Dastoor Law Associates-DLA

Dastoor Law Associates-DLA All About Law & Lawyers.

کپل کونسلنگ ، طلاق ، خلع ، نان ونفقہ ، بچوں کی حضانت ، میاں بیوی کے حقوق ،میاں بیوی کے درمیان مصالحت ، اصلاحی مشورے ، سول ، کریمینل ، بینکنگ ، کارپوریٹ ، سوسائٹی رجسٹریشن ، انکم ٹیکس ، اور تازہ ترین قوانین کے لئے پیج کو فالو کریں۔

اے سی سی/پی او آر ACC/PORکارڈ ہولڈرز کے لیے کن حالات میں ہائی کورٹ سے فوری ریلیف(Stay Order) مل سکتا ہے ؟پاکستان میں ACC...
26/04/2026

اے سی سی/پی او آر ACC/PORکارڈ ہولڈرز کے لیے کن حالات میں ہائی کورٹ سے فوری ریلیف(Stay Order) مل سکتا ہے ؟

پاکستان میں ACC (Afghan Citizen Card) اور POR (Proof of Registration) کارڈ رکھنے والے افراد کے لیے یہ جاننا نہایت اہم ہے کہ ہر صورت میں اسٹے آرڈر حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ عدالتِ عالیہ صرف انہی معاملات میں مداخلت کرتی ہے جہاں قانونی، انسانی اور آئینی بنیادیں واضح طور پر موجود ہوں۔

اگر کسی ACC یا POR کارڈ ہولڈر کو اچانک بے دخلی (Deportation) کا سامنا ہو اور اس کے ساتھ ایسے غیر معمولی حالات ہوں جیسے زیرِ تعلیم ہونا، سنگین بیماری میں مبتلا ہونا، یا بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا خدشہ—تو ہائی کورٹ محدود مدت کے لیے تحفظ (Stay) فراہم کر سکتی ہے۔

اسی طرح اگر سرکاری حکام کی کارروائی قانون کے مطابق نہ ہو، یا مناسب قانونی طریقۂ کار (Due Process) اختیار نہ کیا گیا ہو، تو عدالت مداخلت کرتے ہوئے عارضی ریلیف دے سکتی ہے۔

تاہم یہ امر یاد رکھنا ضروری ہے کہ ACC اور POR کارڈ مستقل شہریت یا غیر مشروط رہائش کا حق فراہم نہیں کرتے، اس لیے عدالت ہر کیس کو اس کے حقائق اور حالات کے مطابق پرکھتی ہے اور صرف حقیقی مجبوری اور فوری نقصان کے خدشے کی صورت میں اسٹے آرڈر جاری کرتی ہے۔

قانون ان لوگوں کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے جو واقعی انصاف کے مستحق ہوں، لیکن ہر کیس میں مضبوط قانونی بنیاد کا ہونا ضروری ہے۔


صرف ایک کارڈ سے آپ کی شہریت ختم نہیں ہو سکتی! — پشاور ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ 2026بہت سے لوگ وقتی فائدے، راشن یا دیگر ...
25/04/2026

صرف ایک کارڈ سے آپ کی شہریت ختم نہیں ہو سکتی! — پشاور ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ 2026

بہت سے لوگ وقتی فائدے، راشن یا دیگر سہولتوں کے حصول کے لیے افغان سٹیزن کارڈ (ACC) بنوا لیتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں وہ پاکستانی ہوتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہی ریکارڈ ان کے لیے مشکلات پیدا کر دیتا ہے، اور بعض اوقات انہیں غیر ملکی قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔

لیکن اب ایک اہم عدالتی فیصلہ (2026 MLD 18) ایسے تمام افراد کے لیے امید کی کرن بن کر سامنے آیا ہے۔

عدالت کا واضح مؤقف کہ محض نادرا کے کسی ایک اندراج یا ACC کارڈ کی بنیاد پر کسی شہری کی پاکستانی شہریت ختم نہیں کی جا سکتی۔

اگر کسی شخص کے پاس اپنی پاکستانی شناخت کے مستند شواہد موجود ہوں، تو اسے صرف ایک کارڈ یا غلط ریکارڈ کی بنیاد پر غیر ملکی قرار دینا قانونی طور پر درست نہیں۔

اہم قانونی نکتہ: شہریت دینا یا منسوخ کرنا ایک سنجیدہ قانونی عمل ہے، جو صرف Pakistan Citizenship Act, 1951 کے تحت مکمل شواہد اور باقاعدہ طریقہ کار کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

ایک کارڈ آپ کی اصل شناخت کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔

اگر آپ یا آپ کے کسی عزیز کو اس نوعیت کی مشکل کا سامنا ہے، تو فوری قانونی رہنمائی حاصل کریں—کیونکہ بروقت اقدام آپ کے حقوق کا تحفظ کر سکتا ہے۔
WhatsApp 03131468739

#شہریت

غلطی سے حاصل کیے گئے ACC/POR کارڈز منسوخ(Cancelled)، پورے خاندان کو شناختی کارڈ (CNICs) ملیں گے! پشاور ہائی کورٹ کا حالی...
25/04/2026

غلطی سے حاصل کیے گئے ACC/POR کارڈز منسوخ(Cancelled)، پورے خاندان کو شناختی کارڈ (CNICs) ملیں گے!

پشاور ہائی کورٹ کا حالیہ فیصلہ قانونی بصیرت، انصاف اور بنیادی حقوق کے تحفظ کی ایک شاندار مثال ہے۔ اس مقدمے میں ہمارے مؤکلین، جو ایک مکمل خاندان پر مشتمل تھے، کی جانب سے غیر ارادی طور پر ACC/POR Cards حاصل کیے گئے تھے، جس کے باعث ان کی قانونی شناخت اور شہری حیثیت متاثر ہو رہی تھی۔

معزز عدالت نے تمام حقائق کا بغور جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ مؤکلین کی جانب سے کسی قسم کی mens rea (بدنیتی) موجود نہیں تھی بلکہ یہ ایک bona fide mistake تھی۔ چنانچہ عدالت نے “مکمل فیملی کے غلطی سے لیے گئے ACC/POR Cards کو منسوخ (cancel) کرنے کا حکم جاری کیا” اور ساتھ ہی Ministry of SAFRON کو ہدایت دی کہ وہ مؤکلین کے حق میں No Objection Certificate (NOC) جاری کرے۔

یہ فیصلہ due process of law کے اصولوں کو مضبوط بناتا ہے اور متعلقہ اداروں، خصوصاً NADRA، کے لیے راستہ ہموار کرتا ہے تاکہ مؤکلین کو ان کے CNICs کے اجراء میں قانونی سہولت فراہم کی جا سکے۔ اس فیصلے کے بعد متاثرہ خاندان اپنی درست قانونی شناخت حاصل کرتے ہوئے اپنے آئینی حقوق سے مکمل طور پر مستفید ہو سکے گا۔

WhatsApp 03131468739

#پاکستان

پی او سی POC تاخیر کا شکار؟ ہائی کورٹ سے اسٹے آرڈر (Stay Order)لیکر کر خود کو اور فیملی کو محفوظ بنائیں!اگر آپ نے شادی ک...
25/04/2026

پی او سی POC تاخیر کا شکار؟ ہائی کورٹ سے اسٹے آرڈر (Stay Order)لیکر کر خود کو اور فیملی کو محفوظ بنائیں!

اگر آپ نے شادی کی بنیاد پر POC کے لیے درخواست جمع کروائی ہے لیکن وہ تاحال زیرِ التواء ہے، تو آپ قانونی طور پر ہائی کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ آرٹیکل 199 کے تحت آئینی درخواست دائر کر کے حکمِ امتناعی (Stay Order) حاصل کیا جا سکتا ہے، جس کے ذریعے متعلقہ اداروں کو آپ کے خلاف ڈیپورٹیشن، ہراسانی یا کسی بھی جبری کارروائی سے روکا جا سکتا ہے۔

عدالت اس امر کا بھی جائزہ لے سکتی ہے کہ تاخیر غیر معقول تو نہیں، اور متعلقہ اتھارٹی کو درخواست کو جلد از جلد نمٹانے کا حکم دے سکتی ہے۔ یہ ایک مؤثر قانونی راستہ ہے جس کے ذریعے آپ اپنے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنا سکتے ہیں۔


Adv Shakeel Ahmad

پشاور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ! پاکستانی بیوی اور (POC ) کی بنیاد پر افغان شہری کی ضمانت منظور-پشاور ہائی کورٹ کے معزز چیف...
20/03/2026

پشاور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ!
پاکستانی بیوی اور (POC ) کی بنیاد پر افغان شہری کی ضمانت منظور-

پشاور ہائی کورٹ کے معزز چیف جسٹس کی سربراہی میں ایک اہم نوعیت کا فیصلہ سامنے آیا، جس میں ایک افغان نیشنل کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کیا گیا۔

ریکارڈ کے مطابق مذکورہ افغان شہری کو فارنرز ایکٹ/سیکشن 14 کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔ تاہم دورانِ سماعت یہ امر عدالت کے سامنے واضح کیا گیا کہ ملزم کی اہلیہ پاکستانی شہری ہیں، جس کی بنیاد پر وہ پاکستان اوریجن کارڈ (POC) حاصل کرنے کا قانونی حق رکھتا ہے۔

عدالتِ عالیہ نے اس قانونی و آئینی پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے قرار دیا کہ:
ایسے افراد جن کے ازدواجی تعلقات پاکستانی شہری سے قائم ہوں، انہیں محض غیر ملکی حیثیت کی بنیاد پر مسلسل حراست میں رکھنا مناسب نہیں، خصوصاً جب وہ پاکستان اوریجن کارڈ کے اہل ہوں۔

اسی بنیاد پر عدالت نے ملزم کی ضمانت منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم جاری کیا۔

📌 قانونی اہم نکات:
✔️ شادی (Marriage with Pakistani Citizen) ایک اہم قانونی فیکٹر تسلیم
✔️ پاکستان اوریجن کارڈ (POC) کا حق بطور دفاع پیش
✔️ سیکشن 14 فارنرز ایکٹ کے اطلاق میں عدالتی توازن
✔️ بنیادی حقوق اور فیملی لائف کے تحفظ کا اصول

یہ فیصلہ مستقبل میں ایسے مقدمات کے لیے ایک مضبوط نظیر (precedent) کے طور پر اہمیت اختیار کر سکتا ہے، جہاں غیر ملکی شہری پاکستانی شریکِ حیات کی بنیاد پر قانونی سہولت کے مستحق ہوں۔

📞 رابطہ کریں:
اگر آپ یا آپ کے کسی عزیز کو اس نوعیت کے قانونی مسائل درپیش ہوں، یا آپ کو اس حوالے سے مزید رہنمائی درکار ہو، تو بلا جھجھک رابطہ کریں۔ آپ کی رہنمائی اور قانونی معاونت کے لیے ہم دستیاب ہیں۔
رابطہ نمبر : 03131468739

📢 مزید قانونی اپڈیٹس، عدالتی فیصلوں اور مستند معلومات کے لیے فالو کریں۔

Hamara Pakistan Digital SANJO TV Adv Shahkaar Muhammadzai Adv Ijaz Ahmad

:بلاک شدہ CNIC کا مسئلہ؟ وزارتِ داخلہ کے مطابق یہ دستاویزات ہوں تو حل ممکن ہے! پاکستان میں بعض اوقات شہریوں کا شناختی کا...
15/03/2026

:بلاک شدہ CNIC کا مسئلہ؟ وزارتِ داخلہ کے مطابق یہ دستاویزات ہوں تو حل ممکن ہے!

پاکستان میں بعض اوقات شہریوں کا شناختی کارڈ (CNIC) مختلف وجوہات کی بنا پر بلاک ہو جاتا ہے جس سے روزمرہ معاملات میں شدید مشکلات پیش آتی ہیں۔ تاہم وزارتِ داخلہ حکومتِ پاکستان کی ہدایات کے مطابق اگر کسی درخواست گزار کے پاس چند مخصوص پرانے سرکاری ریکارڈ موجود ہوں تو ان کی بنیاد پر شناخت اور شہریت کی تصدیق ممکن ہے۔

وزارتِ داخلہ کے جاری کردہ رہنما اصولوں کے مطابق اگر درج ذیل میں سے کوئی ایک دستاویز موجود ہو اور متعلقہ ادارہ اس کی تصدیق (Verification) کر دے تو بلاک شدہ CNIC کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ اسی سلسلے میں نیچے وزارتِ داخلہ کا متعلقہ دستاویز/نوٹیفکیشن بھی بطور حوالہ منسلک ہے۔

1) Land record registered prior to 1978 (verified by Revenue Department)
1978 سے پہلے رجسٹرڈ زمین کا ریکارڈ جس کی تصدیق محکمہ ریونیو سے ہو۔

2) Local/Domicile Certificate issued prior to 1978 and verified by issuing Authority
1978 سے پہلے جاری شدہ لوکل یا ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ جس کی تصدیق متعلقہ جاری کرنے والی اتھارٹی کرے۔

3) Pedigree (Shajra-e-Nasab) issued & verified by Revenue Department
شجرۂ نسب جو محکمہ ریونیو کی طرف سے جاری اور تصدیق شدہ ہو۔

4) Government employment certificate (of applicant or blood relative), employee before 1999
درخواست گزار یا اس کے قریبی خونی رشتہ دار کی سرکاری ملازمت کا سرٹیفیکیٹ، بشرطیکہ ملازمت 1999 سے پہلے کی ہو۔

5) Verified educational certificates issued prior to 1978
1978 سے پہلے جاری شدہ تعلیمی اسناد جن کی متعلقہ ادارے سے تصدیق ہو۔

6) Passport issued to the applicant prior to 1978
درخواست گزار کو 1978 سے پہلے جاری کیا گیا پاسپورٹ۔

7) Any other document issued by the Government of Pakistan prior to 1978 and verified by the issuing authority may also be accepted, including Arm License, Driving License, or Manual NIC issued before 1978.
حکومتِ پاکستان کی طرف سے 1978 سے پہلے جاری کیا گیا کوئی بھی سرکاری دستاویز جس کی تصدیق متعلقہ اتھارٹی کرے، مثلاً اسلحہ لائسنس، ڈرائیونگ لائسنس یا پرانا دستی شناختی کارڈ۔

لہٰذا اگر کسی شہری کے پاس ان میں سے کوئی ایک بھی مستند دستاویز موجود ہو تو وہ متعلقہ ادارے سے اس کی تصدیق کروا کر نادرا میں پیش کرے۔ وزارتِ داخلہ کے مطابق اس بنیاد پر بلاک شدہ شناختی کارڈ کے مسئلے کے حل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

اگر آپ کو اس حوالے سے کوئی قانونی مشورہ درکار ہو یا آپ کو CNIC کے معاملے میں کسی قسم کا مسئلہ درپیش ہو تو رہنمائی کے لیے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔





Hamara Pakistan Digital
SANJO TV
Adv Ijaz Ahmad
Adv Shahkaar Muhammadzai

فیملی کورٹ میں دعویٰ کا طریقہ کار
28/02/2026

فیملی کورٹ میں دعویٰ کا طریقہ کار

اگر کسی لڑکی نے کورٹ میرج کر لی ہو تو مستقبل میں کسی بھی خاندانی تنازع، ہراسانی، جھوٹے اغوا کے مقدمے یا زبردستی نکاح کے ...
26/02/2026

اگر کسی لڑکی نے کورٹ میرج کر لی ہو تو مستقبل میں کسی بھی خاندانی تنازع، ہراسانی، جھوٹے اغوا کے مقدمے یا زبردستی نکاح کے الزام سے بچاؤ کے لیے مجسٹریٹ کے سامنے دفعہ 164 ضابطہ فوجداری کے تحت رضاکارانہ بیان ریکارڈ کروانا انتہائی اہم قانونی اقدام ہے۔

دفعہ 164 کے تحت دیا جانے والا بیان عدالتی ریکارڈ کا باقاعدہ حصہ بنتا ہے، جس میں لڑکی واضح طور پر اس امر کی تصدیق کرتی ہے کہ اس نے اپنی آزاد مرضی اور مکمل رضامندی سے، بغیر کسی دباؤ یا جبر کے نکاح کیا ہے۔ یہ بیان بعد ازاں کسی بھی پولیس انکوائری، فیملی ڈسپیوٹ، یا فوجداری کارروائی میں مضبوط اور مؤثر شہادت کے طور پر استعمال ہو سکتا ہے۔

بیان کے وقت اصل شناختی کارڈ، نکاح نامہ، اور دیگر متعلقہ دستاویزات مجسٹریٹ کے روبرو پیش کی جاتی ہیں۔ مجسٹریٹ مکمل اطمینان اور قانونی تقاضے پورے ہونے کے بعد بیان قلمبند کرتے ہیں، جو مستقبل کے ممکنہ قانونی مسائل کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوتا ہے۔

ہم پیشہ ورانہ انداز میں کورٹ میرج ڈاکیومنٹیشن، دفعہ 164 کے تحت بیان کی تیاری و ریکارڈنگ، اور مکمل قانونی رہنمائی فراہم کرتے ہیں تاکہ جوڑا ہر قسم کے قانونی خطرات سے محفوظ رہ سکے اور ان کا نکاح مکمل طور پر قانونی تحفظ حاصل کر سکے۔

After completing a court marriage, it is a critically important legal step for the bride to record her voluntary statement before a Magistrate under Section 164 of the Code of Criminal Procedure (CrPC). This measure provides strong legal protection and safeguards the couple against future allegations such as kidnapping, coercion, abduction, or forced marriage.

A statement recorded under Section 164 CrPC becomes part of the official judicial record. In this statement, the bride formally confirms that the marriage was solemnized of her own free will, with full consent, and without any pressure or undue influence. Such a statement carries substantial evidentiary value in any subsequent police inquiry, family dispute, or criminal proceeding.

During the process, the original CNIC, Nikah Nama, and other relevant documents are presented before the Magistrate. After proper verification and satisfaction, the Magistrate records the statement in accordance with legal requirements. This recorded statement acts as a strong legal safeguard against potential harassment or malicious litigation.

We provide professional assistance in court marriage documentation, Section 164 statement processing, and comprehensive legal guidance to ensure complete legal security and protection for the couple.

پشاور ہائی کورٹ کی آئینی و قانونی رہنمائی پر مکمل اعتماد ہے کہ انصاف کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔ کاغذ پر ایک حکم لکھا...
24/02/2026

پشاور ہائی کورٹ کی آئینی و قانونی رہنمائی پر مکمل اعتماد ہے کہ انصاف کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔ کاغذ پر ایک حکم لکھا گیا، مگر دلوں میں سوال ابھی باقی ہیں۔ امید ہاری نہیں، بس آزمائش میں ہے۔

ایک وزیر اعلی کو حفاظتی ضمانت کی کیا ضرورت پڑھ گئی ؟ پختونخواہ کی تاریخ میں یہ ذلت بھی لکھی گئی تھی، کچھ کرنا ہی تھا تو ...
05/10/2024

ایک وزیر اعلی کو حفاظتی ضمانت کی کیا ضرورت پڑھ گئی ؟ پختونخواہ کی تاریخ میں یہ ذلت بھی لکھی گئی تھی، کچھ کرنا ہی تھا تو صوبہ میں ترقیاتی کام کرلیتے، کارکردگی سے مقابلہ کرلیں،
اگر احتجاج و دھرنا سے ملزمان کی رہائی ہوتی تو سارے نشئی پوڈری اپنے برادری کے نشئی پوڈری کی رہائی کیلئے عدالت کے بجائے احتجاج کرتے،
پشاور ہائی کورٹ میں آج کے بعد ملزمان کی حاضری کیلئے ریڈ کارپٹ بیچایا جائیگا

Address

Office : 1st Floor Midway Plaza , Opposite Excise And Taxation Office Shami Road Peshawar Cantt
Peshawar
25000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dastoor Law Associates-DLA posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category