21/12/2025
*سندھ میں عدالت کی حدود میں اسلحہ لانا — چاہے وہ لائسنس یافتہ ہی کیوں نہ ہو — ممنوع ہے، اور یہ عمل "Sindh Arms Act, 2013" کے تحت قابلِ سزا جرم بن سکتا ہے۔*
متعلقہ دفعات:
*Section 23 – Prohibition of Display of Arms*
یہ دفعہ پبلک مقامات پر اسلحہ کی نمائش یا لے جانے سے متعلق ہے۔
*Section 23(1):*
> "No person shall display arms in public in a manner which causes alarm or fear to any person."
عدالت ایک *پبلک پلیس* ہے، اور اسلحہ کا لانا یا لے جانا، وہاں موجود افراد میں خوف یا خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔
*Section 24 – Penalty for contravention*
اگر کوئی شخص اس قانون کی خلاف ورزی کرے تو:
- سزا: *کم از کم 2 سال اور زیادہ سے زیادہ 14 سال قید*
- *جرمانہ* بھی ہو سکتا ہے
- *اسلحہ ضبط* کر لیا جائے گا
عدالتوں کے اپنے *سیکیورٹی SOPs*:
عدالتوں (خصوصاً سندھ ہائی کورٹ، سیشن کورٹس) کی اپنی سیکیورٹی پالیسیز اور سرکلرز کے مطابق:
- کسی بھی شخص کو — حتیٰ کہ وکلاء، پولیس اہلکار یا لائسنس یافتہ شہری کو — عدالت میں اسلحہ لانے کی اجازت نہیں۔
- خلاف ورزی پر *FIR درج* ہو سکتی ہے۔
*خلاصہ:*
عدالت کی حدود میں لائسنس یافتہ اسلحہ لانا بھی *Sindh Arms Act, 2013 کی Section 23 & 24* کے تحت *قابلِ سزا جرم* ہے۔