20/04/2026
شناخت سے محرومی ختم — پشاور ہائی کورٹ کا جراتمندانہ فیصلہ، نادرا کو خاتون کا CNIC جاری کرنے کا حکم!
الحمدللہ! آج ایک اور اہم کامیابی حاصل ہوئی جب پشاور ہائی کورٹ نے ایک مظلوم خاتون کے حق میں نہایت اصولی اور قانون کے مطابق فیصلہ صادر فرمایا۔
درخواست گزار ایک شادی شدہ خاتون تھیں جن کے والد کا شناختی کارڈ ریکارڈ پر موجود تھا، والد کی وفات ہو چکی تھی اور باقاعدہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ بھی فراہم کیا گیا تھا۔ مزید یہ کہ خاتون کے پاس مستند برتھ سرٹیفکیٹ بھی موجود تھا۔ اس کے باوجود نادرا حکام نہ صرف ان کی درخواست وصول کرنے سے گریزاں تھے بلکہ شناختی کارڈ کے حصول کے لیے ٹوکن جاری کرنے سے بھی مسلسل انکار کر رہے تھے، جو کہ بنیادی انسانی اور آئینی حقوق کی کھلی خلاف ورزی تھی۔
معزز عدالت عالیہ نے ریکارڈ کا مکمل جائزہ لینے کے بعد نادرا کو واضح ہدایات جاری کیں کہ درخواست گزار کی درخواست فوری طور پر پراسیس کی جائے اور انہیں شناختی کارڈ کے اجرا کے لیے ٹوکن فراہم کیا جائے۔
یہ فیصلہ نہ صرف ایک فرد کی کامیابی ہے بلکہ ان تمام شہریوں کے لیے ایک مضبوط پیغام ہے جو نادرا یا دیگر اداروں کی غیر ضروری رکاوٹوں کا شکار ہوتے ہیں۔ قانون اور عدالت ہمیشہ حق کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔
اگر آپ یا آپ کے کسی جاننے والے کو بھی اسی نوعیت کا مسئلہ درپیش ہے تو قانونی چارہ جوئی آپ کا حق ہے۔
The LawGicals