𝐀𝐥 𝐐𝐚𝐫𝐧𝐢 𝐋𝐚𝐰 𝐀𝐬𝐬𝐨𝐜𝐢𝐚𝐭𝐞𝐬

  • Home
  • Pakistan
  • Peshawar
  • 𝐀𝐥 𝐐𝐚𝐫𝐧𝐢 𝐋𝐚𝐰 𝐀𝐬𝐬𝐨𝐜𝐢𝐚𝐭𝐞𝐬

𝐀𝐥 𝐐𝐚𝐫𝐧𝐢 𝐋𝐚𝐰 𝐀𝐬𝐬𝐨𝐜𝐢𝐚𝐭𝐞𝐬 Legal Practitioners And Consultants.
(1)

29/12/2025

Al Qarni Law Associates proudly announces and congratulates Mr. Itisam Ullah, Advocate and Mr. Muhammad Islam, Advocate on their promotion from Internee to Associate, and on their enrollment as Advocates with the Khyber Pakhtunkhwa Bar Council.

We extend our best wishes for their continued success and a distinguished legal career ahead.
Best of luck and every success.

Team Al Qarni Law Associates

پاکستانی خاتون کی افغانی مرد سے شادی پر، کیا اس کے خاوند کو پاکستان اوریجن کارڈ اور ان کے بچوں کو شہریت ملے گی یا نہیں ،...
11/10/2025

پاکستانی خاتون کی افغانی مرد سے شادی پر، کیا اس کے خاوند کو پاکستان اوریجن کارڈ اور ان کے بچوں کو شہریت ملے گی یا نہیں ، اس قضیے پر پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ !

اس کیس میں مدعیہ کی طرف سے آئین و قانون کے شریک بانی ذوالقرنین القرنی ایڈوکیٹ ہائی کورٹ پیش ہوئے۔

کیس کے مختصر حقائق:

پاکستانی شہری خاتون (مدعیہ) نے ایک افغان شہری مرد سے شادی کی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے نادرہ کو رجوع کرتے ہوئے اس کے خاوند کے حق میں پی او سی( Pakistani origin Card) کارڈ /شہریت کی استدعا کی، لیکن نادرہ نے اس پر کوئی عمل درآمد نہیں کیا۔ جس کی وجہ انہیں پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کرنا پڑا ۔

عدالت کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا کہ کیا ایک پاکستانی خاتون کے افغانی شوہر کو پی او سی کارڈ جاری کیا جاسکتا ہے یا نہیں ؟

عدالت نے اس سوال کے جواب کے لیے اپنے فیصلہ (Mst. Naureen Masood etc Vs
Government of Pakistan throush Secretarr. Ministry
of Interior. Islamabad etc) کی
طرف رجوع کیا۔
2024 KPLJ 303

جس کے اہم درجات درج زیل ہیں۔

1.عدالت نے واضح کیا کہ اگر شوہر یا بیوی میں سے کوئی ایک پاکستانی شہری ہو تو ان کے بچوں کی رجسٹریشن میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالی جا سکتی۔ صرف یہ ضروری ہے کہ پاکستانی شریکِ حیات پہلے نادرا میں اپنا ازدواجی اسٹیٹس درست کروائے۔ عدالت نے نادرا کو ہدایت دی کہ رجسٹریشن کے اس عمل کو آسان، تیز اور بغیر کسی غیرضروری مشکل کے کیا جائے۔

2. پاکستانی شہریت کے معاملے پر عدالت نے کہا کہ درخواست گزار باقاعدہ طریقے سے وزارتِ داخلہ( نادرا) کو اپنی درخواست جمع کرا سکتے ہیں۔ اگر میاں بیوی میں سے ایک پاکستانی اور دوسرا غیرملکی ہو تو درست ویزا یا پاسپورٹ دکھانا لازمی نہیں ہوگا۔ تاہم نادرا اضافی ثبوت مانگ سکتا ہے اور اطمینان کے بعد POC جاری کرے گا۔ اگر درخواست نامکمل ہو تو نادرا وجہ بتاتے ہوئے تحریری طور پر آگاہ کرے گا۔

عدالت نے اوپر زکر شدہ فیصلہ پر انحصار کرتے ہوئے یہ حکم دیا کہ مدعی اپنے پی او سی کارڈ کے اجراء کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع کرے اور اور حکام کو سختی سے اسے ڈیپورٹ کرنے سے روک بھی دیا۔۔

نوٹ: یاد رہے کہ یہ فیصلہ اس لیے اہم ہے کہ حکومت کی طرف کئی ایسے لوگوں کو ڈیپورٹ کیا جارہا ہے اور کیا جا چکا ہے، جن کو قانون پاکستان میں بطور شہری رہنے کا حق دیتا ہے۔

تحریر کردہ:
ایڈوکیٹ مدثر اقبال
ممبر آئین و قانون

پاکستان بار کونسل نے پاکستان لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسلز رولز 1976 میں نیا قاعدہ 108-C (6) شامل کیا ہے، جس میں قانون...
24/01/2025

پاکستان بار کونسل نے پاکستان لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسلز رولز 1976 میں نیا قاعدہ 108-C (6) شامل کیا ہے، جس میں قانون کے طلبہ اور اپرنٹس کے لیے یونیفارم اور ضابطہ اخلاق وضع کیا گیا ہے:

The Pakistan Bar Council has added a new Rule 108-C (6) to the Pakistan Legal Practitioners and Bar Councils Rules, 1976, outlining the uniform and conduct for law students and apprentices:

👨‍💼مرد طلبہ کے لیے یونیفارم:
سفید قمیض، سرمئی کوٹ، اور میرون ٹائی۔

Uniform for Male students:
White shirt, gray coat, maroon tie.

👩‍💼خواتین طلبہ کے لیے یونیفارم:
سرمئی کوٹ کے ساتھ میرون دوپٹہ/شال/اسکارف۔

Female students: Gray coat with maroon dupatta/shawl/scarf

👨‍💼مرد اپرنٹس کے لیے یونیفارم:
سفید قمیض، سیاہ کوٹ، اور میرون ٹائی۔

Male apprentices: White shirt, black coat, maroon tie.

👩‍💼خواتین اپرنٹس کے لیے یونیفارم:
سیاہ کوٹ کے ساتھ میرون دوپٹہ/شال/اسکارف۔

Female apprentices: Black coat with maroon dupatta/shawl/scarf.

عدالت میں تحقیق کے لیے آنے والے قانون کے طلبہ کو مقررہ لباس کی پابندی کرنی ہوگی۔

Law students attending court for research must adhere to the prescribed dress code.

🟢 ضابطہ اخلاق:
طلبہ اور اپرنٹس کو بار کونسل اور بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں مہم چلانے یا حصہ لینے کی اجازت نہیں ہوگی۔

Students and apprentices are prohibited from campaigning or participating in Bar Council and Bar Association elections.

🔴 عدم تعمیل کی صورت میں:

1. بار کونسل کو شکایت:
اگر خلاف ورزی ثابت ہو جائے تو اپرنٹس شپ کی مدت 12 ماہ تک بڑھا دی جائے گی۔

2. ادارے کو شکایت:
اگر خلاف ورزی ثابت ہو جائے تو اپرنٹس شپ کی مدت 18 ماہ تک بڑھا دی جائے گی۔

In case of Non-Compliance:

Complaints to the Bar Council: If proven, the apprenticeship period may be extended to 12 months.

Complaints to the institution: If proven, the apprenticeship period may be extended to 18 months.

𝐀𝐥 𝐐𝐚𝐫𝐧𝐢 𝐋𝐚𝐰 𝐀𝐬𝐬𝐨𝐜𝐢𝐚𝐭𝐞𝐬

تمام معزز شہری جن کے ہاتھوں کے فنگر پرنٹس بوجہ بڑھاپا ، بیماری ، حادثہ یا دیگر مٹ چکے ہیں یا معدوم ہو چکے ہیں وہ معزز شہ...
03/01/2025

تمام معزز شہری جن کے ہاتھوں کے فنگر پرنٹس بوجہ بڑھاپا ، بیماری ، حادثہ یا دیگر مٹ چکے ہیں یا معدوم ہو چکے ہیں وہ معزز شہری بینک اکاؤنٹ کھلوانے یا موبائل سم نکلوانے یا دیگر جہاں بائیو میٹرک کی ضرورت پڑ سکتی ہے تو وہ وہاں یہ ہائیکورٹ لاہور کا آرڈر دکھا کر اپنا کام کرواسکتے ہیں۔

𝐀𝐥 𝐐𝐚𝐫𝐧𝐢 𝐋𝐚𝐰 𝐀𝐬𝐬𝐨𝐜𝐢𝐚𝐭𝐞𝐬

27/12/2024

الحمد للہ!

پچھلے ہفتے، اللہ تعالیٰ کے خالص فضل و کرم سے القرنی لا ایسوسی ایٹس کو قانون کے میدان میں دو بڑی کامیابیاں ملیں جو کہ ذیل ہیں:

الف ) قومی شناختی کارڈ کی ان بلاکنگ ( Unblocking Of National Identity Card

مختصرا واقعہ کچھ یوں ہے کہ پشاور کی مقامی عائلی عدالت نے آج سے دو سال پہلے ایک عائلی مقدمے میں جراء کے سٹیج پر شوہر کی جانب سے ملک سے باہر ہونے کی بناء پر شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم صادر فرمایا تھا جس کے خلاف شوہر نے تین ہفتے پہلے القرنی لا ایسوسی ایٹس سے رابطہ کیا۔ القرنی لا ایسوسی ایٹس کی ٹیم نے نہایت مستعدی کے ساتھ عائلی عدالت سے رجوع کرتے ہوئے عدالت سے استدعا کی کہ شوہر کا شناختی کارڈ ان بلاک کرنے کی ہدایت نادرا کو کی جائے جس کو عائلی عدالت نے منظور کرتے ہوئے شوہر کا شناختی کارڈ ان بلاک کرنے کا حکم صادر فرمایا۔

ب ) قیدی کو اٹک جیل سے پشاور منتقل کرنا :

یہ واقعہ کچھ یوں ہے کہ پشاور کے ایک شہری کو اسلام آباد کی مقامی عدالت نے ایک فوجداری مقدمے میں سات سال قید کی سزا سنائی تھی جس پر موصوف کو اٹک جیل میں پچھلے چار سالوں سے رکھا گیا تھا لیکن یاد رہے کہ اس ملزم پر پشاور میں بھی ایک ایف آئی آر تھی جس میں وہ عدالت کو مطلوب تھا۔ القرنی لا ایسوسی ایٹس کی ٹیم کے ساتھ ملزم کی والدہ نے رابطہ کیا کہ اٹک جیل میں چونکہ آنے جانے میں کافی دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو القرنی لا ایسوسی ایٹس کی ٹیم نے دستیاب قانونی آپشن استعمال میں لاتے ہوئے عدالت کے زریعے ایک ہفتے کے اندر اندر نہ صرف ملزم کو پشاور منتقل کیا بلکہ یہاں پر زیر التوا مقدمے کی کاروائی بھی شروع کی۔

القرنی لا ایسوسی ایٹس اپنے کلائنٹس کی مکمل اطمینان پر یقین رکھتی ہے اور اس ضمن میں قانون کی حکمرانی کے لئے ہر ممکن کردار ادا کرنے کی سعی کرتی ہے۔

القرنی لا ایسوسی ایٹس

مجلہ عدالتی نظائر ؛ چوتھا شمارہ !  پیارے ملک پاکستان میں آئین کی بالادستی کی خاطر اعلی عدالتوں کے فیصلوں کو عام عوام تک ...
29/09/2024

مجلہ عدالتی نظائر ؛ چوتھا شمارہ !

پیارے ملک پاکستان میں آئین کی بالادستی کی خاطر اعلی عدالتوں کے فیصلوں کو عام عوام تک قومی زبان اردو میں پہنچانے کی خاطر آج الحمد اللہ ہمارے سہ ماہی مجلے " مجلہ عدالتی نظائر " کا چوتھا شمارہ باقاعدہ طور پر شائع ہوگیا ہے اور اب یہ ہر خاص و عام کے لئے کورٹنگ دی لا ویب سائٹ پر بالکل مفت دستیاب ہے۔

یاد رہے کہ مجلہ عدالتی نظائر القرنی لا ایسوسی ایٹس ، قانون دان اور آئین و قانون کے اشتراک سے آئین و قانون کی دنیا کا ایسا پہلا مجلہ ہے جس میں عدالتی نظائر کی تلخیص اردو زبان میں دستیاب ہوگی۔

مجلہ عدالتی نظائر کے چوتھے شمارے کی خاص بات یہ ہے کہ اس کا دیباچہ استاد محترم پروفیسر ڈاکٹر قبلہ آیاز صاحب ؛ ممبر شریعت اپیلیٹ بینچ ؛ سپریم کورٹ آف پاکستان نے لکھا ہے جب کہ اس کے علاؤہ اس شمارے کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ اس میں ہر تلخیص کے ساتھ ساتھ اس کا اصل فیصلہ بھی جدید ٹیکنالوجی پر مشتمل کیو آر کوڈ کی شکل میں دستیاب ہے۔

میں، اپنی طرف سے اپنے اساتذہ کرام جن میں بالخصوص پروفیسر ڈاکٹر قبلہ آیاز صاحب، ڈاکٹر عزیز الرحمان صاحب اور ڈاکٹر مشتاق صاحب ، اپنی ٹیم جن میں بالخصوص مدثر اقبال، محمد اسد، ریحان اللہ ، عاقب حامی اور افراسیاب اور ساتھ ہی ساتھ قانون دان کے بانی سلمان احمد مان اور آئین و قانون کے شریک بانی برادر مکرم سجاد حمید یوسفزئی صاحب کا بھی انتہائی مشکور ہوں کہ انھوں نے مجلہ عدالتی نظائر کی اشاعت کو ممکن بنایا۔

اللہ تعالیٰ ہماری اس کاوش کو قبول فرمائے اور اس کو پاکستان میں آئین و قانون کی سر بلندی اور حکمرانی کا زریعہ بنائے۔

نوٹ : مجلہ عدالتی نظائر مندرجہ ذیل لنک سے بالکل مفت ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے ۔

https://courtingthelaw.com/2024/08/22/laws-judgments-2/%D9%85%D8%AC%D9%84%DB%81-%D8%B9%D8%AF%D8%A7%D9%84%D8%AA%DB%8C-%D9%86%D8%B8%D8%A7%D8%A6%D8%B1-4/

ذوالقرنین ایڈووکیٹ
سرپرست ؛ مجلہ عدالتی نظائر

31/08/2024

فیملی کورٹ ایکٹ ،١٩٤٦ کے دفعہ دس ( چار ) کے تحت ہونے والے تنسیخ نکاح کے خلع ہونے کے حوالے سے عدالت عالیہ لاہور کا ایک اہم فیصلہ !

نوٹ : اس انتہائی اہم کیس میں عدالت عالیہ کے سامنے مختصرا سوال یہ تھا کہ فیملی کورٹ ایکٹ کے دفعہ دس ( چار ) کے تحت ابتدائی مصالحت کے بعد جو تنسیخ نکاح ہوتی ہے تو کیا وہ لازمی ہے کہ خلع ہی ہوگی یا پھر تنسیخ نکاح کی کوئ اور قسم بھی ہوسکتی ہے ؟

کیس کے حقائق مختصرا کچھ یوں ہیں کہ محمد کامران نامی مدعی اور سمیرا مجید نامی مدعا علیہ کے درمیان خلع کے تحت علیحدگی ہوتی ہے ، جس کے بعد مدعا علیہ فیملی کورٹ میں نفقہ کی وصولی، جہیز کے سامان کی واپسی اور حق مہر کی ادائیگی کا دعویٰ کرتی ہے . اس دعوے کے نتیجے میں مورخہ ٢١.٠٧.٢٠١٤ کو فیملی کورٹ جج فیصلہ جاری کرتے ہیں جس میں مدعی کو جہیز کے سامان کی واپسی یا اس کی قیمت جو کہ تین لاکھ پچاس ہزار ہے ادا کرنے کا حکم دیا جاتا ہے . اس کے ساتھ مدعی کو اس بات کا بھی پابند کیا جاتا ہے کہ وہ مدعا علیہ کی عدت مکمل ہونے تک پانچ ہزار روپے بطور نفقہ ادا کرے گا. جبکہ مدعا علیہ کا دعویٰ برائے حق مہر خارج کر دیا جاتا ہے . فیملی کورٹ کا یہ فیصلہ دونوں فریقین کو غیر منصفانہ محسوس ہوتا ہے چنانچہ دونوں اپنی اپنی طرف سے فاضل ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج, جھنگ کے سامنے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرتے ہیں . دونوں اپیلوں کو مورخہ ٢٩.١١.٢٠١٤ کو اکٹھا کیا جاتا ہے اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج، جھنگ فیصلہ جاری کرتے ہیں جس میں مدعا علیہ کی اپیل کو جزوی طور پر قبول کیاجاتا ہے اور فیملی کورٹ جھنگ کے جج کے فیصلے کو نفقہ کی ادائیگی اور جہیز کے سامان کی واپسی کی حد تک برقرار رکھا جاتا ہے . البتہ حق مہر کے حوالے سے اس فیصلے میں ترمیم کر کے مدعا علیہ کو پچاس ہزار روپے حق مہر وصول کرنے کا حقدار قرار دیا جاتا ہے . جبکہ مدعی کی طرف سے دائر کردہ اپیل کو جارج کردیا جاتا ہے جس کے خلاف مدعی یہ پٹیشن دائر کرتا ہے .
اب عدالت کے سامنے اہم سوال یہ ہے کہ کیا اپیلیٹ کورٹ کا مہر کی رقم کے معاملے پر دیا گیا فیصلہ درست تھا؟
مدعی کا اعتراض یہ ہے کہ فاضل ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج نے معترضہ فیصلہ اور فرمان جاری کرتے وقت اپنے انصاف پسند ذہن کو استعمال نہیں کیا اور بے احتیاطی میں معترضہ فیصلہ اور فرمان پاس کیا. اس کے علاوہ فاضل عدالت نے ریکارڈ شدہ شواہد کی غلط تشریح کی اور ایک ایسے نتیجے پر پہنچا جو کہ قانون کے خلاف ہے کیونکہ فریقین کی شادی فیملی جج نے خلع کے بنیاد پر تحلیل کی جو کہ حق مہر کی واپسی پر مشروط ہے . لہٰذا ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کے پاس حق مہر کا فیصلہ جاری کر نے کا کوئی جواز نہیں تھا. لہٰذا مذکورہ غلط نتائج کو خارج کیا جائے. جبکہ مدعا علیہ معترضہ فیصلے اور فرمان کی حمایت کرتے ہوئے اس بات کا دعویٰ کرتی ہے کہ پاس کردہ فیصلہ اور فرمان قانون کے مطابق ہے لہٰذا اس میں کوئی رعایت نہیں کی جاسکتی.
عدالت کیس کے حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے بیان کرتا ہے کہ ریکارڈ کے مشاہدے سے معلوم ہوتا ہے کہ نکاح نامے میں پچاس ہزار روپے کی رقم مہر مؤجل کے طور پر مقرر ہوئی تھی اور مدعا علیہ کی شادی خلع کے تحت ختم ہوئی تھی. فیملی کورٹ کے فاضل جج نے یہ درست کہا کہ مہر غیر معجل صرف اس وقت ادا کی جائے گی جب شوہر خود طلاق دے یا اس کی موت واقع ہو جائے. تاہم موجودہ کیس میں شادی ٢٤.٠٩.٢٠١٣ کو خلع کے تحت تحلیل ہوئی جو کہ حق مہر کی واپسی پر مشروط ہے. چنانچہ مدعا علیہ حق مہر کی وصولی کا دعویٰ نہیں کرسکتی. اور یہ بات بہت سے فیصلوں سے ثابت ہو چکی ہے کہ اگر بیوی خلع کے تحت شادی ختم کرنے کا فرمان حاصل کرتی ہے جو کہ حق مہر کی واپسی پر مشروط ہے، اس کے بعد وہ اس حق کا دعویٰ نہیں کرسکتی.
یہاں پر عدالت ویسٹ پاکستان فیملی کورٹس ایکٹ، ١٩٦٤ کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مذکورہ ایکٹ کا سیکشن (4)10 صرف اس صورت میں لاگو ہوگا جب شادی خلع کی بنیاد پر تحلیل ہو نہ کہ ان گراونڈز کی بنیاد پر جو کہ بیوی کو dissolution of muslim marriage act, 1939 کے سیکشنز (ii) 2 اور (iv) کے تحت میسر ہے. اس سلسلے میں عدالت سیکشن (ii) 10 کو مزید واضح کرتے ہوئے خالد محمود کیس (PLD 2007 LAHORE 626) کی نظیر دیتا ہے. اس فیصلے میں اس بات کی وضاحت کی گئی کہ "مصالحت کی ناکامی کی صورت میں نکاح کو تحلیل کرنے کا فرمان جاری کیا جائے" اور "شوہر کو حق مہر واپس کیا جائے".یہاں پر لفط"اور" کے استعمال سے معلوم ہوتا ہے کہ شادی تحلیل کرنے اور شوہر کو حق مہر واپس کرنے کا حکم ایک ساتھ پاس کیا جائے گا . اسی طرح صائمہ ارم کیس میں بھی پشاور ہائی کورٹ نے ملتے جلتے خیال کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر بیوی محض خلع کی بنیاد پر شادی تحلیل کرنے کی درخواست دائر کرتی ہے تو فیملی کورٹ سیکشنز 9 اور 10 کے تحت شادی کو تحلیل کر سکتا ہے اور شوہر کو حق مہر کی واپسی کا حکم بھی جاری کرسکتا ہے.
موجودہ کیس میں، فیملی کورٹ کے فاضل جج نے مورخہ ٢٤.٠٩.٢٠١٣ کے حکم کے تحت فریقین کے درمیان شادی تحلیل کرتے وقت اس بات کو واضح کیا تھا کہ یہ شادی خلع کے تحت تحلیل ہورہی ہے جو کہ حق مہر کی ادائیگی سے مشروط ہے لہذا قابل جج نے کیس کی کاروائی قانون کے مطابق کی.
اس کے بعد عدالت اس بات کا ذکر کرتا ہے کہ قابل ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج نے صرف مدعا علیہ اور اس کے گواہان کے شواہد کو مد نظر رکھا جبکہ اس بات پر غور نہیں کیا کہ مدعا علیہ نے شادی تحلیل کرنے کا فرمان صرف خلع کی بنیاد پر حاصل کیا تھا جو کہ حق مہر کی واپسی سے مشروط ہے. یہ قانون کا ایک طے شدہ اصول ہے کہ اگر بیوی محض خلع کی بنیاد پر شادی تحلیل کرنے کی درخواست کرے تو اس صورت میں اسے حق مہر معاف کرنا ہوگا اور اگر پہلے سے وصول کیا ہے تو واپس کرنا ہوگا. چنانچہ مدعا علیہ مہر کی وصولی کی حقدار نہیں. مندرجہ بالا حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے عدالت قابل اپیلیٹ کورٹ کے معترضہ فیصلے اور فرمان کو خارج کر تا ہے جبکہ قابل فیملی کورٹ، جھنگ کے فیصلے کو برقرار رکھتا ہے.
لاہور ہائی کورٹ کا مندرجہ بالا فیصلہ بہت اہمیت کا حامل ہے. اس فیصلے میں عدالت نے اس بات کو مزید واضح کیا کہ ویسٹ پاکستان فیملی کورٹ ایکٹ کے دفعہ دس ( چار ) کے تحت صرف خلع دی جا سکتی ہے اور خلع کے لئے ضروری ہے کہ اسے حق مہر معاف کرنا ہوگا اور اگر پہلے سے وصول کیا ہے تو واپس کرنا ہوگا.
یاد رہے کہ یہ فیصلہ عدالت عالیہ لاہور کے فاضل جج، جسٹس جواد حسن نے لکھا ہے. جبکہ اس فیصلے کو 2018 YLR 1251 پر پڑھا اور دیکھا جاسکتا ہے.

ایمن قاسم
شریعہ اینڈ لاء
اسلامیہ کالج یونیورسٹی، پشاور

23/06/2024

فائلر بننے کے فوائد/ نقصانات /
فائلر کون بن سکتا ہے

👈 فوائد NTN / فائلر
1-پراپرٹی کی خرید و فروخت پر ٹیکس کی بچت۔۔۔۔
2-بینک سے رقم نکلوانے پر ٹیکس کی بچت (زیرو ٹیکس)
3-گاڑیوں کی خریدوفروخت پر ٹیکس کی بچت۔۔
4-سرکاری ملازمین کے لیے اضافی ڈیوٹیز میں بیس کی بجائے دس فیصد ٹیکس کٹوتی مثلا
بورڈ کی امتحانی ڈیوٹیز، اوپن یونیورسٹی ٹیوٹرشپ، الیکشن، مردم شماری اور دیگر ڈیوٹیز
5-ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے انٹرنیشنل پیمنٹ پر ٹیکس کی بچت ۔۔
6- بجلی کے بل میں انکم ٹیکس صفر
7-قومی سیونگ سرٹیفیکٹ اور پرائز بانڈ پر ٹیکس کی بچت ۔۔
8-کاروبار کو رجسٹرڈ کرواکر قانونی دائرے کار لانے پر فوائد حاصل کیجئیے ۔۔
9-بینک میں کاروباری اکاونٹ کھلوانے میں آسانی ۔۔
10-کمرشل ptcl بجلی ،گیس ، میٹر لگوانے میں آسانی ۔۔11-گورنمنٹ ٹھیکے لینے پر فائلر ہونا شرط۔
12-چیمبر اف کامرس کے ممبر کے لئیے فائلر ہونا ضروری ۔۔
13-کرائے داری انکم پر مالک کو ٹیکس کی بچت ۔۔
14-رئیل اسٹیٹ ،جیولرز ،وکلاء کیلئے DNFBP سرٹیفیکٹ کا اجراء ۔۔
15-فری لانسرز'اور آی ٹی سے وابستہ افراد کے لئیے ٹیکس کی چھوٹ ۔۔
16-اوورسیز پاکستانیوں کے لئیے فائلر کی صورت میں تیکس میں بھی رعایت ۔۔
17-پراپرٹی کی خریداری پر نان فائلر کے لئے لمٹ کی شرط۔
دیگر بے شمار فوائد

👈 نقصانات
ٹیکس فائلر بننے کا نقصان کوئی نہیں۔
بعض لوگ سمجھتے ہیں اگر ہم ٹیکس فائلر بن جائیں تو ہمیں اضافی ٹیکس دینے پڑیں گے۔
ٹیکس تو وہی ہے جو آپ کی سیلری سے کٹ رہا ہے پہلے ہی۔ صرف آپ نے فائلر بن کر اپنی ریٹرن میں یہ بتانا ہے کہ میں نے سالانہ اتنا ٹیکس گورنمنٹ کو ادا کر دیا ہے۔ چونکہ آپ نے ٹیکس پہلے ہی ادا کر دیا۔ اس لیے آپ کو ڈیلی لائف میں ٹیکس کی بچت ملتی یے۔

👈 ٹیکس فائلر کون بن سکتا ہے؟
کوئی بھی پاکستانی شناختی کارڈ ہولڈر ٹیکس فائلر بن سکتا ہے۔ خواہ اس کی آمدنی صفر ہی کیوں نہ ہو۔
لیکن

جن کی ماہانہ گراس تنخواہ/آمدنی 50 ہزار سے زیادہ ہے۔ ان کے لیے فائلر بننا لازمی ہے۔ ورنہ قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔

𝐀𝐥 𝐐𝐚𝐫𝐧𝐢 𝐋𝐚𝐰 𝐀𝐬𝐬𝐨𝐜𝐢𝐚𝐭𝐞𝐬

Address

Peshawar
25000

Telephone

+923110311592

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when 𝐀𝐥 𝐐𝐚𝐫𝐧𝐢 𝐋𝐚𝐰 𝐀𝐬𝐬𝐨𝐜𝐢𝐚𝐭𝐞𝐬 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to 𝐀𝐥 𝐐𝐚𝐫𝐧𝐢 𝐋𝐚𝐰 𝐀𝐬𝐬𝐨𝐜𝐢𝐚𝐭𝐞𝐬:

Share