Okara Law Firm

Okara Law Firm Okara Law firm provide legal services to individuals and corporations.

26/05/2023
You can discuss yours cases with usWe will provide best solution to you.
30/01/2021

You can discuss yours cases with us
We will provide best solution to you.

11/01/2021

یہ انفارمیشن ہر پاکستانی شہری کے لیے جاننا ضروری ہے

* دفعہ 307 * = قتل کی کوشش کی
* دفعہ 302 * = قتل کی سزا
* دفعہ 376 * = عصمت دری
* دفعہ 395 * = ڈکیتی
* دفعہ 377 * = غیر فطری حرکتیں
* دفعہ 396 * = ڈکیتی کے دوران قتل
* دفعہ 120 * = سازش
* سیکشن 365 * = اغوا
* دفعہ 201 * = ثبوت کا خاتمہ
* دفعہ 34 * = سامان کا ارادہ
* دفعہ 412 * = خوشی منانا
* دفعہ 378 * = چوری
* دفعہ 141 * = غیر قانونی جمع
* دفعہ 191 * = غلط ھدف بندی
* دفعہ 300 * = قتل
* دفعہ 309 * = خودکش کوشش
* دفعہ 310 * = دھوکہ دہی
* دفعہ 312 * = اسقاط حمل
* دفعہ 351 * = حملہ کرنا
* دفعہ 354 * = خواتین کی شرمندگی
* دفعہ 362 * = اغوا
*دفعہ 320* = بغیر لائسنس یا جعلی لائیسنس کے ساتھ ایکسڈنٹ میں کسی کی موت واقع ہونا(ناقابلِ ضمانت)
,*دفعہ 322 = ڈرائیونگ لائسنس کے ساتھ ایکسیڈنٹ میں کسی کی موت واقع ہونا (قابلِ ضمانت)
* دفعہ 415 * = چال
* دفعہ 445 * = گھریلو امتیاز
* دفعہ 494 * = شریک حیات کی زندگی میں دوبارہ شادی کرنا
* دفعہ 499 * = ہتک عزت
* دفعہ 511 * = جرم ثابت ہونے پر جرم ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا۔
4
ہمارے ملک میں، قانون کے کچھ ایسے ہی حقائق موجود ہیں، جس کی وجہ سے ہم واقف ہی نہیں ہیں، ہم اپنے حقوق کا شکار رہتے ہیں۔

تو آئیے اس طرح کچھ کرتے ہیں
* پانچ دلچسپ حقائق * آپ کو معلومات فراہم کرتے ہیں،
جو زندگی میں کبھی بھی کارآمد ثابت ہوسکتی ہے۔

* (1) شام کو خواتین کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا * -

ضابطہ فوجداری کے تحت، دفعہ 46، شام 6 بجے کے بعد اور صبح 6 بجے سے قبل، پولیس کسی بھی خاتون کو گرفتار نہیں کرسکتی، چاہے اس سے کتنا بھی سنگین جرم ہو۔ اگر پولیس ایسا کرتی ہوئی پائی جاتی ہے تو گرفتار پولیس افسر کے خلاف شکایت (مقدمہ) درج کیا جاسکتا ہے۔ اس سے اس پولیس افسر کی نوکری خطرے میں پڑسکتی ہے۔

* (2.) سلنڈر پھٹنے سے جان و مال کے نقصان پر 40 لاکھ روپے تک کا انشورینس کا دعوی کیا جاسکتا ہے۔

عوامی ذمہ داری کی پالیسی کے تحت، اگر کسی وجہ سے آپ کے گھر میں سلنڈر ٹوٹ جاتا ہے اور آپ کو جان و مال کے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، تو آپ فوری طور پر گیس کمپنی سے انشورنس کور کا دعوی کرسکتے ہیں۔ آپ کو بتادیں کہ گیس کمپنی سے 40 لاکھ روپے تک کی انشورنس دعویٰ کیا جاسکتا ہے۔ اگر کمپنی آپ کے دعوے کو انکار کرتی ہے یا ملتوی کرتی ہے تو پھر اس کی شکایت کی جاسکتی ہے۔ اگر جرم ثابت ہوتا ہے تو ، گیس کمپنی کا لائسنس منسوخ کیا جاسکتا ہے۔

* (3) کوئی بھی ہوٹل چاہے وہ 5 ستارے ہو… آپ مفت میں پانی پی سکتے ہیں اور واش روم استعمال کرسکتے ہیں * -

سیریز ایکٹ، 1887 کے مطابق، آپ ملک کے کسی بھی ہوٹل میں جاکر پانی مانگ سکتے ہیں اور اسے پی سکتے ہیں اور اس ہوٹل کے واش روم کا استعمال بھی کرسکتے ہیں۔ اگر ہوٹل چھوٹا ہے یا 5 ستارے، وہ آپ کو روک نہیں سکتے ہیں۔ اگر ہوٹل کا مالک یا کوئی ملازم آپ کو پانی پینے یا واش روم کے استعمال سے روکتا ہے تو آپ ان پر کارروائی کرسکتے ہیں۔ آپ کی شکایت کے سبب اس ہوٹل کا لائسنس منسوخ ہوسکتا ہے۔

* (4) حاملہ خواتین کو برطرف نہیں کیا جاسکتا * -

زچگی بینیفٹ ایکٹ 1961 کے مطابق، حاملہ خواتین کو اچانک ملازمت سے نہیں ہٹایا جاسکتا۔ حمل کے دوران مالک کو تین ماہ کا نوٹس اور اخراجات کا کچھ حصہ دینا ہوگا۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا ہے تو پھر اس کے خلاف سرکاری ملازمت تنظیم میں شکایت درج کی جاسکتی ہے۔ یہ شکایت کمپنی بند ہونے کا سبب بن سکتی ہے یا کمپنی کو جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔

*(5) پولیس افسر آپ کی شکایت لکھنے سے انکار نہیں کرسکتا*

پی پی سی کے سیکشن 166 اے کے مطابق، کوئی بھی پولیس افسر آپ کی شکایات درج کرنے سے انکار نہیں کرسکتا ہے۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو پھر اس کے خلاف سینئر پولیس آفس میں شکایت درج کی جاسکتی ہے۔ اگر پولیس افسر قصوروار ثابت ہوتا ہے تو، اسے کم سے کم * (6) * ماہ سے 1 سال قید ہوسکتی ہے یا پھر اسے اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑ سکتے ہیں۔
یہ دلچسپ حقائق ہیں، جو ہمارے ملک کے قانون کے تحت آتے ہیں، لیکن ہم ان سے لاعلم ہیں۔

*یہ پیغام اپنے پاس رکھیں، یہ حقوق کسی بھی وقت کارآمد ثابت ہوسکتے ہیں۔* _

01/01/2021


کیامجھے وکالت کی ڈگری لینی چاہیے؟
وکالت کا کیا اسکوپ ہے؟
کتنی کمائی ہو جاتی ہے؟
میں وکالت میں نیا ہوں۔ کونسی کتابیں پڑھنی چاہئیں؟
اس سے ملتے جلتے سوالات وقتا فوقتاً موصول ہوتے رہتے ہیں۔ طالبعلموں کے ایسے سوالات زیادہ تر ایسے ہوتے ہیں کہ کیا مجھے ایک ایل بی کرنا چاہیے جبکہ پہلے ہی ہزاروں کی تعداد میں وکیل موجود ہیں اور اس پیشے کی ریپوٹیشن بھی کوئی اچھی نہیں ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں ہو گا کہ پہلے ہی لا گریجویٹس کی بھرمار ہونے کی وجہ سے روزی روٹی بھی کم ملے اور پیشے کی بدنامی بھی سہنا پڑے؟
ان سب سوالوں کے جواب میں آنکھیں بند کر کے میرا جواب ہوتا ہےکہ پاکستان میں اس ڈگری جیسی شاید ہی کوئی ڈگری ہو۔ اور اس پیشے جیسا شاید ہی کوئی اور۔ لیکن کچھ شرائط کے ساتھ۔

سب سے پہلی بات یہ کہ اس پیشے میں بہت اسکوپ ہے۔ آپ کی سوچ سے بھی بڑھ کر۔
کیسے؟
اگرچہ وکلا تعداد میں ہزاروں ہیں لیکن ان میں سے کام کرنے والے گنے چنے ہی۔ پڑھنے والے کم ہی۔ جو واقعی وکالت کر رہے ہیں۔ اگر آپ کو وکالت کا شوق ہے۔ ڈگری لینے کے بعد بھی محنت اور پڑھائی میں دلچسپی رکھیں گے تو آپ کو ایک فیصد بھی مایوسی نہیں ہو گی۔
پاکستان کے زمینی، معاشی حالات بھی ایسے ہیں کہ تنازعات، لڑائی جھگڑے کم ہونے کی بجائے بڑھے ہی ہیں اور معاشی صورتحال کے پیش نظر آنے والے کئی سال اس میں کسی طرح کی کوئی کمی ہوتی نظر بھی نہیں اتی۔ تنازعات اور معاشی حالات اور آسودگی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ لہذا وکلا کی ضرورت ہے اور رہے گی۔بلکہ بڑھے گی۔
اس فیلڈ میں بہت اسکوپ ہے کہ کام کرنے والے انتہائی کم ہیں۔رہا سوال کمائی کا تو آپ جتنی محنت کریں گے اتنی ہی کمائی بھی ہو گی۔ ایک کلائنٹ کا کام ایمانداری اور جانفشانی سے کریں وہ آپ کو مزید کئی کلائنٹ ریفر کر دیتا ہے۔ یہ میرا اس پروفیشن کے اندر محدود سے وقت کا ذاتی تجربہ ہے۔
پڑھنا کیا چاہیے؟ پہلی بات تو یہ کہ سلیبس کی کتابیں اچھی طرح پڑھ لی جائیں تو اس سے زیادہ پروفیشن میں کارامد کچھ ہے ہی نہیں۔ فرض کریں آپ دوران پڑھائی ٹھیک سے نہیں پڑھ سکے تو اب آغاز کیجیے۔ کریمنل پروسیجر کوڈ، سول پروسیجر کوڈ، قانون شہادت ارڈر، لمیٹیشن ایکٹ، سپیسیفک ریلیف ایکٹ، کنٹریکٹ ایکٹ، جنرل کلازز ایکٹ، پینل کوڈ وغیرہ اپنے سرہانے رکھیے۔ پڑھتے جائیے۔ ہر روز کم از کم ایک ٹاپک کلیئر کریں۔ یہ ٹاپک صرف ایک کتاب سے نہیں۔ بلکہ کراس ریفرنس اور پروویثنز بھی پڑھیے۔
قانون کے طالبعلم کیلئے پڑھنے کے دو طریقے ہیں۔
1۔یا تو ایک ٹاپک منتخب کیجیے اور اس پر لاز، کراس ریفرنسز پڑھ کر اس پر گرپ حاصل کیجیے۔
2۔کوئی ایک کتاب شروع کریں اور اس کو ختم کریں۔
یہ پڑھائی وہ ہے جو آپ اپنے کیس کی تیاری کے علاوہ کریں گے۔
ہر روز کوئی ایک نیا کیس لا ضرور پڑھیے۔پاکستان لا سائٹ کی سبسکرپشن نہیں بھی ہے تو مفت میں سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کی ویب سائٹس موجود ہیں۔ کیس لاز موجود ہوتے ہیں۔کیس لا پڑھنے سے آپ کو کسی ایک پراپوزیشن پر اس کے حق اور مخالفت میں کئی قوانین سے واقفیت حاصل ہو جاتی ہے اور کہانی پڑھنے کی دلچسپی اسے مزیدار بھی بناتی ہے۔اسی پراپوزیشن پر آپ کے پاس کیس آتا ہے تو تجربہ پہلے ہی ہو گا آپ کے پاس کہ اس موضوع پر حق میں اور مخالفت میں کون سے دلائل اور قوانین پیش کرنے ہیں اپ نے۔
وکالت میں نئے آنے والے دوست اعجاز رضا صاحب کی دی کریمنل ٹرائل،جسٹس فضل کریم صاحب کی ایکسیس ٹو جسٹس اور چوہدری محمد حسین جہانیاں صاحب کی رہنمائے وکالت تو ضرور پڑھیں۔
سی پی سی عامر رضاصاحب کی، آئین ایم محمود صاحب کا، سی آر پی سی شوکت محمود صاحب کی۔ لاز پڑھیے، کمنٹری پڑھیے۔اور کتابیں صرف قانون پر ہی نہیں۔ بلکہ ادب، حالات حاضرہ وغیرہ پر بھی پڑھنی چاہئیں۔ یہ آگاہی وکالت میں آپ کی مہارت کو چار چاند لگاتی ہے۔
وکالت کرنی ہے تو پڑھنا پڑے گا۔ کتاب سے یاری۔ ورنہ مکھیاں ہی مارتے رہیں گے۔

پڑھائی رکھیے۔ محنت کیجیے۔ لیکن اس سب سے بڑھ کر ایمانداری۔ کیس کی جیسی بھی سچویشن ہے۔جو بھی کارروائی ہوئی۔ کلائنٹ کو ضرور آگاہ رکھیں۔ اس سے جھوٹ نہ بولیں۔ یہ ایمانداری آپ کے ضمیر کو مطمئن تو رکھتی ہی ہے مزید کلائنٹ بھی لاتی ہے۔
اور سب سے آخر میں یہ کہ پاکستان جیسے تھرڈ ورلڈ کنٹری میں آپ اور آپ کی فیملی کا مناسب سروائیول تب تک ممکن نہیں جب تک آپ خود اتنے تگڑے نہیں کہ معاملات کو انگلی ٹیڑھی کر کے سیدھا نہ کر سکیں۔ یہ ڈگری آپ کے اس مقصد کو بھی پورا کرتی ہے۔ کوئی آپ کے ساتھ زیادتی کرنے، آپ کا حق مارنے سے پہلے ہزار بار سوچے گا کہ وکیل ہے۔ اسے قانون کا اور اپنے حق کا پتہ ہے۔ میرے خلاف عدالت میں پہنچ جائے گا۔ اس کے کونسا پیسے لگنے ہیں۔
گلی، محلے، علاقے کے چھوٹے موٹے ٹچے تو آپ کی صرف وکالت کی ڈگری اور بار کونسل کا ممبر ہونے کی وجہ سے ہی دور رہیں گے۔
اسکوپ ہے۔ آگے ائیے۔ اس پروفیشن میں ایماندار لوگوں اور محنت کرنے والوں کیلئے بڑی جگہ خالی ہے۔
کاپیڈ

06/11/2020

زمین کے کھاتوں میں کھیوٹ، کھتونی، خسرہ نمبر اور دیگر اصلاحات کیا ہیں؟ جانیے اس تحریر میں۔

1- موضع :
یہ ایک بڑا یونٹ ہوتا ہے جو عموماَ ایک بڑے گاؤں یا ایک سے زیادہ چھوٹے گاؤں کو ملا کر بنایا جاتا ہے۔ موضع کا نام اس گاؤں یا ایریا کے نام پر ہی درج ہوتا ہے ۔
2- کھیوٹ نمبر:
جب موضع بن جاتا ہے تو اس میں بہت سارے لوگوں اور خاندانوں کی زمین شامل ہوتی ہے اس کی تقسیم مزید آسان بنانے کے لیے کھیوٹ نمبر دے دیے جاتے ہیں، مثلا یہ ایک سو ایکڑ ایک خاندان کے پاس ہے اسے ایک نمبر دے دیا کہ فلاں موضع کا یہ کھیوٹ نمبر ہے جو فلاں خاندان کے ان ان حصہ داروں کے پاس ہے۔ یا مختلف خاندانوں یا لوگوں کی زمین کو ملا کر بھی ایک کھیوٹ بنایا جاتا ہے۔ اس کا نمبر تبدیل ہو سکتا ہے جب کوئی زمین فروخت کرتا ہے یا ایسی کوئی تبدیلی ہوتی ہے تو آپ کے کھیوٹ کا نمبر بدل جاتا ہے۔
3- کھتونی نمبر:
موضع بھی بن گیا، اس میں کھیوٹ نمبر بھی لگ گئے اب کھیوٹ میں بہت سارے مالکان ہیں کسی کے پاس پانچ ایکڑ ہے کسی کے پاس دس اور کسی کے پاس دو ایکڑ تو ان کو کیسے پہچانے گے کہ اس کھیوٹ میں کونسے بندے کی کتنی زمین ہے تو اس کے لیے ہر حصہ دار کو ایک کھتونی نمبر لگا دیا جاتا ہے۔ مثلا کھیوٹ نمبر 1 میں دس ایکڑ زمین ہے اور دو مالک ہیں پانچ پانچ ایکڑ کے تو ان دونوں کو الگ الگ نمبر دے دیا جائے گا پانچ پانچ ایکڑ کا جسے کھتونی نمبر کہتے ہیں۔ یہ نمبر بھی تبدیل ہوتا رہتا ہے جب کوئی اپنے حصے سے فروخت کر دے کسی کو یا ایسی کوئی دوسری تبدیلی ہو۔
4- خسرہ نمبر:
اب ایک کھتونی میں جو پانچ ایکڑ تھے (جو ہم نے مثال میں لیے پانچ ایکڑ، حقیقت میں ان کی تعداد جو بھی ہو گی) ہر ایکڑ کو ایک خاص نمبر دیا جاتا ہے جو خسرہ نمبر کہلا تا ہے۔ یہ نمبر کبھی تبدیل نہیں ہوتا چاہے کوئی فروخت کرے مگر کھیت کا خسرہ نمبر ایک ہی رہے گا۔ اور اس میں کھیت کی چاروں طرف سے پیمائش بھی لکھی ہوتی ہے کہ اس خسرہ نمبر کا جو کھیت ہے اس کی لمبائی چوڑائی وغیرہ کیا ہے۔
5- مساوی: (شجرہ)
یہ موضع کا نقشہ ہوتا ہے، کہاں کس کا کھیت ہے کہاں راستہ ہے کہاں کیا ہے سب اس میں ہوتا ہے۔ پٹواری کے پاس یہ نقشہ ایک کپڑے پر بنا ہوتا ہے جسے لٹھا بھی کہا جاتا ہے۔
6- جمعبندی:
اس میں ایک موضع کے کسی کھیوٹ کی کسی کھتونی کے کس خسرہ میں کتنے مالک ہیں سب کی تفصیل درج ہوتی ہے۔ اس میں یہ بھی درج ہوتا ہے کہ مالک کون ہے اور زمین کاشت کون کر رہا ہے ٹھیکہ پر یا کیسے۔ زمین کی فرد بھی اسی رجسٹر کی تفصیل کی بنیاد پر جاری ہوتی ہے۔
7- گردوری:
آپ جس رقبہ کے مالک ہیں یا مزارع ہیں اس رقبہ میں کیا کاشت ہوتا ہے یا کیا کاشت کیا ہوا ہے اس کی تفصیل بھی پٹواری درج کرتا ہے اسے گردوری کہتے ہیں۔

اہم نوٹ: زمین خریدتے وقت ہمیشہ خسرہ نمبر کی فرد کی بنیاد پر زمین خریدیں۔ مثلا فرض کریں ایک بندہ دو ایکڑ کا مالک ہے اس کا کھیوٹ نمبر 1 اور اس کے دو ایکڑ کھیوٹ نمبر 1 کی الگ الگ کھتونی نمبر 5 خسرہ نمبر 50 اوردوسرا ایکڑ کھتونی نمبر 10 میں خسرہ نمبر 100 ہیں۔ آپ اس سے ایک ایکڑ خریدنا چاہتے ہیں اور وہ آپ جو پسند کرتے ہیں اس کا خسرہ نمبر 50 ہے مگر اسے فرد اس 50 نمبر خسرہ کی نہیں بلکہ پوری رقبے کی کھیوٹ سے ملتی ہے جس میں وہ آپ کے نام ایک ایکڑ کروا دیتا ہے تو اب قانوناَ آپ اس کے دونوں ایک میں خسرہ نمبر 50 اور خسرہ نمبر 100 میں آدھے آدھے ایکڑ کے مالک بن جائیں گے اور اگر خسرہ نمبر 50فرد ہی آپ کو دے گا تو اس کی بنیاد پر وہی ایکڑ پورا آپ کے نام لگے گا۔ بیشک وہ آپ کو آپ کا پسند کیا ہوا خسرہ نمبر 50 ہی کاشت کے لیے دے رہا ہو مگر مستقبل میں آپ کے بچوں میں جھگڑا ہو سکتا ہے کہ آپ کے یا اس کے بچے کہیں آپ کا آدھا ایکڑ یہاں بول رہا ہے یہاں جاؤ ہمارا وہاں ہے ہم وہاں جائیں گے وغیرہ۔ یہ تو دو ایکڑ کی مثال تھی اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی زیادہ ایکڑ کے مالک سے زمین خرید لیں تو بعد میں وہ کہتا ہے کہ میں نے یہ ایکڑ نہیں بلکہ کوئی دوسرا دیا تھا لہذا اسے کاشت کرو جا کر وہ چاہے بنجر ہو۔ اس لیے زمین لینے سے پہلے تسلی کر لیا کریں۔

Address

Okara

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Okara Law Firm posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share