UMER LAW Associates

UMER LAW Associates UMAR LAW ASSOCIATES
Our mission is to provide effective, reliable, and personalized legal solutions tailored to the unique needs of each client.

Phone: 0300 7267154
Address: Judicial Complex, Pindi Bhattian
Office No. 48, Umar Law Associates

07/02/2026

The criminal is to go free because the constable has blundered.”

Notary Public کیا ہوتا ہے؟Notary Public ایک حکومتِ پاکستان کی طرف سے مقرر شدہ (licensed) سرکاری افسر ہوتا ہے جو قانونی د...
21/12/2025

Notary Public کیا ہوتا ہے؟
Notary Public ایک حکومتِ پاکستان کی طرف سے مقرر شدہ (licensed) سرکاری افسر ہوتا ہے جو قانونی دستاویزات کی تصدیق (attestation) کرتا ہے تاکہ وہ عدالت اور سرکاری دفاتر میں قابلِ قبول ہوں۔
سادہ الفاظ میں:
Notary Public وہ شخص ہے جو مہر لگا کر ثابت کرتا ہے کہ دستخط اور دستاویز اصل ہیں۔
🔹 قانونی بنیاد (Law)
Notaries Ordinance, 1961
Notaries Rules, 1965
🔹 Notary Public کے بنیادی فرائض
Affidavit کی تصدیق
Power of Attorney کی attestation
Agreement / Undertaking کی تصدیق
حلف دلوانا (Administer Oath)
Certified True Copy بنانا
Nikahnama / Divorce Deed کی تصدیق
ID card / Passport copies کی تصدیق
Overseas documents کی notarization
🔹 Notary Public کیا تصدیق نہیں کر سکتا؟
❌ عدالت کا فیصلہ (Judgment)
❌ جعلی یا نامکمل دستاویز
❌ بغیر اصل دیکھے فوٹو کاپی
❌ فریق کی غیر موجودگی میں دستخط
🔹 Notary Public بننے کی اہلیت (Pakistan)
✔ Advocate (کم از کم 10 سال پریکٹس)
✔ Retired Judge
✔ Senior Government Officer
حکومت لائسنس دیتی ہے (مدت: 3 سال، قابلِ تجدید)
🔹 Notary Stamp میں کیا ہوتا ہے؟
نام
لائسنس نمبر
علاقہ (District/Province)
تاریخ
دستخط
🔹 Notary Attestation کا طریقہ کار
فریقین خود حاضر ہوں
اصل دستاویز پیش کریں
شناختی کارڈ چیک
دستخط Notary کے سامنے ہوں
مہر + دستخط
رجسٹر میں اندراج

21/12/2025

ڈی آر سی کو قبضہ واپس کرانے کاکوئی قانونی اختیار حاصل نہ ہے۔
VVVVVI. MUST READ JUDGEMENT.
Punjab Protection of Ownership of Immoveable Property Ordinance, 2025.
The Dispute Resolution Committee (DRC) is a pre-adjudicatory, fact-finding and facilitative body and has no jurisdiction to order eviction, dispossession, or restoration of possession.
Coercive or executory measures affecting possession can only be undertaken by the Tribunal under Sections 16 and 17 of the Ordinance.
Preventive powers under Section 9 are limited, temporary, and must be exercised through written, reasoned orders after hearing the parties.
While exercising powers under Section 9, the DRC must strictly adhere to any subsisting status-quo order of a competent court, and shall not pass any preventive order in conflict therewith.

Any oral or coercive direction by the DRC or its members is without lawful authority and violative of due process of law.

WP.15267-25
GHULAM GILLANI AFTAB VS
GOP ETC
Mr. Justice Ahmad Nadeem Arshad
18-12-2025
2025 LHC 7739

UMER LAW ASSOCIATES ⚖️
21/12/2025

UMER LAW ASSOCIATES ⚖️

یہ تصویر محض چند افراد کی نہیں، بلکہ انصاف، محنت اور مسلسل سیکھنے کے سفر کی عکاس ہے۔وکالت صرف پیشہ نہیں، ایک مسلسل جدوجہ...
21/12/2025

یہ تصویر محض چند افراد کی نہیں، بلکہ انصاف، محنت اور مسلسل سیکھنے کے سفر کی عکاس ہے۔

وکالت صرف پیشہ نہیں، ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے۔
ہر نیا مقدمہ اپنے ساتھ ایک نیا سبق، نئی آزمائش اور نئے زاویے لے کر آتا ہے۔ کبھی کامیابی مسکراتی ہے تو کبھی ناکامی انسان کو خود احتسابی اور مزید محنت پر مجبور کرتی ہے۔ یہی وہ عمل ہے جو ایک وکیل کو وقت کے ساتھ مضبوط، بالغ نظر اور بااصول بناتا ہے۔
دو دن قبل ایک ایسا ہی فوجداری مقدمہ ہمارے سامنے تھا، جس میں ملزمان کو سیاسی اور ذاتی چپقلش کی بنیاد پر نامزد کیا گیا۔ بظاہر تفتیش کے دوران انہیں قصوروار بھی ٹھہرایا گیا، حتیٰ کہ برآمدگی کا عنصر بھی شامل کر دیا گیا۔ لیکن تجربہ یہی سکھاتا ہے کہ ہر ایف آئی آر سچ نہیں ہوتی اور ہر تفتیش حرفِ آخر نہیں ہوتی۔
دوستانہ مشاورت، قانونی باریکیوں کے گہرے مطالعے اور شواہد کے غیر جانبدارانہ تجزیے کے بعد ہم وکلاء نے اپنے اپنے موکلان کا دفاع پوری اس مقدمہ میں دیانت اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کے ساتھ کیا۔ عدالت کے روبرو یہ مؤقف واضح کیا کہ مقدمہ شک، تضادات اور بدنیتی پر مبنی ہے، نہ کہ ٹھوس اور قابلِ اعتماد شواہد پر۔
الحمدللہ، عدالت نے دلائل کو وزن دیا اور تمام ملزمان کو باعزت بری کر دیا گیا۔
یہ لمحہ نہ صرف موکلان کے لیے، بلکہ وکیل کے لیے بھی ایک عجیب روحانی تسکین کا باعث ہوتا ہے—وہ احساس کہ کسی بے گناہ کو جھوٹے الزام سے نجات دلانے میں کردار ادا کیا۔
اسی خوشی کے اظہار میں موکلان کی جانب سے پھولوں کے ہار پیش کیے گئے، جو اس تصویر میں نظر آنے والی مسکراہٹوں سے کہیں زیادہ اعتماد، شکرگزاری اور انصاف پر یقین کی علامت ہیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ:
وکالت کا حسن یہی ہے کہ یہ انسان کو ہار میں سکھاتی ہے اور جیت میں عاجزی۔
اور جو وکیل سچ، قانون اور محنت کا دامن تھامے رکھے، کامیابی ایک دن خود اس کے قدم چومتی ہے۔

16/11/2025

Follow the UMER LAW ASSOCIATES ⚖️ channel on WhatsApp:

16/11/2025
16/11/2025

. . . . . . . . وُکلا کے لیے ❌ممنوعات و ✅ گذارشات. . .

نوجوان وکلاء ایک بار ضرور پڑھ لیں

اپنی ناقص عقل اور حقیر تجربے کی بنا پر کُچھ امُور شیئر کر رہا ہُِوں جن کے متعلق میری رائے ہے کہ یہ ایسے افعال ہیں جو وُکلا کی اِنفرادی اور اجتماعی عزت اور وقار میں اضافے کا ہرگز باعث نہیں بنتے بلکہ بہت سارے مسائل کو جنم دینے کے ساتھ ساتھ ہماری عزتِ نفس،رِزق اور معاشرتی مقام میں کمی کا باعث بنتے ہیں

1. وکیل کو کسی صورت پولس اسٹیشن یا کسی بھی سرکاری دفتر یونیفارم میں نہیں جانا چاہیے۔ ہم عام لوگوں کے ان محکمہ جات سے متعلق تمام مسائل عدالتوں کے ذریعہ حل کرواتے ہیں اور خُود اپنا مسئلہ حل کرنے کے لئے ذاتی طور پر اُن لوگوں کے پاس جا کر پچھتاوے کا شکار ہوتے ہیں اور بلآخر بعد از خرابی بسیار انہیں عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں۔

2- عدالت کی جانب سے اپنے خلاف فیصلہ آنے کی صُورت میں دُوبارہ سے اُسی جج کے ساتھ بحث و مباحثہ بے فائدہ امر اور عدالت کے ذہن میں اپنا منفی تاثر پیدا کرنے والی بات ہے ۔خُوش دِلی سے اگلے فورم پر جا کر طبع آزمائی زیادہ موثر اور پیشہ ورانہ عمل ہے.

3۔ پیچیدہ اور مُشکل کیسز اپنے جاننے والے ججز کی عدالتوں میں لگوا کر خُود اور اُنہیں آزمائش میں ڈالنے سے پرہیز کریں کسی دوست کی عدالت میں داخل ہوتے ہی جج کے چھ کی بجائے بارہ سینسرز الرٹ ہو جاتے ہیں مبادا کہ میرا سودا ہی نہ کر آیا ہو۔

4- خواتین ججز کے ساتھ مکالمہ کرتے ہوئے یا ذومعنی جملے اُچھالتے ہوئے ایک لمحے کے لیے اپنے دِل و دماغ میں اپنی عفت مآب بہنوں یا بیٹیوں کا تصور ضرور لے آیا جائے۔

5- عدالتی و حفاظتی عملے کی دانستہ و غیر دانستہ کوتاہیوں سے صرفِ نظر اور محبت و احترام کا برتاؤ نیکی اور بھلائی کے ساتھ ساتھ آپ کی شخصیت و وکالت کی بہترین مارکیٹنگ بھی ہے۔

6- اپنے ذاتی معاملات میں خُود ہرگز ہرگز عدالت میں پیش نہ ہوں اپنی منتخب کابینہ کو ہر جمہوری ہتھکنڈا استعمال کرتے ہوئے اپنا مسئلہ حل کروائیں جذباتی ہونے کی صُورت میں ایک مسئلہ دیگر بے شمار مسائل کو جنم دینے کا باعث بنتا ہے۔

7- فیس وصول کرکے کسی مسئلے کو وکیل کا ذاتی مسئلہ بتلا کر ریلیف حاصل کرنے کی کوشش درحقیقت اصل حقداروں اور مسائل زدہ وکلاء کے ساتھ نا انصافی ہے جس سے ہر صورت احتراز کیا جانا چاہیے۔

8- ایڈووکیٹ کی رنگارنگ نمبر پلیٹس ذاتی کاروں سے ہوتی ہوئی بسوں ،ٹرکوں،رکشوں ، مال بردار گاڑیوں، مُرغیاں لانے والے ڈالوں حتٰی کہ ٹریکٹر ٹرالیوں تک پہ نصب کی جا چکی ہیں جو کہ معاشرے میں ہمارے مقام و مرتبے پر سوالیہ نشان کھڑے کر رہی ہیں۔

9- لڑائی جھگڑے ، گالم گلوچ اور ٹریفک اشاروں کی خلاف ورزی ویسے تو کسی صورت بھی نہیں کی جانی چاہیے لیکن یونیفارم میں ان مکروہات سے بدرجہ اتم بچنا چاہیے۔

10- پارکس سینما ہالز اور تھیٹرز میں یونیفارم پہن کر جانا خاصا معیوب لگتا ہے البتہ ریسٹورنٹس کے لئے تھوڑی آزادی لی جا سکتی ہے۔

11۔ مُختلف سیاسی پارٹیوں سے نظریاتی وابستگی کے باوجود احاطہ ھائے عدالت میں اُن سیاستدانوں کو غیرضرُوری پروٹوکول اور آگے پیچھے بھاگ کر ہم نہ ذاتی طور پر اور نہ برادری کے لیے کوئی نیک نامی کماتے ہیں اس سے بھی حتی الامکان گریز کیا جانا چاہئے ۔پیشہ وارانہ انداز میں اُن کی صرف وکالت کی جائے۔
پرائیویٹ لباس میں بیشک ہم اُنہیں اپنے کندھوں پر اُٹھا کر نعرے لگائیں یا بھنگڑے ڈالیں۔

12- دورانِ دلائل ایک دُوسرے کے اُوپر ذاتی حملے اور بد کلامی سے ہر صورت بچنا چاہیے باہمی احترام اور حفظ مراتب کا خیال ہمارے رزق اور عِزت میں کمی کبھی نہیں کرے گا۔

13- سیاسی رہنما مُلکی سطح کے ہوں یا بار کی سطح کے ان کی وجہ سے اپنی ذاتی دوستیاں تعلق اور احترام و محبت کے رشتے ہرگز خراب نہ کریں۔ ہمارے تو ویسے بھی سال میں چار الیکشنز ہوتے ہیں اگر کسی ایک الیکشن میں مدِمُقابل بھی آ جائیں تو بُرا نہیں ماننا چاہیے۔

14- ذاتی معاملات میں جب کوئی پرائیویٹ فریق معاملہ ہماری برتری تسلیم کرتے ہوئے جُھک جائے تو مارنے سے ڈرایا بہتر کے مقُولے پر عمل کرتے ہوئے معاملہ نمٹانا چاہیے نہ کہ طاقت،اختیار اور غلبے کے زعم میں مخالف کو اِس قدر زچ کیا جائے کہ وہ اپنی اور ہماری زندگیوں یا سُکون ہی کے درپے ہو جائے۔

15- یونیفارم میں سوٹڈ بُوٹڈ ہوکر اور ٹائی لگائے ہوئے سڑک کنارے لگی ہوئی ریڑھیوں سے کھڑے ہو کر کھانے سے بچنا چاہیے۔

16- کلائنٹ سے یک مُشت مناسب فیس لی جائے اور ہر پیشی پر بِلا وجہ بُلوا کر، ایشوز فریم، یا پر کلومیٹر سمن فیس، جیسے حیلوں سے مزید پیسے نکلوانے اور رہی سہی کسر مُنشی کے ذریعے نکالنے سے اِجتناب مزید ثمر آور کیسز کی آمد کا باعث بنتا ہے۔
" اللہ ہمیں اچھے وکیل کے ساتھ ساتھ اچھا اِنسان اور بہترین مُسلمان بننے کی بھی توفیق عطا فرمائے" آمین۔

26/06/2025

ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: آرڈر 37 کے تحت قرض کی بنیاد پر دعویٰ مسترد – 2025 YLR 539

تعارف:
لاہور ہائی کورٹ نے مقدمہ Sadia Parveen v. Muhammad Umer میں آرڈر 37 کے تحت کیے گئے 30 لاکھ روپے کی ریکوری کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے نہایت اہم اصول وضع کیے۔ یہ فیصلہ چیک کی بنیاد پر کیے گئے دعوؤں میں شواہد کی اہمیت اور ٹرائل کورٹ کی ذمہ داریوں کو اجاگر کرتا ہے۔

پس منظر:
مدعی محمد عمر نے دعویٰ کیا کہ اس نے مدعا علیہ سعدیہ پروین کو 30 لاکھ روپے بطور قرض دیے اور اس کے بدلے ایک چیک حاصل کیا، جو بعد میں ڈس آنر ہو گیا۔ مقدمہ آرڈر 37 کے تحت دائر کیا گیا جو چیک کی بنیاد پر فوری ریکوری کی اجازت دیتا ہے۔

ہائی کورٹ کے ریمارکس اور فیصلہ:
ہائی کورٹ نے تفصیلی جائزے کے بعد قرار دیا کہ:

1. قرض کا کوئی ثبوت نہیں دیا گیا۔

2. گواہان کی شہادت دعوے سے ہٹ کر تھی۔

3. مدعی نے اپنی مالی حیثیت یا ذریعہ آمدن ثابت نہیں کیا۔

4. مدعا علیہ نے اپنا بینک اسٹیٹمنٹ پیش کیا، جو صفر بیلنس ظاہر کرتا تھا۔

5. مدعا علیہ کے بھائی کی طرف سے چیک چوری کی شکایت پر پولیس انکوائری رپورٹ مدعی کے خلاف تھی۔

6. ٹرائل کورٹ نے شواہد کو غلط طور پر پڑھا اور بعض کو نظر انداز کیا۔

منفرد نکتہ:
عدالت نے چیک چوری کی شکایت اور پولیس رپورٹ کو بطور ٹھوس ثبوت تسلیم کیا، جو عام طور پر آرڈر 37 کے مقدمات میں کم نظر آتا ہے۔

نتیجہ:
عدالت نے قرار دیا کہ صرف چیک کی بنیاد پر قرض کا دعویٰ قابل قبول نہیں، جب تک قرض کی حقیقت اور مالی استطاعت ثابت نہ کی جائے۔ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ غیر مؤثر قرار دے کر اپیل منظور کی گئی اور دعویٰ خارج کر دیا گیا۔

اختتامیہ:
یہ فیصلہ ایک نظیر ہے جو وکلاء، عدالتوں اور عوام کو یہ باور کراتا ہے کہ آرڈر 37 کے مقدمات میں دعوے کی مضبوط بنیاد اور شفاف شواہد ناگزیر ہیں۔ چیک کے پیچھے کی اصل حقیقت اور دستاویزی ثبوت ہی کامیابی کی ضمانت ہیں۔

Citation Name : 2025 YLR 539 LAHORE-HIGH-COURT-LAHORE
Side Appellant : Sadia Parveen
Side Opponent : Muhammad Umer
O.###VII, Rr.1 & 3---Cheque dishonoured---Suit for recovery of Rs.30,00,000/- on the basis of a dishonoured cheque instituted by the plaintiff/respondent---Failure of the respondent to prove the factum as to giving of loan to the appellant/defendant---Evidence beyond the scope of pleadings---Finding of police against the respondent in an application filed by brother of the appellant about stealing of cheque---Suit was decree d by the Trial Court without properly adjudicating upon Issue No.1---Validity---Respondent had failed to prove the assertion of giving of loan of a huge amount to the appellant---Deposition made by PW.1 to PW.3 in their statements-in-chief were not mentioned in the plaint---Appellant produced her bank statement showing her bank balance as zero, whereas, respondent did not furnish any such details, thus, it could be presumed that he had no such amount and respondent had also failed to prove his source of income for giving such a huge amount as loan to the appellant---Real brother of the appellant filed an application against the respondent and another for stealing of cheque, in which concerned Station House Officer reported against them---Respondent failed to prove issue No.1, whereas, the appellant successfully proved that the cheque in question was misused by the respondent in collusion with relative of the appellant but the Trial Court by committing misreading and non-reading of the evidence decided issue No.1 in favour of the respondent and against the appellant as such the findings of the Trial Court were not sustainable---Appeal was allowed, in circumstances
*Regards Ch Yasir Ilyas Gujjar Advocate

26/06/2025

ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: آرڈر 37 کے تحت قرض کی بنیاد پر دعویٰ مسترد – 2025 YLR 539

تعارف:
لاہور ہائی کورٹ نے مقدمہ Sadia Parveen v. Muhammad Umer میں آرڈر 37 کے تحت کیے گئے 30 لاکھ روپے کی ریکوری کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے نہایت اہم اصول وضع کیے۔ یہ فیصلہ چیک کی بنیاد پر کیے گئے دعوؤں میں شواہد کی اہمیت اور ٹرائل کورٹ کی ذمہ داریوں کو اجاگر کرتا ہے۔

پس منظر:
مدعی محمد عمر نے دعویٰ کیا کہ اس نے مدعا علیہ سعدیہ پروین کو 30 لاکھ روپے بطور قرض دیے اور اس کے بدلے ایک چیک حاصل کیا، جو بعد میں ڈس آنر ہو گیا۔ مقدمہ آرڈر 37 کے تحت دائر کیا گیا جو چیک کی بنیاد پر فوری ریکوری کی اجازت دیتا ہے۔

ہائی کورٹ کے ریمارکس اور فیصلہ:
ہائی کورٹ نے تفصیلی جائزے کے بعد قرار دیا کہ:

1. قرض کا کوئی ثبوت نہیں دیا گیا۔

2. گواہان کی شہادت دعوے سے ہٹ کر تھی۔

3. مدعی نے اپنی مالی حیثیت یا ذریعہ آمدن ثابت نہیں کیا۔

4. مدعا علیہ نے اپنا بینک اسٹیٹمنٹ پیش کیا، جو صفر بیلنس ظاہر کرتا تھا۔

5. مدعا علیہ کے بھائی کی طرف سے چیک چوری کی شکایت پر پولیس انکوائری رپورٹ مدعی کے خلاف تھی۔

6. ٹرائل کورٹ نے شواہد کو غلط طور پر پڑھا اور بعض کو نظر انداز کیا۔

منفرد نکتہ:
عدالت نے چیک چوری کی شکایت اور پولیس رپورٹ کو بطور ٹھوس ثبوت تسلیم کیا، جو عام طور پر آرڈر 37 کے مقدمات میں کم نظر آتا ہے۔

نتیجہ:
عدالت نے قرار دیا کہ صرف چیک کی بنیاد پر قرض کا دعویٰ قابل قبول نہیں، جب تک قرض کی حقیقت اور مالی استطاعت ثابت نہ کی جائے۔ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ غیر مؤثر قرار دے کر اپیل منظور کی گئی اور دعویٰ خارج کر دیا گیا۔

اختتامیہ:
یہ فیصلہ ایک نظیر ہے جو وکلاء، عدالتوں اور عوام کو یہ باور کراتا ہے کہ آرڈر 37 کے مقدمات میں دعوے کی مضبوط بنیاد اور شفاف شواہد ناگزیر ہیں۔ چیک کے پیچھے کی اصل حقیقت اور دستاویزی ثبوت ہی کامیابی کی ضمانت ہیں۔

Citation Name : 2025 YLR 539 LAHORE-HIGH-COURT-LAHORE
Side Appellant : Sadia Parveen
Side Opponent : Muhammad Umer
O.###VII, Rr.1 & 3---Cheque dishonoured---Suit for recovery of Rs.30,00,000/- on the basis of a dishonoured cheque instituted by the plaintiff/respondent---Failure of the respondent to prove the factum as to giving of loan to the appellant/defendant---Evidence beyond the scope of pleadings---Finding of police against the respondent in an application filed by brother of the appellant about stealing of cheque---Suit was decree d by the Trial Court without properly adjudicating upon Issue No.1---Validity---Respondent had failed to prove the assertion of giving of loan of a huge amount to the appellant---Deposition made by PW.1 to PW.3 in their statements-in-chief were not mentioned in the plaint---Appellant produced her bank statement showing her bank balance as zero, whereas, respondent did not furnish any such details, thus, it could be presumed that he had no such amount and respondent had also failed to prove his source of income for giving such a huge amount as loan to the appellant---Real brother of the appellant filed an application against the respondent and another for stealing of cheque, in which concerned Station House Officer reported against them---Respondent failed to prove issue No.1, whereas, the appellant successfully proved that the cheque in question was misused by the respondent in collusion with relative of the appellant but the Trial Court by committing misreading and non-reading of the evidence decided issue No.1 in favour of the respondent and against the appellant as such the findings of the Trial Court were not sustainable---Appeal was allowed, in circumstances

Address

Pindi Bhattian

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when UMER LAW Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share