Muhammad Zulfiqar Ali CASE LAWS

Muhammad Zulfiqar Ali CASE LAWS Free Of Cost Sharing Of Legal Knowledge For Awareness Of General Public online free legal knowledge sharing for public awareness

عدالت زیرِ سماعت معاملے میں میڈیا ٹرائل نہیں ہونے دے سکتی۔ لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہلاہور ہائیکورٹ نے اپنے اہم فیصلے 2...
19/07/2026

عدالت زیرِ سماعت معاملے میں میڈیا ٹرائل نہیں ہونے دے سکتی۔ لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ نے اپنے اہم فیصلے 2026 CLC 624 میں قرار دیا کہ جب کسی شخص کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ عدالت میں زیرِ سماعت ہو اور الزامات کی سچائی یا جھوٹ ابھی ثبوتوں کی بنیاد پر طے ہونا باقی ہو، تو اس دوران انہی الزامات کو بار بار میڈیا یا عوامی سطح پر دہرانا ایک طرح کا "متوازی میڈیا ٹرائل (Parallel Media Trial)" ہے، جو انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ اس لیے عدالت مناسب حالات میں عارضی طور پر ایسے بیانات دینے سے روکنے کا حکم جاری کر سکتی ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ اظہارِ رائے کی آزادی (آرٹیکل 19) ایک بنیادی حق ضرور ہے، لیکن یہ حق مطلق (Absolute) نہیں۔ آئین کا آرٹیکل 14 ہر شہری کے وقار، عزت اور شہرت کے تحفظ کی بھی ضمانت دیتا ہے۔ اس لیے جب آزادیٔ اظہار اور کسی شخص کی عزت و وقار کے درمیان تصادم پیدا ہو تو عدالت دونوں حقوق کے درمیان آئینی توازن قائم کرنے کی پابند ہے۔

عدالت کے مطابق اگر کسی معروف یا عوامی شخصیت کے خلاف لگائے گئے الزامات بعد میں غلط ثابت ہو جائیں تو اس کی ساکھ، عزت اور پیشہ ورانہ زندگی کو پہنچنے والا نقصان صرف مالی ہرجانے سے پورا نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لیے ایسے مقدمات میں عدالت، اگر بادی النظر میں مناسب وجوہات موجود ہوں، تو مقدمے کے فیصلے تک محدود نوعیت کا عارضی حکمِ امتناعی (Interim Injunction) جاری کر سکتی ہے تاکہ ناقابلِ تلافی نقصان سے بچا جا سکے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ عارضی حکمِ امتناعی دینے کے لیے تین بنیادی اصول دیکھے جاتے ہیں: بادی النظر میں مضبوط مقدمہ (Prima Facie Case)، ناقابلِ تلافی نقصان (Irreparable Loss)، اور توازنِ سہولت (Balance of Convenience)۔ اگر یہ تینوں عناصر موجود ہوں تو عدالت ایسے عبوری تحفظ کا حکم دے سکتی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ نے یہ بھی قرار دیا کہ آئینی درخواست میں ہائیکورٹ عام طور پر ماتحت عدالت کے ایسے صوابدیدی (Discretionary) عبوری احکامات میں مداخلت نہیں کرتی، جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ وہ حکم من مانی، خلافِ قانون، بدنیتی پر مبنی یا دائرۂ اختیار سے تجاوز پر مبنی ہے۔

اس مقدمے میں عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کا حکم صرف زیرِ سماعت تنازع سے متعلق بیانات تک محدود تھا، مکمل پابندی نہیں تھی، اس لیے یہ آئین کے مطابق ایک مناسب اور متوازن پابندی تھی۔ چنانچہ لاہور ہائیکورٹ نے آئینی درخواست خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی کہ اصل ہتکِ عزت کے مقدمے کا فیصلہ ترجیحی بنیادوں پر 30 دن کے اندر کرنے کی کوشش کی جائے۔



Deceased Son Quota Case Allowed. الحمدللہ پشاور ،ہائیکورٹ نےDeceased Son Quota کیس میں رٹ پٹیشن منظور کرتے ہوئے قرار دیا...
20/05/2026

Deceased Son Quota Case Allowed.
الحمدللہ پشاور ،ہائیکورٹ نےDeceased Son Quota کیس میں رٹ پٹیشن منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ 18 دسمبر 2024 سے پہلے فوت ہونے والے یا میڈیکل گراؤنڈ پر ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین کے بچے نوکری کے اہل ہیں ۔

پشاور ہائیکورٹ نے آئینی درخواست نمبر ڈبلیو۔پی نمبر 1421-پی / 2026 سمیت دیگر درخواستوں کا فیصلہ سناتے ہوئے ایک نہایت اہم قانونی اصول واضح کر دیا ہے، جو سرکاری ملازمین کے بچوں اور بیوہ/اہلیہ کے روزگار کے حق سے متعلق ہے۔

⚖️ عدالت کے سامنے بنیادی سوال:

کیا سپریم کورٹ کے فیصلے جنرل پوسٹ آفس کیس (پی ایل ڈی 2024 سپریم کورٹ 1276) کا اطلاق ماضی پر ہوگا یا صرف مستقبل پر؟

📜 عدالت کا فیصلہ:

پشاور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ:

✔️ سپریم کورٹ کا مذکورہ فیصلہ مستقبل پر لاگو ہوگا (پراسپیکٹو)
✔️ پہلے سے پیدا شدہ حقوق (ویسٹڈ رائٹس) متاثر نہیں ہوں گے
✔️ کسی بھی شہری کا حاصل شدہ حق بعد میں آنے والے قانون یا فیصلے سے ختم نہیں کیا جا سکتا

📌 اہم قانونی نکات:

🔹 خیبر پختونخوا سول سرونٹس رولز کے رول 10(4) کے تحت:
اگر کوئی سرکاری ملازم دورانِ سروس وفات پا جائے یا مستقل معذور ہو جائے تو اس کے اہلِ خانہ کو ملازمت کا حق حاصل ہوتا ہے

🔹 عدالت نے واضح کیا کہ:
✔️ حق پیدا ہونے کا وقت ملازم کی وفات یا معذوری ہے
✔️ درخواست دینا یا تقرری دینا صرف انتظامی کارروائی ہے

📚 اہم عدالتی نظائر:

عدالت نے اپنے فیصلے میں درج ذیل کیسز پر انحصار کیا:

✔️ زاہدہ پروین کیس (2025 ایس سی پی 107)
✔️ صوبہ سندھ بنام محمد رضوان خان (2026 ایف سی سی)

ان فیصلوں میں بھی یہی اصول طے کیا گیا کہ:
👉 عدالتی فیصلے عام طور پر مستقبل پر لاگو ہوتے ہیں
👉 پہلے سے حاصل شدہ حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے

🚨 فیصلے کا واضح نتیجہ:

✔️ اگر کسی ملازم کی وفات یا معذوری اس وقت ہوئی جب متعلقہ قانون نافذ تھا
➡️ تو اس کے اہلِ خانہ کو ملازمت کا حق برقرار رہے گا

✔️ بعد میں قانون ختم ہونے سے پہلے سے پیدا شدہ حق ختم نہیں ہوگا

💡 یہ فیصلہ کیوں اہم ہے؟

یہ فیصلہ ہزاروں سرکاری ملازمین کے خاندانوں کے لیے ریلیف کا باعث ہے کیونکہ:

✔️ روزگار کے حق کو قانونی تحفظ ملا
✔️ حکومتی انکار یا تاخیر کو عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے
✔️ ویسٹڈ رائٹس (حاصل شدہ حقوق) کا اصول مزید مضبوط ہو گیا

یہ فیصلہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ:
⚖️ قانون صرف لاگو نہیں ہوتا بلکہ انصاف بھی فراہم کرتا ہے
اور عدالتیں ہمیشہ ان افراد کے ساتھ کھڑی ہوتی ہیں جن کے حقوق پہلے ہی قانون کے تحت پیدا ہو چکے ہوں.




30/04/2026

شجرہ نصب معلوم کرنے کا آسان طریقہ جاننے کیلئے لنک کمنٹ میں ملاحظہ فرمائیں

دفعہ 164 کے تحت بیان، خواہ زنا بالجبر (ریپ) کے مقدمہ میں ہو یا کسی اور مقدمہ میں، ٹرائل یا انکوائری کے آغاز سے پہلے کسی ...
28/03/2026

دفعہ 164 کے تحت بیان، خواہ زنا بالجبر (ریپ) کے مقدمہ میں ہو یا کسی اور مقدمہ میں، ٹرائل یا انکوائری کے آغاز سے پہلے کسی بھی وقت ریکارڈ کیا جا سکتا ہے، حتیٰ کہ اگر استغاثہ کی جانب سے مقدمہ عدالت میں پیش بھی کیا جا چکا ہو۔ لہٰذا "انکوائری کے آغاز" اور "ٹرائل کے آغاز" ہی وہ دو مراحل ہیں جن کے بعد دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ نہیں کیا جا سکتا۔
انکوائری کا آغاز (Commencement of Inquiry):
مجسٹریٹ دفعہ 190 ضابطہ فوجداری کے تحت نوٹس (cognizance) لیتا ہے، جس کے بعد اسے یا تو معاملہ کی انکوائری کا حکم دینا ہوتا ہے یا مقدمہ کو ٹرائل کے آغاز کے لیے بھیجنا ہوتا ہے۔ صرف دفعہ 190 کے تحت نوٹس لینا بذاتِ خود انکوائری کا آغاز نہیں ہے۔ مجسٹریٹ کو انکوائری کرنے کے لیے ضابطہ فوجداری کی کسی ایسی دفعہ کا استعمال کرنا ہوتا ہے جس کے تحت اسے انکوائری کا اختیار حاصل ہو۔ اس ضمن میں PLD 1973 Lahore 304 پر انحصار کیا گیا ہے۔
ٹرائل کا آغاز (Commencement of Trial):
ٹرائل کا آغاز "فریم آف چارج" (چارج عائد ہونے) سے ہوتا ہے، اس سے پہلے نہیں۔ لہٰذا اگرچہ چالان مجسٹریٹ کے پاس جمع ہو چکا ہو اور ملزم کو طلب بھی کر لیا گیا ہو، پھر بھی دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کیا جا سکتا ہے کیونکہ ابھی ٹرائل کا باقاعدہ آغاز نہیں ہوا۔ اس ضمن میں 2000 SCMR 785 پر انحصار کیا گیا ہے۔
نتیجہ:
جب تک "انکوائری کا حکم" جاری نہیں ہوتا یا "چارج عائد" نہیں کیا جاتا، دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کرنے کی گنجائش موجود رہتی ہے۔ کیونکہ دفعہ 164 کا بنیادی مقصد شہادت کو محفوظ کرنا ہے، اور اگر کوئی انکوائری یا ٹرائل ہی شروع نہ ہوا ہو جہاں یہ شہادت پیش کی جا سکے، تو دفعہ 164 کے راستہ کو بند کرنے سے یہ شہادت ضائع ہو سکتی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ میں 30 مارچ 2026 سے گاؤن پہننے کی شرط ختم، اس ضمن میں باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
28/03/2026

لاہور ہائیکورٹ میں 30 مارچ 2026 سے گاؤن پہننے کی شرط ختم، اس ضمن میں باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

28/03/2026
صدرِ مملکت نے آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان، 1973 کے آرٹیکل 45 کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے، وزیرِ اعظم کی...
28/03/2026

صدرِ مملکت نے آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان، 1973 کے آرٹیکل 45 کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے، وزیرِ اعظم کی ایڈوائس پر، اہل قیدیوں کے لیے 100 دن کی خصوصی سزا میں کمی (Remission) دینے کی منظوری دی ہے۔ یہ رعایت عیدالفطر اور یومِ پاکستان 2026 کے موقع پر دی گئی ہے، اور اس پر عمومی حد (زیادہ سے زیادہ رعایت کی پابندی) لاگو نہیں ہوگی، سوائے درج ذیل قیدیوں کے:

"سزائے موت کے قیدی اور وہ قیدی جو سنگین جرائم میں ملوث ہیں، بشمول جاسوسی؛ اجتماعی زیادتی (دفعہ 375A، تعزیراتِ پاکستان)؛ جنسی زیادتی (دفعہ 377B، تعزیراتِ پاکستان)؛ ڈکیتی کے دوران جان بوجھ کر نقصان پہنچانا (دفعہ 394، تعزیراتِ پاکستان)؛ ڈکیتی (دفعات 395-396، تعزیراتِ پاکستان)؛ اغوا یا اغوا برائے تاوان (دفعات 364A اور 365A، تعزیراتِ پاکستان)؛ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت جرائم؛ اور کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹینسز (ترمیمی) ایکٹ 2022 کے تحت جرائم۔"

مزید برآں، وہ قیدی جو مالی خردبرد یا قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے جرائم میں ملوث ہیں، وہ بھی اس رعایت سے مستثنیٰ ہوں گے۔ مذکورہ بالا استثنات خصوصی رعایتی پالیسی 2025 اور پاکستان پریزن رولز 1978 کے قواعد 217 اور 218 کے مطابق ہیں۔

Address

Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad Zulfiqar Ali CASE LAWS posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share