20/05/2026
، عمران خان کی کہانی مختصر اور سادہ لفظوں میں سنو:
*لاہور کا لڑکا جو کرکٹر بنا*
عمران خان 1952 میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ امیر گھرانہ تھا، ایچی سن اور آکسفورڈ پڑھے۔
چھوٹی عمر میں کرکٹ کا شوق لگا۔ 1971 میں پاکستان کے لیے ڈیبیو کیا۔
80 کی دہائی میں وہ *پاکستان کے کپتان* بنے۔ لوگ کہتے تھے "بہت غرور ہے"، پر میدان میں وہ لڑتا تھا۔
1992 کا ورلڈ کپ یاد ہے؟ پاکستان سیمی فائنل ہار رہا تھا۔ عمران نے ٹیم کو کہا: "ہم کپ جیتیں گے یا مر جائیں گے"۔
فائنل میں انگلینڈ کو ہرا کر *پاکستان کو پہلا ورلڈ کپ* دلوایا۔ اس دن پورا پاکستان سڑکوں پر تھا۔
*کرکٹ سے سیاست تک*
1996 میں سیاست میں آئے۔ پارٹی بنائی: *پاکستان تحریک انصاف*۔
شروع میں کوئی نہیں مانتا تھا۔ لوگ کہتے تھے "کرکٹر سیاست میں کیا کرے گا؟"
22 سال سڑکوں پر دھکے کھائے۔ 2013 میں K-P میں حکومت بنائی، 2018 میں *پاکستان کے وزیراعظم* بن گئے۔
نعرہ تھا: *"تبدیلی"* اور *"کرپشن ختم"*۔
نوجوانوں نے کہا: "یہی ہمارا بندہ ہے"۔
*وزیراعظم کا دور*
4 سال حکومت چلائی۔ کورونا میں دنیا بند تھی، پاکستان کھلا رہا۔
احساس پروگرام، صحت کارڈ بنے۔ پر مہنگائی بھی بڑھی۔
اپریل 2022 میں *عدم اعتماد* سے حکومت گئی۔
اس کے بعد سے وہ جیل میں ہیں، 180 سے زیادہ کیسز چل رہے ہیں۔
پر جلسوں میں اب بھی لاکھوں لوگ نکلتے ہیں۔
*لوگ انہیں کیوں فالو کرتے ہیں؟*
ایک وجہ یہ ہے کہ انہوں نے *ہار نہ ماننے* کی کہانی جی کر دکھائی۔
کرکٹ میں جب سب نے کہا "تم ہار گئے"، انہوں نے ورلڈ کپ جیتا۔
سیاست میں جب سب نے کہا "تم فیل ہو"، انہوں نے 22 سال بعد حکومت بنائی۔
دوسری وجہ: *لوگ سمجھتے ہیں یہ کرپٹ نہیں*۔ چاہے حکومت کیسی بھی چلائی ہو، ذاتی فائدے کا الزام کم لگتا ہے۔
*خلاصہ*
عمران خان کی کہانی *ہار نہ ماننے* کی کہانی ہے۔
کبھی ہیرو، کبھی زیرو، پر سٹیج سے نیچے نہیں اترے۔
تمہیں ان کی کرکٹ والی کہانی پسند ہے یا
سیاست والی؟