Al Riaz Tax Law Chamber

Al Riaz Tax Law Chamber Deals in:•
NTN registration
Income tax return
STRN registration
Sales tax registration
Trade mark

05/06/2026
مجوزہ فارم کی قانونی حیثیت:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ فارم ابھی تجویز کیا گیا ہے اور اطلاع عام کیلئے...
22/05/2026

مجوزہ فارم کی قانونی حیثیت:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ فارم ابھی تجویز کیا گیا ہے اور اطلاع عام کیلئے سات دن کی قانونی مہلت کے بعد بزنس چیمبرز اور ٹیکس بارز سے حاصل ہونے والے ردعمل کے تحت تھوڑا بہت تبدیل بھی ہو سکتا ہے، پھر یہ بجٹ کیساتھ ہی منظور ہو کے نافذ العمل ہو جائے گا۔

21/05/2026
14/05/2026

نیا انکم ٹیکس ریٹرن فارم برائے سال 2026
ایف۔بی۔آر نے رواں سال کے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کیلئے ایس۔آر۔او 2026 (1) 835 کے تحت نیا ٹیکس فارم جاری کر دیا ہے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو سات دن کے اندر اپنے اعتراضات، تجاویز اور ردعمل جمع کرانے کی مہلت دی گئی ہے۔
اس فارم میں جو درج ذیل تبدیلیاں کی گئی ہیں ان کے تحت اب آپ کو اپنی ہر قسم کی مالی سرگرمیوں کی مکمل سمری بھی فراہم کرنی پڑے گی۔
1)۔
تنخواہ دار طبقے کو اپنے ایمپلائر کا نام، اس کا رجسٹریشن نمبر اور ٹیکس کٹوتی کی تفصیلات بھی فراہم کرنا ہوں گی۔
2)۔
پراپرٹی کا کرایہ پہلے سمپلی ایک اینٹری میں ڈال دیتے تھے لیکن اب الگ الگ ہر پراپرٹی کو مینشن کرکے بتانا پڑے گا کہ کس جگہ سے کتنا کرایہ آیا ہے اور اس کے ڈیڈکٹیبل اخراجات کیا ہیں۔
3)۔
ادر انکم میں بھی پہلے سب لوگ ایک سادہ سی اینٹری ڈال دیتے تھے اب اس کی بھی انسٹیٹیوشن وائز تفصیلات دینی ہوں گی۔
4)۔
اسی طرح زرعی انکم میں بھی ایک اینٹری ڈال دی جاتی تھی لیکن اب زرعی زمین کی تفصیلات بھی کھیت نمبر وغیرہ کیساتھ یعنی زمین کی لوکیشن بھی ساتھ میں فراہم کرنی پڑے گی۔
5)۔
ٹیکس ڈیڈکشنز کا بھی سارا نظام انٹیگریٹڈ ہے، آپ بتائیں گے فلاں نے پیسے کاٹے ہیں تو اس کا ہاں یا نہ کا ریفرینس خود بخود اپڈیٹ ہوجائے گا۔
6)۔
بزنس میں کتنی رقم پیمنٹ کی ہے یا وصول کی ہے اور اس پر دونوں طرف سے کتنا کتنا ٹیکس کاٹا گیا ہے یہ بھی بتانا پڑے گا۔
اس کا نقصان یہ ہوگا کہ اب ٹیکس ڈیڈکشن جہاں نہیں ہوئی ہوگی وہاں فوراً سیکشن 161 کے تحت سوال کھڑا ہوجائے گا جو کافی تکلیف دہ ہوسکتا ہے۔
یعنی جو بزنس ودہولڈنگ ایجنٹ بنتے ہیں ان سے یہ رقم وصول کر لی جائے گی۔
مثال کے طور پر بیشمار کمپنیاں ایسی ہیں جو ملازموں سے ٹیکس نہیں کاٹتیں، اب ایک ملازم بتاتا ہے کہ فلاں کمپنی سے میں لاکھ روپیہ مہینہ لیتا ہوں تو انٹیگریٹڈ سسٹم اب ٹیکس آفیسر کو خود بتائے گا کہ فلاں کمپنی کے دس ایمپلائیز نے بتایا ہے کہ وہ اتنی اتنی تنخواہ لیتے ہیں لیکن ایمپلائر نے کسی ایک کا بھی ٹیکس نہیں کاٹا۔
اب اس کیس میں جتنا ٹیکس ایمپلائر نے کاٹنا تھا اور نہیں کاٹا تو وہ اس ایمپلائر سے وصول کر لیا جائے گا۔
اس کے بعد ایمپلائر ملازموں سے کہے گا کہ پچھلے سال کا بل آگیا ہے مجھے لہذا یہ ٹیکس کٹواؤ اور ملازم کہیں گے صاحب ہم نے تو ریٹرن کیساتھ اپنی جیب سے ٹیکس جمع کرا دیا تھا اسلئے اب ہم آپ کو کیوں دیں لہذا وہ لائبلٹی ایمپلائر کے سر ہی پڑے گی۔
علی ہذا القیاس جو لوگ بزنس پیمنٹس پر بھی ڈیو ٹیکس نہیں کاٹتے ان کو بھی یہی پرابلم فیس کرنی پڑے گی۔
7)۔
ایک اچھی بات جو اس نئے فارم میں نظر آرہی ہے وہ یہ ہے کہ ریفنڈ کیلئے آپ کا ایک مین بینک اکاؤنٹ اس میں انٹیگریٹ ہو جائے گا اور ودہولڈنگ کے سارے ثبوت اپلوڈ ہو جانے کے بعد آپ کو آٹومیٹک طریقے سے ریفنڈ مل جایا کرے گا، اس کی منظوری کیلئے آئیندہ آپ کو ٹیکس آفس نہیں جانا پڑے گا۔
مجوزہ فارم کی قانونی حیثیت:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ فارم ابھی تجویز کیا گیا ہے اور اطلاع عام کیلئے سات دن کی قانونی مہلت کے بعد بزنس چیمبرز اور ٹیکس بارز سے حاصل ہونے والے ردعمل کے تحت تھوڑا بہت تبدیل بھی ہو سکتا ہے، پھر یہ بجٹ کیساتھ ہی منظور ہو کے نافذ العمل ہو جائے گا۔
احتیاط برائے سال 2026:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تنخواہ دار طبقہ جن کی تنخواہ ٹیکس ایبل ہے لیکن ایمپلائر ٹیکس نہیں کاٹتا وہ اپنا ریٹرن ایمپلائر کیساتھ مشورہ کرکے جمع کرائیں ورنہ جب اس کو نوٹس آئے گا تب وہ آپ سے ٹیکس مانگے گا اور آپ جیب سے ٹیکس ادا کر چکے ہوں گے۔
اس کا بہترین حل یہ ہے کہ آپ کا ایمپلائر جون میں آپ کا سال بھر کا ٹیکس جمع کرا دے، اس سے دونوں کی بچت ہو جائے گی، ممکن ہے لیٹ ٹیکس جمع کرانے پر اس کو پانچ چھ فیصد جرمانہ ہوجائے لیکن یہ اس سے بہتر ہے کہ لاکھوں روپے کا بل اس کو آجائے اور پھر وہ آپ سے کاٹنے بیٹھ جائے۔
گزشتہ سال میں نے ہر پارٹی کا ریٹرن ان کے بینک اکاؤنٹس کو بہت تفصیل کیساتھ سمرائز کرکے بنایا تھا تاکہ ان کو کوئی ٹکر نہ لگے، اس وجہ سے میرے کافی ریٹرن لیٹ ہوگئے تھے لیکن میں نے کوالٹی پر کمپرومائز نہیں کیا۔
اندریں حالات آپ کو بھی یہی کرنا چاہئے کہ اپنا ٹیکس ریٹرن کسی ایسے بندے سے جمع کرائیں جسے قانون اور مالیاتی امور پر یکساں عبور حاصل ہو تاکہ وہ بینک کو سمرائز کرکے نان بزنس ٹرانزیکشنز کو الگ کرے پھر انکم اسٹیٹمنٹ اور الاؤ۔ایبل اخراجات کو ڈیفائن کرکے آپ کا ریٹرن سیف زون میں لاکے فائنل کرے۔
گورنمنٹ نے اس سال تاریخ میں پہلی بار مئی میں فارم جاری کیا ہے ورنہ یہ مڈجولائی میں ہی آیا کرتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ گورنمنٹ ٹیکس فائلنگ کو پہلی جولائی سے شروع کرانا چاہتی ہے تاکہ کنسلٹینٹس کو نوے دن کا پورا فائلنگ ٹائم مل جائے۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس بار ٹیکس ریٹرن بنانے میں کنسلٹینٹ کا دو گنا ٹائم لگے گا جو ریوینیو بورڈ کو بھی نظر آرہا ہے لہذا ایک تو تیس جون کے فوراً بعد اپنا ڈیٹا کنسلٹینٹ کو لازمی فراہم کر دیں۔
کاشف ریاض سندھو، ٹیکس کنسلٹنٹ

13/06/2024

وفاقی بجٹ اور ٹیکس تجاویز:

وفاقی بجٹ:

- تقریباً 18,000 ارب روپے
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10-15 فیصد اضافہ
- ٹیکس وصولی کا ہدف: 12.9 ٹریلین روپے
- سود اور قرض کی ادائیگی: 9.5 ٹریلین روپے
توانائی کے شعبے میں سبسڈیز: 800 ارب روپے
- وفاقی ٹیکس ریونیو: 12.9 ٹریلین روپے
- نان ٹیکس ریونیو: 2100 ارب روپے
- پیٹرولیم لیوی: 1050 ارب روپے

پنشن اصلاحات:

- ریٹائرمنٹ کی عمر 62 سال تک بڑھا دیں۔
- رضاکارانہ امدادی پنشن کا نظام متعارف کروائیں۔
- زندگی بھر کی بجائے 20 سال کے لیے ریٹائرمنٹ پنشن
فیملی پنشن کی مدت 15 سے کم کر کے 10 سال کر دی گئی۔
- بیٹی کی پنشن ختم کر دی گئی۔

نئے ٹیکس:

- پیٹرولیم مصنوعات پر 5 فیصد سیلز ٹیکس
- جی ایس ٹی کی معیاری شرح میں 1 فیصد اضافہ
- غیر ضروری ٹیکس چھوٹ کا خاتمہ
سیلز ٹیکس کی شرح میں 1 فیصد اضافہ
- تجارتی درآمد کنندگان کے لیے درآمدی محصولات میں 1% اضافہ

ٹیکس کی تجاویز:

- زرعی مصنوعات، بیج، کھاد، ٹریکٹر اور دیگر آلات پر مکمل سیلز ٹیکس
خوراک، ادویات، سٹیشنری پر 10 فیصد سیلز ٹیکس
- SMEs کے لیے ٹیکس استثنیٰ کا خاتمہ
- کھانے پینے کی اشیاء پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ کا خاتمہ
- درآمدی اشیا پر ٹیکس ڈیوٹی میں اضافہ

آئی ایم ایف کا مطالبہ:

12,900 ارب روپے کا ٹیکس ہدف
- 3,490 ارب روپے کے اضافی ٹیکس کی وصولی
- انکم ٹیکس دہندگان کی تعداد کو 60 لاکھ سے زیادہ کرنا
- تاجروں کو انکم ٹیکس نیٹ میں لانا۔

ایف بی آر کی جانب سے بند کی گئی موبائل سم بحال کرنے طریقہ...سال 2023 کے لیے انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کے بعد ایف بی آر ک...
29/05/2024

ایف بی آر کی جانب سے بند کی گئی موبائل سم بحال کرنے طریقہ...

سال 2023 کے لیے انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کے بعد ایف بی آر کی جانب سے 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر سم کو خود بخود بحال کر دیا جائے گا۔

Address

Shalimar City
Phalia
50430

Telephone

+923426680500

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al Riaz Tax Law Chamber posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share