09/07/2026
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر کسی گواہ کا بیان عدالت میں لفظ بہ لفظ (Verbatim) درج نہ کیا جائے، یا اس میں غلطی، کمی یا تضاد ہو، تو دفعہ 360(2) ضابطۂ فوجداری (Cr.P.C.) کے تحت ٹرائل کورٹ اس اعتراض پر غور کرنے اور درست بیان کو میمورنڈم (Memorandum) کی صورت میں ریکارڈ کا حصہ بنانے کی پابند ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ فوجداری کارروائی کا مقصد محض تکنیکی تقاضے پورے کرنا نہیں بلکہ منصفانہ ٹرائل (Article 10-A) کو یقینی بنانا ہے۔ اگر گواہ یہ مؤقف اختیار کرے کہ اس کا بیان درست طور پر قلم بند نہیں ہوا تو عدالت کو اس کی ویڈیو ریکارڈنگ سے موازنہ کر کے غلطیاں درست کرنی چاہئیں۔ ایسا نہ کرنا غیر قانونی ہے۔
لہٰذا سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کے احکامات کالعدم قرار دیتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو ہدایت دی کہ گواہ کے ویڈیو بیان کا تحریری بیان سے موازنہ کرے، جہاں فرق یا غلطی ہو اسے دفعہ 360(2) Cr.P.C. کے مطابق درست کر کے میمورنڈم ریکارڈ کا حصہ بنائے، پھر فریقین کو دوبارہ دلائل کا موقع دے کر قانون کے مطابق مقدمہ کا فیصلہ کرے۔