Advocate Saqib Wakeel

Directions

Advocate Saqib Wakeel Advocate and legal consultant

ایمرجنسی اور گورنر راج کیخلاف تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ میں دائر رٹ میں ترمیم کی درخواست کردیخیبر پختونخوا اسمبلی کی...
19/10/2026

ایمرجنسی اور گورنر راج کیخلاف تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ میں دائر رٹ میں ترمیم کی درخواست کردی

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قرارداد کے بغیر ایمرجنسی کا اعلان غیر آئینی قرار دینے کی استدعا
بیرسٹر گوہر علی خان نے رٹ پٹیشن میں ترمیم کی درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 232(1) کے پہلے پروویزو کے تحت صوبے میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کے لیے صوبائی اسمبلی کی قرارداد لازمی ہے تاہم خیبر پختونخوا اسمبلی سے ایسی کوئی قرارداد منظور نہیں کی گئی۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ صوبائی اسمبلی کی قرارداد کے بغیر ہنگامی حالت کے اعلان کے بعد قومی اسمبلی، سینیٹ اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظوری حاصل کرنا آئینی تقاضے کی عدم تکمیل کا متبادل نہیں ہوسکتا۔

خیبر پختونخوا بار کونسل کا گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف آئینی و قانونی اقدامات کا اعلان، 19 اکتوبر کو صوبہ بھر میں ہڑت...
17/10/2026

خیبر پختونخوا بار کونسل کا گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف آئینی و قانونی اقدامات کا اعلان، 19 اکتوبر کو صوبہ بھر میں ہڑتال ہوگی۔

KP bar Council Notification regarding current situation and Emergency
12/10/2026

KP bar Council Notification regarding current situation and Emergency

خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی؟ ان دونوں کے درمیان فرق جانیں۔ثاقب وکیل،ایڈووکیٹ📍 Office No. 9-A, First Floor, N...
11/10/2026

خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی؟ ان دونوں کے درمیان فرق جانیں۔
ثاقب وکیل،ایڈووکیٹ
📍 Office No. 9-A, First Floor, Nasir Mansion, Shoba Bazaar, Railway Road, Peshawar Cantt.
🏢 Chamber: New Judicial Complex, Near Family Courts, Peshawar
📞 Phone / WhatsApp: 0331-4267614
📧 [email protected]

Governor rule Or Emergency : ایک آئینی و قانونی جائزہوفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ...
11/10/2026

Governor rule Or Emergency
: ایک آئینی و قانونی جائزہ
وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی یا آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کے نفاذ کی خبریں گردش میں ہیں۔ آئینی نقطۂ نظر سے یہ محض ایک سیاسی بحث نہیں بلکہ وفاقیت، پارلیمانی جمہوریت اور بنیادی حقوق کا بنیادی سوال ہے۔ آئین نے ہنگامی اختیارات غیر معمولی حالات کے لیے رکھے ہیں، معمول کے سیاسی اختلافات کے لیے نہیں۔ اس مضمون میں آئینی متن، اس کے مقصد اور عدالتی اصولوں کی روشنی میں جائزہ لیا گیا ہے کہ کیا خیبر پختونخوا میں ایسی کوئی صورتحال موجود ہے جو ان اختیارات کے استعمال کا جواز بن سکے۔
۱۔ آرٹیکل 232 کی آئینی شرائط
آرٹیکل 232 صدرِ مملکت کو ایمرجنسی کے اعلان کا اختیار صرف اس صورت میں دیتا ہے جب پاکستان یا اس کے کسی حصے کی سلامتی جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسے داخلی انتشار کے باعث خطرے میں ہو جو صوبائی حکومت کے قابو سے باہر ہو۔ اس اختیار کے استعمال کے لیے تین عناصر لازم ہیں:
• سنگین نوعیت کا خطرہ: معمولی امن و امان کا مسئلہ، سیاسی جلسہ یا مارچ "سلامتی کو خطرہ" کے زمرے میں نہیں آتا۔
• صوبائی حکومت کی بے بسی: آئین کے الفاظ کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ انتشار صوبائی حکومت کی قدرت سے باہر ہو۔ اگر صوبائی حکومت صورتحال کو قابو میں رکھے ہوئے ہے تو یہ شرط ہی پوری نہیں ہوتی۔
• معروضی بنیاد: صدر کی "اطمینان" کا مطلب ذاتی یا سیاسی رائے نہیں بلکہ قابلِ تصدیق حقائق پر مبنی رائے ہے۔
اس کے علاوہ آئین کی رو سے اعلان کو دس روز کے اندر پارلیمنٹ کے سامنے منظوری کے لیے پیش کرنا لازم ہے، اور ایمرجنسی غیر معینہ مدت کے لیے نہیں ہوتی۔ یہ پارلیمانی نگرانی اس بات کی علامت ہے کہ آئین ساز اس اختیار کو استثنائی اور مشروط سمجھتے تھے۔
۲۔ آرٹیکل 232 کے تحت وفاق کے اختیارات کی حدود
ایمرجنسی کے دوران بھی آئین نے حدود قائم رکھی ہیں:
• پارلیمنٹ صوبے یا اس کے کسی حصے کے بارے میں قانون سازی کر سکتی ہے، اور وفاق کا انتظامی اختیار صوبے کو ہدایات دینے تک وسیع ہو جاتا ہے۔
• وفاقی حکومت صوبائی حکومت کے فرائض خود سنبھال سکتی ہے یا گورنر کو تفویض کر سکتی ہے۔
• تاہم ہائی کورٹ کا کوئی اختیار سنبھالا یا معطل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ عدلیہ کی آزادی کی آئینی ضمانت ہے اور اسی کے ذریعے ایسے اقدامات کا عدالتی جائزہ ممکن رہتا ہے۔
یہ امر قابلِ غور ہے کہ ایمرجنسی کا مقصد صوبے کی منتخب حکومت کو بے دخل کرنا نہیں بلکہ ایک سنگین بحران پر قابو پانا ہے۔ جب بحران ہی موجود نہ ہو تو اختیارات کا یہ پورا ڈھانچہ بے محل ہو جاتا ہے۔
۳۔ آرٹیکل 234 اور آئینی مشینری کی ناکامی
آرٹیکل 234 کا دائرہ مختلف ہے۔ اس کا اطلاق اس وقت ہوتا ہے جب گورنر کی رپورٹ پر صدر اس نتیجے پر پہنچیں کہ صوبے کی حکومت آئین کے مطابق چلانا ممکن نہیں رہا۔ اس کی اہم شرائط یہ ہیں:
• صوبائی مشینری کا حقیقی آئینی انہدام، مثلاً حکومت سازی کا تعطل، اسمبلی کا غیر فعال ہو جانا یا انتظامیہ کا آئینی احکام ماننے سے انکار۔
• اعلان کے بعد ہر دو ماہ مکمل ہونے پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظوری لازم ہے۔
• گورنر راج کی مجموعی مدت چھ ماہ سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔
• اس آرٹیکل کے تحت بھی ہائی کورٹ کے اختیارات میں مداخلت کی اجازت نہیں۔
اہم ترین بات یہ ہے کہ آرٹیکل 234 سیاسی عدم اطمینان یا کسی جماعت کی پالیسیوں سے اختلاف کی بنیاد پر منتخب حکومت کو ہٹانے کا ذریعہ نہیں۔ جس صوبے میں اسمبلی کام کر رہی ہو، قانون سازی ہو رہی ہو اور حکومت اپنے آئینی فرائض ادا کر رہی ہو، وہاں "مشینری کی ناکامی" کا دعویٰ حقائق کے منافی ہوگا۔
۴۔ پُرامن احتجاج: ایک آئینی حق
آئین کا آرٹیکل 16 شہریوں کو امنِ عامہ کے مفاد میں قانون کے ذریعے عائد معقول پابندیوں کے تابع پُرامن اور بلا اسلحہ اجتماع کا حق دیتا ہے۔ آرٹیکل 17 انجمن سازی اور سیاسی جماعت بنانے کا حق دیتا ہے، اور آرٹیکل 19 آزادیٔ اظہار کا تحفظ کرتا ہے۔ جمہوری نظام میں لانگ مارچ، دھرنا اور جلسہ سیاسی جدوجہد کے جائز ذرائع ہیں۔
اس ضمن میں تاریخی حقائق بھی اہم ہیں۔ مریم نواز کا لانگ مارچ ہو یا پاکستان پیپلز پارٹی کا لانگ مارچ، ان کے خلاف کبھی یہ مؤقف اختیار نہیں کیا گیا کہ اس سے صوبائی حکومت یا آئینی نظام ناکام ہو گیا۔ اگر وہ سرگرمیاں جمہوری عمل کا حصہ تھیں تو خیبر پختونخوا سے متعلق وہی سرگرمی "داخلی انتشار" کیسے بن سکتی ہے؟ آئین کے آرٹیکل 4 کے تحت ہر شہری اور ہر سیاسی قوت سے قانون کے مطابق برابری کا سلوک لازم ہے، اور آرٹیکل 25 مساوات کی ضمانت دیتا ہے۔ ایک ہی عمل پر مختلف جماعتوں اور صوبوں کے لیے مختلف پیمانہ امتیازی اور غیر آئینی ہوگا۔
۵۔ زمینی حقائق: انتشار کا کوئی ثبوت نہیں
آئینی شرائط کو زمینی حقائق پر پرکھیں تو تصویر واضح ہے:
• صوبائی اسمبلی فعال ہے، اس کے اجلاس ہو رہے ہیں اور قانون سازی کا عمل جاری ہے۔
• پارلیمانی کمیٹیاں کام کر رہی ہیں، جو انتظامی نگرانی اور جوابدہی کا بنیادی ذریعہ ہیں۔
• ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح ہو رہے ہیں، جو انتظامی مشینری کے فعال ہونے کی دلیل ہے۔
• لانگ مارچ ملک کے دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں سے پُرامن طور پر گزرا، جو صوبائی انتظامیہ کے امن و امان پر کنٹرول اور مارچ کے پُرامن کردار دونوں کا ثبوت ہے۔
جب حکومت، اسمبلی اور کمیٹیاں سب آئینی طور پر کام کر رہی ہوں اور ایک بڑا عوامی اجتماع بغیر کسی سانحے کے اختتام پذیر ہو، تو آرٹیکل 232 کی "قابو سے باہر انتشار" والی شرط اور آرٹیکل 234 کی "مشینری کی ناکامی" والی شرط، دونوں سے متعلق کوئی ثبوت موجود نہیں۔ جو اقدام حقائق کی بنیاد کے بغیر اٹھایا جائے وہ بدنیتی (mala fide) اور اختیارات کے غلط استعمال کے زمرے میں آتا ہے۔
۶۔ وفاقیت اور صوبائی خودمختاری
پاکستان کا آئین وفاقی ہے، اور اٹھارہویں ترمیم نے صوبائی خودمختاری کو مزید مضبوط کیا۔ آرٹیکل 148 وفاق پر ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ اس امر کو یقینی بنائے کہ ہر صوبے کی حکومت آئین کے مطابق چلے۔ یعنی وفاق کا بنیادی فریضہ صوبائی حکومت کو سہارا دینا ہے، اسے ہٹانا نہیں۔ ہنگامی اختیارات کا غیر ضروری استعمال اس وفاقی توازن کو بگاڑ دیتا ہے اور صوبوں میں احساسِ محرومی کو جنم دیتا ہے، جو قومی یکجہتی کے لیے نقصان دہ ہے۔
۷۔ بنیادی حقوق پر ممکنہ اثرات
آئین کا آرٹیکل 233 ایمرجنسی کے دوران بعض بنیادی حقوق (جن میں اجتماع، انجمن سازی اور اظہار کی آزادی شامل ہیں) کی معطلی کی گنجائش رکھتا ہے۔ اسی لیے ایمرجنسی کا غلط استعمال محض انتظامی نہیں بلکہ بنیادی حقوق کے لیے براہِ راست خطرہ بن سکتا ہے۔ ایک ایسی حکومت جس نے پُرامن مارچ کی اجازت دی ہو، اس کے خلاف ایمرجنسی لگا کر انہی حقوق کو سلب کرنے کی راہ ہموار کرنا آئین کی روح کے منافی ہے۔
۸۔ عدالتی جائزے کا اصول
پاکستان کی اعلیٰ عدالتیں یہ اصول بارہا طے کر چکی ہیں کہ آئینی اختیارات کے استعمال میں "اطمینان" کا مطلب مطلق صوابدید نہیں بلکہ ایسی رائے ہے جو قابلِ تصدیق مواد پر قائم ہو، اور عدالت یہ جائزہ لے سکتی ہے کہ آیا اختیار آئینی حدود میں رہ کر استعمال ہوا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے، مثلاً سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن بنام وفاقِ پاکستان (PLD 2009 SC 879) میں ایمرجنسی کے اعلان کی غیر آئینی حیثیت اور وفاقِ پاکستان بنام محمد سیف اللہ خان (PLD 1989 SC 166) میں اسمبلی کی تحلیل کے جائزے کی نظیریں اس اصول کی عکاس ہیں۔ آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ اور آرٹیکل 184(3) کے تحت سپریم کورٹ ایسے کسی بھی اعلان کا جائزہ لینے کی مجاز ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ آئین ہائی کورٹ کے اختیارات کو ہر حال میں محفوظ رکھتا ہے۔
۹۔ سیاسی ذمہ داری اور آئین سے وفاداری
جو سیاسی قوتیں حقائق اور آئینی شرائط کی موجودگی کے بغیر ایمرجنسی یا گورنر راج کی حمایت کر رہی ہیں، وہ دراصل اس آئینی ڈھانچے کو کمزور کرنے میں شریک ہو رہی ہیں جس کی بنیاد پر خود ان کا سیاسی وجود قائم ہے۔ آج ایک صوبے کے خلاف ہنگامی اختیارات کی حمایت کل کسی دوسرے صوبے یا خود ان کے اپنے خلاف نظیر بن سکتی ہے۔ آئین سے وفاداری کا تقاضا یہ ہے کہ سیاسی اختلاف ایوان، عدالت اور انتخابی میدان میں طے ہو، نہ کہ ہنگامی اختیارات کے ذریعے۔
نتیجہ
مندرجہ بالا تجزیے کی روشنی میں:
1. آرٹیکل 232 کی بنیادی شرط، یعنی صوبائی حکومت کے قابو سے باہر داخلی انتشار، موجود نہیں۔
2. آرٹیکل 234 کی بنیادی شرط، یعنی آئینی مشینری کی ناکامی، بھی موجود نہیں۔
3. پُرامن احتجاج آرٹیکل 16، 17 اور 19 کے تحت محفوظ آئینی حق ہے، اور دیگر جماعتوں کے لانگ مارچ اس کی نظیر ہیں۔
4. ایسا کوئی بھی اقدام آرٹیکل 4 اور 25 کی مساوات کی ضمانت کی خلاف ورزی اور بدنیتی کے الزام کی زد میں آ سکتا ہے۔
5. اس کا آئینی جائزہ عدالتوں کے سامنے لازماً ممکن ہوگا۔
سیاسی اختلافات کا آئینی حل مکالمہ، پارلیمانی عمل اور عوام کا ووٹ ہے۔ ہنگامی اختیارات کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنا نہ آئین کی روح سے مطابقت رکھتا ہے اور نہ جمہوری روایات سے۔
ثاقب وکیل،ایڈووکیٹ
📍 Office No. 9-A, First Floor, Nasir Mansion, Shoba Bazaar, Railway Road, Peshawar Cantt.
🏢 Chamber: New Judicial Complex, Near Family Courts, Peshawar
📞 Phone / WhatsApp: 0331-4267614
📧 [email protected]

FBR Tax ReturnsDate extend till 15 October 2026Saqib Wakeel   Advocate 📍 Office No. 9-A, First Floor, Nasir Mansion, Sho...
03/10/2026

FBR Tax Returns

Date extend till 15 October 2026

Saqib Wakeel
Advocate
📍 Office No. 9-A, First Floor, Nasir Mansion, Shoba Bazaar, Railway Road, Peshawar Cantt.
🏢 Chamber: New Judicial Complex, Near Family Courts, Peshawar
📞 Phone / WhatsApp: 0331-4267614
📧 [email protected]

A serious concern for legal educationOut of 1,024 candidates who appeared for the KPPSC Civil Judge examination, only 3 ...
30/09/2026

A serious concern for legal education

Out of 1,024 candidates who appeared for the KPPSC Civil Judge examination, only 3 qualified.
This result raises serious questions about the academic standards, classroom attendance, and quality of legal education. The same rigorous standards should be applied equally to all private law colleges.
Quality legal education is essential for a strong justice system.

چوہنگ پولیس کے اہلکار سمیت دیگر کیخلاف توہین عدالت  کیس میں آئی جی پنجاب کی جانب سے ایف آئی آر کے فونٹ سے متعلق رپورٹ...
29/09/2026

چوہنگ پولیس کے اہلکار سمیت دیگر کیخلاف توہین عدالت کیس میں آئی جی پنجاب کی جانب سے ایف آئی آر کے فونٹ سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کردی۔درخواست گزار نے توہین عدالت کی درخواست واپس لینے کی استدعا کردی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پورے پنجاب میں ایف آئی آر کے اندراج پر ایک ہی فونٹ کو لاگو کردیاگیا ہے،ایف آئی آر کے اندراج کا فونٹ14ہوگا۔

ثاقب وکیل،ایڈووکیٹ
📍 Office No. 9-A, First Floor, Nasir Mansion, Shoba Bazaar, Railway Road, Peshawar Cantt.
🏢 Chamber: New Judicial Complex, Near Family Courts, Peshawar
📞 Phone / WhatsApp: 0331-4267614
📧 [email protected]

20/09/2026

خیبر پختونخوا بار کونسل

پریس ریلیز

پشاور، 20 ستمبر 2026ء

مردان کے سینئر وکیل امیر اعجاز خان کی فوری بازیابی کا مطالبہ، کل صوبہ بھر میں وکلاء ہڑتال کا اعلان، کوہاٹ پولیس لائن مسجد دھماکے کی شدید مذمت

خیبر پختونخوا بار کونسل کے وائس چیئرمین اسفندیار خان اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی ملک عماد اعظم ایڈووکیٹ نے مردان کے سینئر وکیل امیر اعجاز خان ایڈووکیٹ کے مبینہ اغواء/گمشدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ امیر اعجاز خان ایڈووکیٹ کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے اور واقعے کی مکمل، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرکے ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ایک سینئر وکیل کا اس طرح لاپتہ ہونا انتہائی تشویشناک ہے، حکومت فوری طور پر اس واقعے کا نوٹس لے اور امیر اعجاز خان کی بحفاظت بازیابی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے۔

خیبر پختونخوا بار کونسل کے ممبر علی زمان ایڈووکیٹ کی درخواست پر امیر اعجاز خان ایڈووکیٹ کی فوری بازیابی کے مطالبے کے حق میں کل 21 ستمبر 2026ء کو صوبہ بھر میں مکمل وکلاء ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے۔ صوبے بھر کی تمام بار ایسوسی ایشنز کے وکلاء کل عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے اور عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کریں گے۔

دریں اثناء وائس چیئرمین اسفندیار خان اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی ملک عماد اعظم ایڈووکیٹ نے کوہاٹ پولیس لائن مسجد میں نمازِ جمعہ کے دوران ہونے والے بم دھماکے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے اس افسوسناک واقعے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف، غیر جانب دارانہ اور فوری تحقیقات مکمل کرکے ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق کٹہرے میں لایا جائے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ دھماکے میں شہید ہونے والے تمام افراد کے لواحقین اور تمام زخمیوں، بالخصوص زخمی ہونے والے وکیل ملک جواد ایڈووکیٹ کو بھی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے خصوصی حکومتی پیکیج میں شامل کیا جائے۔ تمام شہداء کے خاندانوں کو فوری مالی معاونت فراہم کی جائے جبکہ زخمیوں کے علاج معالجے کے تمام اخراجات حکومت برداشت کرے۔

وائس چیئرمین اسفندیار خان اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی ملک عماد اعظم ایڈووکیٹ نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے شہداء کے درجات کی بلندی، پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل اور تمام زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔

انہوں نے کہا کہ وکلاء اور عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے، لہٰذا وکلاء کے خلاف پیش آنے والے واقعات، اغواء و گمشدگی اور دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کیے جائیں۔

بتسلیمات:

نواز خان عادل
پبلک ریلیشنز آفیسر
خیبر پختونخوا بار کونسل، پشاور

صرف کسی شخص کے انگوٹھے کا نشان کسی پرونوٹ پر موجود ہونا اس بات کا حتمی ثبوت نہیں کہ اس نے وہ پرونوٹ شعوری اور رضاکارانہ ...
18/09/2026

صرف کسی شخص کے انگوٹھے کا نشان کسی پرونوٹ پر موجود ہونا اس بات کا حتمی ثبوت نہیں کہ اس نے وہ پرونوٹ شعوری اور رضاکارانہ طور پر قرض کے لین دین کے لیے جاری کیا تھا۔

عدالت نے واضح کیا کہ Negotiable Instruments Act, 1881 کی دفعہ 118(a) کے تحت زرِعوض (consideration) کی قانونی قرینہ موجود ہے، لیکن یہ قرینہ ناقابلِ تردید نہیں۔ جب مدعا علیہ مخصوص اور قابلِ اعتبار دفاع پیش کرے کہ انگوٹھے کے نشانات خالی کاغذات پر حاصل کرکے بعد میں پرونوٹ تیار کیا گیا، تو عدالت کو محض دفعہ 118 کا سہارا لینے کے بجائے پورے شواہد کا مجموعی جائزہ لینا ہوگا۔

موجودہ معاملے میں سابقہ فوجداری مقدمات، خالی کاغذات پر انگوٹھا لگوانے کا مخصوص مؤقف، نوٹری رجسٹر میں متعلقہ اندراج کا نہ ہونا، مدعا علیہان کی جانب سے اسی پرونوٹ کی منسوخی کے لیے پہلے سے کارروائی، اور 10 لاکھ روپے قرض دینے کے ذرائع و حالات کی تسلی بخش وضاحت نہ ہونا—ان تمام حالات کو مجموعی طور پر دیکھنے سے عدالت نے پرونوٹ کو حقیقی اور شعوری طور پر جاری کیا جانا ثابت شدہ نہیں سمجھا۔

اہم اصول:

> دفعہ 118(a) کا قانونی قرینہ صرف حقیقی اور ثابت شدہ Negotiable Instrument کے حامل کی مدد کرتا ہے؛ یہ اس بنیادی حقیقت کا متبادل نہیں کہ متنازعہ دستاویز واقعی مدعا علیہ نے شعوری اور رضاکارانہ طور پر قرض کے لین دین کے لیے execute کی تھی۔

لہٰذا عدالت نے اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا، جس کے تحت 10,00,000 روپے کی وصولی کا دعویٰ ناکام قرار دیا گیا۔

ثاقب وکیل،ایڈووکیٹ
📍 Office No. 9-A, First Floor, Nasir Mansion, Shoba Bazaar, Railway Road, Peshawar Cantt.
🏢 Chamber: New Judicial Complex, Near Family Courts, Peshawar
📞 Phone / WhatsApp: 0331-4267614
📧 [email protected]

Address

Peshawar
25000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Advocate Saqib Wakeel posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share