جج، ایڈیشنل سیشن جج یا ہائی کورٹ کے سامنے کارروائی کی جا سکتی ہے اگر کوئی شخص غیر قانونی یا غلط طریقے سے کسی کی تحویل میں ہو۔ اسی طرح آئینِ پاکستان 1973 کے آرٹیکل 199(1)(b)(i) کے تحت بھی حبسِ بےجا (Habeas Corpus) کی درخواست دائر کی جا سکتی ہے جب کوئی شخص بغیر قانونی اختیار کے یا غیر قانونی طریقے سے زیرِ حراست ہو۔

یہ آرٹیکل عموماً اس وقت لاگو ہوتا ہے جب کسی فریق کی جانب سے کسی کی تحویل میں بدعنوانی (malfeasance)، نااہلی (misfeasance)، یا غفلت (nonfeasance) برتی گئی ہو۔ تاہم، ہائی کورٹ رولز اینڈ آرڈرز میں دفعہ 491 کے تحت دائر کی گئی درخواست اور آرٹیکل 199 کے تحت دائر کردہ درخواست کے طریق کار اور فیصلے کے انداز میں کوئی فرق نہیں رکھا گیا۔

ہائی کورٹ رولز اینڈ آرڈرز کا چیپٹر 4-F، والیوم V، قانونِ فوجداری کی دفعہ 491(2) کے تحت بنائے گئے قواعد پر مشتمل ہے، جو ایسی درخواستوں کی کارروائی کو منظم کرتا ہے۔

قانون کے مطابق، ماں کو بچے کی مقررہ عمر تک حضانت کا ترجیحی حق حاصل ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر میاں بیوی میں طلاق بھی واقع ہو چکی ہو، تو بھی ماں اس حقِ حضانت سے محروم نہیں ہوتی، سوائے ان صورتوں کے جو محمدن لا (Para 354) میں بیان کی گئی ہیں، بشرطیکہ ولی عدالت اس کا تعین کرے۔

29/07/2025

فیملی کورٹ براہ راست کاروائی اجرا دوسرے ضلع میں نہ بھجوا سکتی ھے۔ دفعہ 25A فیملی کورٹ 1964 کے مطابق اجرا کو صرف ہایئکورٹ کے ذریعہ ہی دوسرے ضلع میں بھجوایا جاسکتا ھے
ڈسٹرکٹ جج اپنے ضلع میں میں ایک فیملی کورٹ سے دوسری فیملی کورٹ اجرا منتقل کر سکتا ھے۔
جبکہ سپریم کورٹ ایک صوبہ سے دوسرے صوبہ اجرا منتقل کرنے کی مجاز ھے
2022 MLD 1289

25/07/2025

Essential ingredients to attract the offence of criminal breach of trust punishable under section 406 PPC.
i) There should be an entrustment by a person who reposes confidence in the other, to whom property is entrusted.

ii) The person in whom the confidence is placed, dishonestly misappropriates or converts to his own use, the property entrusted.

iii) He dishonestly uses or disposes of that property in violation of any direction (naeem)of law prescribing the mode in which such trust is to be discharged.

iv) He dishonestly uses or disposes of that property in violation of any legal contract, express or implied, which he has made touching the discharge of such trust.

The major ingredient of the above offence was that accused must have been entrusted with some property. He should hold the property in a fiduciary capacity. The term “entrust” has been used in its legal meaning and not in its dictionary meaning or popular sense. Accused should have property in his possession otherwise than for himself. Said penal provision attracts only when owner of the property makes it over to accused to be retained by him until a certain contingency arises or to be disposed of by him/accused on the happening of certain event or to be disposed of in the light of certain terms and conditions of the trust.
Crl. Misc. No. 12913-B of 2025
Majid Ali. Vs State
2025LHC4774

25/07/2025

سپرداردی پر دی گئی چیز جب بھی عدالت طلب کرے گی اسکو عدالت میں پیش کرنے ہر وہ بندہ پاپند ہوگا جو عدالت سے سپرداردی پر چیز لے گا،

2025 SCMR 1041

S.516-A-Superdari---Interim custody of vehicle---Effect-.. Permitting interim custody of vehicle on Superdari neither amounts to prejudice the trial nor gives a clean chit to accused, nor does it relieve or exempt owner / recipient of custody from pending legal proceedings-Duration of interim custody may continue subject to the bond and surety till the final fate of the case---Till then the person allowed interim custody is duty-bound under law to attend, participate and produce the vehicle as and when directed by Court.
Civil Petition No. 256-K of 2024
AHSAN ALI DAWACH versus The STAE

25/07/2025

سپریم کورٹ آف پاکستان نے بیوی کے بانجھ پن پر شوہر کےحق مہر یا نان نفقہ کی ادائیگی سے انکار کو غیر قانونی قرار دے دیا۔

عدالت میں مقدمے میں شوہر کے رویے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے درخواست گزار صالح محمد پر 5 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کر دیا۔ واضح رہے کہ مقدمے میں شوہر نے بیوی پر بانجھ پن اور عورت نہ ہونے کا الزام لگایا تھا ۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بانجھ پن حق مہر یا نان نفقہ روکنے کی وجہ نہیں۔ خواتین پر ذاتی حملے عدالت میں برداشت نہیں ہوں گے۔ شوہر نے بیوی کو والدین کے گھر چھوڑ کر دوسری شادی کر لی۔ پہلی بیوی کے حق مہر اور نان نفقہ سے انکار کیا گیا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ عورت کی عزت نفس ہر حال میں محفوظ ہونی چاہیے۔ خواتین کی تضحیک معاشرتی تعصب کو فروغ دیتی ہے۔ مقدمے میں بیوی کی میڈیکل رپورٹس نے شوہر کے تمام الزامات رد کیے ہیں۔ خواتین کے حقوق کا تحفظ عدلیہ کی ذمہ داری ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اس کیس میں 10 سال تک خاتون کو اذیت اور تضحیک کا نشانہ بنایا گیا۔ جھوٹے الزامات اور وقت ضائع کرنے پر جرمانہ عائد کیا گیا۔ عدالت نے مقدمے میں ماتحت عدالتوں کے فیصلے برقرار
رکھے۔

It is a sorrowful truth of our society that infertility, or even the suspicion of it, is often weaponized against women. This social prejudice routinely results in courts of law becoming venues for humiliating a woman under the guise of litigation. However, it must be acknowledged without equivocation that infertility, (naeem)even if present, is no ground to deny a woman her dower or maintenance. It is certainly no ground to challenge her womanhood. To convert such personal pain into a legal weapon is not only an abuse of the process, but an affront to human dignity that should not be enabled.

It also bears emphasis that our religion and culture treat the marital bond as a sacred covenant. The Holy Quran has described the spouse as a garment; the relationship between a husband and wife is likened to that of libaas in our religion, and therefore, the ideals of protection, mutual respect, and dignity in marriage must not be compromised in any event.
Lest we forget: women in our society constitute a vulnerable group, whose dignity requires vigilant protection and care. The courts cannot, and will not, be passive venues for the perpetuation of social prejudices that harm women and subject them to one trauma after the other. It is not a matter of judicial discretion but of constitutional and moral obligation that the personal dignity of all who appear before the courts be duly safeguarded, particularly where the power imbalance between the parties is so manifest.

The power to award exemplary costs is one means by which the Court seeks to deter frivolous, abusive, and malicious litigation. In the present case, the petitioner has not merely wasted judicial time. He has caused a woman already in a position of(naeem) vulnerability to suffer degradation and personal trauma over the course of protracted litigation in three forums spread over a decade. This Court would be remiss in its duty were it to allow such conduct to pass without sanction.

Accordingly, this petition is dismissed with costs of Rs. 500,000/- (Rupees five hundred thousand only), imposed primarily as an expression of the strong disapproval of this Court towards the misuse of judicial process by the petitioner to inflict gratuitous humiliation upon the respondent, which shall be paid to the respondent. If the said amount of costs is not paid by the petitioner, the same shall be recovered by way of arrears of land revenue.

C.P.L.A.354-P/2025
Saleh Muhammad and another v. Mst. Mehnaz Begum and others
Mr. Justice Yahya Afridi
30-06-2025

ہائیکورٹ سے اگر آپکی بیل خارج تو پولیس آپکے گھر پینچ جائے گی پکڑنے یہ سپریم کورٹ آف پاکستان کا فیصلہ بہت اہم ہے، خاص طور...
25/07/2025

ہائیکورٹ سے اگر آپکی بیل خارج تو پولیس آپکے گھر پینچ جائے گی پکڑنے
یہ سپریم کورٹ آف پاکستان کا فیصلہ بہت اہم ہے،
خاص طور پر عوام کے لیے، کیونکہ یہ واضح کرتا ہے کہ پری اریسٹ بیل (عبوری ضمانت قبل از گرفتاری) کے خارج ہونے کے بعد کیا ہوتا ہے اور پولیس اور تحقیقاتی اداروں کا کیا کردار ہونا چاہیے۔



📌 کیس کا خلاصہ
• درخواست گزاروں (ملزمان) کی پری اریسٹ بیل لاہور ہائی کورٹ نے 19-11-2024 کو خارج کر دی۔
• اس کے باوجود وہ چھ ماہ تک آزاد گھومتے رہے کیونکہ پولیس نے ان کی گرفتاری کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کیے۔
• سپریم کورٹ نے اس پولیس کی غفلت پر سخت نوٹس لیا اور واضح ہدایات جاری کیں۔



⚖️ سپریم کورٹ کے اہم نکات

✅ پری اریسٹ بیل خارج ہونے کے بعد کوئی قانونی تحفظ باقی نہیں رہتا
• جب کسی عدالت نے عبوری ضمانت خارج کر دی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عدالت نے فیصلہ کر لیا ہے کہ گرفتاری سے بچنے کی کوئی غیر معمولی وجوہات موجود نہیں۔
• پولیس ملزم کو قانونی طور پر گرفتار کر سکتی ہے تاکہ تحقیقات مؤثر ہو سکیں۔

✅ سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنے کا مطلب خودکار اسٹے نہیں ہے
• پولیس یہ نہیں سمجھ سکتی کہ اگر کسی نے سپریم کورٹ میں اپیل کر دی تو اب اسے گرفتار نہ کیا جائے۔
• جب تک سپریم کورٹ کی طرف سے واضح عبوری حکم (Stay Order) نہ ہو، گرفتاری روکی نہیں جا سکتی۔

✅ عدالتی احکامات پر فوری عمل ضروری ہے
• عبوری ضمانت خارج ہونے کے بعد پولیس مکمل طور پر پابند ہے کہ وہ گرفتاری کرے، جب تک کہ کوئی نئی عدالت واضح حکم نہ دے۔

✅ نظام کا غلط استعمال روکنا ہوگا
• ملزمان کا بار بار درخواستیں دائر کرکے گرفتاری سے بچنا نظامِ انصاف کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔



🔥 عوام کے لیے اہم پیغام

📌 اگر آپ کی پری اریسٹ بیل خارج ہو جائے تو آپ کے پاس کوئی قانونی تحفظ نہیں رہتا جب تک کہ آپ کو کسی اعلیٰ عدالت سے نیا Stay Order نہ ملے۔

📌 صرف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنے سے پولیس آپ کو نہیں چھوڑ سکتی۔ اگر عدالت نے عبوری تحفظ نہ دیا ہو تو گرفتاری ضروری ہوجائے گی ور

📌 پولیس اور تحقیقاتی ادارے عدالتی احکامات پر فوری عمل کرے گے ۔تاخیر نہیں کر سکتے

20/07/2025

آسیفیکیشن ٹیسٹ کیا ہے؟

آسیفیکیشن ٹیسٹ ایک طبی طریقہ کار ہے جو کسی کم عمر یا نابالغ فرد کی عمر کا تعین کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، خاص طور پر جب پیدائش کا سرکاری ریکارڈ (جیسے پیدائش کا سرٹیفکیٹ، اسکول کا اندراج، وغیرہ) دستیاب نہ ہو۔

اس ٹیسٹ میں فرد کی ہڈیوں کا ایکس رے لیا جاتا ہے، خاص طور پر کلائی، کہنی، کندھے، کولہے اور گھٹنے کی ہڈیوں کا۔ اس ایکس رے کو ماہرینِ فرانزک تجزیہ کرتے ہیں تاکہ اندازہ لگایا جا سکے کہ ہڈیوں کی نشوونما کس عمر کی عکاسی کرتی ہے۔

اس طریقے سے فرد کی عمر کا اندازاً تعین کیا جاتا ہے، تاہم یہ کوئی مکمل درست طریقہ نہیں ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے مطابق اس ٹیسٹ میں 1 سے 2 سال تک کی غلطی (margin of error) ہو سکتی ہے، لہٰذا اس کی تشریح احتیاط سے کی جاتی ہے۔

ماضی میں اسے آخری چارہ (last resort) سمجھا جاتا تھا، لیکن پشاور ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلوں سے یہ واضح ہوا ہے کہ اگر دستیاب دستاویزات مشکوک ہوں یا ناقابلِ اعتبار ہوں، تو آسیفیکیشن ٹیسٹ کو متبادل یا معاون ذریعہ بھی مانا جا سکتا ہے۔

20/07/2025

2025 PCr.LJ 726
PLJ 2024 Cr.C. 1211
جعلی پولیس مقابلوں، زیر حراست ملزمان کی ہلاکتوں پر
لاہور ہائیکورٹ کا انتہائی سخت رد عمل
Zero tolerance should be shown against the fake police encounters. Fake police encounters cannot be permitted in guise of self-defence by the police officials.
Crl. Misc.36448/24
Mst. Farzana Bibi Vs C.C.P.O. Lahore etc

20/07/2025

2025 MLD 77

It is important to note that in order to succeed in an action for malicious prosecution, the plaintiff must in the first instance prove

(i) that the action was actuated by malice

(ii) that the initiator acted without reasonable and probable cause

(iii) that the plaintiff was prosecuted by the defendant on a criminal charge

(iv) that the prosecution terminated in favour of the plaintiff

(v) that the proceedings had interfered with plaintiff's liberty and had also affected his/her reputation, and

(vi) that the plaintiff had suffered damages. To succeed in a case for malicious prosecution all these ingredients must coexist.

R.F.A.No.52942 of 2022
Afzaal Ahmed Vs. Sadia Safdar and another
2025 MLD 77

20/07/2025

2025 SCMR 888
It is by now settled that when witnesses claim to have seen the occurrence, the foremost consideration is whether they saw the occurrence/incident with their own eyes and whether they were in a position to identify the assailant(s).

It is by now settled that mere absconsion, though relevant circumstance, cannot by itself form the sole basis of conviction. Though while absconsion may be treated as a corroborative piece of evidence, it cannot be read in isolation, nor can it compensate for the inherent defects and shortcomings in the prosecution’s case.

J.P.441/2017
Muhammad Masood @ Mithu v. The State

Address

Rawalpindi
46000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when S S Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share