26/05/2026
Lahore High Court
Pre-arrest Bail in Cross Version Case.
337-F(v), 337-A(i), 337-L(ii), 148, 149 PPC
(Crl. Misc. No. 15322-B of 2026)
Justice Tariq Mehmood Bajwa.
کراس ورژن کیس میں ضمانت قبل از گرفتاری کے حوالے سے لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ۔
۱۔ کیس کا پس منظر
ملزم پر الزام: ملزم عمر فاروق پر الزام تھا کہ اس نے مدعی (وارث علی) کے سر پر پسٹل کا بٹ (Pistol Butt) مارا، جس سے بچنے کے لیے مدعی نے ہاتھ آگے کیا اور اس کے دائیں ہاتھ کی رنگ فنگر (انگوٹھی والی انگلی) فریکچر ہو گئی۔
۲۔ عدالت کے فیصلہ
لاہور ہائی کورٹ نے تفصیلی بحث اور طبی رپورٹس کے جائزے کے بعد ملزم عمر فاروق کی ضمانت قبل از گرفتاری (Pre-arrest Bail) کنفرم (منظور) کر دی۔ عدالت نے پچاس ہزار روپے کے مچلکے اور ایک ضامن جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔ عدالت کے مطابق کیس مزید انکوائری (Further Inquiry) کا ہے اور ملزم کے خلاف بدنیتی اور کہانی گھڑنے (Fabrication) کے واضح شواہد موجود ہیں۔
۳۔ ضمانت منظور کرنے کی وجوہات (Reasons for Granting Bail)
عدالت نے درج ذیل اہم وجوہات کی بنیاد پر ملزم کو ضمانت کا حقدار ٹھہرایا:
طبی رپورٹ میں تضاد اور بناوٹ کا شبہ (Possibility of Fabrication):
پہلے ڈاکٹر (IMLO) نے رپورٹ میں لکھا کہ کلائی اور ہاتھ پر کوئی نیل (Bruise) یا ہتھیار کا اثر موجود نہیں تھا، اور وہاں انجکشن کے نشانات تھے، جس کی وجہ سے ڈاکٹر نے کالم میں "بناوٹ/خود ساختہ چوٹ" کا امکان 'Yes' لکھا۔
ڈسٹرکٹ اسٹینڈنگ میڈیکل بورڈ (DSMB): نے بھی پہلے ڈاکٹر کی رائے سے مکمل اتفاق کیا۔
پروونشل میڈیکل بورڈ (PMB):
اگرچہ اس بورڈ نے انگلی کے فریکچر کی حد تک کہا کہ یہ اس طریقے سے ہو سکتا ہے، لیکن سر کی چوٹ (Injury No.1) کے بارے میں واضح لکھا کہ یہ ہتھیار اور بیان کردہ کہانی سے میل نہیں کھاتی، لہٰذا اس میں بناوٹ کا پورا امکان (Yes) ہے۔ عدالت کے مطابق یہ مدعی کی طرف سے کہانی گھڑنے (Adulteration) کو ظاہر کرتا ہے۔
میڈیکل بورڈ کی تشکیل میں تاخیر (Delay in Re-examination):
چوٹ لگنے کا واقعہ 01.07.2023 کو ہوا جبکہ پروونشل میڈیکل بورڈ تقریباً 10 ماہ بعد 14.05.2024 کو بیٹھا۔ اتنے عرصے میں انجکشن کے نشانات اور دیگر شواہد وقت کے ساتھ ٹھیک (Heal) ہو جاتے ہیں، جس سے پہلے ڈاکٹر کا مشاہدہ زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔
غیر منطقی وقوعہ (Logic and Reason):
عدالت نے معروف میڈیکل جرسٹ (جیسے مودی اور ڈاکٹر صدیق حسین) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب مخالف فریق پورے غصے میں اور مسلح ہو، اور وہ پوری طاقت سے وار کرے، تو صرف ایک انگلی پر فریکچر آنا اور ہاتھ کے باقی حصے پر رتی برابر خراش یا اثر نہ ہونا انسانی عقل اور منطق کے خلاف ہے، جو کہ چوٹ کے خود ساختہ (Self-suffered) ہونے کا شک پیدا کرتا ہے۔
جوابی دعویٰ میں تاخیر (Delay in Cross-version): کراس ورژن (Cross-version) بغیر کسی معقول وجہ کے غیر معمولی تاخیر سے درج کرایا گیا، جو کہ عام طور پر مشاورت کے بعد جھوٹی کہانی بنانے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
۴۔ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے طے کردہ قانونی اصول (Legal Principles)
اس فیصلے میں ماتحت عدالتوں کے لیے سپریم کورٹ کے درج ذیل سنہری اصولوں (Precedents) کا ذکر کیا گیا ہے۔
الف) ضمانت کے مرحلے پر شواہد کا سرسری جائزہ (Tentative Assessment)
اصول: ضمانت کے فیصلے کے وقت عدالت شواہد کا صرف سرسری جائزہ (Tentative Assessment) لے گی، گہرائی میں جا کر باریک بینی (Deeper Appreciation) سے گریز کیا جائے گا۔ تاہم، اگر کوئی ایسا فیکٹ سامنے آئے جو کیس کو مشکوک بناتا ہو، تو اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
(حوالہ: خالد جاوید گیلان بنام سرکار - PLD 1978 SC 256)
ب) قبل از گرفتاری ضمانت میں کیس کے میرٹس کو چھونا
اصول: ضمانت قبل از گرفتاری (Pre-arrest Bail) کے مرحلے پر بھی عدالت کیس کے میرٹس (حقائق و شواہد) کو چھو سکتی ہے اور یہ دیکھ سکتی ہے کہ آیا کیس مزید انکوائری (Further Inquiry) کا بنتا ہے یا نہیں۔
(حوالہ: محمد عمر وقاص برکت علی بنام سرکار - 2023 SCMR 330 اور عبدالرحمٰن عرف محمد ذیشان بنام سرکار - 2023 SCMR 884)
ج) شک کا فائدہ ملزم کا حق ہے (Benefit of Doubt)
اصول: شک کا فائدہ (Benefit of Doubt) صرف ٹرائل کے بعد سزا سناتے وقت ہی نہیں، بلکہ ضمانت قبل از گرفتاری کے ابتدائی مرحلے پر بھی ملزم کا قانونی حق ہے۔
(حوالہ: فہد حسین بنام اسٹیٹ - 2023 SCMR 364)
د) بعد از گرفتاری ضمانت کا استحقاق اور قبل از گرفتاری ضمانت
اصول: اگر جرم کی نوعیت اور سزا ایسی ہو کہ گرفتاری کے بعد ملزم لازمی طور پر ضمانت (Post-arrest Bail) کا حقدار بنتا ہو، تو ملزم کو صرف مدعی کی تسکین یا اسے چند دن جیل میں رکھنے کی خواہش پوری کرنے کے لیے قبل از گرفتاری ضمانت دینے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اگر بعد از گرفتاری ضمانت کا مضبوط کیس ہو، تو قبل از گرفتاری ضمانت منظور کر لینی چاہیے۔
(حوالہ: محمد اختر بنام سرکار - 2025 SCMR 1631 اور خلیل احمد سومرو بنام سرکار - PLD 2017 SC 730)
عدالت: لاہور ہائی کورٹ، لاہور
جج صاحب: جسٹس طارق محمود باجوہ
کیس: عمر فاروق بنام سرکار وغیرہ (عبوری ضمانت قبل از گرفتاری - Pre-arrest Bail)
ایف آئی آر نمبر: 575 مورخہ 11.07.2023، تھانہ سرائے مغل، قصور۔
دفعات (Sections): 337-F(v), 337-A(i), 337-L(ii), 148, 149 PPC..