Tauqeer Awan, Advocate High Court

Tauqeer Awan, Advocate High Court Legal Services i.e Civil, Criminal , Banking, Service, FST, Corporate all kinds of legal matters

پنجاب میں جائیداد کی رجسٹری فیس میں 2 فیصد بڑی کمی: اب رجسٹری کروانا ہوا اور بھی آسان! (The Stamp Amendment Act 2026)عدا...
13/05/2026

پنجاب میں جائیداد کی رجسٹری فیس میں 2 فیصد بڑی کمی: اب رجسٹری کروانا ہوا اور بھی آسان! (The Stamp Amendment Act 2026)
عدالتی فیصلے/ایکٹ کا خلاصہ
حکومتِ پنجاب نے "دی اسٹیمپ (ترمیمی) ایکٹ 2026" کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت عوام کو بہت بڑا ریلیف دیا گیا ہے۔ اس نئے قانون کے ذریعے پراپرٹی کی منتقلی اور رجسٹری پر عائد اسٹیمپ ڈیوٹی کی شرح کو 3 فیصد سے کم کر کے صرف 1 فیصد کر دیا گیا ہے۔ یہ قانون فوری طور پر پورے صوبہ پنجاب میں نافذ العمل ہو چکا ہے جس سے جائیداد کی خرید و فروخت کی لاگت میں نمایاں کمی آئے گی۔
اہم قانونی نکات (Legal Findings)
اسٹیمپ ڈیوٹی میں کمی: شیڈول 1 کے مختلف آرٹیکلز (بشمول آرٹیکل 18، 23، 27-A، 33، 55 اور 63) میں ترمیم کر کے ڈیوٹی کی شرح 3% سے گھٹا کر 1% کر دی گئی ہے۔
ایسائن ایبل ڈیڈ (Assignable Deed): قانون میں "قابلِ انتقال دستاویز" کا نیا تصور شامل کیا گیا ہے، جس کے تحت کوئی بھی شخص جائیداد میں اپنے حقوق کسی دوسرے کے نام منتقل کر سکے گا۔
منتقلی کی فیس: اگر ایسائن ایبل ڈیڈ 12 ماہ کے اندر کی جائے گی تو ڈیوٹی 1% ہوگی، اور اگر 12 ماہ کے بعد کی جائے گی تو یہ 2% ہوگی۔
آرڈیننس کا خاتمہ: اس ایکٹ کے آنے سے "دی اسٹیمپ (ترمیمی) آرڈیننس 2026" کو منسوخ کر کے اسے مستقل قانون کی شکل دے دی گئی ہے۔

چونکہ یہ ایک قانون (Act) ، اس لیے عوامی حلقوں اور پراپرٹی ڈیلرز کی جانب سے طویل عرصے سے یہ مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ رجسٹری فیس زیادہ ہونے کی وجہ سے لوگ انتقالِ جائیداد سے کتراتے تھے، جس سے حکومت کے ریونیو میں کمی اور قانونی پیچیدگیوں میں اضافہ ہو رہا تھا۔
حکومتی موقف اور ایکٹ کی تفصیلات (Respondent/Government Side)
حکومت پنجاب نے اس ایکٹ کے ذریعے واضح کیا ہے کہ فیسوں میں کمی کا مقصد تعمیراتی شعبے کو فروغ دینا اور جائیداد کی منتقلی کے عمل کو شفاف بنانا ہے۔ اسٹیمپ ڈیوٹی کو 1 فیصد پر لانے سے فائلرز اور عام شہریوں کے لیے قانونی رجسٹری کروانا مالی طور پر ممکن ہو گیا ہے، جو کہ پہلے ایک بوجھ تصور کیا جاتا تھا۔

ہر قسم کی قانونی مشاورت فوجداری،دیوانی،مالیاتی اورفیملی مقدمات کےلیے مشاورت اور خدمات حاصل کرنے
کےلیےرابطہ نمبر
توقیر اعوان لاء ایسوسی ایٹ
0333 5315572

We provide all kind of legal councilling in Civil,Criminal,Land Revenue and Family cases
Contact us for legal councilling and services
Tauqeer Awan Law Associate
0333 5315572
https://www.facebook.com/profile.php?id=100063971625358

ٹیکس سسٹمز اپڈیٹنیا انکم ٹیکس ریٹرن فارم برائے سال 2026عزیزو!ایف۔بی۔آر نے رواں سال کے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کیلئے ای...
12/05/2026

ٹیکس سسٹمز اپڈیٹ
نیا انکم ٹیکس ریٹرن فارم برائے سال 2026

عزیزو!

ایف۔بی۔آر نے رواں سال کے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کیلئے ایس۔آر۔او 2026 (1) 835 کے تحت نیا ٹیکس فارم جاری کر دیا ہے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو سات دن کے اندر اپنے اعتراضات، تجاویز اور ردعمل جمع کرانے کی مہلت دی گئی ہے۔

اس فارم میں جو درج ذیل تبدیلیاں کی گئی ہیں ان کے تحت اب آپ کو اپنی ہر قسم کی مالی سرگرمیوں کی مکمل سمری بھی فراہم کرنی پڑے گی۔

1)۔
تنخواہ دار طبقے کو اپنے ایمپلائر کا نام، اس کا رجسٹریشن نمبر اور ٹیکس کٹوتی کی تفصیلات بھی فراہم کرنا ہوں گی۔

2)۔
پراپرٹی کا کرایہ پہلے سمپلی ایک اینٹری میں ڈال دیتے تھے لیکن اب الگ الگ ہر پراپرٹی کو مینشن کرکے بتانا پڑے گا کہ کس جگہ سے کتنا کرایہ آیا ہے اور اس کے ڈیڈکٹیبل اخراجات کیا ہیں۔

3)۔
ادر انکم میں بھی پہلے سب لوگ ایک سادہ سی اینٹری ڈال دیتے تھے اب اس کی بھی انسٹیٹیوشن وائز تفصیلات دینی ہوں گی۔

4)۔
اسی طرح زرعی انکم میں بھی ایک اینٹری ڈال دی جاتی تھی لیکن اب زرعی زمین کی تفصیلات بھی کھیت نمبر وغیرہ کیساتھ یعنی زمین کی لوکیشن بھی ساتھ میں فراہم کرنی پڑے گی۔

5)۔
ٹیکس ڈیڈکشنز کا بھی سارا نظام انٹیگریٹڈ ہے، آپ بتائیں گے فلاں نے پیسے کاٹے ہیں تو اس کا ہاں یا نہ کا ریفرینس خود بخود اپڈیٹ ہوجائے گا۔

6)۔
بزنس میں کتنی رقم پیمنٹ کی ہے یا وصول کی ہے اور اس پر دونوں طرف سے کتنا کتنا ٹیکس کاٹا گیا ہے یہ بھی بتانا پڑے گا۔

اس کا نقصان یہ ہوگا کہ اب ٹیکس ڈیڈکشن جہاں نہیں ہوئی ہوگی وہاں فوراً سیکشن 161 کے تحت سوال کھڑا ہوجائے گا جو کافی تکلیف دہ ہوسکتا ہے۔

یعنی جو بزنس ودہولڈنگ ایجنٹ بنتے ہیں ان سے یہ رقم وصول کر لی جائے گی۔

مثال کے طور پر بیشمار کمپنیاں ایسی ہیں جو ملازموں سے ٹیکس نہیں کاٹتیں، اب ایک ملازم بتاتا ہے کہ فلاں کمپنی سے میں لاکھ روپیہ مہینہ لیتا ہوں تو انٹیگریٹڈ سسٹم اب ٹیکس آفیسر کو خود بتائے گا کہ فلاں کمپنی کے دس ایمپلائیز نے بتایا ہے کہ وہ اتنی اتنی تنخواہ لیتے ہیں لیکن ایمپلائر نے کسی ایک کا بھی ٹیکس نہیں کاٹا۔

اب اس کیس میں جتنا ٹیکس ایمپلائر نے کاٹنا تھا اور نہیں کاٹا تو وہ اس ایمپلائر سے وصول کر لیا جائے گا۔

اس کے بعد ایمپلائر ملازموں سے کہے گا کہ پچھلے سال کا بل آگیا ہے مجھے لہذا یہ ٹیکس کٹواؤ اور ملازم کہیں گے صاحب ہم نے تو ریٹرن کیساتھ اپنی جیب سے ٹیکس جمع کرا دیا تھا اسلئے اب ہم آپ کو کیوں دیں لہذا وہ لائبلٹی ایمپلائر کے سر ہی پڑے گی۔

علی ہذا القیاس جو لوگ بزنس پیمنٹس پر بھی ڈیو ٹیکس نہیں کاٹتے ان کو بھی یہی پرابلم فیس کرنی پڑے گی۔

7)۔
ایک اچھی بات جو اس نئے فارم میں نظر آرہی ہے وہ یہ ہے کہ ریفنڈ کیلئے آپ کا ایک مین بینک اکاؤنٹ اس میں انٹیگریٹ ہو جائے گا اور ودہولڈنگ کے سارے ثبوت اپلوڈ ہو جانے کے بعد آپ کو آٹومیٹک طریقے سے ریفنڈ مل جایا کرے گا، اس کی منظوری کیلئے آئیندہ آپ کو ٹیکس آفس نہیں جانا پڑے گا۔

مجوزہ فارم کی قانونی حیثیت:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ فارم ابھی تجویز کیا گیا ہے اور اطلاع عام کیلئے سات دن کی قانونی مہلت کے بعد بزنس چیمبرز اور ٹیکس بارز سے حاصل ہونے والے ردعمل کے تحت تھوڑا بہت تبدیل بھی ہو سکتا ہے، پھر یہ بجٹ کیساتھ ہی منظور ہو کے نافذ العمل ہو جائے گا۔

احتیاط برائے سال 2026:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تنخواہ دار طبقہ جن کی تنخواہ ٹیکس ایبل ہے لیکن ایمپلائر ٹیکس نہیں کاٹتا وہ اپنا ریٹرن ایمپلائر کیساتھ مشورہ کرکے جمع کرائیں ورنہ جب اس کو نوٹس آئے گا تب وہ آپ سے ٹیکس مانگے گا اور آپ جیب سے ٹیکس ادا کر چکے ہوں گے۔

اس کا بہترین حل یہ ہے کہ آپ کا ایمپلائر جون میں آپ کا سال بھر کا ٹیکس جمع کرا دے، اس سے دونوں کی بچت ہو جائے گی، ممکن ہے لیٹ ٹیکس جمع کرانے پر اس کو پانچ چھ فیصد جرمانہ ہوجائے لیکن یہ اس سے بہتر ہے کہ لاکھوں روپے کا بل اس کو آجائے اور پھر وہ آپ سے کاٹنے بیٹھ جائے۔

گزشتہ سال میں نے ہر پارٹی کا ریٹرن ان کے بینک اکاؤنٹس کو بہت تفصیل کیساتھ سمرائز کرکے بنایا تھا تاکہ ان کو کوئی ٹکر نہ لگے، اس وجہ سے میرے کافی ریٹرن لیٹ ہوگئے تھے لیکن میں نے کوالٹی پر کمپرومائز نہیں کیا۔

اندریں حالات آپ کو بھی یہی کرنا چاہئے کہ اپنا ٹیکس ریٹرن کسی ایسے بندے سے جمع کرائیں جسے قانون اور مالیاتی امور پر یکساں عبور حاصل ہو تاکہ وہ بینک کو سمرائز کرکے نان بزنس ٹرانزیکشنز کو الگ کرے پھر انکم اسٹیٹمنٹ اور الاؤ۔ایبل اخراجات کو ڈیفائن کرکے آپ کا ریٹرن سیف زون میں لاکے فائنل کرے۔

گورنمنٹ نے اس سال تاریخ میں پہلی بار مئی میں فارم جاری کیا ہے ورنہ یہ مڈجولائی میں ہی آیا کرتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ گورنمنٹ ٹیکس فائلنگ کو پہلی جولائی سے شروع کرانا چاہتی ہے تاکہ کنسلٹینٹس کو نوے دن کا پورا فائلنگ ٹائم مل جائے۔

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس بار ٹیکس ریٹرن بنانے میں کنسلٹینٹ کا دو گنا ٹائم لگے گا جو ریوینیو بورڈ کو بھی نظر آرہا ہے لہذا ایک تو تیس جون کے فوراً بعد اپنا ڈیٹا کنسلٹینٹ کو لازمی فراہم کر دیں۔

ہر قسم کی قانونی مشاورت فوجداری،دیوانی،مالیاتی اورفیملی مقدمات کےلیے مشاورت اور خدمات حاصل کرنے
کےلیےرابطہ نمبر
توقیر اعوان لاء ایسوسی ایٹ
0333 5315572

We provide all kind of legal councilling in Civil,Criminal,Land Revenue, Tax and Family cases
Contact us for legal councilling and services
Tauqeer Awan Law Associate
0333 5315572
https://www.facebook.com/profile.php?id=100063971625358

دوسرا، کنسلٹینٹ اگر فیس میں اضافے کا تقاضا کرے تو اس کی یہ بات بھی ماننی چاہئے کیونکہ پروفیشنل کنسلٹینٹ کبھی بھی کوالٹی پر کمپرومائز نہیں کرتے لہذا اضافی وقت دینے کیلئے اضافی فیس بھی ان کو ملنی چاہئے۔

وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 7E کے خلاف دائر متعدد آئینی درخواستوں اور اپیلوں پر اہم فیص...
07/05/2026

وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 7E کے خلاف دائر متعدد آئینی درخواستوں اور اپیلوں پر اہم فیصلہ سنایا۔ یہ دفعہ فنانس ایکٹ 2022 کے ذریعے شامل کی گئی تھی، جس کے تحت غیر منقولہ جائیداد پر فرضی (Deemed) آمدن تصور کر کے ٹیکس عائد کیا جاتا تھا۔ مختلف ہائی کورٹس میں اس دفعہ کو چیلنج کیا گیا جہاں پشاور ہائی کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ نے اسے غیر آئینی قرار دیا، جبکہ سندھ ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ نے اس قانون کو برقرار رکھا۔ مختلف عدالتوں کے متضاد فیصلوں کے باعث معاملہ وفاقی آئینی عدالت کے سامنے آیا۔

عدالت نے تمام فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ دفعہ 7E آئینِ پاکستان سے متصادم ہے، اس لیے یہ قانون ابتدا ہی سے کالعدم (Void Ab Initio) تصور ہوگا۔ عدالت نے ٹیکس دہندگان کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے سندھ اور لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دیے، جبکہ ایف بی آر کی اپیلیں مسترد کر دیں۔ مزید یہ بھی قرار دیا گیا کہ دفعہ 7E کے تحت جاری کیے گئے تمام نوٹسز، کارروائیاں اور ریکوریز غیر قانونی ہیں اور ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ یہ فیصلہ ٹیکس قوانین کی تاریخ میں ایک اہم آئینی فیصلہ سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اس کے ذریعے جائیداد پر عائد “فرضی آمدن” کے تصور کو غیر آئینی قرار دے دیا گیا۔

زمینی تنازعات کا اب ہوگا فوری حل، وہ بھی آپ کی دہلیز پر! 📜⚖️بورڈ آف ریونیو پنجاب کا ایک اور انقلابی قدم۔ اب زمین کے جھگڑ...
05/05/2026

زمینی تنازعات کا اب ہوگا فوری حل، وہ بھی آپ کی دہلیز پر! 📜⚖️
بورڈ آف ریونیو پنجاب کا ایک اور انقلابی قدم۔ اب زمین کے جھگڑوں کے لیے کچہریوں کے چکر کاٹنے کی ضرورت نہیں۔ "مقامی ثالثی کمیٹی" کے ذریعے اپنے مسائل مقامی سطح پر حل کروائیں جہاں فیصلہ آپ کے اپنے نامزد کردہ نمائندوں کی موجودگی میں ہوگا۔
درخواست دینے کا طریقہ کار:
1️⃣ سادہ کاغذ پر درخواست تیار کریں۔
2️⃣ اسسٹنٹ کمشنر (AC) آفس میں جمع کروائیں۔
3️⃣ ڈائری نمبر حاصل کریں۔
4️⃣ اپنے نمائندے نامزد کریں اور انصاف پائیں۔
پنجاب حکومت کا یہ اقدام عوام کے وقت اور پیسے کی بچت کی جانب ایک بڑا سنگ میل ہے۔


ہر قسم کی قانونی مشاورت فوجداری،دیوانی،مالیاتی/ٹیکس، FST/PST, اورفیملی مقدمات کےلیے مشاورت اور خدمات حاصل کرنے
کےلیےرابطہ نمبر
توقیر اعوان لاء ایسوسی ایٹ
0333 5315572
We provide all kind of legal councilling in Civil,Criminal,Land Revenue,Tax, FST/PST and Family cases
Contact us for legal councilling and services
Tauqeer Awan Law Associate
0333 5315572
اگر آپ کو ہماری فراہم کردہ معلومات سے فائدہ ہو رہا ہے تو براہ کرم اس پیج کو لائک کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں ٹیگز بھی کریں
https://www.facebook.com/profile.php?id=100063971625358

مہر (Dower) کی ادائیگی: نکاح نامہ میں مہر درج ہونا محض ایک وعدہ یا ذمہ داری (liability) کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر مہر زمین یا...
05/05/2026

مہر (Dower) کی ادائیگی: نکاح نامہ میں مہر درج ہونا محض ایک وعدہ یا ذمہ داری (liability) کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر مہر زمین یا جائیداد کی صورت میں طے کیا گیا ہو تو اس کی ادائیگی صرف لکھ دینے سے مکمل نہیں ہوتی، بلکہ:
باقاعدہ رجسٹرڈ انتقال / سیل ڈیڈ / ہبہ کے ذریعے ملکیت منتقل کرنا ضروری ہوتا ہے
جب تک قانونی طور پر ملکیت بیوی کے نام منتقل نہ ہو، مہر ادا شدہ تصور نہیں ہوگا
نان نفقہ (Maintenance): اسلامی اور پاکستانی فیملی لا کے مطابق:
جب تک شوہر کی طرف سے طلاق قانونی طور پر ثابت اور مؤثر نہ ہو بیوی بدستور شوہر کے نکاح میں شمار ہوتی ہے
لہٰذا وہ نان نفقہ کی حقدار رہتی ہے
مختصر قانونی نکتہ:
مہر ایک قابلِ وصول حق (enforceable right) ہے، اور اس کی مکمل ادائیگی کے لیے محض اندراج نہیں بلکہ عملی و قانونی منتقلی ضروری ہے؛ جبکہ نکاح برقرار ہونے کی صورت میں بیوی کا نان نفقہ بھی برقرار رہتا ہے۔

ہر قسم کی قانونی مشاورت فوجداری،دیوانی،مالیاتی/ٹیکس، FST/PST, اورفیملی مقدمات کےلیے مشاورت اور خدمات حاصل کرنے
کےلیےرابطہ نمبر
توقیر اعوان لاء ایسوسی ایٹ
0333 5315572
We provide all kind of legal councilling in Civil,Criminal,Land Revenue,Tax, FST/PST and Family cases
Contact us for legal councilling and services
Tauqeer Awan Law Associate
0333 5315572
اگر آپ کو ہماری فراہم کردہ معلومات سے فائدہ ہو رہا ہے تو براہ کرم اس پیج کو لائک کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں ٹیگز بھی کریں
https://www.facebook.com/profile.php?id=100063971625358

اردو: اگر شوہر زبانی طلاق دے دے اور بیوی کی تین ماہ کی عدت بھی مکمل ہو جائے تو ایسی صورت میں طلاق شرعی طور پر مؤثر سمجھی...
04/05/2026

اردو: اگر شوہر زبانی طلاق دے دے اور بیوی کی تین ماہ کی عدت بھی مکمل ہو جائے تو ایسی صورت میں طلاق شرعی طور پر مؤثر سمجھی جاتی ہے، تاہم قانونی ریکارڈ کے لیے طلاق سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے، اس مقصد کے لیے بیوی یونین کونسل سے رجوع کر کے طلاق کے اندراج کا عمل مکمل کرواتی ہے جہاں نکاح نامہ، شناختی کارڈ اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر تصدیق کے بعد ڈائیورس سرٹیفکیٹ جاری کیا جا سکتا ہے، اور اس کے بعد نادرا کے ریکارڈ میں ازدواجی حیثیت کو اپڈیٹ کروا کر نیا شناختی کارڈ حاصل کیا جا سکتا ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی قانونی یا سرکاری معاملے میں آسانی رہے۔
If a husband pronounces verbal divorce and the wife completes the three-month waiting period (iddah), the divorce is considered effective in Islamic terms; however, for legal recognition, obtaining a divorce certificate is important, the wife can approach the Union Council to register the divorce where, based on documents like the Nikah Nama, CNIC, and available evidence, verification is conducted and an official divorce certificate may be issued, after which the marital status can be updated with NADRA and a revised identity card can be obtained to ensure smooth handling of future legal and official matters.

status update, iddah period law, nikah nama verification, family law Pakistan, legal divorce documentation

ہر قسم کی قانونی مشاورت فوجداری،دیوانی،مالیاتی/ٹیکس، FST/PST, اورفیملی مقدمات کےلیے مشاورت اور خدمات حاصل کرنے
کےلیےرابطہ نمبر
توقیر اعوان لاء ایسوسی ایٹ
0333 5315572
We provide all kind of legal councilling in Civil,Criminal,Land Revenue,Tax, FST/PST and Family cases
Contact us for legal councilling and services
Tauqeer Awan Law Associate
0333 5315572
اگر آپ کو ہماری فراہم کردہ معلومات سے فائدہ ہو رہا ہے تو براہ کرم اس پیج کو لائک کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں ٹیگز بھی کریں
https://www.facebook.com/profile.php?id=100063971625358

2023 PCrLJ 1623لاھور ہائیکورٹ نے پنجاب بھر میں پٹواریوں کے غیر سرکارین عمارتوں میں دفتر بنانے اور  پرائیویٹ شخص کو ملازم...
03/05/2026

2023 PCrLJ 1623
لاھور ہائیکورٹ نے پنجاب بھر میں پٹواریوں کے غیر سرکارین عمارتوں میں دفتر بنانے اور پرائیویٹ شخص کو ملازم (منشی ) رکھنے پر پابندی عائد کر دی۔ خلاف ورزی پر مقدمات کے اندراج اور گرفتاریاں ۔
لاھور ہایئکورٹ کی طرف سے حکم نامہ جاری کیا گیا ھے کہ پٹواریوں کو غیر سرکارین عمارتوں میں دفتر بنانے اور پرائیویٹ شخص کو ملازم (منشی ) رکھنے کی اجازت نہ ھے۔

ہر قسم کی قانونی مشاورت فوجداری،دیوانی،مالیاتی/ٹیکس، FST/PST, اورفیملی مقدمات کےلیے مشاورت اور خدمات حاصل کرنے
کےلیےرابطہ نمبر
توقیر اعوان لاء ایسوسی ایٹ
0333 5315572
We provide all kind of legal councilling in Civil,Criminal,Land Revenue,Tax, FST/PST and Family cases
Contact us for legal councilling and services
Tauqeer Awan Law Associate
0333 5315572
اگر آپ کو ہماری فراہم کردہ معلومات سے فائدہ ہو رہا ہے تو براہ کرم اس پیج کو لائک کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں ٹیگز بھی کریں
https://www.facebook.com/profile.php?id=100063971625358

سپریم کورٹ میں جسٹس عائشہ نے حلالے کو عورت کے وقار اور آزادی کیخلاف قرار دیا اور اسے عورت کی غلامی کی ایک شکل کہا، جس می...
28/04/2026

سپریم کورٹ میں جسٹس عائشہ نے حلالے کو عورت کے وقار اور آزادی کیخلاف قرار دیا اور اسے عورت کی غلامی کی ایک شکل کہا، جس میں عورت غلط طور ایک عمل میں حیلے کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔ انھوں نے فیصلے میں لکھا ، نیت طلاق سے کیا گیا، کوئی نکاح اسلام میں ، نکاح نہیں سمجھا جاتا۔ حلالہ قانونا ، شرعا اور اخلاقا کسی طور بھی جائز اور گوارا نہیں۔
یہ جسٹس عائشہ نے لکھا، اور درست لکھا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے اور کرانے والے پر لعنت فرمائی، اسے سانڈ کہا گیا۔ اصلا بات یہ ہے کہ ایسا عمل مسلمانوں میں ہونا بجائے خود شرمندگی ، بے حسی ، بے دینی اور بے ضمیری کی بات ہے۔ اصلا اسے ایک حیلے کے طور پر اختیار کیا گیا مگر کیا ہی برا حیلہ ہے یہ۔
اس کے پیچھے اصل محرک ہماری ایک اور خرابی میں چھپا ہے۔ وہ عمل جو ہم نے اپنے ڈراموں میں لکھ لکھ کر عورت کا بیڑا غرق کر دیا۔ یعنی طلاق کی گن سے عورت پر بہ یک وقت تین طلاقوں کی فائرنگ۔ ہمارے عوامی لٹریچر میں ہمیشہ یہی دکھایا جاتاہے کہ مرد مشتعل ہوکے بس طلاق طلاق طلاق کے الفاظ دہراتا چلا جاتا ہے اور اس کے بعد ہمیشہ کیلئے میاں بیوی ایک دوسرے پر حرام قرار پاتے ہیں۔ کوئی آپشن نہیں بچتی ، یہ رشتہ بچنے اور بچانے کی، کیونکہ ایک فقہی رائے کے مطابق ایک مجلس میں دی گئی زیادہ طلاقیں، متعدد شمار کر لی جاتی ہیں، حالانکہ اسلامی نظریاتی کونسل اور انڈین عدالت بھی اسے ایک شمار کرنے پر فیصلہ دے چکی ہیں۔
اس کے بعد حلالہ انڈسٹری کا وجود سامنے آتا ہے۔ مارکیٹ میں ایسے کاریگر اپنے کارڈز چھاپ کے بیٹھے ہیں، جو راز داری سے اور مکمل قوت سے حلالہ کرنے کیلئے دکانیں کھولے اور امیدیں بڑھائے بیٹھے ہیں۔ یہ مرد کی بے حمیتی اور عورت کی بے توقیری ہے۔
اس کا ایک غلط مظہر خود ہماری یونین کونسل میں موجود ہے۔ یونین کونسل میں طلاق کے پراسیس میں عمل یہ دہرایا جاتا ہے کہ آدمی کی طرف سے ہر ماہ ایک طلاق بیوی کو بھیجی جاتی ہے۔ جس سے تین ماہ کے اندر اندر مرد یا عورت کے نہ چاہتے ہوئے بھی معاملہ ان کے ہاتھ سے نکال کر حلالہ کرنے والے سانڈ کے ہاتھ میں پہنچا دیا جاتا ہے۔
طلاق دینا ایک دینی اور سماجی عمل ہے اور اگر اسے نبی رحمت کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اختیارکیا جائے تو کمال کی کیفیت سامنے آتی ہے۔
درست طریقہ یہ ہے کہ مرد اگر دیکھتا ہے کہ زندگی اب دونوں کے لئے اکٹھے گزارنا ممکن نظر نہیں آتا تو وہ صرف ایک طلاق عورت کو دے گا۔ اسے تڑ تڑ طلاق کی گولی سے تینوں فائر کرنے کی نہ ایک ہی مجلس میں ضرورت ہے اور نہ اس کے بعد۔ طلاق اس نے دے دی۔ عورت اب طلاق کی کیفیت میں اپنی عدت گزارے گی۔ اگر درمیان میں دوران عدت یہ رجوع کرنا چاہیں،سمجھیں کہ جذبات میں یا غلط فہمی میں غلطی ہوگئی تو بغیر دوبارہ نکاح کئے میاں بیوی کے طور پر دوبارہ سے رہنا شروع کر سکتے ہیں، اگر عدت کا وقت گزر چکا تو دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں، انھیں کسی حلالے یا حرامے کی ضرورت نہیں، تاہم طلاق کا یہ مرد ایک حق استعمال کر چکا ہے۔ دو اب بھی باقی ہیں۔ اگر یہ رجوع نہیں کرتے یا دوبارہ باہم نکاح نہیں کرتے تو یہ عورت آگے جس سے چاہے نکاح کر سکتی ہے۔ یہاں غلط طور پر ثالثی کونسل یا یونین کونسل مرد سے اسلام کا یہ حق چھین کر اپنے ہاتھ میں لے لیتی ہے اور ہر ماہ ایک طلاق بھیجتی رہتی ہے۔ جس کی بالکل ضرورت نہیں ،بلکہ یہ عین خرابی ہے۔ جس کے بعد میاں بیوی کے پاس باہم ملنے اور واپسی کا کوئی آپشن نہیں بچتا ، چنانچہ یہاں کارڈ والا مولوی اپنا حلالہ سنٹر اناؤنس کرنے آتا ہے۔ معاشرے میں طلاق کے درست طریقے اور شعور کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ سیدنا عمر فاروق نے دم آخر اپنے بیٹے عبداللہ بن عمر کا نام اس لسٹ سے خارج کروا دیا تھا، جنھیں خلافت کے لیے زیر غور لایا جانا تھا، ان کا کہنا تھا، اسے تو طلاق دینے کا درست طریقہ بھی نہیں آتا۔ تو طلاق دینے کا درست طریقہ آنا بھی چاہئے اور عام بھی کرنا چاہیے۔ صرف طریقہ ، طلاق نہیں کہ یہ محض مجبوری کا آپشن ہے، پسندیدہ چیزنہیں۔

ہر قسم کی قانونی مشاورت فوجداری،دیوانی،مالیاتی/ٹیکس، FST/PST, اورفیملی مقدمات کےلیے مشاورت اور خدمات حاصل کرنے
کےلیےرابطہ نمبر
توقیر اعوان لاء ایسوسی ایٹ
0333 5315572
We provide all kind of legal councilling in Civil,Criminal,Land Revenue,Tax, FST/PST and Family cases
Contact us for legal councilling and services
Tauqeer Awan Law Associate
0333 5315572
اگر آپ کو ہماری فراہم کردہ معلومات سے فائدہ ہو رہا ہے تو براہ کرم اس پیج کو لائک کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں ٹیگز بھی کریں
https://www.facebook.com/profile.php?id=100063971625358

2023 SCMR 246سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ بیوی ذہنی یا جسمانی ظلم کی بنیاد پر شوہر سے تنسیخ نکاح کا دعویٰ دائر کرنے کا ح...
27/04/2026

2023 SCMR 246

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ بیوی ذہنی یا جسمانی ظلم کی بنیاد پر شوہر سے تنسیخ نکاح کا دعویٰ دائر کرنے کا حق رکھتی ہے۔

ہر قسم کی قانونی مشاورت فوجداری،دیوانی،مالیاتی/ٹیکس، FST/PST, اورفیملی مقدمات کےلیے مشاورت اور خدمات حاصل کرنے
کےلیےرابطہ نمبر
توقیر اعوان لاء ایسوسی ایٹ
0333 5315572
We provide all kind of legal councilling in Civil,Criminal,Land Revenue,Tax, FST/PST and Family cases
Contact us for legal councilling and services
Tauqeer Awan Law Associate
0333 5315572
اگر آپ کو ہماری فراہم کردہ معلومات سے فائدہ ہو رہا ہے تو براہ کرم اس پیج کو لائک کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں ٹیگز بھی کریں
https://www.facebook.com/profile.php?id=100063971625358

کیا بچوں کی تحویل کے لیے ہائی کورٹ جانا اب مشکل ہو گیا ہے؟ سپریم کورٹ کا 2024 SCMR 486 میں بڑا فیصلہ!عدالتِ عظمیٰ کا حتم...
26/04/2026

کیا بچوں کی تحویل کے لیے ہائی کورٹ جانا اب مشکل ہو گیا ہے؟ سپریم کورٹ کا 2024 SCMR 486 میں بڑا فیصلہ!
عدالتِ عظمیٰ کا حتمی فیصلہ اور والدین کے لیے اہم ہدایات
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے اس حالیہ فیصلے میں یہ واضح کر دیا ہے کہ حبسِ بے جا یعنی (Habeas Corpus) کی رٹ کو بچوں کی تحویل کے لیے ایک معمول کی کارروائی کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ جب ایک والد یا والدہ کے خلاف بچے کی تحویل کے لیے رٹ دائر کی جاتی ہے، تو ہائی کورٹ کو انتہائی محتاط رہنا چاہیے۔ محض درخواست دائر ہونے پر بچہ برآمد کرنے کا حکم جاری کرنا قانونی تقاضوں کے منافی ہو سکتا ہے۔ عدالت نے زور دیا کہ رٹ جاری کرنے سے پہلے ہائی کورٹ کو خود کو اس بات پر مکمل مطمئن کرنا ہوگا کہ کیا بچہ واقعی کسی غیر قانونی قید میں ہے یا نہیں۔ اگر بچہ اپنے کسی ایک والدین کے پاس ہے، تو اسے "غیر قانونی تحویل" ثابت کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ عدالت نے یہ بھی طے کیا کہ ہائی کورٹ کو پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا سائل کے پاس 'گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ' کے تحت فیملی کورٹ سے رجوع کرنے کا متبادل اور موثر حل موجود ہے یا نہیں۔ اگر فیملی کورٹ سے رجوع کرنا ایک مناسب حل ہے، تو ہائی کورٹ کو رٹ جاری کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ یہ فیصلہ اس بات پر مہر ثبت کرتا ہے کہ بچے کی پیشی کا مقصد صرف اسے عدالت کے سامنے لانا ہے، لیکن مستقل تحویل کا فیصلہ صرف اور صرف بچے کے بہترین مفاد اور مصلحت کو دیکھ کر ہی کیا جائے گا۔ اس فیصلے نے ہائی کورٹس کے اختیارات کو قانونی ضابطوں کا پابند بنا دیا ہے تاکہ فیملی کورٹس کے دائرہ اختیار میں مداخلت کم سے کم ہو۔
کیس کا پس منظر: مسمات قرۃ العین بمقابلہ ایس ایچ او گجرات
یہ کیس ضلع گجرات کے تھانہ صدر جلالپور جٹاں کی حدود سے شروع ہوا جہاں مسمات قرۃ العین نے اپنے بچے کی تحویل کے لیے پولیس اور دیگر فریقین کے خلاف ہائی کورٹ میں آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت رٹ پٹیشن دائر کی۔ کیس کی بنیاد یہ تھی کہ بچے کو مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے چھین لیا گیا یا روک لیا گیا تھا۔ جب یہ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا تو عدالت نے والدین کے باہمی تلخ تعلقات سے ہٹ کر خالصتاً قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا۔ اس کیس میں بنیادی سوال یہ تھا کہ کیا ہائی کورٹ کو ہر صورت میں بچے کی تحویل کی درخواست منظور کر لینی چاہیے؟ یا کیا سائل کو پہلے گارڈین کورٹ (فیملی کورٹ) جانا چاہیے تھا؟ عدالت نے دیکھا کہ اکثر والدین قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے گارڈین کورٹ کے بجائے براہِ راست ہائی کورٹ کا رخ کرتے ہیں تاکہ فوری نتیجہ حاصل کر سکیں۔ اس کیس میں بھی فریقین کے درمیان تحویلِ نابالغ کا تنازع شدت اختیار کر چکا تھا۔ سپریم کورٹ نے اس کیس کو ایک مثال بناتے ہوئے یہ طے کیا کہ پولیس یا ہائی کورٹ کو فیملی تنازعات میں اس وقت تک نہیں پڑنا چاہیے جب تک کہ کوئی واضح غیر قانونی اقدام ثابت نہ ہو۔ یہ مقدمہ دراصل گارڈین کورٹس کی اہمیت اور ہائی کورٹ کے غیر معمولی اختیارات کے درست استعمال کے درمیان ایک لکیر کھینچتا ہے۔
اہم قانونی نکات اور عدالتی مشاہدات
رٹ کا مقصد: حبسِ بے جا کی رٹ کا مقصد صرف بچے کی عدالت میں جسمانی موجودگی یقینی بنانا ہے، یہ مستقل تحویل کا شارٹ کٹ نہیں ہے۔
غیر قانونی تحویل کی شرط: رٹ صرف اس وقت جاری ہو سکتی ہے جب عدالت مطمئن ہو کہ نابالغ کو کسی قانونی اتھارٹی کے بغیر قید رکھا گیا ہے۔
متبادل حل (Adequate Remedy): اگر 'گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ 1890' کے تحت کوئی دوسرا قانونی راستہ موجود ہے، تو ہائی کورٹ کو رٹ جاری نہیں کرنی چاہیے۔
بچے کا بہترین مفاد: کسی بھی فریق کو تحویل دینے سے پہلے یہ دیکھنا لازم ہے کہ اس میں بچے کی بہتری اور مصلحت کیا ہے۔
والدین کے خلاف رٹ: والدین کے خلاف رٹ جاری کرتے وقت عدالت کو عام کیسز سے زیادہ سخت معیار اپنانا ہوگا۔
عام عوام کے لیے اس فیصلے کی اہمیت
یہ فیصلہ ان تمام والدین کے لیے ایک سبق ہے جو اپنے بچوں کی تحویل کے لیے فوری طور پر ہائی کورٹ بھاگتے ہیں۔ اب آپ کو صرف یہ ثابت نہیں کرنا کہ بچہ آپ کا ہے، بلکہ یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ دوسرے فریق کے پاس بچے کا ہونا غیر قانونی کیوں ہے۔ اس فیصلے سے فیملی کورٹس کا نظام مضبوط ہوگا اور ہائی کورٹ پر کیسز کا بوجھ کم ہوگا۔ اب لوگوں کو سمجھنا ہوگا کہ بچوں کے مستقبل کے فیصلے جذباتی رٹ پٹیشنز کے بجائے باقاعدہ شہادتوں اور گارڈین کورٹ کی کارروائی سے ہوں گے۔
سابقہ قانونی نظائر کا حوالہ
مخالفانہ رجحان (Adverse View): ماضی میں کئی کیسز (جیسے 2018 SCMR 1991) میں ہائی کورٹس نے دفعہ 491 ضابطہ فوجداری کے تحت بچوں کی فوری تحویل کے آرڈرز جاری کیے تھے، جنہیں اب اس فیصلے کی روشنی میں انتہائی محدود کر دیا گیا ہے۔
حق میں حوالہ (In Favor): یہ فیصلہ 2024 SCMR 486 اب ایک بنیادی اتھارٹی بن چکا ہے جو کہتا ہے کہ ہائی کورٹ کو فیملی کورٹ کا متبادل نہیں بننا چاہیے، بلکہ صرف غیر معمولی حالات میں مداخلت کرنی چاہیے۔
قانونی تجزیہ اور میری رائے
میری نظر میں یہ فیصلہ عدالتی نظام میں توازن پیدا کرنے کی ایک بہترین کوشش ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ہائی کورٹ کی کارروائی میں بچے فٹ بال بن کر رہ جاتے ہیں۔ گارڈین عدالتیں تفصیل سے شہادتیں لیتی ہیں، اس لیے وہ بچے کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے زیادہ موزوں فورم ہیں۔ اس فیصلے نے قانون کے وقار کو بلند کیا ہے۔

کیا آپ کو لگتا ہے کہ بچوں کی تحویل کا فیصلہ صرف گارڈین کورٹ کو ہی کرنا چاہیے یا ہائی کورٹ کو مداخلت جاری رکھنی چاہیے؟ کمنٹس میں اپنی رائے دیں۔
عوام الناس کی آگاہی کے لیے 5 اہم سوالات:
کیا آپ جانتے ہیں کہ گارڈین کورٹ اور ہائی کورٹ کے اختیارات میں کیا فرق ہے؟
کیا پولیس زبردستی بچہ کسی ایک والد یا والدہ سے لے کر دوسرے کو دے سکتی ہے؟
کیا آپ کے خیال میں ہائی کورٹ کی فوری کارروائی بچے کے لیے ذہنی دباؤ کا باعث بنتی ہے؟
اس فیصلے کے بعد کیا اب والدین کو فیملی کورٹس پر زیادہ اعتماد کرنا چاہیے؟
کیا آپ نے کبھی کسی کو حبسِ بے جا کی رٹ کا غلط استعمال کرتے دیکھا ہے؟

توقیر محمود اعوان ایڈووکیٹ
ہائیکورٹ
توقیر اعوان لاء ایسوسی ایٹس
چیمبر نمبر 27، نذر زیارت گیٹ، راجہ عجائب بلاک، ڈسٹرکٹ کورٹس راولپنڈی۔

اگر آپ ہمارے پیج پر دی گئی معلومات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، تو براہِ کرم اسے اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور پیج کو لائک کریں۔
اور یہ سچ ہے کہ والدین کے اپس کے اختلاف کے نتیجے میں نہ بالغان کی پرورش متاثر ہوتی ہے اور بچے کا فیوچر متاثر ہوتا ہے اس لیے جہاں تک ہو سکے میاں بیوی کو اپس میں اختلافات کو بھول کر بچوں کی خاطر نبھا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے

ہر قسم کی قانونی مشاورت فوجداری،دیوانی،مالیاتی اورفیملی مقدمات کےلیے مشاورت اور خدمات حاصل کرنے
کےلیےرابطہ نمبر
توقیر اعوان لاء ایسوسی ایٹ
0333 5315572

We provide all kind of legal councilling in Civil,Criminal,Land Revenue and Family cases
Contact us for legal councilling and services
Tauqeer Awan Law Associate
0333 5315572
https://www.facebook.com/profile.php?id=100063971625358

فوجداری قوانین (CrPC) میں حالیہ ترامیم (2024-25) کے بعد، ایف آئی آر (FIR) کے اندراج کے لیے اب پولیس کی اجارہ داری کافی ح...
26/04/2026

فوجداری قوانین (CrPC) میں حالیہ ترامیم (2024-25) کے بعد، ایف آئی آر (FIR) کے اندراج کے لیے اب پولیس کی اجارہ داری کافی حد تک کم ہو گئی ہے اور علاقہ مجسٹریٹ کو پہلے سے زیادہ بااختیار بنایا گیا ہے۔
نیچے ان نئی قانونی تبدیلیوں اور مجسٹریٹ کے اختیارات کی تفصیل دی گئی ہے:
1. مجسٹریٹ کے اختیارات میں نئی تبدیلیاں (Power of Magistrate)
پہلے ایف آئی آر کے اندراج کے لیے شہریوں کو دفعہ 22-A/22-B کے تحت سیشن جج (جسٹس آف پیس) کے پاس جانا پڑتا تھا، جو کہ ایک طویل عمل تھا۔ اب نئی ترامیم کے تحت:
• براہِ راست مداخلت (Direct Intervention): مجسٹریٹ اب صرف ریمانڈ دینے والا جج نہیں رہا۔ اگر پولیس ایف آئی آر درج کرنے میں لیت و لعل سے کام لے، تو سائل سیکشن 156(3) اور سیکشن 190 کے تحت مجسٹریٹ کو درخواست دے سکتا ہے۔
• حکمِ اندراجِ مقدمہ: مجسٹریٹ کے پاس اب یہ واضح اختیار ہے کہ وہ پولیس کو حکم دے کہ فوری طور پر ایف آئی آر درج کر کے اس کی نقل عدالت میں پیش کی جائے۔
• پولیس کی جواب طلبی: اگر پولیس 24 گھنٹے کی ٹائم لائن کے اندر اندراج نہیں کرتی، تو مجسٹریٹ متعلقہ ایس ایچ او (SHO) کو طلب کر کے اس کے خلاف تادیبی کارروائی کے لیے اعلیٰ حکام کو لکھ سکتا ہے۔
2. نئے قانون کی اہم ترامیم (2024-25)
نئے سسٹم کا مقصد "انصاف آپ کی دہلیز پر" کے تصور کو حقیقت بنانا ہے۔ اہم نکات درج ذیل ہیں:
الف) ڈیجیٹل ایف آئی آر اور ٹائم لائن
• اب ہر درخواست کا کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔ اگر پولیس 24 گھنٹے کے اندر کوئی فیصلہ نہیں کرتی (یعنی پرچہ درج کرنا یا خارج کرنا)، تو سسٹم میں وہ درخواست خود بخود "Pending" ظاہر ہوتی ہے جس کا جواب ڈی پی او (DPO) کو دینا پڑتا ہے۔
ب) زیرو ایف آئی آر (Zero FIR)
• نئی ترمیم کے تحت کوئی بھی تھانہ یہ کہہ کر درخواست مسترد نہیں کر سکتا کہ "یہ علاقہ ہمارے پاس نہیں آتا"۔ انہیں پرچہ درج کرنا ہوگا (جسے زیرو ایف آئی آر کہتے ہیں) اور پھر اسے متعلقہ تھانے منتقل کرنا ہوگا۔
ج) پولیس افسر کے خلاف سزا (Section 166-A PPC)
• اگر کوئی پولیس افسر جان بوجھ کر ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کرے یا تاخیر کرے، تو اسے تعزیراتِ پاکستان کے تحت قید اور جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔ مجسٹریٹ اس کارروائی کا آغاز کروا سکتا ہے۔
3. ایف آئی آر درج کروانے کا نیا طریقہ کار (Step-by-Step)
اگر آپ کا مقدمہ درج نہیں ہو رہا، تو آپ ان مراحل سے گزر سکتے ہیں:
1. پہلا مرحلہ: تھانے میں تحریری درخواست دیں اور ڈائری نمبر (Tag Number) حاصل کریں۔ یا پنجاب پولیس کی ایپ/خدمت مرکز پر آن لائن اپلائی کریں۔
2. دوسرا مرحلہ: اگر 24 گھنٹے میں پرچہ درج نہ ہو، تو ایک درخواست ایس ڈی پی او (SDPO/DSP) یا ڈی پی او (DPO) کو دیں۔
3. تیسرا مرحلہ (عدالتی راستہ): اگر پولیس پھر بھی کارروائی نہ کرے، تو اپنے وکیل کے ذریعے علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں درخواست دیں۔ مجسٹریٹ ریکارڈ طلب کرے گا اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں پولیس کو پرچہ درج کرنے کا حکم جاری کرے گا۔

1. سیکشن 154 میں ترمیم (FIR کا ڈیجیٹل اور خودکار اندراج)
نئی ترمیم کے بعد اب ایف آئی آر (FIR) درج کرنے کا طریقہ کار صرف تھانیدار کی مرضی پر منحصر نہیں رہا:
• آن لائن اندراج: اب کوئی بھی شہری آن لائن پورٹل یا مخصوص ایپ کے ذریعے اطلاع دے سکتا ہے۔ اگر اطلاع قابلِ دست اندازی (Cognizable) جرم کی ہے، تو سسٹم اسے خودکار طریقے سے رجسٹر کرنے کا پابند ہے۔
• وقت کی پابندی: پولیس افسر اب ایف آئی آر درج کرنے میں غیر ضروری تاخیر نہیں کر سکتا۔ اگر وہ انکار کرے تو سسٹم میں اس کا اندراج "ڈیفالٹ" کے طور پر ظاہر ہوتا ہے جس کی جوابدہی اعلیٰ افسران کو کرنی پڑتی ہے۔
2. مجسٹریٹ کے اختیارات (سیکشن 190 اور 156 میں اضافہ)
2025 کی ترامیم میں مجسٹریٹ کو تھانے کے معاملات پر زیادہ کنٹرول دیا گیا ہے تاکہ 22-A اور 22-B کے بوجھ کو کم کیا جا سکے:
• براہِ راست حکمِ اندراج: اگر پولیس ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کرے، تو سائل براہِ راست متعلقہ علاقہ مجسٹریٹ کو درخواست دے سکتا ہے۔ مجسٹریٹ کو اب یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے اور اس کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے (پہلے یہ اختیار زیادہ تر سیشن جج کے پاس 22-A کے تحت تھا)۔
• مداخلت کا اختیار: مجسٹریٹ اب صرف ریمانڈ دینے تک محدود نہیں، بلکہ وہ تفتیش کے معیار اور ایف آئی آر کے اندراج میں ہونے والی تاخیر پر پولیس افسر کے خلاف تادیبی کارروائی کی سفارش بھی کر سکتا ہے۔
3. زیرو ایف آئی آر (Zero FIR) کا تصور
نئی ترمیم میں یہ قانونی تحفظ دیا گیا ہے کہ اگر کوئی جرم کسی دوسرے تھانے کی حدود میں ہوا ہے، تب بھی متعلقہ تھانہ اطلاع ملنے پر "زیرو ایف آئی آر" درج کرنے کا پابند ہے۔ بعد میں اسے متعلقہ تھانے منتقل کر دیا جائے گا، لیکن اندراج سے انکار جرم تصور ہوگا۔
خلاصہ: 2025 کی ترامیم کا مقصد
1. پولیس کی صوابدید کا خاتمہ: پولیس اب یہ نہیں کہہ سکتی کہ "پہلے انکوائری ہوگی پھر پرچہ ہوگا"۔ اگر جرم ہوا ہے تو پرچہ فوری درج کرنا لازمی ہے۔
2. مجسٹریٹ کی بااختیاری: عوام کو ہائی کورٹ یا سیشن کورٹ جانے کے بجائے مقامی مجسٹریٹ سے فوری ریلیف دلوانا۔
3. ٹیکنالوجی کا استعمال: انسانی مداخلت کم کر کے کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے ذریعے اندراج کو یقینی بنانا۔
قانونی نکتہ: یہ ترامیم فی الحال پنجاب کی سطح پر "پنجاب کرمنل لا (ترمیمی) آرڈیننس/ایکٹ" کے ذریعے نافذ العمل کی جا رہی ہیں تاکہ نظامِ انصاف کو نچلی سطح پر تیز کیا جا سکے۔

1. فوری اندراج (Instant Registration)
• قابلِ دست اندازی جرائم (Cognizable Offenses): اگر جرم کی اطلاع واضح ہے اور وہ سنگین نوعیت کا ہے (جیسے ڈکیتی، قتل، اغوا یا زیادتی)، تو پولیس فوری طور پر ایف آئی آر درج کرنے کی پابند ہے۔ اس میں کسی قسم کی "ابتدائی انکوائری" کی گنجائش نہیں چھوڑی گئی۔
2. 24 گھنٹے کی ڈیڈ لائن (The 24-Hour Rule)
• اگر اطلاع ملنے پر پولیس کو جرم کی نوعیت کے حوالے سے شک ہو یا معاملہ مالی لین دین (Civil nature) جیسا لگے، تو وہ ابتدائی تصدیق کر سکتی ہے، لیکن اس کے لیے بھی اب وقت مقرر ہے:
• زیادہ سے زیادہ وقت: اطلاع ملنے کے 24 گھنٹوں کے اندر اندر پولیس کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ پرچہ درج کرنا ہے یا اسے خارج کرنا ہے۔
• آن لائن درخواست: اگر درخواست "پنجاب پولیس ایپ" یا "خدمت مرکز" کے ذریعے دی گئی ہے، تو سسٹم خودکار طریقے سے وقت کا حساب رکھتا ہے (Time Stamping)۔
3. مجسٹریٹ کا حکم اور ٹائم لائن
• سیکشن 154 اور 156 کے تحت: اگر سائل مجسٹریٹ کے پاس جائے اور مجسٹریٹ ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دے (Direction for FIR)، تو پولیس کو عام طور پر 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر اندر کمپلائنس رپورٹ عدالت میں جمع کروانی ہوتی ہے۔
4. حساس جرائم کے لیے ترجیحی وقت
• خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم: ایسے مقدمات میں ٹائم لائنز مزید سخت ہیں۔ آئی جی پنجاب کی حالیہ ہدایات اور ترامیم کے مطابق، ایسے واقعات کی اطلاع ملتے ہی 1 سے 2 گھنٹوں کے اندر اندراج کو یقینی بنانے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ میڈیکل یا دیگر شواہد ضائع نہ ہوں۔
اگر پولیس ٹائم لائن کی خلاف ورزی کرے تو کیا ہوگا؟
نئی ترامیم کے تحت اگر تھانہ مقررہ وقت میں پرچہ درج نہیں کرتا تو:
1. ڈیجیٹل الرٹ: پولیس کا انٹرنل مانیٹرنگ سسٹم (Dashboard) متعلقہ ڈی پی او (DPO) کو الرٹ بھیج دیتا ہے کہ درخواست "Pendency" میں چلی گئی ہے۔
2. سیکشن 166-A (PPC): اگر پولیس افسر جان بوجھ کر قانونی حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایف آئی آر درج نہیں کرتا، تو اس کے خلاف مجرمانہ غفلت کی کارروائی ہو سکتی ہے جس میں قید اور جرمانہ شامل ہے۔
ہر قسم کی قانونی مشاورت فوجداری،دیوانی،مالیاتی اورفیملی مقدمات کےلیے مشاورت اور خدمات حاصل کرنے
کےلیےرابطہ نمبر
توقیر اعوان لاء ایسوسی ایٹ
0333 5315572

We provide all kind of legal councilling in Civil,Criminal,Land Revenue and Family cases
Contact us for legal councilling and services
Tauqeer Awan Law Associate
0333 5315572
https://www.facebook.com/profile.php?id=100063971625358

Address

Main Line
Rawalpindi
46000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923335315572

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tauqeer Awan, Advocate High Court posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Tauqeer Awan, Advocate High Court:

Share

Category