Mughal Law Chamber

Mughal Law Chamber This is the official legal page of Mr. Ali Bakht Mughal Advocate Peshawar

ایک وکیل صرف 2 روپے کے پیج اور 5 روپے کے پن سے تمہاری رات کی نیند ضرور حرام کر سکتا ہے اتنا وجود تو رکھتا ہے وکیل⚖️🙂    ...
09/08/2026

ایک وکیل صرف 2 روپے کے پیج اور 5 روپے کے پن سے تمہاری رات کی نیند ضرور حرام کر سکتا ہے اتنا وجود تو رکھتا ہے وکیل
⚖️🙂

دنیا میں وکیل جیسا خوبصورت کوئی پیشہ نہیں۔ اگر آپ وکیل ہیں تو خود پر فخر کریں، کیونکہ آپ کو دکھی انسانیت کی مدد کے لیے چ...
05/08/2026

دنیا میں وکیل جیسا خوبصورت کوئی پیشہ نہیں۔ اگر آپ وکیل ہیں تو خود پر فخر کریں، کیونکہ آپ کو دکھی انسانیت کی مدد کے لیے چنا گیا ہے۔⚖️❤️‍🔥👑

وکالت محض ایک پیشہ نہیں بلکہ مظلوموں کو انصاف دلانے اور معاشرے میں توازن برقرار رکھنے کا ایک مقدس فریضہ ہے۔

انصاف کا حصول اور حقوق کا تحفظ

قانونی رہنمائی:

عام شہری اکثر پیچیدہ قوانین سے ناواقف ہوتے ہیں، جہاں وکیل ان کی درست رہنمائی کرتا ہے۔

حقوق کی بحالی:

غصب شدہ حقوق، جائیداد کے تنازعات اور دیگر مسائل میں وکیل مظلوم کا حق واپس دلانے کا ذریعہ بنتا ہے۔

کمزور کی آواز بننا

بے کس کی مدد: طاقتور کے سامنے کمزور کی وکالت کرنا معاشرتی برابری کے لیے ضروری ہے۔

مفت قانونی امداد (Pro Bono): بہت سے مخلص وکلاء غریب اور نادار لوگوں کے کیس بغیر کسی فیس کے لڑتے ہیں تاکہ انصاف سب کے لیے ممکن ہو سکے۔

قانون کی پاسداری اور امن و امان

آئین کا تحفظ: وکلاء ملک میں آئین کی بالادستی اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہراول دستے کا کردار ادا کرتے ہیں۔

عدالتی معاونت: جج صاحب کے سامنے حقائق اور قوانین کو درست طریقے سے پیش کر کے وکیل صحیح فیصلے تک پہنچنے میں عدالت کی مدد کرتا ہے۔

بلاشبہ، اگر ایک وکیل دیانت داری اور خوفِ خدا کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دے، تو وہ معاشرے سے ظلم کا خاتمہ کر کے امن قائم کرنے میں سب سے اہم ستون ثابت ہو سکتا ہے۔


مالی سال 2026-2027 کیلیے دیت کی رقم مبلغ ایک کروڑ ترانوے لاکھ باون ہزار  تین سو نوے روپے (Rs. 19,352,390) مقرر۔The feder...
28/07/2026

مالی سال 2026-2027 کیلیے دیت کی رقم مبلغ ایک کروڑ ترانوے لاکھ باون ہزار تین سو نوے روپے (Rs. 19,352,390) مقرر۔
The federal government has declared the value of Diyat (blood money) at Rs. 19,352,390 (Nineteen Million Three Hundred Fifty-Two Thousand Three Hundred and Ninety only) for the financial year 2026-2027.

مجلس (عزاداری ءِ امام حسین علیہ السلام) سے روکنا غیر آئینی و غیر قانونی عمل ہے۔ کوئی بھی ایسا قانون یا پالیسی جو شہریوں ...
13/07/2026

مجلس (عزاداری ءِ امام حسین علیہ السلام) سے روکنا غیر آئینی و غیر قانونی عمل ہے۔ کوئی بھی ایسا قانون یا پالیسی جو شہریوں کے بنیادی حقوق کے خلاف ہو کبھی قابل قبول نہیں ہوسکتی۔
آ
ئین پاکستان کا آرٹیکل 20 مجلس ماتم کی مکمل اجازت دیتا ہے،

آئین کا آرٹیکل 20 تمام شہریوں کو اپنے مذہب کی ترویج، تبلیغ اور اشاعت کا بنیادی حق دیتا ہے.

مجلس و ماتم کے لئے کسی اجازت نامے کی ضرورت نہیں ہے یہ اجازت ہمیں آئین کا آرٹیکل 20 دے چکا ہے۔

زیرِ نظر تصاویر میں عدالت عالیہ نے بھی مجلس کے انعقاد کو آئینی اور بنیادی حق گردانتے ہوئے کسی بھی اجازت نامے کی شرط کو آئین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

⚖️ اسلام آباد ہائی کورٹ کا طلاقِ جعفریہ پر تاریخی فیصلہ! (2026 CLC 1) 📜​کیا صرف کاغذ پر طلاق لکھ کر بھیجنے سے فقہ جعفریہ...
30/06/2026

⚖️ اسلام آباد ہائی کورٹ کا طلاقِ جعفریہ پر تاریخی فیصلہ! (2026 CLC 1) 📜
​کیا صرف کاغذ پر طلاق لکھ کر بھیجنے سے فقہ جعفریہ (شیعہ مسلک) میں طلاق ہو جاتی ہے؟ اسلام آباد ہائی کورٹ نے واضح اور بڑا فیصلہ سنا دیا! 🛑
​کیس کی کہانی:
بشریٰ حسین بنام چیئرمین ثالثی کونسل کیس میں شوہر نے طلاق کے کاغذات تو بھیجے لیکن صیغہ طلاق نہیں پڑھا تھا، پھر بھی یونین کونسل نے طلاق کا سرٹیفکیٹ جاری کر دیا۔ ہائی کورٹ نے اس سرکاری سرٹیفکیٹ کو غیر قانونی قرار دے کر منسوخ کر دیا!
​⚡ عدالت نے طلاقِ جعفریہ کے لیے 4 لازمی شرطیں طے کر دیں:
1️⃣ طلاق صرف شوہر کی اپنی آزاد مرضی سے ہو۔ (غصے یا زبردستی کی طلاق قابلِ قبول نہیں)۔
2️⃣ شوہر خود یا اس کا مجاز وکیل طلاق دے۔
3️⃣ عربی الفاظ (صیغہ طلاق) زبان سے ادا کرنا فرض ہے۔
4️⃣ صیغہ پڑھتے وقت کم از کم 2 عادل مسلمان مرد گواہ موقع پر موجود ہوں۔
​💡 عدالت کا بڑا رولنگ (Ratio Decidendi):
قانون میں لکھا لفظ "May" (کر سکتا ہے) یہاں اختیاری نہیں بلکہ "Must" (لازمی) ہے۔ جب تک گواہوں کے سامنے زبانی عربی صیغہ نہیں پڑھا جائے گا، تب تک طلاق مؤثر (Effective) نہیں ہوگی، چاہے کتنے ہی کاغذی نوٹس بھیج دیے جائیں!
​آئندہ کوئی بھی یونین کونسل عربی صیغے اور گواہوں کی تصدیق کے بغیر شیعہ فریقین کو طلاق کا سرٹیفکیٹ جاری نہیں کر سکتی۔ ⚖️✨

دیوانی مقدمات انسان کو دیوانہ بنا دیتے ہیں  یہ مقولہ محض ایک لفظی کھیل نہیں بلکہ عدالتی نظام کی ایک تلخ حقیقت ہے کہ "دیو...
02/06/2026

دیوانی مقدمات انسان کو دیوانہ بنا دیتے ہیں

یہ مقولہ محض ایک لفظی کھیل نہیں بلکہ عدالتی نظام کی ایک تلخ حقیقت ہے کہ "دیوانی مقدمات اچھے خاصے انسان کو دیوانہ بنا دیتے ہیں"۔ نسل در نسل چلنے والی تاریخیں، حکم امتناعی کی بھول بھلیاں، اور ضابطہ دیوانی کی نہ ختم ہونے والی پیچیدگیاں سائل کا مال، وقت اور اعصاب اس حد تک نچوڑ لیتی ہیں کہ اس صبر آزما اور طویل ترین عدالتی سفر کی ذہنی اذیت کے باعث ہی دیوانی کو بجا طور پر دیوانگی سے تشبیہ دی جاتی ہے۔
دیوانی مقدمات محض قانون کی کتابوں سے حوالے دینے یا عدالت
میں کھڑے ہو کر ارگومنٹس کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ اعصاب، صبر، اور ایک طویل ریاضت کا متقاضی میدان ہے۔ اس میدان میں یہ مقولہ زبانِ زدِ عام ہے کہ فیصلہ کرسیِ صدارت پر بیٹھا جج سناتا ہے، لیکن اس فیصلے کا حقیقی معمار وہ وکیل ہوتا ہے جس نے مقدمے کی بنیادیں اپنے علم اور تجربے سے استوار کی ہوتی ہیں۔ ایک عام وکیل کے لیے دعویٰ شاید حقائق بیان کرنے کا ایک پلندہ ہو، لیکن ایک تجربہ کار دیوانی وکیل جانتا ہے کہ دعویٰ وہ سکرپٹ ہے جس کے گرد اگلے کئی سالوں تک پورا ٹرائل گھومے گا۔ دیوانی وکیل دعویٰ لکھتے وقت محض حال کو نہیں دیکھتا، بلکہ اس کی نظر سالوں بعد ہونے والی جرح اور حتمی دلائل پر ہوتی ہے۔ وہ الفاظ کا چناؤ اس قدر نپا تلا کرتا ہے کہ کوئی ایک غیر ضروری جملہ یا لفظ مستقبل میں اس کے اپنے موکل کے گلے کی پھانس نہ بن جائے اور وہ دعوے میں وہی حقائق شامل کرتا ہے جنہیں وہ قانونِ شہادت کے تحت ثابت کر سکے۔
​دوسری جانب دفاع کرنے والے وکیل کی اصل قابلیت جوابِ دعویٰ میں ظاہر ہوتی ہے کیونکہ قانون کا اصول ہے کہ مبہم انکار دراصل اقرار تصور ہوتا ہے۔ ایک ماہر وکیل جوابِ دعویٰ کو مخالف کے خلاف ایک بارودی سرنگ میں تبدیل کر دیتا ہے، وہ ہر پیرے کا مخصوص انکار کرتا ہے اور ابتدائی عذرات کی صورت میں لمٹیشن، کاز آف ایکشن کا نہ ہونا، یا دائرہ اختیار کے ایسے قانونی پھندے تیار کرتا ہے جو مدعی کے دعوے کو ٹرائل سے پہلے ہی زمین بوس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
​جب ایک شاندار دعویٰ اور ایک ماہرانہ جوابِ دعویٰ عدالت کے سامنے آتے ہیں، تو پھر وہ درمیانی مرحلہ آتا ہے جو مقدمے کی سمت کا حتمی فیصلہ کرتا ہے، یعنی ایشوز کا فریم ہونا۔ یہ بذاتِ خود اتنا اہم موضوع ہے کہ اس پر باقاعدہ تحقیق کی ضرورت ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ آج کل وکلاء کے ایک بڑے طبقے کو یہ تک معلوم نہیں کہ ایشوز دراصل کیا ہوتے ہیں، ان کی حقیقی اہمیت کیا ہے، اور کس طرح ایک ماہر وکیل انھی ایشوز کو اپنے حق میں ایک "پری ججمنٹ" (Pre-judgment)
میں تبدیل کر لیتا ہے۔ قانون کی دنیا کا یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ ایشوز ہاف ججمنٹ کے برابر ہوتے ہیں اور جج کا کام صرف انھی تنقیحات کی حد تک شواہد کو پرکھنا ہوتا ہے۔ ایک تجربہ کار اور منجھا ہوا وکیل اپنے کیس کی ججمنٹ اسی وقت پڑھ لیتا ہے جب اس کے سامنے ایشوز فریم ہو جاتے ہیں۔ جیسے ہی عدالت ایشوز طے کرتی ہے، اس ماہر وکیل کے سامنے فیصلہ ایک کھلی کتاب کی طرح آ جاتا ہے اور وہ بخوبی سمجھ جاتا ہے کہ کیس کس طرف جا رہا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی اس نظریے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
مقدمے کے وضع کردہ ایشوز ہی وہ دائرہ ہیں جو ٹرائل جج کے اختیارات کو قید کر دیتے ہیں، اور جو فریق ایشوز وضع کروانے میں کمال دکھاتا ہے، وہ دراصل مقدمے کا حتمی نتیجہ پہلے ہی طے کر لیتا ہے۔
​سول پروسیجر کوئی ایسا علم نہیں جو محض ڈگری لینے سے آ جائے۔ اگر کوئی سول کا وکیل ڈرافٹنگ کی باریکیاں نہیں سمجھتا اور اپنے کیس میں قانون کے مطابق اپنی مرضی کے ایشوز فریم نہیں کروا سکتا، تو اس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ وہ حقیقت میں وکیل ہی نہیں ہے، اس کے پاس محض وکالت کی ایک نام کی ڈگری اور نام کا لائسنس ہے۔ ایسا نام نہاد وکیل مقدمے کو چلا نہیں رہا ہوتا، بلکہ مقدمہ اسے چلا رہا ہوتا ہے۔ چونکہ ایشوز ہاف ججمنٹ کے برابر ہوتے ہیں، اس لیے جو وکیل ڈرافٹنگ کے سقم کی وجہ سے اپنا آدھا فیصلہ ہی اپنے حق میں نہ کروا سکے، وہ پوری ٹرائل میں صرف اندھیرے میں تیر چلاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قانونی حلقوں میں یہ تلخ حقیقت تسلیم کی جاتی ہے کہ دیوانی وکیل بہت کم ہوتے ہیں اور انہیں تلاش کرنا پڑتا ہے۔ فوجداری کیسز لڑنے والے یا متفرق درخواستوں پر بحث کرنے والے وکیل تو کچہریوں میں جا بجا مل جاتے ہیں، لیکن ضابطہ دیوانی کی بھول بھلیوں کو سمجھنے والا اور ڈرافٹنگ کا اصل ماہر ایک نایاب ہیرے کی طرح ہوتا ہے۔
​جدید قانونی ریسرچ میں ایک ٹرم استعمال ہوتی ہے جسے "Lawyer-Driven Litigation" (وکیل کے زیرِ اثر مقدمہ بازی) کہا جاتا ہے۔ خاص طور پر پیچیدہ سول مقدمات، جائیداد کے تنازعات اور کارپوریٹ لاء میں یہ ریسرچ موجود ہے کہ جب ایک انتہائی ہنر مند وکیل کیس پیش کرتا ہے، تو وہ ایشوز کو اس طرح فریم کرتا ہے کہ جج کے پاس فیصلے کے لیے محدود آپشنز بچتے ہیں۔ مارک گیلنٹر (Marc Galanter) کا مشہور مقالہ "Why the Haves Come Out Ahead" اسی بات کی تائید کرتا ہے کہ ماہر قانونی خدمات رکھنے والا فریق مقدمے کا نتیجہ پہلے ہی اپنے حق میں کر لیتا ہے۔
​یہ موضوع اس بات کا متقاضی ہے کہ اس پر قانونی رسائل (Law Journals) میں باقاعدہ مقالے لکھے جائیں۔ ایک قابل وکیل صرف مقدمہ نہیں لڑتا، وہ اصل میں جج کو وہ چشمہ پہناتا ہے جس سے جج کو وہی نظر آتا ہے جو وکیل دکھانا چاہتا ہے۔ سول مقدمات میں، جج بلاشبہ کرسی پر بیٹھ کر فیصلہ سناتا ہے، لیکن اس فیصلے کا حقیقی مصنف، معمار اور "اصل جج" وہ وکیل ہوتا ہے جس نے برسوں کی محنت سے ضابطہ دیوانی کو اپنا تابع بنایا ہوتا ہے۔

اپ میری رائے سے اختلاف کر سکتے ہیں اور اس پر مجھے یقینی طور پر بہت خوشی ہوگی

21/02/2026

Mother of Advocacy : The Mentor

Address

Peshawar
25000

Opening Hours

Monday 08:00 - 21:00
Tuesday 08:00 - 21:00
Wednesday 08:00 - 21:00
Thursday 08:00 - 21:00
Friday 08:00 - 21:00
Saturday 08:00 - 21:00

Telephone

+923157545626

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mughal Law Chamber posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Mughal Law Chamber:

Shortcuts

Share