28/08/2026
زمین کی اصل ملکیت اور فراڈ کا فیصلہ ریونیو افسر نہیں، سول کورٹ کرے گی — سپریم کورٹ کا اہم قانونی اصول!
سپریم کورٹ نے زمین کے تنازعات میں ریونیو اتھارٹی اور سول کورٹ کے دائرۂ اختیار کی اہم وضاحت کر دی
سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا کہ ریونیو حکام زمین کے ریکارڈ، انتقال اور ریونیو اندراجات سے متعلق کارروائی تو کرسکتے ہیں، لیکن کسی فریق کی اصل ملکیت، ٹائٹل یا فراڈ کے پیچیدہ اور حتمی تنازعے کا فیصلہ کرنا ان کے دائرۂ اختیار میں نہیں۔
اگر کسی انتقال، ریونیو ریکارڈ یا دستاویز کو فراڈ، جعل سازی، ملی بھگت یا غلط بیانی کی بنیاد پر چیلنج کیا جائے اور اس کے نتیجے میں فریقین کے ملکیتی حقوق یا ٹائٹل کا تعین ضروری ہو، تو ایسا تنازعہ سول کورٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
ریونیو اتھارٹی کا دائرۂ اختیار کہاں تک ہے؟
عدالت نے واضح کیا کہ ریونیو حکام کا بنیادی کام ریونیو ریکارڈ، انتقالات اور Record of Rights کو برقرار رکھنا اور ان سے متعلق قانونی کارروائی کرنا ہے۔
ریونیو افسر کا فیصلہ عمومی طور پر ریونیو ریکارڈ کی حد تک ہوتا ہے اور محض انتقال درج ہونے سے کسی شخص کے حقِ ملکیت کا حتمی اور ناقابلِ تنسیخ فیصلہ نہیں ہوجاتا۔
ملکیت اور ٹائٹل کا حتمی فیصلہ کس کا اختیار ہے؟
جہاں تنازعہ کا اصل سوال یہ ہو کہ:
▪️ اصل مالک کون ہے؟
▪️ کسی شخص کا ملکیت کا دعویٰ درست ہے یا نہیں؟
▪️ کوئی دستاویز یا انتقال فراڈ کے ذریعے حاصل کیا گیا؟
▪️ فریقین کے درمیان ملی بھگت یا غلط بیانی ہوئی؟
▪️ کسی رجسٹرڈ دستاویز کی قانونی حیثیت کیا ہے؟
تو ایسے سوالات کے حتمی تعین کے لیے شہادت، دستاویزات اور مکمل ٹرائل کی ضرورت ہوسکتی ہے، جو بنیادی طور پر سول کورٹ کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔
دفعہ 172 ویسٹ پاکستان لینڈ ریونیو ایکٹ — کیا سول کورٹ کا راستہ بند ہے؟
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ دفعہ 172 کو اس طرح نہیں پڑھا جاسکتا کہ ہر قسم کے زمین یا ملکیت کے تنازعے میں سول کورٹ کا اختیار ختم ہوجائے۔
سول کورٹ کا دائرۂ اختیار صرف ان معاملات میں محدود ہوگا جو قانون کے تحت واضح طور پر ریونیو اتھارٹیز کے exclusive jurisdiction میں آتے ہوں۔
لہٰذا اگر مقدمے کا بنیادی تنازعہ ملکیت، ٹائٹل یا فراڈ کے تعین سے متعلق ہو تو صرف یہ حقیقت کہ ریونیو ریکارڈ میں کوئی انتقال درج ہے یا ریونیو افسر نے کوئی فیصلہ دیا ہے، سول کورٹ کے اختیار کو ختم نہیں کرتی۔
ریونیو اندراج ملکیت کا حتمی ثبوت نہیں
یہ فیصلہ زمین کے مالکان کے لیے ایک اہم قانونی اصول واضح کرتا ہے کہ انتقال یا ریونیو ریکارڈ میں اندراج بذاتِ خود ملکیت کے حق کا حتمی فیصلہ نہیں سمجھا جاسکتا۔
اگر کوئی فریق یہ مؤقف اختیار کرے کہ ایسا اندراج فراڈ، غلط بیانی یا غیر قانونی طریقے سے حاصل کیا گیا ہے اور اس بنیاد پر ملکیتی حق متاثر ہورہا ہے، تو متعلقہ فریق سول کورٹ سے مناسب قانونی ریلیف حاصل کرسکتا ہے۔
سپریم کورٹ کا اہم پیغام
ریونیو افسر ریکارڈ درست کرسکتا ہے، لیکن جہاں اصل تنازعہ ملکیت، ٹائٹل یا فراڈ کا ہو وہاں حتمی فیصلہ سول کورٹ کرے گی۔
محض ریونیو اتھارٹی کے کسی سابقہ حکم کی موجودگی فریق کو سول کورٹ سے رجوع کرنے سے نہیں روک سکتی، خصوصاً جب تنازعہ بنیادی طور پر ملکیتی حقوق اور فراڈ کے تعین سے متعلق ہو۔