Law Point.

Law Point. Legal Service Lawpoint is created to provide legal information to the Law students, young lawyers and citizens of Pakistan.

Feel free to ask any question about Pakistani Law.

DRAFT / SPECIMEN / FORMAT: نمونہ طلاق نامہ            ⚖️
09/02/2026

DRAFT / SPECIMEN / FORMAT:

نمونہ طلاق نامہ


⚖️

DRAFT / SPECIMEN / FORMAT: نمونہ وصیت نامہ          ⚖️
26/01/2026

DRAFT / SPECIMEN / FORMAT:

نمونہ وصیت نامہ


⚖️

DRAFT / SPECIMEN / FORMAT: کرایہ دار کی جانب سے مالک مکان کو معائدہ کرایہ داری ختم کرنے کا نوٹس۔          ⚖️
19/01/2026

DRAFT / SPECIMEN / FORMAT:

کرایہ دار کی جانب سے مالک مکان کو معائدہ کرایہ داری ختم کرنے کا نوٹس۔


⚖️

DRAFT / SPECIMEN / FORMAT:Application For Bringing Additional Evidence On Record        ⚖️
15/01/2026

DRAFT / SPECIMEN / FORMAT:

Application For Bringing Additional Evidence On Record


⚖️

14/01/2026

عدالتی نظائر برائے تقسیم جائیداد

2023 YLR 675
وارثت تقسیم کے مطابق اگر کوئی مسلمان مرد وفات ہو جائے اور اس کے بچے نہ ہو تو بیوی کو اس کے جائداد میں 1/4 حصہ ملے گا اور 3/4حصہ باقی قانونی وارثہ میں تقسیم کیا جائے گا اور اگر فوت شدہ کا حقیقی بھائی اس کے وفات کے بعد چند ماہ بعد وفات ہو جائے تو 3/4 میں سے 1/8حصہ اس بھائی کے بیوی کو حاصل ہوگا جبکہ 2/3اس کے بیٹیوں کو حاصل ہوگا آگر اس بیٹا نہ ہو تو 1/3 باقی قانونی وارثہ میں تقسیم کیا جائے گا
When a Muslim man dies leaving behind a wife but no issue, his wife will inherit 1/4th share of his property. The remaining 3/4th will go to the remaining legal heirs. In this proposition one real brother of the deceased was left who died after one month of deceased. He had a wife and three daughters. Now remaining 3/4th property will be divided to his legal heirs. His wife will get share as sharer to the extent of 1/8th of the property, 3/4th and 2/3rd of the remaining property will be given to the daughters (three in number) with equal share. Now if the deceased had a son then the sons of deceased’s stepbrother would not get any share, but in this case since Abdul Rehman had only three daughters and no son, therefore, the remaining 1/3rd will go to the sons of the deceased Muhammad Iqbal

2022 SCMR 1558

There is a clear distinction between (a) cases in which an heir alleges that his/her rights to inheritance have been disregarded and his/her share not mentioned in the inheritance mutation, and (b) those cases in which such an heir sits idly by, does not challenge mutation entries of long standing, or acquiesces, and only comes forward when third party rights in the subject land have been created. To succeed in respect of the latter (b) category cases an heir must demonstrate that he/she was not aware of having been deprived, give cogent reasons for not challenging the property record of long standing, and show complicity between the buyer and the seller (the ostensible owner) or that the buyer knew of such heir’s interest yet proceeded to acquire the land. If these two categories are kept in mind, then the judgments of this court, respectively relied by both sides, which are apparently at variance, become reconcilable.

Law of Inheritance.....

مکمل قانون وراثت اردو میں
(جائیداد کی تقسیم)

(١): جائیداد حقداروں میں متوفی پر واجب الادا قرض دینے اور وصیت کو پورا کرنے کے بعد تقسیم ہوگی.

(٢): اگر صاحب جائیداد خود اپنی جائیداد تقسیم کرے تو اس پر واجب ہے کہ پہلے اگر کوئی قرض ہے تو اسے اتارے، جن لوگوں سے اس نے وعدے کیۓ ہیں ان وعدوں کو پورا کرے اور تقسیم کے وقت جو رشتےدار، یتیم اور مسکین حاضر ہوں ان کو بھی کچھ دے.
(٣): اگر صاحب جائیداد فوت ہوگیا اور اس نے کوئی وصیت نہیں کی اور نہ ہی جائیداد تقسیم کی تو متوفی پر واجب الادا قرض دینے کے بعد جائیداد صرف حقداروں میں ہی تقسیم ہوگی.

جائیداد کی تقسیم میں جائز حقدار:

(١): صاحب جائیداد مرد ہو یا عورت انکی جائیداد کی تقسیم میں جائیداد کے حق دار اولاد، والدین، بیوی، اور شوہر ہوتے ہیں.

(٢): اگر صاحب جائیداد کے والدین نہیں ہیں تو جائیداد اہل خانہ میں ہی تقسیم ہوگی.

(٣): اگر صاحب جائیداد کلالہ ہو اور اسکے سگے بہن بھائی بھی نہ ہوں تو کچھ حصہ سوتیلے بہن بھائی کو جاۓ گا اور باقی نزدیکی رشتے داروں میں جو ضرورت مند ہوں نانا، نانی، دادا، دادی، خالہ، ماموں، پھوپھی، چچا، تایا یا انکی اولاد کو ملے گا.

(1): شوہر کی جائیداد میں بیوی یا بیویوں کا حصہ:

(١): شوہر کی جائیداد میں بیوی کا حصہ آٹھواں (1/8) یا چوتھائی (1/4) ہے.

(٢): اگر ایک سے زیادہ بیویاں ہونگی تو ان میں وہی حصہ تقسیم ہوجاۓ گا.

(٣): اگر شوہر کے اولاد ہے تو جائیداد کا آٹھواں (1/8) حصہ بیوی کا ہے، چھٹا (1/6) حصہ شوہر کے والدین کا ہے اور باقی بچوں کا ہے.

(٤): اگر شوہر کے اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہوگا، بیوی کیلئے آٹھواں (1/8) حصہ اور جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ شوہر کے والدین کیلئے ہے.

(٥): اگر شوہر کے اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، بیوی کیلئے جائیداد کا آٹھواں (1/8) حصہ ہے اور شوہر کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر شوہر کے اولاد نہیں ہے تو بیوی کا حصہ چوتھائی (1/4) ہو گا اور باقی جائیداد شوہر کے والدین کی ہوگی.

(٧): اگر کوئی بیوی شوہر کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے فوت ہوجاتی ہے تو اسکا حصہ نہیں نکلے گا.
(٨): اگر بیوہ نے شوہر کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے دوسری شادی کرلی تو اسکو حصہ نہیں ملے گا.
(٩): اور اگر بیوہ نے حصہ لینے کے بعد شادی کی تو اس سے حصہ واپس نہیں لیا جاۓ گا.

(2): بیوی کی جائیداد میں شوہر کا حصہ:

(١): بیوی کی جائیداد میں شوہر کا حصہ نصف (1/2) یا چوتھائی (1/4) ہے.

(٢): اگر بیوی کے اولاد نہیں ہے تو شوہر کیلئے جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ہے اور نصف (1/2) حصہ بیوی کے ماں باپ کا ہے.

(٣): اگر بیوی کے اولاد ہے تو شوہر کیلئے جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے، اور چھٹا (1/6) حصہ بیوی کے ماں باپ کا ہے اور باقی بچوں کا ہے.

(٤): اگر بیوی کے اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہوگا، شوہر کیلئے چوتھائی (1/4) حصہ اور باقی جائیداد بیوی کے والدین کیلئے ہے.

(٥): اگر بیوی کے اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، شوہر کیلئے جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے اور بیوی کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر شوہر، بیوی کے والدین کی طرف سے جائیداد ملنے سے پہلے فوت ہو جاۓ تو اس میں شوہر کا حصہ نہیں نکلے گا.

(٧): اگر بیوی اپنے والدین کی جائیداد تقسیم ہونے سے پہلے فوت ہوگئی اور اسکے بچے ہیں تو بیوی کا اپنے والدین کی طرف سے حصہ نکلے گا اور اس میں شوہر کا حصہ چوتھائی (1/4) ہوگا اور باقی بچوں کو ملے گا.

(٨): اگر بیوی اپنے والدین کی جائیداد تقسیم ہونے سے پہلے فوت ہوگئی اور اسکے اولاد بھی نہیں ہے تو اسکے شوہر کو حصہ نہیں ملے گا.

(3): باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ:

(١): باپ کی جائیداد میں ایک لڑکے کیلئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے.

(٢): باپ کی جائیداد میں پہلے باپ کے والدین یعنی دادا، دادی کا چھٹا (1/6) حصہ، اور باپ کی بیوہ یعنی ماں کا آٹھواں (1/8) حصہ نکالنے کے بعد جائیداد اولاد میں تقسیم ہوگی.

(٣): اگر اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں، دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہوگا، آٹھ واں (1/8) حصہ بیوہ ماں کا ہوگا اور چھٹا (1/6) حصہ باپ کے والدین کوملے گا.

(٤): اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کیلئے جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ہے، آٹھواں (1/8) حصہ بیوہ ماں کیلئے ہے اور چھٹا (1/6) حصہ باپ کے والدین کیلئے ہے.

(٥): اگر باپ کے والدین یعنی دادا یا دادی جائیداد کی تقسیم کے وقت زندہ نہیں ہیں تو انکا حصہ نہیں نکالا جاۓ گا.

(٦): اگر کوئی بھائی باپ کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے فوت ہوگیا اور اسکی بیوہ اور بچے ہیں تو بھائی کا حصہ مکمل طریقہ سے نکالا جاۓ گا.

(٧): اگر کوئی بہن باپ کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے فوت ہوجاۓ اور اسکا شوہر اور بچے ہوں تو شوہر اور بچوں کو حصہ ملے گا. لیکن اگر بچے نہیں ہیں تو اسکے شوہر کو حصہ نہیں ملے گا.

(4): ماں کی جائیداد میں اولاد کا حصہ:

(١): ماں کی جائیداد میں ایک لڑکے کیلئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے.

(٢): جائیداد ماں کے والدین یعنی نانا نانی اور باپ کا حصہ نکالنے کے بعد اولاد میں تقسیم ہوگی.

(٣): اور اگر اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہے، باپ کیلئے چوتھائی (1/4) حصہ اور باقی جائیداد ماں کے والدین کیلئے ہے.

(٤): اور اگر اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، باپ کیلئے جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے اور ماں کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٥): اگر ماں کے والدین تقسیم کے وقت زندہ نہیں ہیں تو انکا حصہ نہیں نکالا جاۓ گا.

(٦): اور اگر باپ بھی زندہ نہیں ہے تو باپ کا حصہ بھی نہیں نکالا جاۓ گا ماں کی پوری جائیداد اسکے بچوں میں تقسیم ہوگی.

(٧): اگر ماں کے پہلے شوہر سے کوئی اولاد ہے تو وہ بچے بھی ماں کی جائیداد میں برابر کے حصہ دار ہونگے.
(5): بیٹے کی جائیداد میں والدین کا حصہ:

(١): اگر بیٹے کے اولاد ہو تو والدین کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٢): اگر والدین میں صرف ماں ہو تو چھٹا (1/6) حصہ ماں کو ملے گا اور اگر صرف باپ ہو تو چھٹا (1/6) حصہ باپ کو ملے گا اور اگر دونوں ہوں تو چھٹا (1/6) حصہ دونوں میں برابر تقسیم ہو گا.

(٣): اگر بیٹے کے اولاد نہیں ہے لیکن بیوہ ہے اور بیوہ نے شوہر کی جائیداد کے تقسیم ہونے تک شادی نہیں کی تو اس کو جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ملے گا اور باقی جائیداد بیٹے کے والدین کی ہوگی.

(٤): اگر بیٹے کی اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہے، بیٹے کی بیوہ کیلئے آٹھواں (1/8) حصہ اور بیٹے کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٥): اگر اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، بیٹے کی بیوہ کیلئے آٹھواں (1/8) حصہ اور بیٹے کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر بیٹا رنڈوا ہے اور اسکے کوئی اولاد بھی نہیں ہے تو اسکی جائیداد کے وارث اسکے والدین ہونگے جس میں ماں کیلئے جائیداد کا ایک تہائی (1/3) حصہ ہے

اور دو تہائی (2/3) حصہ باپ کا ہے اور اگر بیٹے کے بہن بھائی بھی ہوں تو اسکی ماں کیلئے چھٹا (1/6) حصہ ہے اور باقی باپ کا ہے.
(6): بیٹی کی جائیداد میں والدین کا حصہ:

(١): اگر بیٹی کے اولاد ہے تو والدین کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٢): اگر والدین میں صرف ماں ہو تو چھٹا (1/6) حصہ ماں کو ملے گا اور اگر صرف باپ ہو تو چھٹا (1/6) حصہ باپ کو ملے گا

اور اگر دونوں ہوں تو چھٹا (1/6) حصہ دونوں میں برابر تقسیم ہو گا.

(٣): اگر بیٹی کے اولاد نہیں ہے لیکن شوہر ہے تو شوہر کو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ملے گا اور نصف (1/2) جائیداد بیٹی کے والدین کی ہوگی.

(٤): اور اگر بیٹی کی اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہے، بیٹی کے شوہر کیلئے ایک چوتہائی (1/4) حصہ اور باقی والدین کا ہے.

(٥): اور اگر اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، بیٹی کے شوہر کیلئے چوتہائی (1/4) حصہ اور والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر بیٹی بیوہ ہو اور اسکے اولاد بھی نہیں ہے تو جائیداد کے وارث اسکے والدین ہونگے جس میں ماں کیلئے جائیداد کا ایک تہائی (1/3) حصہ ہوگا اور اگر بیٹی کے بہن بھائی ہیں تو ماں کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہوگا اور باقی باپ کو ملے گا.
(7): کلالہ:

کلالہ سے مراد ایسے مرد اور عورت جنکی جائیداد کا کوئی وارث نہ ہو یعنی جنکی نہ تو اولاد ہو اور نہ ہی والدین ہوں اور نہ ہی شوہر یا بیوی ہو.

(١): اگر صاحب میراث مرد یا عورت کلالہ ہوں، اسکے سگے بہن بھائی بھی نہ ہوں، اور اگر اسکا صرف ایک سوتیلہ بھائی ہو تو اس کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے،

یا اگر صرف ایک سوتیلی بہن ہو تو اس کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٢): اگر بہن، بھائی تعداد میں زیادہ ہوں تو وہ سب جائیداد کے ایک تہائی (1/3) حصہ میں شریک ہونگے.

(٣): اور باقی جائیداد قریبی رشتے داروں میں اگر دادا، دادی یا نانا، نانی زندہ ہوں یا چچا، تایا، پھوپھی، خالہ، ماموں میں یا انکی اولادوں میں جو ضرورت مند ہوں ان میں ایسے تقسیم کی جاۓ جو کسی کیلئے ضر رساں نہ ہو.
(8): اگر کلالہ کے سگے بہن بھائی ہوں:

(١): اگر کلالہ مرد یا عورت ہلاک ہوجاۓ، اور اسکی ایک بہن ہو تو اسکی بہن کیلئے جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ہے اور باقی قریبی رشتے داروں میں ضرورت مندوں کیلئے ہے.

(٢): اگر اسکی دو بہنیں ہوں تو ان کیلئے جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ ہے اور باقی قریبی رشتے داروں میں ضرورت مندوں کیلیے ہے.

(٣): اگر اسکا ایک بھائی ہو تو ساری جائیداد کا بھائی ہی وارث ہوگا.

(٤): اگر بھائی، بہن مرد اورعورتیں ہوں تو ساری جائیداد انہی میں تقسیم ہوگی مرد کیلئے دوگنا حصہ..
اسلامی قانون میں "عاق" کا کوئی تصور نہیں۔ اگر والدین اولاد کو عاق بھی کردیں تب بھی انکی وفات کے عاق کی گئی اولاد بھی وراثت کی حقدار ھو گی۔

Inheritance---Under islamic law, there was no institution of abandonment (aaq) for a disgruntled son/daughter depriving him/her from his/her inheritance.
PLD 2013 Lahore 464

Pronouncement of disinheritance/Aaq Nama did not disentitle a person from his share in inheritance.

2011 YLR 697
وارث مقدمات دو قسم کے ہوتے ہیں ان دونوں کے درمیان واضح فرق ہے۔ پہلی، ایسی صورتیں جن میں وارث یہ الزام لگاتا ہے کہ وراثت میں اس کے حقوق کو نظر انداز کیا گیا ہے اور وراثت کی تبدیلی میں اس کے حصہ کا ذکر نہیں کیا گیا ہے، اور دوسری وہ صورتیں جن میں ایسا وارث خاموش بیٹھا ہے، طویل عرصے کے اتپریورتن اندراجات کو چیلنج نہیں کرتا ہے۔ کھڑا ہوتا ہے، یا تسلیم کرتا ہے، اور صرف اس وقت آگے آتا ہے جب موضوع کی زمین میں فریق ثالث کے حقوق بنائے گئے ہوں---دوسری قسم کے مقدمات میں کامیابی کے لیے وارث کو یہ ظاہر کرنا ہوگا کہ اسے محروم کیے جانے کا علم نہیں تھا، طویل عرصے سے جائیداد کے ریکارڈ کو چیلنج نہ کرنے کی وجوہات، اور خریدار اور بیچنے والے (ظاہر مالک) کے درمیان پیچیدگی ظاہر کریں یا یہ کہ خریدار کو وارث کی دلچسپی کا علم تھا پھر بھی زمین حاصل کرنے کے لیے آگے بڑھا۔۔

2022 SCMR 1558
Inheritance ---Limitation for challenging an Inheritance mutation---Acquiescence by heir---Clear distinction was to be drawn between two sets of cases; first, cases in which an heir alleges that his/her rights to Inheritance have been disregarded and his/her share not mentioned in the Inheritance mutation, and second those cases in which such an heir sits idly by, does not challenge mutation entries of long standing, or acquiesces, and only comes forward when third party rights in the subject land have been created---To succeed in respect of the second category cases an heir must demonstrate that he/she was not aware of having been deprived, give cogent reasons for not challenging the property record of long standing, and show complicity between the buyer and the seller (the ostensible owner) or that the buyer knew of such heir's interest yet proceeded to acquire the land

2022 SCMR 1558
Ss. 39 & 42---Suit for declaration and cancellation of Inheritance mutation---Acquiescence, principle of---Legal heir allowing third party interest to be created in the property and only challenging the same belatedly---In the present case, courts below did not pay heed to the interest in the subject land created in a third party, that is, a property developer; and, also disregarded the fact that third party interest was created before the legal heir objected to the Inheritance mutation---Significance of the fact that the property developer had created further interest in the subject land by earmarking plots in a Housing Scheme and allotting as many as 444 plots was also not considered---Despite the fact that it would be the allottees of these 444 plots who would suffer the consequences, and do so for something for which they were not responsible---Once the interest of the said 444 came to light they should have been arrayed as defendants in the suit by the plaintiffs, and if the plaintiffs failed to amend the plaint it was incumbent upon the Judge of the Trial Court to do so---Depriving 444 allottees to be of their valuable property rights without them being heard by the Trial and/or Appellate Courts, by the High Court and then by the Supreme Court would be legally indefensible---Courts below disregarded the principle of acquiescence; and the fact of third party interest having been created in the subject land; and that further third parties had acquired proprietary rights in the said land; and, that such interest was acquired in land which was shown in the record of rights of long standing, which remained unchallenged---Courts below also ignored the fact that the legal heir took no action for forty-five years, and that she submitted her application to the revenue authorities only after the creation of the third party interest in the subject land---Plaintiffs, having stood by idly allowed third party interest to be created in the subject land, and could then not complain and claim the said land---Petitions for leave to appeal were converted into appeals and allowed, and consequently, the suit filed by the legal heir was dismissed.

PLD 2021 Balochistan 172

بلوچستان ہائی کورٹ کا وراثت میں خواتین کے حق سے متعلق تاریخی فیصلہ: ’اگر جائیداد خواتین شیئر ہولڈرز کا نام نکال کر منتقل کی تو یہ عمل کالعدم ہو گا‘

بلوچستان کی ہائی کورٹ نے وراثت میں خواتین کے حق سے متعلق فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ وراثت پہلے تمام شیئر ہولڈرز بشمول خواتین کے نام منتقل کی جائے اور پھر اس کے بعد اس کے انتقال کی کارروائی کی جائے گی۔

عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ’اگر کوئی بھی جائیداد خواتین شیئر ہولڈرز کا نام چھپا کر یا نکال کر منتقل کی گئی تو انتقال کا سارا عمل کالعدم ہو جائے گا اور سول عدالت سے رجوع کیے بغیر یہ سارا عمل پلٹا دیا جائے۔‘

بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس کامران ملا خیل پر مشتمل بینچ نے کہا ہے کہ ’خواتین کے حقوق کا تحفظ قرآن مجید میں کیا گیا ہے جس سے انکار کسی صورت نہیں کیا جاسکتا لہذا خواتین اپنے متوفی کی میراث میں حقدار ہیں۔‘

عدالت نے یہ حکم بلوچستان کے سینیئر وکیل اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما ساجد ترین ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر صادر کیا۔

اس درخواست میں یہ کہا گیا تھا کہ وراثت میں خواتین کو ان کے حق سے محروم کیا جاتا ہے۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ سرکاری مدعا علیہان کو یہ حکم جاری کیا جائے کہ مووایبل اور ام مووایبل جائیداد میں خواتین کے حصے کو یقینی بنائیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ’فیصلے کی طرف جانے سے پہلے یہ بات ہمیں نوٹ کر لینی چاہیے کہ ہم اکیسویں صدی کا حصہ اور تعلیم یافتہ ہونے کا دعوی کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی خواتین شیئر ہولڈرز کو ان کے حق وراثت سے محروم رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔‘

عدالت نے کہا کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ہر فرد کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے اس عمل کی حوصلہ شکنی کریں اور اسے روکیں۔‘

عدالت کا کہنا تھا کہ ’کسی بھی خاتون حصہ دار کو اس کے حق سے دستبرداری نامہ، تحفے، دلہن کا تحفہ، نگہداشت الاؤنس، جبر یا کسی بھی ذریعے سے اس کے متوفی وارث کی جائیداد سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔‘

عدالت نے قرار دیا کہ اگر ان وجوہات یا کسی بھی طرح خاتون وارث کو وراثت سے محروم کیا گیا تو اس کے انتقال کا سارا عمل کالعدم ہو جائے گا۔‘

عدالت نے حکم دیا کہ بلوچستان بھر میں کہیں بھی سیٹلمنٹ کا عمل اس وقت تک نہیں کیا جائے گا جب تک یہ یقینی نہ بنایا جائے کہ خاتون وارثوں کے نام اس میں شامل کر لیے گئے ہیں۔ عدالتی فیصلے کے مطابق اگر کسی خاندان میں کوئی خاتون نہیں ہے تو ریونیو حکام متعلقہ تفصیلات میں خاص طور پر اس کا ذکر کریں گے۔

بلوچستان ہائی کورٹ کے بینچ نے کہا کہ سیکریٹری یا سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو اس ضمن میں یہ بات نہ صرف یقینی بنائیں گے بلکہ اپنے ماتحت ریونیو یا سیٹلمنٹ اہل کاروں کو بھی اس کی ہدایت کریں گے کہ کسی بھی علاقے میں سیٹلمنٹ آپریشن شروع کرنے سے قبل مطلوبہ علاقے کی مقامی زبان اور اردو میں کتابچے تقسیم کیے جائیں۔

عدالت نے کہا کہ یہ کتابچے اور ہینڈ بلزگرلز سکولوں، کالجز، ہسپتالوں میں لیڈی کانسٹیبل، لیڈی ٹیچر یا متعلقہ بنیادی صحت مرکز ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی نرس یا میڈ وائف کے ذریعے تقسیم کرائے جائیں۔

عدالت کا کہنا ہے کہ سیٹلمنٹ والے علاقوں کے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو پابند بنایا جائے کہ وہ ان علاقوں کی نہ صرف مساجد اور مدارس میں لاؤڈ اسپیکرز کے ذریعے اعلان کروائیں بلکہ سیٹلمنٹ آپریشن والے مقررہ علاقوں کی حدود میں نقاروں کے ذریعے علاقے میں بھی اعلانات کروائیں۔

عدالت نے ڈی جی نادرا کو حکم دیا کہ وہ متعلقہ ضلع و تحصیل کے ریونیو آفس میں رجوع کرنے یا درخواست دینے والوں کے لیے خصوصی ڈیسک قائم کریں جو اس متوفی مورث کا شجرہ نسب فراہم کرے گا جس کی جائیداد تقسیم ہونی ہے، یا پھر سیٹلمنٹ آپریشن کے دوران مرحوم اور اس کی جائیداد میں تمام قانونی وارثین چاہے مرد ہوں یا خواتین، ان کے ناموں کی شمولیت یقینی بنائی جائے گی۔

ڈی جی نادرا کو یہ بھی حکم دیا گیا کہ وہ رجسٹریشن ٹریک سسٹم (RTS) کے ذریعے قانونی وارث خاتون کی شادی کے بعد اس کے شوہر کے شجرہ نسب میں نام کی شمولیت یقینی بنائے اور خواتین کو ان کے قانونی حق سے کسی بھی طرح محروم رکھنے سے بچانے کے لیے والد کی طرف سے بھی شجرہ نسب معلوم کرے۔

عدالت نے سیکرٹری اور ممبر بورڈ آف ریونیوکو حکم دیا کہ وہ ریونیو آفس میں خصوصی ڈیسک کے قیام تک شجرہ نسب کی فراہمی میں غیر ضروری تاخیر سے بچنے کے لیے ڈی جی نادرا کے مکمل میکنزم کی تشکیل کے لیے اجلاس بلوائیں اور میکنیزم کی تشکیل تک اس فیصلے پر عملدرآمد کے لیے عبوری طریقہ کار وضع کریں۔

عدالت کی جانب سے سکریٹری اور ممبر بورڈ آف ریونیو کو مزید حکم دیا گیا کہ وہ ایک شکایت سیل ایڈیشنل سیکرٹری رینک کے افسر کی نگرانی میں ریونیو آفس میں قائم کریں گے تاکہ سیٹلمنٹ آپریشن و وراثت کے عمل میں غیر ضروری تاخیر سے بچا جا سکے اور اس کے ذریعے غیر قانونی مراعت کے امکان کو بھی رد کیا جا سکے۔

عدالت نے بورڈ آف ریونیو اور اس کے ماتحت عملے کو سختی سے حکم دیا کہ قانونی وارث کو محروم رکھنے کی شکایت موصول ہوئی تو ایسے غلط کام کرنے والوں کے خلاف تعزایرت پاکستان کے 498A کے تحت کیس درج کر کے قانونی کارروائی شروع کی جائے۔

فیصلے میں سول عدالتوں کو بھی ہدایت کی گئی کہ وراثت سے متعلق دائر مقدمات جو کہ زیرالتوا ہیں ان کا فیصلہ اس حکم کے موصول ہونے کے تین ماہ کے اندر اندر کر دیا جائے یا پھر التوا کیسز کے لیے یہ مدت چھ ماہ سے زائد نہیں ہونی چاہیے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اگر کوئی نیا مقدمہ قائم ہوتا ہے تو اسے بطور وراثت کا مقدمہ/اپیل/ رویژن/ پٹیشن درج کیا جائے اور اس کا فیصلہ تین ماہ میں بغیر مزید وقت دیے کر دیا جائے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق اسی طرح ایپلٹ کورٹ اور ری ویژن کورٹ میں زیر التوا تمام درخواستوں کو ترجیحاً ایک ماہ میں نمٹا دیا جائے لیکن تاخیر کی صورت میں درخواست کو دو ماہ سے زیادہ التوا میں نہ رکھا جائے۔ عدالت عالیہ کی انسپکشن ٹیم کا ممبر ان احکامات پر من و عن عمل درآمد کے لیے سرکلر جاری کریں۔

⚖️

12/01/2026

DRAFT / SPECIMEN / FORMAT:
(Petition for Early Hearing)

IN THE COURT OF SESSION JUDGE LAHORE.

ABC
... Petitioner

Versus

1.XYZ
2.YZX
... Defendants



Petition for Early Hearing ( day to day ) in the case titled State Versus XYZ and next date of hearing is fixed for _______ before the respondent No 1.



May it please your honour,

1. That the petitioner is a law abiding citizen of Pakistan and has very good antecedent in his credit .

2. That on _______ at about _______ am the petitioner son namely __________ was going to school on his bike , and when he reached near ____________ ,at once one water tank drived over the respondent No 2 crushed the son of the petitioner and after that accident , the respondent No 2 ran away form the spot.

3. That the son of the petitioner died at the spot and rescue 1122 took the body of the deceased to the hospital , and after postmortem that body handed over the petitioner .

4. That on the application of the petitioner a case under section 322 pp.c , police station johar town case No_____ got register against the respondent No 2 .

5. That after that the respondent No 2 was arrested by the police and now his case is pending in the court of respondent No1 since _______ and the respondent No 2 is using delaying factices and the evidence of the petitioner has been recorded , but the respondent No 2 who is the accused of the case creating hindrance and also threatening towards the complainant as well as the rest of the witnesses, in this way the respondent No 2 misusing the concession of bail .

6. That the nature of the case is a serious but the honourable court respondent No 1 is adjourning the case without any useful task , while the dates of the case are not less then one month , and the petitioner is loosing the hope of justice.

7. That the case is old and about two years has been completed , but there is no progress in the case .

8. That if the trial of the case will not be commenced in short time the petitioner will be suffer an irritable loss and injury . hence this application .

Under these circumstances it is most humbly prayed to this honourable court may kindly be pass an order for the early commencement of trial in the above titled case for the interest of justice, either day to day or prescribed a time within one month.

Petitioner



Through : -

Counsel

Advocate

03/01/2026

" اچھا وکیل وہ ہوتا ہے جو یہ جانتا ہو کہ قانون کہاں سے تلاش کرنا ہے۔"

"Good lawyer is one who knows where to find the law"
(By Lord Alfred Thompson Denning)

15/10/2025

بچے کے والد کے خلاف منظور شدہ کفالت کا حکم دادا کے خلاف نافذ نہیں کیا جا سکتا اور بچے کو اپنے دادا کے خلاف کفالت کے لیے مقدمہ دائر کرنا ہوگا اگر اس کے والد کی کوئی جائیداد ڈگری کے اجراء کے لیے نہیں پائی جاتی ہے

Decree for maintenance passed against the father of a child cannot be executed against the grandfather, and the child has to institute a suit for maintenance against his grandfather, in case no property of his father, the judgment debtor, is found for the ex*****on of the decree.

PLD 2024 SC 67

08/10/2025

Legal Maxims in Urdu with Explanation & Examples:

1. Ignorantia juris non excusat

قانون کی لاعلمی عذر نہیں۔
مطلب: کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ اسے قانون کا پتہ نہیں تھا۔
مثال: اگر کوئی سگریٹ پینے پر پابندی والے علاقے میں سگریٹ پیے اور کہے کہ "مجھے قانون کا پتہ نہیں تھا"، تو یہ عذر قابل قبول نہیں۔

---

2. Audi alteram partem

فریق مخالف کو سنے بغیر فیصلہ نہ دیا جائے۔
مطلب: انصاف کا تقاضا ہے کہ دونوں طرف کو سننے کے بعد فیصلہ ہو۔
مثال: اگر کسی ملازم کو برطرف کیا جانا ہے تو اسے وضاحت کا موقع دینا ضروری ہے۔

---

3. Nemo judex in causa sua

کوئی شخص اپنے ہی کیس کا جج نہیں۔
مطلب: انصاف غیر جانبداری سے ہونا چاہیے۔
مثال: اگر کسی جج کا بیٹا کسی مقدمے میں فریق ہو تو وہ جج اس مقدمے کی سماعت نہیں کر سکتا۔

---

4. Fiat justitia ruat caelum

انصاف ہونا چاہیے چاہے آسمان ہی کیوں نہ گر پڑے۔
مطلب: انصاف ہر حال میں ہونا چاہیے، چاہے حالات مشکل ہوں۔
مثال: طاقتور شخص کے خلاف بھی قانون حرکت میں آئے گا۔

---

5. Ubi jus ibi remedium

جہاں حق ہے وہاں چارہ جوئی ہے۔
مطلب: ہر حق کے ساتھ اس کے تحفظ کا قانونی راستہ ہوتا ہے۔ مثال: اگر کسی کی جائیداد پر قبضہ ہو جائے تو وہ عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔

---

6. Actus reus non facit reum nisi mens sit rea

جرم تبھی ہے جب نیت بھی مجرمانہ ہو۔
مطلب: صرف عمل کافی نہیں، نیت بھی دیکھنا ضروری ہے۔ مثال: غلطی سے کسی کو دھکا لگنا جرم نہیں، مگر جان بوجھ کر مارنا جرم ہے۔

---

7. Res ipsa loquitur

چیز خود بولتی ہے۔
مطلب: حالات خود بخود غفلت ظاہر کرتے ہیں۔
مثال: سرجری کے بعد مریض کے جسم میں کینچی رہ جانا ڈاکٹر کی غفلت ظاہر کرتا ہے۔

---

8. Nemo debet bis vexari pro eadem causa

کسی کو ایک ہی معاملے میں دو بار پریشان نہیں کیا جا سکتا۔
مطلب: ڈبل سزا یا ڈبل ٹرائل نہیں ہوگا۔
مثال: اگر کسی کو چوری کے الزام میں بری کر دیا گیا تو اسی الزام پر دوبارہ مقدمہ نہیں ہو سکتا۔

---

9. Caveat emptor

خریدار خبردار رہے۔
مطلب: خریدار کو خریداری سے پہلے جانچ کرنی چاہیے۔
مثال: اگر آپ بغیر دیکھے پرانی گاڑی خریدیں تو بعد میں خرابی پر بیچنے والا ذمہ دار نہیں ہوگا۔

---

10. Lex posterior derogat priori

بعد کا قانون پہلے کو ختم کر دیتا ہے۔
مثال: اگر 2020 کا قانون اور 2023 کا قانون آپس میں متصادم ہوں تو نیا قانون لاگو ہوگا۔

---

11. Injuria sine damno

قانونی نقصان بغیر مالی نقصان۔
مثال: کسی کو ووٹ ڈالنے سے روکنا، چاہے مالی نقصان نہ ہو۔

---

12. Damnum sine injuria

مالی نقصان بغیر قانونی نقصان۔
مثال: کوئی نئی دکان کھلنے سے پرانی دکان کا بزنس کم ہو جائے، تو پرانی دکان والے کا قانونی حق نہیں بنتا۔

---

13. Volenti non fit injuria

جو راضی ہو اسے نقصان نہیں۔
مثال: کرکٹ کھیلتے وقت گیند لگ جائے تو کھلاڑی مقدمہ نہیں کر سکتا۔

---

14. Actio personalis moritur cm persona

ذاتی دعویٰ مرنے والے کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے۔
مثال: ہتک عزت کا دعویٰ مدعی کی موت کے بعد جاری نہیں رہ سکتا۔

---

15. Delegatus non potest delegare

نمائندہ مزید نمائندہ نہیں بنا سکتا۔
مثال: اگر وزیر کو اختیار دیا جائے تو وہ کسی اور کو منتقل نہیں کر سکتا۔

---

16. Ex turpi causa non oritur actio

غیر اخلاقی بنیاد پر کوئی دعویٰ نہیں بنتا۔
مثال: جوا کھیلنے کا معاہدہ عدالت میں نافذ نہیں ہوگا۔

---

17. Salus populi suprema lex

عوام کی بھلائی سب سے بڑا قانون ہے۔
مثال: وبا کے دوران لاک ڈاؤن لگانا۔

---

18. Lex non cogit ad impossibilia

قانون ناممکن پر مجبور نہیں کرتا۔
مثال: اگر زلزلے سے دستاویزات جل جائیں تو پیش نہ کرنے پر سزا نہیں ہوگی۔

---

19. Ut res magis valeat quam pereat

چیز کو بچانے کی کوشش قانون کا مقصد ہے۔
مثال: معاہدے میں چھوٹی غلطیوں کے باوجود اسے مؤثر مانا جاتا ہے۔

---

20. Lex specialis derogat legi generali

خاص قانون عام قانون پر غالب ہے۔
مثال: فیملی لا، سول پروسیجر پر فوقیت رکھے گا۔

---

21. Qui facit per alium facit per se

جو دوسرے سے کرائے وہ گویا خود کرتا ہے۔
مثال: آجر (Employer) ملازم کے عمل کا ذمہ دار ہے۔

---

22. Consensus ad idem

ایک بات پر باہمی رضامندی۔
مثال: خریدار اور بیچنے والا ایک ہی چیز پر متفق ہوں۔

---

23. Falsus in uno, falsus in omnibus

ایک بات میں جھوٹا تو سب میں جھوٹا۔
مثال: گواہ اگر ایک بات میں جھوٹ بولے تو اس کی پوری گواہی مشکوک ہو جاتی ہے۔

---

24. Lex loci contractus

معاہدے کی جگہ کا قانون۔
مثال: دبئی میں معاہدہ ہو تو دبئی کا قانون لاگو ہوگا۔

---

25. Lex fori

عدالت کا اپنا قانون۔
مثال: پاکستان کی عدالت میں پاکستان کا طریقہ کار ہوگا۔

---

26. Lex loci delicti commissi

جرم کی جگہ کا قانون۔
مثال: سعودی عرب میں جرم ہو تو سعودی قانون لاگو ہوگا۔

---

27. Bona fide

نیک نیتی سے۔
مثال: کوئی شخص ایمانداری سے کام کرے۔

---

28. Mala fide

بدنیتی سے۔
مثال: کوئی افسر ذاتی دشمنی میں کسی کو سزا دے۔

---

29. Ratio decidendi

فیصلے کی اصل وجہ۔
مثال: عدالت نے گواہی کے ناقابل اعتماد ہونے کی بنیاد پر فیصلہ دیا۔

---

30. Obiter dictum

جج کی ضمنی رائے۔
مثال: جج کا ایسا تبصرہ جو فیصلہ کا حصہ نہ ہو۔

---

31. Consensus facit legem

رضامندی قانون بناتی ہے۔
مثال: نکاح میں میاں بیوی کی رضامندی۔

---

32. Acta exteriora indicant interiora secreta

ظاہری عمل نیت کو ظاہر کرتا ہے۔
مثال: چوری کرتے وقت دروازہ توڑنا نیت ظاہر کرتا ہے۔

---

33. Dur lex sed lex

قانون سخت ہے مگر قانون ہے۔
مثال: ٹیکس لازمی دینا پڑے گا۔

---

34. Nullum crimen sine lege

قانون کے بغیر جرم نہیں۔
مثال: جس کام پر قانون نہ ہو، اسے جرم نہیں کہا جا سکتا۔

---

35. Nulla poena sine lege

قانون کے بغیر سزا نہیں۔
مثال: عدالت خود سزا ایجاد نہیں کر سکتی۔

---

36. Qui prior est tempore potior est jure

جو وقت میں پہلے ہے، قانون میں مضبوط ہے۔
مثال: پہلے رجسٹری کرانے والا مالک مضبوط حق رکھتا ہے۔

---

37. Nemo dat quod non habet

جو چیز اس کے پاس نہیں وہ نہیں دے سکتا۔
مثال: چوری شدہ گاڑی بیچنے والا اصل مالک نہیں۔

---

38. Pacta sunt servanda

معاہدے پورے کرنا لازم ہیں۔
مثال: کرایہ داری کا معاہدہ پورا کرنا ہوگا۔

---

39. Expressio unius est exclusio alterius

ایک کا ذکر دوسروں کو خارج کرتا ہے۔
مثال: اگر قانون میں "بیٹے" لکھا ہو تو بیٹیاں شامل نہیں۔

---

40. In pari delicto potior est conditio possidentis

برابر قصور میں قابض کو ترجیح۔
مثال: ناجائز قبضے میں دونوں برابر ہوں تو موجودہ قابض کو برتری ملے گی۔

---

41. Qui tam pro domino rege quam pro se ipso in hac parte sequitur

جو بادشاہ اور اپنے لیے ایک ساتھ دعویٰ کرے۔
مثال: عوامی مفاد میں بھی ذاتی مفاد شامل ہو سکتا ہے۔

---

42. Lex prospicit non respicit

قانون آگے دیکھتا ہے، پیچھے نہیں۔
مثال: نیا قانون پرانے واقعات پر لاگو نہیں ہوتا۔

---

43. De minimis non curat lex

قانون چھوٹی باتوں کی پرواہ نہیں کرتا۔
مثال: ایک روپے کا نقصان عدالت میں دعویٰ نہیں۔

---

44. Cessante ratione legis cessat ipsa lex

قانون کی وجہ ختم ہو تو قانون ختم۔
مثال: پرانے حالات کے لیے بنایا گیا قانون نئے حالات میں نہیں۔

---

45. Ignorantia facti excusat

حقیقت کی لاعلمی معافی ہے۔
مثال: کوئی شخص زہر سمجھ کر دوا نہ دے تو معافی ہے۔

---

46. Inter arma silent leges

جنگ میں قانون خاموش ہو جاتا ہے۔
مثال: ہنگامی صورتحال میں عام قوانین معطل ہو سکتے ہیں۔

---

47. Necessitas non habet legem

ضرورت کا کوئی قانون نہیں۔
مثال: آگ بجھانے کے لیے کسی کا مکان توڑ دینا۔

---

48. Nemo est supra leges

کوئی قانون سے بالاتر نہیں۔
مثال: صدر یا وزیراعظم بھی قانون کے تابع ہیں۔

---

49. Jus cogens

ناقابل تنسیخ اصول۔
مثال: غلامی یا نسل کشی عالمی سطح پر ممنوع ہے۔

---

50. Stare decisis et non quieta movere

فیصلوں پر قائم رہو اور طے شدہ بات کو نہ چھیڑو۔
مثال: عدالت اپنے پرانے فیصلوں کو بدلنے میں جلدی نہیں کرے گی۔

COPIED

⚖️

Address

District Bar Association
Rawalpindi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Law Point. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Law Point.:

Share