Law & Policy Network

Law & Policy Network Empowering People, Promoting Professional Excellence.

⚖️ سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم فیصلہسپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ محض مالی تنگدستی کا دعویٰ بچے کے نان و نفقہ...
28/07/2026

⚖️ سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم فیصلہ

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ محض مالی تنگدستی کا دعویٰ بچے کے نان و نفقہ کی قانونی ذمہ داری سے بری الذمہ ہونے کے لیے کافی نہیں۔

عدالت نے واضح کیا کہ نان و نفقہ کا تعین کرتے وقت صرف موجودہ آمدنی نہیں بلکہ والد کی آمدنی کمانے کی صلاحیت، مالی حالات اور دستیاب شواہد کو بھی مدنظر رکھا جائے گا تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ مالی تنگدستی کا دعویٰ حقیقی ہے یا نہیں۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ بچے کا حقِ نان و نفقہ اولین ترجیح رکھتا ہے، اور اگر والد کمانے کی صلاحیت رکھتا ہو تو وہ محض مالی تنگدستی کا بہانہ بنا کر اپنی قانونی ذمہ داری سے فرار اختیار نہیں کر سکتا۔

حوالہ: PLD 2026 SC 170 – Muhammad Imran Baqir v. Mst. Zarnain Arzoo & Others (Supreme Court of Pakistan).

⚖️ سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم شرعی فیصلہ: باپ کی جانب سے بچے کی نسبت سے انکار، ماں پر زنا کا الزام (قذف) شمار ہوگا(202...
26/07/2026

⚖️ سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم شرعی فیصلہ: باپ کی جانب سے بچے کی نسبت سے انکار، ماں پر زنا کا الزام (قذف) شمار ہوگا

(2025 SCMR 676 | Mst. Saeeda Begum v. The State)

سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بینچ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اگر کوئی شوہر اپنے نکاح کے دوران یا بعد میں پیدا ہونے والے بچے کو اپنا ماننے سے انکار کرتا ہے تو یہ صرف نسب سے انکار نہیں بلکہ بچے کی ماں پر زنا کی نسبت (قذف) ہے، جس کے سنگین شرعی اور قانونی نتائج ہیں۔

فیصلے کے اہم نکات:

▪️ بچے کی ولدیت سے انکار دراصل ماں پر زنا کا الزام لگانے کے مترادف ہے، لہٰذا یہ قذف کے زمرے میں آتا ہے۔

▪️ لعان (Li'an) کا طریقہ صرف اس وقت قابلِ اطلاق ہوتا ہے جب شوہر اور بیوی کے درمیان ازدواجی تعلق (نکاح) برقرار ہو۔ اگر طلاق کے بعد ایسا الزام لگایا جائے تو لعان نہیں بلکہ قذف کے احکام لاگو ہوں گے۔

▪️ اگر بچہ نکاح کے دوران یا قانون کے مطابق نکاح ختم ہونے کے بعد مقررہ مدت میں پیدا ہوا ہو تو آرٹیکل 128، قانونِ شہادت آرڈر 1984 کے تحت اس کی مشروعیت (Legitimacy) حتمی طور پر تسلیم کی جائے گی، بشرطیکہ عورت نے دوبارہ شادی نہ کی ہو۔

▪️ ایسے بچے کو اسلامی قانون اور ملکی قانون کے تحت جائز اولاد کے تمام قانونی حقوق حاصل ہوں گے، اور اس کی مشروعیت کو آسانی سے چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔

▪️ عدالت نے واضح کیا کہ اس مقدمے میں شوہر کا عمل لعان نہیں بلکہ قذف کے احکام کے تابع تھا۔

▪️ تاہم چونکہ سابقہ بیوی نے بعد ازاں شوہر کو سزا دلوانے پر اصرار نہیں کیا، اس لیے شرعی اصولوں کے مطابق حدِ قذف نافذ نہیں کی جا سکی اور ملزم کی بریت برقرار رکھی گئی۔

یہ فیصلہ نسب، عزت، خواتین کے وقار اور اسلامی قانون میں قذف و لعان کے درمیان بنیادی فرق کو واضح کرنے والا ایک نہایت اہم نظیر (precedent) ہے۔

'an

حال ہی میں ایک ٹیکس دہندہ  (Taxpayer) ہمارے پاس اس وقت آیا جب اسے ایف بی آر کی جانب سے انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 کے سیکشن ...
25/07/2026

حال ہی میں ایک ٹیکس دہندہ (Taxpayer) ہمارے پاس اس وقت آیا جب اسے ایف بی آر کی جانب سے انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 کے سیکشن 111 کے تحت نوٹس موصول ہوا، جس میں 4.1 ملین روپے سے زائد مالیت کی غیر وضاحت شدہ جائیداد میں سرمایہ کاری کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اس نے پہلے ایک غیر پیشہ ور شخص سے ٹیکس ریٹرن فائل کروایا تھا، جس نے بغیر کسی ویلتھ ریکنسیلی ایشن (wealth reconciliation)، اثاثوں کی درست تفصیل یا مطلوبہ دستاویزات کے صرف نِل (Nil) ریٹرن جمع کرا دی۔ نتیجتاً ایف بی آر کے خودکار نظام نے نِل ریٹرن کے باوجود جائیداد کی خریداری کو غیر وضاحت شدہ آمدن (Unexplained Income) تصور کرتے ہوئے نوٹس جاری کر دیا۔

بعد ازاں ہم نے پورے معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا، ٹیکس ریکارڈ کو ازسرِ نو مرتب کیا، IRIS پورٹل پر مکمل ویلتھ ریکنسیلی ایشن کی، تمام متعلقہ دستاویزات کی بنیاد پر مضبوط قانونی جواب تیار کر کے ایف بی آر میں جمع کروایا۔ اس پیشہ ورانہ حکمتِ عملی کے نتیجے میں تمام تضادات دور ہو گئے اور قابلِ اعتراض رقم صفر (PKR 0) تک لے آئی گئی۔

اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ ٹیکس ریٹرن فائل کرنا محض ایک رسمی کارروائی یا زیرو آمدن ظاہر کرنے کا نام نہیں، بلکہ اس کے لیے درست مالی ریکارڈ، ویلتھ ریکنسیلی ایشن، قانونی مہارت اور مکمل دستاویزی ثبوت درکار ہوتے ہیں۔ چند ہزار روپے بچانے کی خاطر غیر پیشہ ور(non- professionals) افراد سے ٹیکس فائل کروانا بعد میں ایف بی آر کے نوٹس، جرمانوں، ذہنی دباؤ اور لاکھوں روپے کے مالی نقصانات کا سبب بن سکتا ہے۔

فائلر بنیں، غیر ضروری ٹیکس سے بچیں!Filers vs. Non-Filers: Know the difference, save your money!
25/07/2026

فائلر بنیں، غیر ضروری ٹیکس سے بچیں!

Filers vs. Non-Filers: Know the difference, save your money!

⚖️ تعلیمی اداروں میں ہراسگی (Harassment) سے متعلق سپریم کورٹ آف پاکستان کی اہم ہدایاتسپریم کورٹ آف پاکستان نے C.P.L.A No...
25/07/2026

⚖️ تعلیمی اداروں میں ہراسگی (Harassment) سے متعلق سپریم کورٹ آف پاکستان کی اہم ہدایات

سپریم کورٹ آف پاکستان نے C.P.L.A Nos. 851-L & 1379-L of 2024 میں ایک اہم فیصلہ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی تعلیمی ادارہ کام کی جگہ پر ہراسگی (Workplace Harassment) کی شکایات کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ہراسگی کے الزامات کی مؤثر، شفاف اور بروقت تحقیقات ہر تعلیمی ادارے کی قانونی ذمہ داری ہے۔

سپریم کورٹ کی اہم ہدایات:

✅ ہر اسکول، کالج اور یونیورسٹی میں ہراسگی کی شکایات کی تحقیقات کے لیے باقاعدہ Harassment Inquiry Committee قائم کرنا لازمی ہوگا۔

✅ ہر ملازم کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ ہراسگی کی شکایت براہِ راست انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش کرے۔

✅ ہر شکایت کی فوری، منصفانہ اور شفاف تحقیقات ادارے کے اندر موجود قانونی طریقۂ کار کے مطابق کی جائیں تاکہ متاثرہ فرد کو انصاف کے حصول کے لیے صرف ادارے کے سربراہ پر انحصار نہ کرنا پڑے۔

✅ تمام تعلیمی ادارے ہراسگی کے خلاف Zero Tolerance Policy اختیار کریں اور اس پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنائیں۔

✅ ہر ادارہ اپنا Anti-Harassment Code of Conduct نمایاں مقام پر آویزاں کرے تاکہ تمام ملازمین اس سے آگاہ رہیں۔

✅ وفاقی اور صوبائی تعلیمی حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ سپریم کورٹ کی ان ہدایات پر ملک بھر کے تمام اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں مؤثر انداز میں عمل درآمد کیا جائے۔

یہ فیصلہ تعلیمی اداروں میں محفوظ، باوقار اور ہراسگی سے پاک ماحول کے فروغ کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہے، جہاں ہر ملازم کو عزت، تحفظ اور انصاف کی فراہمی ریاست اور اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

⚖️ کیا شوہر کی اجازت کے بغیر بھی فیملی کورٹ خلع کی ڈگری دے سکتی ہے؟مختصر جواب: جی ہاں۔ مناسب قانونی اور شرعی حالات میں ف...
25/07/2026

⚖️ کیا شوہر کی اجازت کے بغیر بھی فیملی کورٹ خلع کی ڈگری دے سکتی ہے؟

مختصر جواب: جی ہاں۔ مناسب قانونی اور شرعی حالات میں فیملی کورٹ شوہر کی رضامندی یا اس کی عدالت میں موجودگی کے بغیر بھی خلع کی ڈگری جاری کر سکتی ہے۔

اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ اگر شوہر طلاق دینے پر راضی نہ ہو تو عدالت بھی خلع نہیں دے سکتی۔ اس مؤقف کے حق میں بعض لوگ حضرت ثابت بن قیسؓ کے واقعے کا حوالہ دیتے ہیں، لیکن اس مسئلے کو صرف اسی واقعے تک محدود کرنا درست نہیں، کیونکہ شریعت اور قانون دونوں اس حوالے سے ایک جامع اصول فراہم کرتے ہیں۔

قرآنِ مجید کی سورۃ البقرہ (آیت 229) میں واضح فرمایا گیا ہے کہ اگر میاں بیوی اللہ کی مقرر کردہ حدود قائم نہ رکھ سکیں تو عورت فدیہ دے کر علیحدگی حاصل کر سکتی ہے۔ اسی قرآنی اصول کی بنیاد پر اسلامی فقہ میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ اگر ازدواجی تعلقات ناقابلِ بحالی ہو جائیں اور شوہر بلاوجہ طلاق دینے سے انکار کرے تو قاضی (جج) نکاح فسخ کرتے ہوئے خلع کی ڈگری جاری کر سکتا ہے۔

پاکستانی قانون بھی اسی اصول کی تائید کرتا ہے۔ West Pakistan Family Courts Act, 1964 کی Section 10(4) کے مطابق عدالت سب سے پہلے میاں بیوی کے درمیان صلح کرانے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔ اگر صلح کی کوشش ناکام ہو جائے اور عدالت اس نتیجے پر پہنچے کہ فریقین کے لیے ایک ساتھ رہنا ممکن نہیں رہا تو وہ خلع کی ڈگری جاری کر سکتی ہے۔ مزید یہ کہ اگر شوہر کو قانون کے مطابق سمن کی تعمیل ہو چکی ہو لیکن وہ پھر بھی عدالت میں حاضر نہ ہو تو عدالت Ex Parte کارروائی کرتے ہوئے بھی خلع کی ڈگری جاری کر سکتی ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی اپنے اہم فیصلوں PLD 1967 SC 97 (Khurshid Bibi v. Muhammad Amin) اور PLD 2002 SC 304 (Kaneez Fatima v. Wali Muhammad) میں واضح طور پر قرار دیا ہے کہ مناسب حالات میں عدالت شوہر کی رضامندی کے بغیر بھی خلع کی ڈگری جاری کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔

نتیجہ: خلع کی ڈگری جج کی ذاتی مرضی یا صوابدید کی بنیاد پر نہیں دی جاتی بلکہ قرآن و سنت، اسلامی فقہ، پاکستانی قانون اور سپریم کورٹ کے وضع کردہ اصولوں کی روشنی میں جاری کی جاتی ہے۔ لہٰذا یہ تاثر کہ "شوہر کی اجازت کے بغیر خلع ممکن نہیں" نہ شرعی اصولوں سے مطابقت رکھتا ہے اور نہ ہی پاکستانی قانون سے۔

ماریا شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت میں اہم پیش رفتوفاقی آئینی عدالت نے ماریا شہباز کیس میں دائر نظرِثانی درخواست کو سماع...
24/07/2026

ماریا شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت میں اہم پیش رفت

وفاقی آئینی عدالت نے ماریا شہباز کیس میں دائر نظرِثانی درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے اٹارنی جنرل پاکستان، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب، ماریا شہباز اور ان کے مبینہ شوہر سمیت تمام متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

سماعت کے دوران عدالت نے اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ "کم عمر لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر لے جانا پورے معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔" عدالت نے اس معاملے کو کسی ایک مذہب تک محدود کرنے کے بجائے ایک وسیع سماجی اور قانونی مسئلہ قرار دیا۔

یہ نظرِثانی درخواست بچوں کے تحفظ، کم عمری کی شادی، مذہبی آزادی، بنیادی حقوق اور وفاقی آئینی عدالت و وفاقی شرعی عدالت کے دائرۂ اختیار جیسے اہم آئینی سوالات اٹھاتی ہے، جن پر عدالت آئندہ سماعتوں میں غور کرے گی۔

اس تناظر میں Jubilee Campaign کی رپورٹ بھی قابلِ توجہ ہے، جس کے مطابق 2019 سے 2025 کے دوران پاکستان میں 210 کم عمر مسیحی لڑکیوں کے اغوا، جبری مذہب تبدیلی اور کم عمری کی شادی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق 89 فیصد کیسز پنجاب میں پیش آئے جبکہ 83 فیصد متاثرہ لڑکیاں 18 سال سے کم عمر تھیں۔

یہ مقدمہ صرف ایک خاندان کا نہیں بلکہ بچوں کے تحفظ، آئین کی بالادستی اور قانون کی یکساں عملداری سے متعلق اہم قانونی سوالات کا بھی امتحان ہے۔

📢 ایف بی آر نے ٹیکس سال 2026 کے انکم ٹیکس ریٹرنز کی فائلنگ کا آغاز 27 جولائی 2026 (پیر) سے کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔تمام ...
24/07/2026

📢 ایف بی آر نے ٹیکس سال 2026 کے انکم ٹیکس ریٹرنز کی فائلنگ کا آغاز 27 جولائی 2026 (پیر) سے کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

تمام ٹیکس دہندگان سے گزارش ہے کہ اپنے انکم ٹیکس ریٹرنز بروقت، درست اور دیانتداری کے ساتھ جمع کرائیں۔ درست معلومات پر مبنی بروقت ٹیکس تعمیل نہ صرف آپ کو قانونی مسائل سے محفوظ رکھتی ہے بلکہ ایک مضبوط، شفاف اور مستحکم ٹیکس نظام کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

اپنا ٹیکس ریٹرن بروقت جمع کرائیں، فائلر بنیں اور قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ 🇵🇰💼

پشاور ہائیکورٹ میں ای-فائلنگ(E-filing) اور عدالتی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن (Digitalization of Courts) کے لیے درخواست دائر کر...
24/07/2026

پشاور ہائیکورٹ میں ای-فائلنگ(E-filing) اور عدالتی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن (Digitalization of Courts) کے لیے درخواست دائر کر دی گئی۔

سیدہ ام حبیبہ ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی جانے والی اس درخواست میں رجسٹرار پشاور ہائیکورٹ کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ موجودہ کاغذی نظام کی وجہ سے پشاور سے باہر کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے وکلاء اور سائلین کو طویل سفر کرنا پڑتا ہے جس سے وقت اور وسائل کا ضیاع ہوتا ہے اور انہیں شدید مالی و انتظامی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ دنیا بھر کے ڈیجیٹل کیس مینجمنٹ سسٹمز کی طرز پر شفاف ٹرائلز اور انصاف کی فراہمی کو تیز کرنے کے لیے پشاور ہائیکورٹ میں ای-فائلنگ، ڈیجیٹل کیس مینجمنٹ اور نوٹسز کے الیکٹرانک اجراء کا نظام فوری طور پر نافذ کیا جائے۔

A constitutional petition has been filed before the Peshawar High Court, Peshawar, seeking the introduction of E-Filing and the of digitalization of court proceedings.

The petition, filed by Syeda Ume Habiba, Advocate, arrayed the Registrar, Peshawar High Court as the respondent.

The petition contends that the existing paper-based filing system compels lawyers and litigants from districts outside Peshawar to undertake frequent and lengthy travel merely to file and pursue their cases. This results in unnecessary delays, financial burdens, and administrative hardships, ultimately affecting access to justice.

The petitioner has requested the Court to introduce E-Filing, Digital Case Management, Electronic Issuance of Notices, Online Case Tracking, and other modern judicial technologies, in line with international best practices. The proposed reforms aim to enhance efficiency, transparency, accessibility, and the timely administration of justice.

A modern judiciary requires modern tools. Digital courts are essential for ensuring faster, more accessible, and transparent justice for all.

چھوٹے تاجروں کے لیے آسان ٹیکس ریٹرن (ٹیکس سال 2026)وفاقی حکومت اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے چھوٹے تاجروں اور دکاندا...
24/07/2026

چھوٹے تاجروں کے لیے آسان ٹیکس ریٹرن (ٹیکس سال 2026)

وفاقی حکومت اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کے لیے سادہ (Simple) ٹیکس ریٹرن متعارف کرایا ہے، جس کا مقصد ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کے عمل کو آسان، تیز اور کم پیچیدہ بنانا ہے۔ اس اسکیم کے تحت اہل تاجر صرف ایک صفحے پر مشتمل ٹیکس ریٹرن جمع کرا سکیں گے، جس میں بنیادی کاروباری اور مالی معلومات درج کی جائیں گی، جبکہ ٹیکس کا حساب خودکار طریقے سے FBR کا نظام کرے گا۔

کن افراد کے لیے یہ سہولت دستیاب ہے؟

یہ سہولت ایسے افراد کے لیے ہے جو:

واحد ملکیت (Sole Proprietor) کے طور پر کاروبار کرتے ہوں۔

چھوٹے تاجر یا دکاندار ہوں۔

سالانہ کاروباری حجم (Turnover) 20 کروڑ روپے تک ہو۔

موجودہ فائلرز یا ایسے نان فائلرز جو فائلر بننا چاہتے ہوں۔

اس سادہ ریٹرن کے فوائد

صرف ایک صفحے پر مشتمل ریٹرن۔

آسان اور تیز فائلنگ کا عمل۔

ٹیکس کا خودکار حساب۔

پیچیدہ اکاؤنٹنگ شیڈولز کی ضرورت نہیں۔

پہلے سے کٹے ہوئے ودہولڈنگ ٹیکس کی ایڈجسٹمنٹ۔

مقررہ شرائط کے تحت معمول کے آڈٹ سے ریلیف۔

اہل تاجروں کے لیے لازمی POS انٹیگریشن سے استثنا۔

ریٹرن جمع کرانے کے لیے درکار معلومات

شناختی کارڈ (CNIC)

کاروبار کا نام اور پتہ

سالانہ فروخت اور خریداری کی تفصیلات

کاروباری اخراجات

بینک اور نقد رقم کی تفصیلات

کاروباری اثاثے

ودہولڈنگ ٹیکس سرٹیفکیٹس (اگر موجود ہوں)

اہم ہدایات

کاروبار کی اصل آمدن، فروخت اور منافع درست طور پر ظاہر کریں، تمام خرید و فروخت کا ریکارڈ، بینک اسٹیٹمنٹس اور ٹیکس کٹوتی کے سرٹیفکیٹس محفوظ رکھیں۔ اگر آپ کا سالانہ کاروباری حجم 20 کروڑ روپے سے زیادہ ہے تو آپ اس سہولت کے اہل نہیں ہوں گے اور آپ کو معمول کے مطابق مکمل انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانا ہوگا۔

یہ اقدام چھوٹے تاجروں کے لیے ٹیکس نظام کو آسان بنانے، ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور رضاکارانہ ٹیکس تعمیل کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

Address

Peshawar

Telephone

+923460967748

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Law & Policy Network posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category