Law Point

Directions

Law Point Legal Assistance Page for Lawyers and Public

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر کسی گواہ کا بیان عدالت میں لفظ بہ لفظ (Verbatim) درج نہ کیا جائے، یا اس میں غلطی، کمی یا ت...
09/07/2026

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر کسی گواہ کا بیان عدالت میں لفظ بہ لفظ (Verbatim) درج نہ کیا جائے، یا اس میں غلطی، کمی یا تضاد ہو، تو دفعہ 360(2) ضابطۂ فوجداری (Cr.P.C.) کے تحت ٹرائل کورٹ اس اعتراض پر غور کرنے اور درست بیان کو میمورنڈم (Memorandum) کی صورت میں ریکارڈ کا حصہ بنانے کی پابند ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ فوجداری کارروائی کا مقصد محض تکنیکی تقاضے پورے کرنا نہیں بلکہ منصفانہ ٹرائل (Article 10-A) کو یقینی بنانا ہے۔ اگر گواہ یہ مؤقف اختیار کرے کہ اس کا بیان درست طور پر قلم بند نہیں ہوا تو عدالت کو اس کی ویڈیو ریکارڈنگ سے موازنہ کر کے غلطیاں درست کرنی چاہئیں۔ ایسا نہ کرنا غیر قانونی ہے۔

لہٰذا سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کے احکامات کالعدم قرار دیتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو ہدایت دی کہ گواہ کے ویڈیو بیان کا تحریری بیان سے موازنہ کرے، جہاں فرق یا غلطی ہو اسے دفعہ 360(2) Cr.P.C. کے مطابق درست کر کے میمورنڈم ریکارڈ کا حصہ بنائے، پھر فریقین کو دوبارہ دلائل کا موقع دے کر قانون کے مطابق مقدمہ کا فیصلہ کرے۔

خواتین کے حقِ وراثت سے متعلق سپریم کورٹ کے اہم مشاہداتحقِ وراثت مرد خاندان کے افراد کی مرضی سے دیا جانے والا کوئی احسان،...
01/07/2026

خواتین کے حقِ وراثت سے متعلق سپریم کورٹ کے اہم مشاہدات

حقِ وراثت مرد خاندان کے افراد کی مرضی سے دیا جانے والا کوئی احسان، رعایت یا خاندانی روایت پر منحصر حق نہیں، بلکہ شریعتِ اسلامیہ اور قانون کی طرف سے عطا کردہ ایک مستقل اور نافذ شدہ حق ہے، جو مورث کے انتقال کے فوراً بعد خودبخود ورثاء کو منتقل ہو جاتا ہے۔ اس حق کو نجی معاہدوں، خاندانی دباؤ، مشکوک ریونیو اندراجات، جعلی دستاویزات یا قانونی پیچیدگیوں کے ذریعے ختم یا محدود نہیں کیا جا سکتا۔ اسلامی قانونِ وراثت دولت کی منصفانہ تقسیم کا ایک الٰہی نظام ہے، جس کا مقصد خاندان اور معاشرے میں معاشی انصاف قائم کرنا ہے۔ افسوس کہ عملی طور پر خواتین کو آج بھی جعلی ہبہ ناموں، فرضی انتقالات، دھوکہ دہی پر مبنی دستبرداری، خاندانی دباؤ اور طویل عدالتی کارروائیوں کے ذریعے ان کے جائز حقِ وراثت سے محروم کیا جاتا ہے۔

آئینِ پاکستان خواتین کو ان کے قانونی حقِ وراثت سے محروم کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ آرٹیکل 2A اسلام کے بیان کردہ انصاف، مساوات اور سماجی عدل کے اصولوں کو آئین کا حصہ بناتا ہے، آرٹیکل 25 تمام شہریوں کو قانون کے سامنے برابری اور مساوی تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، جبکہ آرٹیکلز 23 اور 24 جائیداد رکھنے، حاصل کرنے اور اس سے محروم نہ کیے جانے کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرتے ہیں۔ آرٹیکل 35 ریاست کو خاندان، ماں اور بچوں کے تحفظ کا پابند بناتا ہے، جبکہ آرٹیکل 227 تمام قوانین کو اسلامی احکام کے مطابق بنانے کا تقاضا کرتا ہے۔ ان تمام آئینی ضمانتوں کو اسلامی احکامِ وراثت کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ ریاست خواتین کو ان کے وراثتی حقوق سے محروم کیے جانے پر خاموش تماشائی نہیں بن سکتی۔ اگر خواتین کو قانون کے تحت ملنے والی جائیداد سے محروم کر دیا جائے تو مساوات اور حقِ ملکیت کی آئینی ضمانتیں محض کاغذی دعوے بن کر رہ جاتی ہیں۔ لہٰذا عدالتوں، ریونیو حکام اور ریاست کے تمام اداروں پر یہ مثبت ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ خواتین کو ان کا حقِ وراثت صرف نظری طور پر نہیں بلکہ عملاً بھی دلوایا جائے۔ کوئی بھی رسم، رواج، خاندانی بندوبست یا ایسا طریقہ کار جس کا نتیجہ کسی خاتون وارث کو اس کے جائز حصے سے محروم کرنا ہو، نہ صرف اسلامی تعلیمات بلکہ آئینِ پاکستان کے بھی منافی ہے۔

یہ ذمہ داری صرف ریاست تک محدود نہیں بلکہ خاندانوں، سماجی رہنماؤں، علماء و خطباء، وکلاء، ریونیو حکام اور سول سوسائٹی پر بھی یکساں عائد ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ وراثتی حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں۔ ایسا معاشرہ جو انصاف کی بات تو کرے لیکن خواتین کو ان کے شرعی و قانونی حقِ وراثت سے محروم کیے جانے پر خاموش رہے، وہ نہ اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ ہے اور نہ ہی آئینی اقدار سے۔ کسی بھی قانونی نظام کی اصل کامیابی اس کے اعلان کردہ حقوق میں نہیں بلکہ ان حقوق کے مؤثر تحفظ میں ہوتی ہے۔ اسی لیے عدالتوں پر لازم ہے کہ وہ ہر ایسے لین دین، معاہدے یا انتظام کا نہایت باریک بینی اور سخت عدالتی جانچ کے ساتھ جائزہ لیں جس کے نتیجے میں کسی خاتون وارث کو وراثت سے محروم کیا جا رہا ہو۔

سپریم کورٹ نے واضح ہدایت کی ہے کہ وراثت کے مقدمات کی سماعت کرنے والی تمام عدالتیں اور ریونیو اتھارٹیز اس اصول کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھیں کہ قانون کا جھکاؤ خواتین کے حقِ وراثت کے تحفظ کی طرف ہے، نہ کہ ان کے حقوق کو ختم کرنے کی طرف۔ لہٰذا ہر ایسا معاملہ، معاہدہ یا انتقال جس سے کسی خاتون وارث کے حقِ وراثت پر زد پڑتی ہو، اسے انتہائی احتیاط، حساسیت اور سخت عدالتی جانچ کے بعد ہی تسلیم کیا جا سکتا ہے۔

C.P.L.A. No. 1103-L of 2016,
Noor Mohammad etc. v. Ghulam Haider etc.,

فریقین اپنے اپنے دعوؤں اور تحریری بیانات کے پابند ہوتے ہیں، اور جو شہادت یا موقف درخواستوں میں بیان کردہ حدود سے تجاوز ک...
01/07/2026

فریقین اپنے اپنے دعوؤں اور تحریری بیانات کے پابند ہوتے ہیں، اور جو شہادت یا موقف درخواستوں میں بیان کردہ حدود سے تجاوز کرے، اس پر عموماً انحصار نہیں کیا جا سکتا۔

Civil Revision No.24315 of 2025
Hafiz Muhammad Shoaib Versus Mohsin Bilal & others.
Date of hearing: 22.06.2026
2026 LHC 4085

خواتین کے وراثتی حقوق پر وفاقی آئینی عدالت کا تاریخی فیصلہ۔۔۔۔C.P.L.A. 143-Q of 2025وفاقی آئینی عدالت نے مقدمہ مذکورہ با...
30/06/2026

خواتین کے وراثتی حقوق پر وفاقی آئینی عدالت کا تاریخی فیصلہ۔۔۔۔
C.P.L.A. 143-Q of 2025
وفاقی آئینی عدالت نے مقدمہ مذکورہ بالا کا فیصلہ کرتے ہوئے خواتین کے وراثتی حقوق کےتحفظکےلیے مندرجہ ذیلقانونیاصول وضح کئے ہیں:

1۔ تمام عدالتیں اور محکمہ مال/ریونیو اتھارٹیز، خواتین وارثان کے حقوقِ وراثت پر اثر انداز ہونے والی دستاویزات پر فیصلہ سازی کرتے وقت، سخت عدالتی جانچ پڑتال (heightened judicial scrutiny) کے اصول کا اطلاق کریں گے، اور ایسے معاملات کو کمزور/مظلوم طبقے کے تحفظ کا معاملہ تصور کریں گے۔

2۔ محض دستاویز کی تعمیل (execution)، تصدیق (attestation)، رجسٹریشن، انتقالِ اراضی (mutation)، یا بظاہر رضامندی کے اظہار کی بنیاد پر اس کے درست یا قانونی ہونے کا کوئی قیاس (presumption of validity) قائم نہیں ہوگا، جب تک کہ اس کی تائید میں مرضی کی رضا کارانہ حیثیت اور مکمل فہم و آگاہی کا سخت ثبوت موجود نہ ہو۔

3۔ متعلقہ لین دین/معاہدے سے فائدہ اٹھانے والے شخص (beneficiary) پر یہ بھاری ذمہ داری (burden of proof) عائد رہے گی کہ وہ معتبر اور غیر مبہم شہادت کے ذریعے مثبت طور پر یہ ثابت کرے کہ مذکورہ دستاویز، تعمیل کنندہ (executant) کے آزادانہ، باخبر اور دانستہ فعل کا نتیجہ ہے۔

4۔ عدالتیں اس امر کو یقینی بنائیں گی کہ ریکارڈ پر یہ ثابت کیا جائے کہ تعمیل کنندہ کو لین دین کی نوعیت اور ان مخصوص حقوقِ وراثت کا واضح علم تھا جن پر اثر پڑ رہا تھا یا جن سے دستبرداری اختیار کی جا رہی تھی۔

5۔ یہ ثابت کرنا لازمی ہوگا کہ تعمیل کنندہ کو کسی بھی قسم کے اثر و رسوخ یا مغلوبیت سے پاک، آزادانہ فیصلہ سازی کے لیے کسی ایسے آزاد، اہل اور غیر جانبدار مشورے تک رسائی حاصل تھی جو باخبر فیصلہ کرنے کے لیے کافی تھا۔

6۔ کسی بھی لین دین کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کی جائے گی تاکہ اس میں جبر و اکراہ (coercion)، دھوکہ دہی (fraud)، غلط بیانی (misrepresentation)، ناجائز اثر و رسوخ (undue influence)، یا خاندانی یا سماجی تسلط کی موجودگی کو خارج از امکان کیا جا سکے۔

7۔ جہاں کسی معاوضے/بدل (consideration) کا دعویٰ کیا گیا ہو، عدالتیں اس بات کا سخت ثبوت طلب کریں گی کہ وہ بدل قانونی، حقیقی، موزوں (adequate) تھا اور قابلِ تصدیق طریقے سے اصل میں وصول پایا گیا تھا۔

8۔ یہ دکھانا لازم ہوگا کہ تمام دستاویزات کا متن تعمیل کنندہ کو ایسی زبان میں پڑھ کر سنایا گیا، سمجھایا گیا اور ترجمہ کر کے دیا گیا جسے وہ مکمل طور پر سمجھتی ہو۔

9۔ عدالتیں اس بات کی تصدیق کریں گی کہ تعمیل کنندہ کو بغیر کسی عجلت یا دباؤ کے، غورو فکر اور مشاورت کے لیے مناسب اور معقول وقت فراہم کیا گیا تھا۔

10۔ کوئی بھی ایسا لین دین جو بادئ نظر میں (prima facie) خلافِ ضمیر/غیر معقول، یکطرفہ، یا خاتون وارث کے لیے غیر متناسب حد تک نقصان دہ ہو، اسے سخت ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جائے گا اور مسترد کیا جائے گا، الا یہ کہ واضح شہادت کے ذریعے اس کا مکمل جواز فراہم کر دیا جائے۔

11۔ ین دین کے ارد گرد موجود تمام مشکوک یا مبہم حالات کی تسلی بخش وضاحت فائدہ اٹھانے والے (beneficiary) کو خود دینا ہوگی؛ بصورتِ دیگر، اس کے خلاف منفی قیاس (adverse inference) قائم کیا جائے گا۔

12۔ ایسے تمام مقدمات میں، حقوقِ وراثت سے محرومی کے کسی بھی فیصلے کو برقرار رکھنے سے پہلے، عدالتوں کے لیے لازم ہے کہ وہ آزادانہ مرضی اور باخبر رضامندی کا ایک مثبت اور حتمی نتیجہ (affirmative finding) ریکارڈ پر تحریر کریں۔

13۔ حکامِ مال (محکمہ مال) انتقالِ اراضی کے مرحلے پر بھی اسی طرح کی احتیاط برتیں گے اور وراثت پر اثر انداز ہونے والے اندراجات کی منظوری اس وقت تک نہیں دیں گے جب تک کہ مذکورہ بالا حفاظتی تدابیر پر واضح طور پر عمل درآمد نہ کر دیا گیا ہو۔

1. استغاثہ کی جانب سے عینی شہادت کے ذریعے اپنے مقدمہ کو ثابت کرنے میں ناکامی کا یہ مطلب نہیں کہ ملزمان بری الذمہ قرار دی...
30/06/2026

1. استغاثہ کی جانب سے عینی شہادت کے ذریعے اپنے مقدمہ کو ثابت کرنے میں ناکامی کا یہ مطلب نہیں کہ ملزمان بری الذمہ قرار دیے جائیں۔ ملزمان کو اس حد تک قانوناً سزا دی جا سکتی ہے جس حد تک واقعہ ایک غیر ترمیم شدہ ویڈیو ریکارڈنگ کی بنیاد پر قطعی طور پر ثابت ہو جائے۔

2. چونکہ تسلیم شدہ حقائق کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، اس لیے فوٹو گرامیٹرک ٹیسٹ صرف اس صورت میں ضروری ہوتا ہے جب شناخت متنازع ہو۔ جہاں دفاع کی جانب سے ویڈیو میں موجود ملزم کی موجودگی اور شناخت کو واضح طور پر تسلیم کر لیا جائے وہاں یہ ٹیسٹ بالکل غیر ضروری ہو جاتا ہے۔

3. غیر ترمیم شدہ ویڈیو ریکارڈنگ ایک ناقابلِ تردید خاموش گواہ کی حیثیت رکھتی ہے جو ناقابلِ اعتماد عینی شہادت کو رد کر سکتی ہے۔ یہ ویڈیو آزادانہ طور پر فوجداری ذمہ داری کو ثابت کرنے اور ایسے ثابت شدہ واقعہ پر سزا کو برقرار رکھنے کے لیے کافی ہو سکتی ہے، مثلاً کشمکش کے دوران غیر ارادی طور پر فائرنگ کا واقعہ، خواہ استغاثہ کا مجموعی مؤقف مکمل طور پر تسلیم نہ کیا جائے۔

Crl. Appeal No. 67344/22
Muhammad Azam etc versus The State etc
Mr. Justice Muhammad Tariq Nadeem
23 June 2026
2026 LHC 3900


آرڈر XX قاعدہ 3 ضابطہ دیوانی اور دفعہ 152 ضابطہ دیوانی کا باہم مطالعہ اس امر کو نمایاں کرتا ہے کہ اگرچہ کسی فیصلے پر دست...
24/02/2026

آرڈر XX قاعدہ 3 ضابطہ دیوانی اور دفعہ 152 ضابطہ دیوانی کا باہم مطالعہ اس امر کو نمایاں کرتا ہے کہ اگرچہ کسی فیصلے پر دستخط ہو جانے کے بعد وہ حتمی حیثیت اختیار کر لیتا ہے اور اصولاً اس میں رد و بدل نہیں کیا جا سکتا، تاہم مقننہ نے ایک محدود اور مخصوص استثنا مہیا کیا ہے۔

اس استثنا کے تحت عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ قلمی یا حسابی غلطیوں، یا کسی اتفاقی لغزش و سہو کے باعث فیصلے یا ڈگری میں در آنے والی خامیوں کی تصحیح کر سکے۔

دفعہ 152 ضابطہ دیوانی کا دائرہ کار اب محلِ نزاع نہیں رہا۔ عدالتی نظائر کے ذریعے یہ اصول مستحکم ہو چکا ہے کہ اس دفعہ کے تحت صرف وہی غلطیاں درست کی جا سکتی ہیں جو ظاہری، غیر ارادی اور تکنیکی نوعیت کی ہوں، جبکہ فیصلے کے جوہر، اس کی بنیاد، یا میرٹ میں کسی قسم کی تبدیلی اس اختیار کے تحت ممکن نہیں۔

A combined reading of the Order XX Rule 3, CPC and 152, C.P.C makes it manifest that although a judgment, once signed, attains finality, the legislature itself has carved out a specific exception enabling correction of clerical or arithmetical mistakes or errors arising from accidental slips or omissions. The scope of section 152, C.P.C. are no longer res integra.

جب کسی جرم کی سزا صرف جرمانہ بھی ہو سکتی ہے (یعنی قید کے متبادل کے طور پر)، تو ضمانت کی سہولت نہ دینا مناسب نہیں۔ اس کی ...
24/02/2026

جب کسی جرم کی سزا صرف جرمانہ بھی ہو سکتی ہے (یعنی قید کے متبادل کے طور پر)، تو ضمانت کی سہولت نہ دینا مناسب نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر مقدمے کی سماعت کے دوران ملزم ضمانت نہ ملنے کی وجہ سے جیل میں رہتا ہے اور آخر میں اسے صرف جرمانے کی سزا سنائی جاتی ہے، تو وہ مدت جو اس نے قید میں بطور انڈر ٹرائل پراسیکیوشن گزاری، وہ دوہری سزا کے مترادف ہوگی۔

، ایسے مقدمات میں ضمانت سے انکار آئین کے آرٹیکل 13(a) کی خلاف ورزی ہوگی، جس میں قانونی اصول
"nemo debet bis vexari pro eadem causa"
(کسی ایک ہی وجہ سے کسی شخص کو دو بار نہیں ستایا جانا چاہیے)
شامل ہے۔ یہ ضابطہ F (تعزیرات) کی دفعہ 403 کی بھی خلاف ورزی ہے، کیونکہ آخر کار اگر ملزم کو صرف جرمانے کی سزا ہوتی ہے، تو مقدمے کی سماعت کے دوران اس کی عدالتی حراست کا ازالہ ممکن نہیں ہوگا۔

یہی روح جنرل کلاز ایکٹ 1897 کی دفعہ 26 میں بھی جھلکتی ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایسی صورت حال میں، درخواست گزار کی جیل میں مسلسل حراست کسی مفید مقصد کی تکمیل کا امکان نہیں رکھتی۔ بہرحال، ضمانت کی سہولت کو قبل از وقت سزا کے طور پر نہیں روکنا چاہیے۔

اس فیصلے سے الگ ہونے سے پہلے، ہم یہ کہنا انتہائی ضروری سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی جیلیں شدید بھیڑ کا شکار ہیں، زیادہ تر جیلیں اپنی مجوزہ گنجائش سے کہیں زیادہ قیدیوں سے بھری ہوئی ہیں۔ جیلوں کے آبادی کے اعداد و شمار کی رپورٹ برائے سال 2024 کے مطابق، اوسطاً جیلیں اپنی گنجائش سے 152.2% زیادہ بھری ہوئی ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ زیرِ سماعت قیدی کل قیدی آبادی کا تقریباً ایک چوتھائی یعنی 73.41% ہیں۔ ایسی صورت میں، عدالتوں کو ضمانت کی درخواستوں کا فیصلہ ان اعداد و شمار کے پیش نظر انتہائی حساسیت کے ساتھ کرنا چاہیے اور مقدمات کے فوری نمٹانے کو ترجیح دینی چاہیے۔ جیلوں میں اس بے مثال بھیڑ پر قابو پانے اور پاکستان میں تعزیراتی نظام کے بنیادی تقدس کو برقرار رکھنے کے لیے ایسے اقدامات ناگزیر ہیں۔

10/02/2026



07/02/2026
07/02/2026



Address

Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Law Point posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category