Legal Hawks

Legal Hawks We deal in Civil, Criminal, Services Matters, Tax , Election Matters, Rent, Consumer. FREE LEGAL AS

02/03/2025

A comprehensive list of Court's Jurisdiction
پاکستان کی تمام عدالتوں کا اختیار سماعت
___SUPREME COURT___
1. 184(1) Original jurisdiction in inter-governmental disputes, issues declaratory judgments;
2. 184(3) Enforcement of Fundamental Rights involving an issue of public importance;
3. Art 185(2) Appeal from judgment/order of High Court in criminal cases, tried in original and/or appellate capacity and having imposed death penalty or life imprisonment;
4. Art 185(2) Appeal in civil cases when the value of claim exceeds fifty thousand rupees;
5. Art 185(2) Appeal when High Court certifies that the case involves interpretation of the Constitution;
6. Art 185(3) Appeal (subject to grant of leave) from High Court judgment/order;
7. Art 186 Advisory jurisdiction on any question of law involving public importance referred by the President;
8. Art 187 To issue directions/orders for doing complete justice in a pending case/matter;
9. Art 188 To review any of its own judgment/order;
10. Art 204 To punish for its contempt;
11. Art 212 Appeal from Administrative courts/tribunals; and
12. Art 203F Its Shariat Appellate Bench hears appeals from judgments/orders of Federal Shariat Court.

___FEDERAL SHARIAT COURT___
1. Art 203-D To determine whether a provision of law is repugnant to the Injunctions of Islam;
2. Art 203 DD Revisional Jurisdiction in cases under Hudood laws;
3. Art 203 E To review its judgment/order;
4. Art 203 E To punish for its contempt; and
5. Under Hudood laws, hears appeals from judgment/order of criminal courts.
___HIGH COURT___
1. Art 199(1) to issue 5 writs namely mandamus, prohibition, certiorari, habeas corpus and quo warranto;
2. Art 199(2) Enforcement of Fundamental Rights;
3. Art 203: To supervise/control subordinate courts;
4. Art 204: To punish for its contempt;
5. To hear appeal under S.100 of CPC;
6. To decide reference under S.100 of CPC;
7. Power of review under S.114 of CPC;
8. Power of revision under S.115 of CPC;
9. Appeals under S.410 of Cr.P.C;
10. Appeals against acquittal under S.411-A(2) of Cr.P.C
11. Appeals against judgment/decree/order of tribunals under special laws;
12. To issue directions of the nature of habeas corpus under S.491 of Cr.P.C;
13. Power of revision under S.439 Cr.P.C
14. Hedge Inter-Court appeal at Lahore High Court and High Court of Sindh,

___DISTT. & SESSIONS JUDGE/ADDL. DISTT. & SESSIONS JUDGE___
1. Appeal against judgment/decree of a Civil Judge under S.96 of CPC;
2. Appeal against order under S.104 of CPC;
3. Power of revision under S.115 of CPC;
4. Original jurisdiction in suits upon bills of exchange, hundies or promissory notes under Order ###VII of CPC;
5. Murder trial under S.265 of the Cr.P.C;
6. Criminal trial under Hudood laws;
7. Appeals under S.408 of Cr.P.C;
8. Power of revision under S.439-A of Cr.P.C;
9. To issue directions of the nature of habeas corpus under S.491 of Cr.P.C; and
10. Decides pre-arrest bail applications under S 498 of the Cr. PC.
11. Being An exofficio Justice of the Peace may issue appropriate directions to the police authorities concerened on a complaint regarding (i) nonregistration of a criminal case; (ii) transfer of investigation from one police officer to another; and (iii) neglect, failure or excess commited by a police authority in relation to its functions and duties.
___CIVIL JUDGE 1ST CLASS___
1. To try all civil suits, there is no pecuniary limit on its jurisdiction;
2. In certain jurisdictions also designated as Rent Controller;
3. In certain jurisdictions also designated as Judge, Family Court;
___CIVIL JUDGE 2ND CLASS__
1. To try civil suit up to the value of Rs. 50,00,00/- ( Rs. 5- Million) ; and
2. In certain jurisdictions designated as Rent Controller/Judge, Family Court.

__CIVIL JUDGE 3RD CLASS__
To try civil suit up to the value of Rs. 10,00,000/- ( Rs. 1-Million)

___MAGISTRATE 1ST CLASS__
1-To try offences punishable up to 3 years imprisonment and forty-five thousand rupees fine.
2- As Mobile Court under S. 12 Cr.P.C
3- As Judicial Magistrate under S 14 Cr.P.C As Area Magistrate to handle
i- Remands
ii- Discharge Reports etc

___MAGISTRATE 2ND CLASS___
To try offences punishable up to 1 year.

___MAGISTRATE 3RD CLASS__
Fifteen thousand rupees fine
____Magistrate empowered under S.30 of Cr.P.C.
____
To try All offences not punishable with death.
But can't pass a sentence of death or imprisonment exceeding 7 years.

01/09/2024
23/01/2024

...

19/01/2024

‏یہ انفارمیشن ہر پاکستانی شہری کے لیے جاننا ضروری ہے

‏*🔴 دفعہ324 * = قتل کی کوشش کی
‏ *🔴 دفعہ 302 * = قتل کی سزا
‏ *🔴 دفعہ 376 * = عصمت دری
‏ * 🔴دفعہ 395 * = ڈکیتی
‏ *🔴 دفعہ 377 * = غیر فطری حرکتیں
‏ *🔴 دفعہ 396 * = ڈکیتی کے دوران قتل
‏ * 🔴دفعہ 120 * = سازش
‏ * 🔴سیکشن 365 * = اغوا
‏ *🔴 دفعہ 201 * = ثبوت کا خاتمہ
‏ * 🔴دفعہ 34 * = سامان کا ارادہ
‏ * 🔴دفعہ 378 * = چوری
‏ * 🔴دفعہ 141 * = غیر قانونی جمع
‏ *🔴 دفعہ 191 * = غلط ھدف بندی
‏ * 🔴دفعہ 300 * = قتل
‏ * 🔴دفعہ 309 * = خودکش کوشش
‏ *🔴 دفعہ 310 * = دھوکہ دہی
‏ * 🔴دفعہ 312 * = اسقاط حمل
‏ *🔴 دفعہ 351 * = حملہ کرنا
‏ *🔴 دفعہ 354 * = خواتین کی شرمندگی
‏ *🔴 دفعہ 362 * = اغوا
‏*🔴دفعہ 320* = بغیر لائسنس یا جعلی لائیسنس کے ساتھ ایکسیڈنٹ میں کسی کی موت واقع ہونا (ناقابلِ ضمانت)
‏,*🔴دفعہ 322 = ڈرائیونگ لائسنس کے ساتھ ایکسیڈنٹ میں کسی کی موت واقع ہونا (قابلِ ضمانت)
‏ *🔴 دفعہ 415 * = چال
‏ *🔴 دفعہ 445 * = گھریلو امتیاز
‏ * 🔴دفعہ 494 * = شریک حیات کی زندگی میں دوبارہ شادی کرنا
‏ *🔴 دفعہ 499 * = ہتک عزت
‏ *🔴 دفعہ 511 * = جرم ثابت ہونے پر جرم ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا۔

‏ ہمارے ملک میں، قانون کے کچھ ایسے ہی حقائق موجود ہیں، جس کی وجہ سے ہم واقف ہی نہیں ہیں، ہم اپنے حقوق حصول میں کمی اور ظلم کا شکار رہتے ہیں۔ تو آئیے اس طرح کچھ کرتے ہیں۔ پانچ دلچسپ حقائق * آپ کو معلومات فراہم کرتے ہیں، جو زندگی میں کبھی بھی کارآمد ثابت ہوسکتی ہے۔

‏ 🔴 (1) *شام کو خواتین کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا* -

‏ ضابطہ فوجداری کے دفعہ 46 کے تحت، شام 6 بجے کے بعد اور صبح 6 بجے سے قبل، پولیس کسی بھی خاتون کو گرفتار نہیں کرسکتی، چاہے اس سے کتنا بھی سنگین جرم ہو۔ اگر پولیس ایسا کرتی ہوئی پائی جاتی ہے تو پولیس افسر کے خلاف شکایت (مقدمہ) درج کیا جاسکتا ہے۔ اس سے اس پولیس افسر کی نوکری خطرے میں پڑسکتی ہے۔

‏ *🔴 (2.) سلنڈر پھٹنے سے جان و مال کے نقصان پر 40 لاکھ روپے تک کا انشورینس کا دعویٰ کیا جاسکتا ہے۔

‏ عوامی ذمہ داری کی پالیسی کے تحت، اگر کسی وجہ سے آپ کے گھر میں سلنڈر ٹوٹ جاتا ہے اور آپ کو جان و مال کے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، تو آپ فوری طور پر گیس کمپنی سے انشورنس کور کا دعوی کرسکتے ہیں۔ آپ کو بتادیں کہ گیس کمپنی سے 40 لاکھ روپے تک کی انشورنس دعویٰ کیا جاسکتا ہے۔ اگر کمپنی آپ کے دعوے کو انکار کرتی ہے یا ملتوی کرتی ہے تو پھر اس کی شکایت کی جاسکتی ہے۔ اگر جرم ثابت ہوتا ہے تو ، گیس کمپنی کا لائسنس منسوخ کیا جاسکتا ہے۔

‏ *🔴 (3) کوئی بھی ہوٹل چاہے وہ 5 ستارے ہو… آپ مفت میں پانی پی سکتے ہیں اور واش روم استعمال کرسکتے ہیں * -

‏ سیریز ایکٹ، 1887 کے مطابق، آپ ملک کے کسی بھی ہوٹل میں جا کر پانی مانگ سکتے ہیں اور اسے پی سکتے ہیں اور اس ہوٹل کے واش روم کا استعمال بھی کرسکتے ہیں۔ اگر ہوٹل چھوٹا ہے یا 5 ستارے، وہ آپ کو روک نہیں سکتے ہیں۔ اگر ہوٹل کا مالک یا کوئی ملازم آپ کو پانی پینے یا واش روم کے استعمال سے روکتا ہے تو آپ ان پر کارروائی کرسکتے ہیں۔ آپ کی شکایت کے سبب اس ہوٹل کا لائسنس منسوخ ہوسکتا ہے۔

‏ *🔴 (4) حاملہ خواتین کو برطرف نہیں کیا جاسکتا * -

‏ زچگی بینیفٹ ایکٹ 1961 کے مطابق، حاملہ خواتین کو اچانک ملازمت سے نہیں ہٹایا جاسکتا۔ حمل کے دوران مالک کو تین ماہ کا نوٹس اور اخراجات کا کچھ حصہ دینا ہوگا۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا ہے تو پھر اس کے خلاف سرکاری ملازمت تنظیم میں شکایت درج کی جاسکتی ہے۔ یہ شکایت کمپنی بند ہونے کا سبب بن سکتی ہے یا کمپنی کو جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔

‏ *🔴(5) پولیس افسر آپ کی شکایت لکھنے سے انکار نہیں کرسکتا*

‏ پی پی سی کے سیکشن 166 اے کے مطابق، کوئی بھی پولیس افسر آپ کی شکایات درج کرنے سے انکار نہیں کرسکتا ہے۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو پھر اس کے خلاف سینئر پولیس آفس میں شکایت درج کی جاسکتی ہے۔ اگر پولیس افسر قصور وار ثابت ہوتا ہے تو، اسے کم سے کم * (6) * ماہ سے 1 سال قید ہوسکتی ہے یا پھر اسے اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑ سکتے ہیں۔
‏ یہ دلچسپ حقائق ہیں، جو ہمارے ملک کے قانون کے تحت آتے ہیں، لیکن ہم ان سے لاعلم ہیں۔

‏ *🔴یہ پیغام اپنے پاس رکھیں، یہ حقوق کسی بھی وقت کارآمد ثابت ہوسکتے ہیں۔یہ انفارمیشن ہر پاکستانی شہری کے لیے جاننا ضروری ہے
‏معلومات کے لیے مجھے فالو کیجئیے پوسٹ کو شیئر کریں تاکہ مزید لوگ فائیدہ اٹھائیں

گوجرانوالہ میں عدالت نے خاتون کوجنسی حراساں اوربلیک میل کرنے پہ کیس کافیصلہ سنادیامجرم کودس سال قیداور25لاکھ جرمانہ کی س...
03/10/2023

گوجرانوالہ میں عدالت نے خاتون کوجنسی حراساں اوربلیک میل کرنے پہ کیس کافیصلہ سنادیامجرم کودس سال قیداور25لاکھ جرمانہ کی سزادی گئی

عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم انوارالحق نے خاتون کی قابل اعتراض تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر شئیر کی تھیں جس پہ خاتون کی شکائت پہ سائبر کرائم سرکل گجرانوالہ نے ملزم کے خلاف سال 2021 میں مقدمہ درج کیا تھا۔مقدمے کی سماعت مکمل ہونے پر ایڈیشنل سیشن جج نے انوارلحق کے خلاف ثبوت و دلائل سامنے آنے پہ مجرم قرار دیااور10 سال قید اور 25 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

فیملی کیسز میں نئی اور مفرد تشریح: منڈی بہاوالدین میں جناب محمد عامر منیر، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج نے فیملی مقدمے م...
23/09/2023

فیملی کیسز میں نئی اور مفرد تشریح:

منڈی بہاوالدین میں جناب محمد عامر منیر، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج نے فیملی مقدمے میں فیصلہ دیا ہے کہ خاوند بیوی کی ملکیت کا جہیز کا سامان اپنے پاس روکنے پہ 10000 روپے ماہانہ کرایہ ادا کرے گا۔ یہ کرایہ اس عرصے کے لیے ادا کیا جائے گا جتنے عرصے کے لیے خاوند نے بیوی کی پراپرٹی کو اپنے پاس روکے رکھا اور بیوی کو گھر سے نکلا تھا۔

صرف یہی نہیں اگر خاوند یہ سامان واپس نہیں کرتا تو پھر اس کی اصل قیمت کے ساتھ اس پہ 80٪ depreciation amount بھی دے گا۔

بشکریہ آئین و قانون
Osama bin Mujahid Advocate

Weldone. اللہ اجر دےجنوری کی ٹھنڈی دوپہر  میں ایک بوڑھی اماں جی اسلام آباد کچہری کے باہر دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑی تھ...
02/05/2023

Weldone.
اللہ اجر دے

جنوری کی ٹھنڈی دوپہر میں ایک بوڑھی اماں جی اسلام آباد کچہری کے باہر دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑی تھیں ہلکی ہلکی بارش میں آدھی بھیگی ہوئی تھیں جمعہ کا دن تھا میں دو عدالتوں میں اپنا کام ختم کر کے میں تیز رفتار قدموں سے آفس سے نکلا۔ کچہری کے باہر جیسے ہی گاڑی میں بیٹھنے لگا تو میری نظر ان پر پڑی۔ بڑی اداس اور دیوار کے سہارے کھڑی 90 سالہ بزرگ خاتون ہاتھ میں چند کاغذات جو شاپر میں لپٹے تھے ایسا لگ رہا تھا جیسے زندگی کے سارے مقدمات ہار چکی ہوں۔ گاڑی میں بیٹھا میں حیرت اور تجسس سے انھیں دیکھ ریا تھا۔ آخر کر مجھ سے رہا نہ گیا میں نے ہاہر آکے ان سے پوچھ ہی لیا۔ ماں جی کیوں پریشان ہیں آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے ایک لمحہ کے لیے انھوں نے مجھے نظریں بھر کے دیکھا اور فر بولی۔ بیٹا تم وکیل ہو ۔ میں نے جواب دیا، جی میں وکیل ہوں۔ وہ بولیں میں گاوں ۔۔۔۔۔۔۔۔سے ہوں کچھ جگہ تھی جو میرے خاوند کے مرنے کے بعد میرے رشتےداروں نے ذبردستی مجھ سے انگوٹھے لگوا کر اپنے نام کروا لیں۔ اب میں اپنی پاگل بیٹی کے ساتھ چھوٹے سے گھر میں رہتی تھی کل عدالت کا نوٹس ملا ہے۔انھوں نے مجھے دیگر کاغدات کے ساتھ عدالتی نوٹس نکال کے دیکھا۔ اور ساتھ انکی آنکھیں بھرآئین۔وہ بتانے لگیں بیٹا کسی نے مجھے یہ بتایا ہے کہ عدالت نے جس گھر میں رہتی ہوں وہ بھی میرے رشتےداروں کے نام کر دیا ہے میں پریشان ہوں اپنی پاگل بیٹی کے ساتھ کدھر جاوں گی۔ میرے پاس پیسے نہیں نا کوئی کمانے والا ہے کہ وکیل کی فیس یا دیگر اخراجات برداش کر سکوں۔روتے ہوئے ان کی ہچکی بند گئی میں ان کو اپنے آفس لے گیا میں نے ساری تفصیلات جانیں۔ وہ واقعی ہی عدالتی نوٹس تھا میں نے عدالت سے فائل نکلوائی اماں جی سے وکالت نامہ میں انگوٹھا لگوایا ۔ دعوے کا جواب تیار کر کے عدالت میں داخل کر دیا۔ اماں جی کو چاے پلائی کھانا کھلایا حوصلہ دیا اور کچھ نقد حدیہ دے کر یہ کہتے ہو رخصت کر دیا کہ میں آپ کا وکیل ہوں آپ کا مقدمہ مفت لڑوں گا آپ کو اپنے گھرسے کوئی نہیں نکال سکتا یہ میرا آپ سے وعدہ ہے آپ بے فکر ہو کے گھر جائیے۔
جاتے ہوئے اماں جی قدرے پر اطمینان تھی۔ انھوں نے مجھے ڈھیروں دعائیں دیں۔ آج پورے چار ماہ بعد جمعہ والے دن ہی وہ مقدمہ میں نے جیت لیا ہے آج پھر سماں جی میں نے اپنے آفس میں بلایا تھا اپنی طرف سے مٹھائی پیش کی کہ آپ کی دعاؤں کے سبب مقدمے میں کامیاب ہوا ہوں۔ ان کے چہرے پر مسکراہٹ اور آخری دعا یہ تھی۔ ( پتر تیرا رہتی دنیا تک نام رہے گا انشااللہ )
ازقلم ۔ چوہدری محمد مبین ایڈووکیٹ ہائی کورٹ اسلام آباد. Copy #

قانونی طور پر F.I.R لکھنے اور پڑھنے کا آسان طریقہ کار:ایک F.I.R میں کل 6 کالمز ہوتے ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہںے:کالم نمب...
18/04/2023

قانونی طور پر F.I.R لکھنے اور پڑھنے کا آسان طریقہ کار:

ایک F.I.R میں کل 6 کالمز ہوتے ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہںے:
کالم نمبر ایک میں تاریخ اور وقت وقوعہ درج ہںوتا ہںے جب کہ کالم نمبر2 میں نام و سکونت اطلاع دھندہ مستغیث یعنی مدعی کا ذکر ہںوتا ہںے، کالم نمبر 3 میں مختصر تفصیل جرم، دفعات کا ذکر اور مال اگر کچھ کھو گیا ہںو تو اس کا ذکر ہوتا ہںے، کالم نمبر 4 میں جائے وقوعہ و تھانہ سے سمت کا ذکر ہںوتا ہںے، اگر F.I.R درج کرنے میں تاخیر کی گئی ہںو تو اس کی وجہ کالم نمبر 5 میں درج کی جاتی ہںے اور کالم نمبر 6 میں تھانہ سے روانگی کا وقت اور تاریخ درج ہںوتی ہںے۔

جبکہ ملزم کا ذکر F.I.R کی کہانی میں ملزمان کا ذکر کیا جاتا ہںے، جبکہ F.I.R لکھنے والے پولیس آفیسر کا نام اور عہدہ معہ دستخط نیچے درج کیا جاتا ہںے، F.I.R پڑھنے کے لیے ضروری ہںے کہ F.I.R کی مکمل طور پر Better Copy کروا لیں اس طرح پڑھنے میں آسانی ہںوگی۔

اگر F.I.R اچھی طرح لکھی گئی ہو تو ملزمان کو ضمانت کے لیے کوئی راستہ نہیں ملتا، ایک اچھی F.I.R صرف ماہر فوجداری وکیل (Criminal Lawyer) ہںی لکھ سکتا ہںے اس لیے پولیس کو F.I.R کے لیے تحریر دینے سے پہلے کسی اچھے وکیل سے ضرور رجوع کر لیں کیونکہ پولیس کا کام تحقیقات اور ملزمان کی گرفتاری تک ہںوتا ہںے، ٹرائل میں کردار صرف آپ کے وکیل کا ہںوتا ہںے...!!

19/12/2022

*نادرا کی طرف سے اھم سہولیات:*
1- گاڑی کا چیسز نمبر *8521* پر *sms* کریں، پتا چل جائے گا آپ کی گاڑی چوری کی تو نہیں۔
2- شناختی کارڈ نمبر *7000* پر *sms* کریں، پتا چل جائے گا کہ آپ کا کوئی نقلی کارڈ تو نہیں بنا ہوا۔
3- شناختی کارڈ نمبر *8300* پر *sms* کریں، پتا چل جائے گا کہ آپ کا نام وٹر لسٹ میں ہے یا نہیں اور کہاں درج ہے۔
4- شناختی کارڈ نمبر *668* پر *sms* کریں، پتا چل جائے گا کہ آپ کے شناختی کارڈ پر کس نیٹ ورک کی کتنی سمز ہیں۔
5- شناختی کارڈ نمبر سے پہلے *ATL* لکھیں، اس کے بعد *space* دے کر *9966* پر *sms* کریں، پتا چل جائے گا کہ آپ *filer* ہیں یا *non-filer*۔
6- شناختی کارڈ نمبر *8009* پر *sms* کریں، اپ کا شجر نصب Family Tree پتا چل جائے گا۔
-7 شناختی کارڈ نمبر *8500* پر سینڈ کریں اور پتا چلائیں کہ آپ کا نام صحت کارڈ میں ہے یا نہیں۔

08/11/2022

Copied......
پاکستان کی 74 سالہ عدالتی تاریخ کا سب سے بڑا فیصلہ
‏سپریم کورٹ نے خواتین کی وراثت کے حوالے سے بڑا فیصلہ کر دیا
جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل تین رکنی بینج نے پاکستان کی عدالتی تاریخ کا سب بڑا فیصلہ سنا دیا۔
خواتین کو وراثت میں حق اپنی زندگی میں ہی لینا ہوگا، سپریم کورٹ
خواتین زندگی میں اپنے حق نہ لیں تو انکی وفات کے بعد ان کی اولاد دعویٰ نہیں کر سکتی، سپریم کورٹ
قانون وراثت خواتین کے حق کو تحفظ فراہم کرتا ہے، مگر ‌‎خواتین کو وراثت میں اپنا حق اپنی زندگی میں ہی مانگنا ہوگا۔ اگر خواتین زندگی میں حق دعویٰ دائر نہیں کرینگی تو پھر اولاد کا حق دعویٰ ختم سمجیں۔
اس فیصلے کے بعد اب جتنے کیسز ٹرائل کورٹ ہائی کورٹ، سپریم کورٹ وغیرہ میں زیرِ سماعت ہیں ان پر بھی اثر پڑیگا جو شخص اپنی ماں کے انتقال کے بعد ماں کی وراثت کا حق لینے کے لئے کیس کرے تو آج کے اس فیصلے کے بعد مجھے نہیں لگتا کہ وہ وراثت میں ماں کا حق لے سکے گا۔
چترال کی عدالتوں میں کئی ایسے کیسز بھی چل رہے ہیں جن میں پوتے ، نواسے دادی اور نانی کی وراثت لینے کے لئے بھی عدالتوں میں کیسز دائر کر چکے ہیں آج کے اس تاریخی فیصلے کے بعد مجھے نہیں لگتا کہ کوئی شخص دادی ، نانی کی وراثت سے جائیداد لے سکے گا اگر انہوں نے اپنی زندگی میں والدیں یا بھائیوں سے وراثت میں اپنا حق نا لیا ہو۔
#نوٹ سپریم کورٹ جب کوئی فیصلہ دیتا ہے وہ فیصلہ Precedent سیٹ کرتا ہے اج کے اس فیصلے کی مثال دیتے ہوئے ہزاروں مقدمات پاکستان کے مختلف عدالتوں میں کئی سالوں سے چل رہے ہیں ان مقدمات کو بھی جلدی نمٹایا جائیگا اور مثال سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے کی دی جائے گی۔
2021-SCMR-179

Address

Peshawar
25210

Telephone

+923333123500

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Legal Hawks posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Legal Hawks:

Share

Category