Malik Abdul Wahab Advocate

Directions

Malik Abdul Wahab Advocate We provide quality solutions accessible to all.

Our team is built on a foundation of trust, transparency, and results.We have successfully represented clients in high-stakes cases and complex legal matters, earning a reputation for sharp advocacy and ethical practice.We believe in clear communication. Helping individuals to get justice"Operating in all cities of Pakistan.Legal aids including ;
Civil,
Criminal,
family,
Taxation,
Partnership & company registration,
Intellectual rights,
Cantonment laws,
Service matters,
Consumer courts,
FIA and cyber crime,
Business securing techniques,
NGO & NPO registration etc.

استقرارِ حق کی ڈگری ملنے کے بعد ایگزیکیوشن کی ضرورت نہیں! لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہلاہور ہائیکورٹ نے ایک اہم فیصلے میں...
29/06/2026

استقرارِ حق کی ڈگری ملنے کے بعد ایگزیکیوشن کی ضرورت نہیں! لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ اگر سول کورٹ کسی شخص کے حق میں استقرارِ حق (Declaration) کی ڈگری جاری کر دے، جس میں اسے کسی جائیداد یا زمین کا قانونی مالک قرار دیا گیا ہو، تو اس ڈگری پر عملدرآمد کے لیے ہر صورت سول کورٹ میں Ex*****on Petition دائر کرنا ضروری نہیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ ایسی ڈگری کا مقصد صرف ملکیت کا قانونی تعین کرنا ہوتا ہے۔ اس کے بعد محکمہ مال کے متعلقہ افسران پر لازم ہے کہ وہ عدالتی فیصلے کی روشنی میں پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ، 1967 کے سیکشن 42 کے تحت ریکارڈِ حقوق میں ضروری تبدیلی کریں اور متعلقہ انتقال (Mutation) درج کریں۔

عدالت نے مزید واضح کیا کہ استقرارِ حق کی ڈگری رکھنے والا شخص عدالتی فیصلہ متعلقہ تحصیلدار یا دیگر ریونیو حکام کے سامنے پیش کرے، جس کے بعد ریونیو اتھارٹیز کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کے مطابق ریکارڈ درست کریں۔ ایسے معاملات میں غیر ضروری قانونی پیچیدگیاں پیدا کرنا یا عدالتی فیصلے پر عملدرآمد سے گریز کرنا قانون کے منافی ہے۔

اہم قانونی اصول: استقرارِ حق (Declaration) کی ڈگری عام طور پر Order XXI CPC کے تحت روایتی ایگزیکیوشن کی محتاج نہیں ہوتی۔ متعلقہ ریونیو حکام عدالتی فیصلے کی بنیاد پر ریکارڈ درست کرنے اور انتقال درج کرنے کے پابند ہوتے ہیں، بشرطیکہ ڈگری حتمی اور قابلِ عمل ہو۔
*****on

نجی زندگی کا تقدس، غیر قانونی پولیس چھاپے اور تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 371-A و 371-B PPC کے اطلاق کا دائرہ کار: پشاور ہ...
12/06/2026

نجی زندگی کا تقدس، غیر قانونی پولیس چھاپے اور تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 371-A و 371-B PPC کے اطلاق کا دائرہ کار: پشاور ہائی کورٹ کا ایک اہم فیصلہ

​مقدمے کے بنیادی مندرجات (Case Profile)

​مقدمے کے حقائق اور پولیس کا مؤقف
​پولیس کے مطابق، مانسہرہ کے علاقے ٹینکی موڑ پر ایک کرائے کے مکان میں مبینہ طور پر جسم فروشی (Prostitution) کی عوامی شکایت موصول ہونے پر مقامی پولیس نے چھاپہ مارا۔ چھاپے کے دوران ایک کمرے سے درخواست گزار نور محمد اور مسمات مدیحہ بی بی، جبکہ دوسرے کمرے سے مسمات عاصمہ بی بی اور ایک شخص سیف اللہ (جو موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا) مبینہ طور پر قابلِ اعتراض حالت میں پائے گئے۔

​عدالت کے اہم قانونی نکات اور مشاہدات (Legal Points & Findings)
​عدالتِ عالیہ نے درخواستِ ضمانت منظور کرتے ہوئے درج ذیل اہم قانونی اصول طے کیے:

​1۔ دفعات 371-A اور 371-B PPC کا دائرہ اختیار اور اطلاق
​عدالت نے واضح کیا کہ تعزیراتِ پاکستان کی یہ دفعات بنیادی طور پر انسانی اسمگلنگ، انسانوں کی خرید و فروخت، تجارتی مقاصد کے لیے خدمات حاصل کرنے یا جسم فروشی کے لیے تجارتی استحصال کو روکنے کے لیے بنائی گئی ہیں۔
​محض کسی نجی جگہ پر مرد اور عورت کا ایک ساتھ موجود ہونا یا غیر اخلاقی رویے کا الزام ہونا، خود بخود ان دفعات کے اطلاق کے لیے کافی نہیں ہے، جب تک کہ وہاں کسی انسان کی خرید و فروخت یا تجارتی بنیادوں پر جسم فروشی کا ثبوت موجود نہ ہو۔

​2۔ ایف آئی آر (FIR) میں شواہد کی کمی
​عدالت نے نوٹ کیا کہ ایف آئی آر میں ایسا کوئی الزام نہیں ہے کہ ملزمان انسانوں کی خرید و فروخت یا تجارتی بنیادوں پر جسم فروشی میں ملوث تھے۔
​چھاپے کے دوران نہ تو کوئی رقم برآمد ہوئی، نہ کوئی گاہک سودا بازی کرتے ہوئے پکڑا گیا اور نہ ہی منظم جسم فروشی یا اسمگلنگ کا کوئی مواد برآمد ہوا۔
​عدالت نے اس سلسلے میں سابقہ عدالتی نظائر (2024 P Cr. LJ 1972 اور 2021 P Cr. LJ 323) کا حوالہ دیا۔

​3۔ غیر قانونی پولیس چھاپہ اور آئینی حقوق کی خلاف ورزی
​عدالت نے پولیس کی کارروائی کے طریقے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ پولیس نے مجسٹریٹ سے تلاشی کا وارنٹ (Search Warrant) لیے بغیر اور علاقے کے معززین کو شامل کیے بغیر (جو کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 103 کی خلاف ورزی ہے) ایک نجی گھر پر چھاپہ مارا اور خواتین کو گرفتار کیا۔
​عدالت نے قرار دیا کہ یہ کارروائی آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 4 (قانون کے مطابق سلوک کا حق)، آرٹیکل 9 (انفرادی آزادی اور تحفظ) اور آرٹیکل 14 (انسان کا وقار اور گھر کی پرائیویسی) کے تحت شہریوں کو دی گئی آئینی ضمانتوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
​جاسوسی، گمنام شکایات یا محض شک کی بنیاد پر پولیس کو شہریوں کی عزت اور وقار پامال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی (حوالہ: 2019 YLRN 51 Karachi)۔

​4۔ زنا یا باہمی رضامندی کا معاملہ اور قانونی طریقہ کار
​عدالت نے واشگاف الفاظ میں رولنگ دی کہ اگر معاملہ باہمی رضامندی سے جنسی تعلقات یا زنا (Fornication) کا ہو، تو قانون کے مطابق پولیس براہِ راست ایف آئی آر درج نہیں کر سکتی۔
​ایسی صورت میں کارروائی صرف اور صرف ضابطہ فوجداری (Cr.P.C) کی دفعہ 203-C کے تحت (عدالت میں) استغاثہ/شکایت کے ذریعے ہی چلائی جا سکتی ہے، نہ کہ دفعہ 371-A یا 371-B کے تحت ایف آئی آر درج کر کے۔

​5۔ مزید انکوائری کا کیس (Further Inquiry)
​ان تمام قانونی خامیوں کے پیشِ نظر، عدالت نے قرار دیا کہ ملزمان کا کیس ضابطہ فوجداری کی دفعہ (2)497 Cr.P.C کے تحت "مزید انکوائری" (Further Inquiry) کے دائرے میں آتا ہے، یعنی ابھی یہ ٹرائل کورٹ میں ثابت ہونا باقی ہے کہ آیا انہوں نے کوئی جرم کیا بھی ہے یا نہیں۔

​عدالتی فیصلہ (The Order)
​ان تمام وجوہات کی بنا پر پشاور ہائی کورٹ نے دونوں ضمانت کی درخواستیں منظور کر لیں۔
​تمام ملزمان (نور محمد، مسمات عاصمہ بی بی، اور مسمات مدیحہ بی بی) کو بعد از گرفتاری (Post-Arrest) ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا گیا۔
​ملزمان کو ہدایت کی گئی کہ وہ 100,000 روپے (ایک لاکھ روپے) مالیت کے مچلکوں کے ساتھ دو ضامن ٹرائل کورٹ کی تسلی کے لیے جمع کرائیں۔
​

عدالت: پشاور ہائی کورٹ، ایبٹ آباد بینچ
جج صاحب: معزز جسٹس سید مدثر امیر
درخواست گزاران: نور محمد (Cr. M BA No.326-A/2026)، مسمات عاصمہ بی بی اور مسمات مدیحہ بی بی (Cr. M No.329-A/2026)
مقدمہ/ایف آئی آر: مقدمہ نمبر 549، مورخہ 02.05.2026، تھانہ سٹی مانسہرہ
قانون کی دفعات: دفعہ 371-A اور 371-B تعزیراتِ پاکستان (PPC)
تاریخِ سماعت و فیصلہ: 21 مئی 2026

لاہور ہائیکورٹ کے اس اہم فیصلے کا آسان اور مختصر خلاصہ درج ذیل ہے: 1. **بنیادی قانونی اصول:** اگر کوئی مقدمہ میرٹ پر فیص...
28/05/2026

لاہور ہائیکورٹ کے اس اہم فیصلے کا آسان اور مختصر خلاصہ درج ذیل ہے:
1. **بنیادی قانونی اصول:** اگر کوئی مقدمہ میرٹ پر فیصلہ کیے بغیر صرف **"غیر مؤثر" (Infructuous)** قرار دے کر ختم کیا جائے، تو نیا مقدمہ دائر کرنے کا حق ختم نہیں ہوتا۔ ایسا فیصلہ قانونِ **Res Judicata** کے تحت رکاوٹ نہیں بنتا۔
2. **کیس کا پس منظر:** درخواست گزاروں کی زمین کا ریکارڈ غلطی سے تبدیل ہوا اور آگے ہبہ (گفٹ) کر دیا گیا۔ بعد میں ریونیو حکام نے غلطی سدھارتے ہوئے ہبہ منسوخ کر دیا، جس پر درخواست گزاروں نے عدالت سے رجوع کیا۔
3. **پہلا مقدمہ ختم ہونے کی وجہ:** پٹواری نے عدالت کو بتایا کہ متنازعہ انتقال پہلے ہی منسوخ ہو چکا ہے، جس پر عدالت نے تنازع حل شدہ سمجھتے ہوئے مقدمہ "غیر مؤثر" قرار دے کر ختم کر دیا۔
4. **دوبارہ مقدمہ کی وجہ:** بعد میں درخواست گزاروں کو معلوم ہوا کہ پٹواری کی رپورٹ کے باوجود زمین کا ایک اور انتقال خاموشی سے درج کیا جا چکا تھا، جس پر انہوں نے دوبارہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
5. **مخالف فریق کا اعتراض:** مخالفین کا مؤقف تھا کہ ایک بار مقدمہ دائر ہونے کے بعد دوسرا مقدمہ قانوناً (تحت Order II Rule 2 CPC) نہیں چل سکتا۔
6. **ہائیکورٹ کا فیصلہ:** عدالت نے اعتراض مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پہلے مقدمے میں فریقین کے حقوق یا میرٹ پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا تھا، اس لیے دوسرا مقدمہ بالکل جائز ہے۔
7. **اہلکاروں کی غلطی اور قانون:** عدالت نے واضح کیا کہ اگر پٹواری جیسے سرکاری اہلکار نے عدالت کو مکمل حقائق نہ بتائے ہوں، تو اس کا نقصان شہری کو نہیں پہنچایا جا سکتا۔ مزید یہ کہ صرف انتقال کا درج ہونا کافی نہیں جب تک وہ باقاعدہ منظور (Sanction) نہ ہو۔
8. **ٹیکنیکل اعتراضات پر انصاف کو ترجیح:** ہائیکورٹ نے زور دیا کہ عدالتوں کا اصل مقصد انصاف فراہم کرنا ہے، محض تکنیکی اعتراضات کی بنیاد پر شہریوں کو محروم کرنا نہیں۔ قانونی ضابطے انصاف کی سہولت کے لیے ہیں، رکاوٹ کے لیے نہیں۔
9. **حتمی حکم:** عدالت عالیہ نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر درخواست گزاروں کا دعویٰ بحال کر دیا اور کیس دوبارہ ٹرائل کورٹ کو میرٹ پر فیصلے کے لیے بھیج دیا۔۔

وراثتی جائیداد پر سپر ٹیکس نہیں لگ سکتا — لاہور ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ!جسٹس Jawad Hassan نے اس انکم ٹیکس ریفرنس میں یہ...
25/05/2026

وراثتی جائیداد پر سپر ٹیکس نہیں لگ سکتا — لاہور ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ!

جسٹس Jawad Hassan نے اس انکم ٹیکس ریفرنس میں یہ فیصلہ دیا کہ اگر کسی شخص نے اپنی آبائی یا وراثتی جائیداد فروخت کی ہو اور وہ جائیداد چھ سال سے زیادہ عرصہ تک اس کے پاس رہی ہو، تو اس پر حاصل ہونے والا کیپیٹل گین “0% ٹیکس” کے زمرے میں آتا ہے، لہٰذا اس پر سپر ٹیکس عائد نہیں کیا جا سکتا۔

مقدمے کے اہم حقائق

درخواست گزار نے ٹیکس سال 2024 میں تقریباً 1 ارب 14 کروڑ روپے کی آمدن “Capital Gains” کے طور پر ظاہر کی، جو آبائی جائیداد کی فروخت سے حاصل ہوئی تھی۔
ایف بی آر نے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ یہ بڑی آمدن ہے، اس لیے سیکشن 4C کے تحت اس پر Super Tax لاگو ہوتا ہے، اور تقریباً 11 کروڑ روپے کا سپر ٹیکس عائد کر دیا گیا۔

درخواست گزار کا مؤقف

درخواست گزار نے کہا کہ:

* وہ کوئی کمپنی یا پراپرٹی ڈیلر نہیں بلکہ ایک فرد ہے۔
* جائیداد آبائی/وراثتی تھی۔
* قانون کے مطابق ایسی جائیداد اگر 6 سال سے زائد عرصہ رکھی گئی ہو تو اس پر Capital Gain Tax کی شرح 0% ہوتی ہے۔
* جب اصل ٹیکس ہی نہیں بنتا تو Super Tax بھی نہیں لگ سکتا۔

ایف بی آر کا مؤقف

ریونیو نے کہا کہ:

* سیکشن 4C ایک الگ قانون ہے۔
* اگر آمدن بہت زیادہ ہو تو Super Tax لاگو ہوتا ہے۔
* چاہے Capital Gain پر شرح 0% ہو، پھر بھی وہ “income” شمار ہوگی۔

عدالت کے اہم مشاہدات

عدالت نے قرار دیا کہ:

* سیکشن 37(1A) ایک خاص قانون ہے جو غیر منقولہ جائیداد کے Capital Gain کو الگ طریقے سے ٹیکس کرتا ہے۔
* اگر قانون نے کسی آمدن پر 0% ٹیکس مقرر کیا ہو تو اس کا مطلب ہے کہ اس آمدن پر کوئی ٹیکس وصول کرنا مقصود نہیں۔
* Super Tax اصل ٹیکس کے ساتھ منسلک اضافی ٹیکس ہے، یہ الگ سے نئی ٹیکس ذمہ داری پیدا نہیں کر سکتا۔
* جب بنیادی ٹیکس ہی صفر ہو تو Super Tax بھی نہیں لگ سکتا۔

سپریم/فیڈرل کانسٹیٹیوشنل کورٹ کے فیصلوں پر انحصار

عدالت نے M/s DG Khan Cement Company Limited case سمیت دیگر فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ:

* اگر کسی Capital Gain پر قانون کے تحت کوئی ٹیکس قابلِ ادا نہ ہو، تو اس پر Super Tax بھی نہیں لگایا جا سکتا۔
* 0% ریٹ کا عملی اثر Exemption جیسا ہی ہوتا ہے۔

حتمی فیصلہ

عدالت نے قرار دیا کہ:

* درخواست گزار کی وراثتی جائیداد پر حاصل ہونے والا Capital Gain چونکہ 0% ٹیکس کے دائرے میں آتا ہے، اس لیے اس پر Super Tax لاگو نہیں ہوتا۔
* ایف بی آر کی جانب سے عائد کردہ تقریباً 11 کروڑ روپے کا Super Tax غیر قانونی ہے۔
* ٹریبونل اور اسیسنگ آفیسر کے احکامات کالعدم قرار دے دیے گئے۔
* ریفرنس درخواست گزار کے حق میں منظور کر لی گئی

بورڈ آف ریونیو پنجاب نے 30 اپریل 2026 کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس میں زمین کے تنازعات حل کرنے کے لیے ایک ثالثی کمیٹی...
03/05/2026

بورڈ آف ریونیو پنجاب نے 30 اپریل 2026 کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس میں زمین کے تنازعات حل کرنے کے لیے ایک ثالثی کمیٹی (Arbitration Committee) بنائی گئی ہے۔
کمیٹی کے ارکان:
اسسٹنٹ کمشنر (سربراہ)
اسسٹنٹ کلیکٹر
گرداور
ہیڈ مین (یعنی لمبردار)
3 مقامی افراد (فریقین نامزد کریں گے)
زمین کے جھگڑوں کو سننا اور فیصلہ کرنا مقامی سطح پر.

2026 PHC 1688PHC on Effect of Pre-Remand Statements.The Peshawar High Court held that when a case is sent back (remanded...
19/03/2026

2026 PHC 1688

PHC on Effect of Pre-Remand Statements.

The Peshawar High Court held that when a case is sent back (remanded) under Order XLI Rule 23 CPC, the evidence recorded before remand does not become useless; it remains part of the record, subject to exceptions. The Court further clarified that under Article 140 of the Qanun-e-Shahadat Order, 1984, witnesses can be confronted with their earlier written statements during cross-examination to test their truthfulness and credibility.The intent of a remand is to cure defects or allow for further inquiry, not to erase judicial proceedings already competently undertaken.

The protection of the Illegal Dispossession Act, 2005 is not extended to a mere owner; it is available only where an own...
19/03/2026

The protection of the Illegal Dispossession Act, 2005 is not extended to a mere owner; it is available only where an owner-in-possession has been unlawfully dispossessed.
Crl. Appeal-Against Acquittal-1169-25
MALIK MUHAMMAD SAEED ETC VS
LAL KHAN ETC.

Mr. Justice Tariq Mahmood Bajwa
04-02-2026



عدالتی نکاح، کورٹ میرج، آن لائن نکاح یا شرعی زبانی نکاح کے بعد اکثر لڑکی کو عدالت میں پیش ہو کر دفعہ 164 ض ف (Section 16...
09/03/2026

عدالتی نکاح، کورٹ میرج، آن لائن نکاح یا شرعی زبانی نکاح کے بعد اکثر لڑکی کو عدالت میں پیش ہو کر دفعہ 164 ض ف (Section 164 CrPC) کے تحت بیان دینا پڑتا ہے تاکہ عدالت اس بات کی تصدیق کرے کہ نکاح اس کی اپنی آزاد مرضی سے ہوا ہے اور اس پر کسی قسم کا دباؤ، جبر یا اغوا کا الزام نہیں۔ یہ بیان مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ ہوتا ہے جسے عام طور پر کورٹ پریس یا عدالتی کارروائی کہا جاتا ہے، جہاں جج لڑکی سے الگ کمرہ یا کھلی عدالت میں سوال کرتے ہیں کہ کیا وہ اپنی رضا سے نکاح کر چکی ہے اور کیا وہ اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔ اگر لڑکی کو گھر والوں سے جان کا خطرہ ہو تو وہ بیان دیتی ہے کہ اسے اپنی فیملی سے دھمکیاں مل رہی ہیں، اس لیے اسے تحفظ فراہم کیا جائے اور پولیس سکیورٹی دی جائے۔ اس بیان کے بعد پولیس کو ہدایت دی جاتی ہے کہ لڑکی کو ہراساں نہ کیا جائے اور اگر ضرورت ہو تو پروٹیکشن فراہم کی جائے۔ دفعہ 164 کا بیان بعد میں کسی بھی فوجداری مقدمہ مثلاً اغوا یا زبردستی کے کیس میں مضبوط قانونی ثبوت سمجھا جاتا ہے اور میاں بیوی کے نکاح کو قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے۔

After court marriage, online nikah, or verbal Shariah nikah, the girl is often required to appear before a Magistrate to record her statement under Section 164 CrPC in order to confirm that the marriage was performed with her free will and without any coercion, pressure, or abduction. This statement is recorded formally in court proceedings where the Magistrate directly questions the girl to verify her consent and intention to live with her husband. If there is a threat from her family, she clearly states that she fears harm, harassment, or violence from her relatives and requests police protection. Once recorded, the 164 statement becomes strong legal evidence in cases involving allegations such as kidnapping or forced marriage and provides legal protection to the couple. The court may also direct the police to ensure the girl’s safety and prevent unlawful interference by family members.

پٹیشنر کے خلاف دفعہ 462-I کے تحت سال 2023 میں ایک ایف آئی آر درج کی گئی۔ مذکورہ مقدمہ کا ٹرائل مکمل ہونے کے بعد سال 2025...
09/03/2026

پٹیشنر کے خلاف دفعہ 462-I کے تحت سال 2023 میں ایک ایف آئی آر درج کی گئی۔ مذکورہ مقدمہ کا ٹرائل مکمل ہونے کے بعد سال 2025 میں ٹرائل کورٹ نے پٹیشنر کو سزا دینے کے بجائے ایک سال کے لیے پروبیشن پر رہا کرنے کا حکم صادر کیا۔ بعد ازاں پٹیشنر نے بیرون ملک روزگار کے حصول کے لیے پرتگال کا ورک پرمٹ ویزا اپلائی کیا، جو منظور ہو گیا۔ ویزا کی مزید کارروائی کے لیے پٹیشنر نے کریکٹر سرٹیفکیٹ کے اجرا کی غرض سے متعلقہ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (DPO) کو درخواست دی۔ تاہم جب کریکٹر سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا تو اس میں مذکورہ ایف آئی آر کا ذکر شامل کر دیا گیا۔

اس اقدام کے خلاف پٹیشنر نے ہائیکورٹ کے روبرو آئینی دائرہ اختیار کے تحت رِٹ پٹیشن دائر کی، جسے عدالت عالیہ نے منظور کر لیا۔ ہائیکورٹ نے اپنے آبزرویشن میں قرار دیا کہ پروبیشن کو سزا تصور نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا کریکٹر سرٹیفکیٹ میں ایسی ایف آئی آر کا ذکر کرنا مناسب نہیں۔ چنانچہ عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی کہ پٹیشنر کو نیا کریکٹر سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے جس میں مذکورہ ایف آئی آر کا کوئی حوالہ شامل نہ ہو۔

Address

Ropar Arcade, Main Golra Mor Choke Peshawar Road Islamabad
Rawalpindi Cantonment

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Malik Abdul Wahab Advocate posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share