09/08/2026
کوئٹہ/اسلام آباد (ویب ڈیسک)سینیٹر کامران مرتضی نے پاکستان بار کونسل کے 250ویں اجلاس میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق قرارداد منظور کیے جانے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان بار کونسل کا بنیادی کام نئے صوبوں کے قیام کی قراردادیں منظور کرنا نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی،
آئین کی بالادستی اور وکلا کے حقوق کا تحفظ ہے۔اپنے بیان میں سینیٹر کامران مرتضی نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئین میں واضح طریقہ کار موجود ہے
اس لیے نئے صوبوں کا قیام ایک آئینی اور سیاسی معاملہ ہے جس کا فیصلہ آئین میں درج طریقہ کار کے مطابق ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بار کونسل کو اپنے آئینی اور قانونی مینڈیٹ تک محدود رہنا چاہیے۔ وکلا کی نمائندہ تنظیموں کا بنیادی کردار عدلیہ کی آزادی، قانون کی حکمرانی، آئین کی بالادستی اور وکلا کے حقوق کا تحفظ ہے
نہ کہ ایسے سیاسی معاملات میں مداخلت کرنا جو ان کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔سینیٹر کامران مرتضی نے کہا کہ وکلا کی نمائندہ تنظیموں کو غیر آئینی اور غیر متعلقہ معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔ پاکستان بار کونسل کو کسی بھی صورت اسٹیبلشمنٹ کے کارندے کا کردار ادا نہیں کرنا چاہیے
بلکہ اسے اپنی آئینی ذمہ داریوں پر توجہ دینی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام جیسے اہم معاملے پر قومی سطح پر سیاسی اور آئینی اتفاقِ رائے ضروری ہے اور اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ آئین اور پارلیمانی طریقہ کار کے مطابق ہی ہونا چاہیے۔