19/07/2026
عدالت زیرِ سماعت معاملے میں میڈیا ٹرائل نہیں ہونے دے سکتی۔ لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ
لاہور ہائیکورٹ نے اپنے اہم فیصلے 2026 CLC 624 میں قرار دیا کہ جب کسی شخص کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ عدالت میں زیرِ سماعت ہو اور الزامات کی سچائی یا جھوٹ ابھی ثبوتوں کی بنیاد پر طے ہونا باقی ہو، تو اس دوران انہی الزامات کو بار بار میڈیا یا عوامی سطح پر دہرانا ایک طرح کا "متوازی میڈیا ٹرائل (Parallel Media Trial)" ہے، جو انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ اس لیے عدالت مناسب حالات میں عارضی طور پر ایسے بیانات دینے سے روکنے کا حکم جاری کر سکتی ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ اظہارِ رائے کی آزادی (آرٹیکل 19) ایک بنیادی حق ضرور ہے، لیکن یہ حق مطلق (Absolute) نہیں۔ آئین کا آرٹیکل 14 ہر شہری کے وقار، عزت اور شہرت کے تحفظ کی بھی ضمانت دیتا ہے۔ اس لیے جب آزادیٔ اظہار اور کسی شخص کی عزت و وقار کے درمیان تصادم پیدا ہو تو عدالت دونوں حقوق کے درمیان آئینی توازن قائم کرنے کی پابند ہے۔
عدالت کے مطابق اگر کسی معروف یا عوامی شخصیت کے خلاف لگائے گئے الزامات بعد میں غلط ثابت ہو جائیں تو اس کی ساکھ، عزت اور پیشہ ورانہ زندگی کو پہنچنے والا نقصان صرف مالی ہرجانے سے پورا نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لیے ایسے مقدمات میں عدالت، اگر بادی النظر میں مناسب وجوہات موجود ہوں، تو مقدمے کے فیصلے تک محدود نوعیت کا عارضی حکمِ امتناعی (Interim Injunction) جاری کر سکتی ہے تاکہ ناقابلِ تلافی نقصان سے بچا جا سکے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ عارضی حکمِ امتناعی دینے کے لیے تین بنیادی اصول دیکھے جاتے ہیں: بادی النظر میں مضبوط مقدمہ (Prima Facie Case)، ناقابلِ تلافی نقصان (Irreparable Loss)، اور توازنِ سہولت (Balance of Convenience)۔ اگر یہ تینوں عناصر موجود ہوں تو عدالت ایسے عبوری تحفظ کا حکم دے سکتی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے یہ بھی قرار دیا کہ آئینی درخواست میں ہائیکورٹ عام طور پر ماتحت عدالت کے ایسے صوابدیدی (Discretionary) عبوری احکامات میں مداخلت نہیں کرتی، جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ وہ حکم من مانی، خلافِ قانون، بدنیتی پر مبنی یا دائرۂ اختیار سے تجاوز پر مبنی ہے۔
اس مقدمے میں عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کا حکم صرف زیرِ سماعت تنازع سے متعلق بیانات تک محدود تھا، مکمل پابندی نہیں تھی، اس لیے یہ آئین کے مطابق ایک مناسب اور متوازن پابندی تھی۔ چنانچہ لاہور ہائیکورٹ نے آئینی درخواست خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی کہ اصل ہتکِ عزت کے مقدمے کا فیصلہ ترجیحی بنیادوں پر 30 دن کے اندر کرنے کی کوشش کی جائے۔