Waqas shamas associates and legal consultant

Waqas shamas associates and legal consultant Contact no 03237052950

حق مہر میں دی گئی زمین کی قیمت یا زمین خود؟معزز جج سلطان تنویر احمد نے قرار دیا کہ نکاح نامہ ایک سول معاہدہ ہے اور اس کی...
07/06/2026

حق مہر میں دی گئی زمین کی قیمت یا زمین خود؟

معزز جج سلطان تنویر احمد نے قرار دیا کہ نکاح نامہ ایک سول معاہدہ ہے اور اس کی شرائط کی تشریح فریقین کی اصل نیت کو مدنظر رکھ کر کی جائے گی، نہ کہ صرف نکاح نامہ کے کالموں کے عنوانات کو دیکھ کر۔

مقدمہ کا پس منظر

* نکاح 05.01.2015 کو ہوا۔
* نکاح نامہ کے کالم نمبر 16 میں درج تھا کہ دولہا اپنی دلہن کو موضع محمد پور میں دو ایکڑ زمین منتقل کرے گا۔
* اسی کے ساتھ زمین کی قیمت 16 لاکھ روپے بھی درج تھی۔
* فیملی اپیلیٹ کورٹ نے قرار دیا کہ بیوی زمین کے بجائے صرف 16 لاکھ روپے وصول کرنے کی حق دار ہے۔

درخواست گزار (بیوی) کا مؤقف

بیوی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ:

* 16 لاکھ روپے صرف 2015 میں زمین کی اُس وقت کی قیمت تھی۔
* اصل حق مہر دو ایکڑ زمین تھا۔
* اگر زمین دینا ممکن نہ ہو تو موجودہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق قیمت ادا کی جائے، نہ کہ 2015 والی قیمت۔

عدالت کا فیصلہ

عدالت نے قرار دیا کہ:

* نکاح نامہ کی عبارت سے واضح ہوتا ہے کہ اصل حق مہر دو ایکڑ مخصوص زمین تھی۔
* 16 لاکھ روپے صرف اس زمین کی اُس وقت کی مالیت ظاہر کرتے تھے۔
* ایک عام اور معقول شخص بھی یہی سمجھے گا کہ زمین دینا مقصود تھی، نہ کہ صرف 16 لاکھ روپے۔
* اپیلیٹ کورٹ نے فریقین کی اصل نیت معلوم کرنے اور نکاح نامہ کی درست تشریح کرنے کی مناسب کوشش نہیں کی۔

نتیجہ

* اپیلیٹ کورٹ کا فیصلہ اس حد تک کالعدم (Set Aside) کر دیا گیا۔
* مقدمہ دوبارہ فیصلہ کے لیے اپیلیٹ کورٹ کو واپس بھیج دیا گیا تاکہ نکاح نامہ کی شرط کی درست تشریح کرکے فیصلہ کیا جائے۔
* درخواست منظور کر لی گئی۔

قانونی اصول

1. نکاح نامہ ایک معاہدہ ہے اور اس کی تشریح فریقین کی اصل نیت کے مطابق ہوگی۔
2. دلہن کو نکاح نامہ میں دیے گئے حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
3. اگر نکاح نامہ میں ابہام ہو تو، مناسب شواہد نہ ہونے کی صورت میں، اس کا فائدہ بیوی کو دیا جائے گا۔
4. عدالتوں پر لازم ہے کہ وہ نکاح نامہ کی شرائط کی حقیقی روح اور مقصد کو سامنے رکھ کر فیصلہ کریں

07/06/2026

2026 CLC 580
ISLAMABAD
Additional benefits at the time of Divorce ---Entries in columns in Nikahnama---Scope---Petitioner / ex-wife was aggrieved of dismissal of her claim regarding extra benefits in case of Divorce by respondent / ex-husband as per entry in Nakahnama---Validity---Columns in Nikahnama are meant for guidance of parties and do not enjoy status of conclusively determining intention of parties---Courts while determining rights and obligations of parties in light of entries made in columns in Nikahnama, give due consideration to intention of parties, rather than getting carried away by headings thereof---High Court set aside judgment and remanded the matter to Lower Appellate Court for decision of appeal afresh.
YASMEEN BIBI vs ZEESHAN ALI

محتسب نے "انفورسمنٹ آف ویمن پراپرٹی رائٹس ایکٹ، 2020" کے تحت ایک درخواست پر وراثت میں تقسیم اور کرایہ کی رقم متعلق احکام...
07/06/2026

محتسب نے "انفورسمنٹ آف ویمن پراپرٹی رائٹس ایکٹ، 2020" کے تحت ایک درخواست پر وراثت میں تقسیم اور کرایہ کی رقم متعلق احکامات جاری کیے تھے۔
🫡
ہائی کورٹ نے یہ احکامات کیوں کالعدم کیے؟
🫡
1. عدالتی کارروائیاں پہلے سے جاری تھیں – ایکٹ کی سیکشن 4 واضح کرتا ہے کہ اگر معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہو تو محتسب کام نہیں کر سکتا۔
2. محتسب کا دائرہ اختیار محدود ہے – وراثت، تقسیم جائداد، اور ملکیت کے پیچیدہ حقوق صرف سول کورٹ طے کر سکتی ہے، محتسب نہیں۔
3. آئین کی خلاف ورزی – آرٹیکل 175 کے تحت عدلیہ کو judicial power حاصل ہے، محتسب نے یہ اختیار تجاوز کرتے ہوئے استعمال کیا۔
4. فریقین کے درمیان شدید تنازع – وراثت کے حصوں، ملکیت اور قبضے پر پہلے سے سول مقدمہ چل رہا تھا۔

وارث کے نام وصیت؟ لاہور ہائیکورٹ نے 81 سال پرانا انتقال کالعدم قرار دے دیا!لاہور ہائیکورٹ بہاولپور بینچ نے ایک اہم فیصلے...
07/06/2026

وارث کے نام وصیت؟ لاہور ہائیکورٹ نے 81 سال پرانا انتقال کالعدم قرار دے دیا!

لاہور ہائیکورٹ بہاولپور بینچ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کر دیا ہے کہ کسی شرعی وارث کے حق میں کی گئی وصیت اسلامی قانونِ وراثت کے خلاف ہے اور اس کی بنیاد پر جائیداد پر حق نہیں جتایا جا سکتا۔

مقدمہ ایک ایسی جائیداد سے متعلق تھا جس کے مالک دین محمد بغیر اولاد کے فوت ہو گئے تھے۔ 1945ء میں ایک مبینہ وصیت کی بنیاد پر جائیداد کا انتقال ایک وارث کے نام کر دیا گیا، جسے دیگر وارثوں نے چیلنج کیا۔

جسٹس ملک وقار حیدر اعوان نے قرآن و سنت، خطبۂ حجۃ الوداع اور متعدد احادیثِ مبارکہ کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ اللہ تعالیٰ نے وراثت کے حصے خود مقرر کر دیے ہیں، اس لیے کسی وارث کے حق میں وصیت کی کوئی شرعی حیثیت نہیں۔ عدالت نے مشہور حدیث “لا وصیۃ لوارث” کو بھی فیصلے کی بنیاد بنایا۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ وراثتی حقوق محض وقت گزرنے سے ختم نہیں ہوتے اور مشترکہ وراثتی جائیداد کے معاملات میں میعادِ سماعت (Limitation) کا اصول اسی طرح لاگو نہیں ہوتا جیسے عام مقدمات میں ہوتا ہے۔

نتیجتاً، موضع چکر عباس کی جائیداد کے متعلق 1945ء کا انتقال نمبر 436 کالعدم قرار دے دیا گیا اور حکم دیا گیا کہ جائیداد تمام شرعی وارثوں میں قانونِ وراثت کے مطابق تقسیم کی جائے۔

اہم قانونی اصول:
جب کوئی شخص شرعی وارث ہو تو اس کے حق میں کی گئی وصیت نہ شرعاً مؤثر ہوتی ہے اور نہ ہی اس بنیاد پر وراثتی حقوق ختم کیے جا سکت
یں۔
Waqass shamas advocate 03014550993

خاتون نے ریپ کا الزام لگایا۔ اس ریپ سے اس کا بچہ بھی پیدا ہو گیا۔ بچے کا ڈی این اے کروایا گیا۔ وہ ملزم کے ساتھ میچ کر گی...
07/06/2026

خاتون نے ریپ کا الزام لگایا۔ اس ریپ سے اس کا بچہ بھی پیدا ہو گیا۔ بچے کا ڈی این اے کروایا گیا۔ وہ ملزم کے ساتھ میچ کر گیا۔ بھکر کی عدالت نے کہا کہ زنا بالجبر ثابت ہوتا ہے اور ملزم کو 20 سال قید بامشقت اور متاثرہ کو 5 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کی سزا سنا دی۔ ملزم نے لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی۔ عدالت نے اپیل خارج کر دی اور ملزم کی سزا برقرار رکھی۔ ملزم نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ یہ زنا بالجبر نہیں، زنا بالرضا کا کیس تھا۔ ملزم کی سزا کم کر کے 5 سال قید بامشقت اور جرمانہ 5 لاکھ سے کم کر کے 10 ہزار روپے کر دیا۔

وجوہات جن کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیا۔

1۔ مدعیہ نے واقعہ ہونے کے 7 ماہ بعد جرم کو رپورٹ کیا۔

2۔ مدعیہ کے مطابق وہ صبح ساڑھے 5 بجے کھیتوں میں گئی تو وہاں ملزم پہلے سے چھپا ہوا تھا۔ اس نے ریپ کر دیا۔ جہاں کا وقوعہ ہے وہاں ساتھ ہی آبادی بھی ہے۔ مدعیہ نے کسی قسم کا شور نہیں کیا۔ اس کے جسم پر مزاحمت کے کوئی نشان نہ تھے۔ کوئی زخم یا خراش کا نشان نہ تھا۔ متاثرہ خاتون نے اپنے کپڑے جمع نہیں کروائے کہ اس سے پتہ چلتا کہ وہ پھٹے ہوئے تھے یا نہیں۔ ان پر کوئی سیمن تھا یا نہیں۔ خاتون 7 ماہ تک خاموش رہی۔ مبینہ وقوعہ کے بعد جس وقت وہ گھر آئی اس کے مطابق اس کے بھائی اور باقی گھر والے گھر پر موجود تھے۔ اس نے 7 ماہ تک اس بات کا کسی سے ذکر نہیں کیا۔ ملزم کو کیسے پتہ تھا کہ وہ اس وقت وہاں اکیلی آئے گی۔

3۔ اگرچہ پیدا ہونے والے بچے کا ڈی این اے ملزم سے میچ کر گیا ہے لیکن یہ ریپ نہیں بلکہ زنا بالرضا کا واقعہ ہے۔ ریپ ہوتا تو مزاحمت، شور، زخم، خراش کچھ نہ کچھ تو ہوتا۔

4۔ میڈیکل رپورٹ میں ڈاکٹر نے یہ ضرور بتایا کہ ٹو فنگر ٹیسٹ مثبت آیا ہے لیکن اسے بھی کسی زخم وغیرہ کا کوئی پرانا نشان نہیں ملا۔

قانون کے طالبعلموں کیلئے: اگرچہ اس کیس میں 376 (ریپ) کی ایف آئی آر ہوئی تھی اور چارج بھی اسی دفعہ کے تحت فریم ہوا تھا لیکن سزا 496 بی (زنا بالرضا) میں تبدیل کر دی گئی۔ جو کہ اس جنرل اصول کی خلاف ورزی ہے کہ جس جرم کا چارج فریم ہو سزا بھی اسی میں ہو۔ اس اصول کی استثنی کیلئے آپ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 238(2) اور سپریم کورٹ کی ایک ججمنٹ 2006SCMR 1170 پڑھ لیں۔

نوٹ: شیئر کردہ کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ کے 3 رکنی لارجر بینچ جسٹس شہزاد احمد خان، جسٹس عقیل احمد عباسی، جسٹس صلاح الدین پنہور نے دیا ہے۔ جسٹس صلاح الدین نے اس فیصلے سے اتفاق نہیں کیا اور اپنا اختلافی نوٹ جاری کیا جس کی تفصیل ذیل میں ہے۔

سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے میں جہاں اکثریتی معزز جج صاحبان نے ایک ریپ کے مقدمے میں سزا کم کرتے ہوئے جرم کی نوعیت میں تبدیلی کی، وہیں محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب کا اختلافی نوٹ قانون، انصاف اور سماجی حقیقتوں کی ایک مضبوط اور باوقار ترجمانی کرتا ہے۔ یہ اختلاف محض قانونی نکات تک محدود نہیں بلکہ انسانی وقار، سماجی دباؤ اور فوجداری قانون کے بنیادی اصولوں پر ایک گہری اور بصیرت افروز دستک ہے۔

یہ مقدمہ ایک تقریباً 24 سالہ غیر شادی شدہ خاتون سے متعلق ہے، جس کے نتیجے میں ایک بچہ پیدا ہوا۔ پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی کی ڈی این اے رپورٹ کے مطابق ملزم اور متاثرہ خاتون اس بچے کے حیاتیاتی والدین ثابت ہوئے۔ اکثریتی فیصلے میں سات ماہ کی تاخیر سے درج ایف آئی آر اور جسم پر تشدد کے نشانات کی عدم موجودگی کو بنیاد بنا کر ریپ کے الزام کو کمزور قرار دیا گیا، تاہم محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب نے نہایت مدلل، قانونی اور انسانی بنیادوں پر اس سوچ سے اختلاف کیا۔

محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب واضح کرتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں ریپ اور جنسی ہراسانی کے واقعات اکثر رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ اس کی وجہ جرم کی عدم موجودگی نہیں بلکہ خوف، بدنامی، کردار کشی اور خاندانی دباؤ ہوتا ہے۔ ایک متاثرہ خاتون کو عدالت سے پہلے اپنے ہی گھر میں اپنے کردار کا دفاع کرنا پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں تاخیر کو بدنیتی یا رضامندی سے تعبیر کرنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔

خصوصاً اس مقدمے میں متاثرہ خاتون کم عمر، غیر شادی شدہ، والدین سے محروم اور اپنے بڑے بھائی پر انحصار کرنے والی تھی۔ ریکارڈ پر دھمکیوں کے شواہد بھی موجود تھے۔ محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب کے مطابق ایسے حالات میں خاموشی ایک فطری انسانی ردعمل ہے، نہ کہ جرم سے انکار۔ ان کے بقول یہ خاموشی اس وقت تک برقرار رہنا بالکل فطری تھا جب تک متاثرہ خاتون کو اپنے حمل کا علم نہ ہو سکا۔

جسم پر تشدد کے نشانات نہ ہونے کے نکتے پر بھی محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب نے ایک اہم قانونی اصول اجاگر کیا۔ اگر ملزم مسلح ہو تو مزاحمت نہ کرنا انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔ مزید یہ کہ سات ماہ بعد ہونے والا طبی معائنہ کسی جسمانی مزاحمت کے آثار محفوظ نہیں رکھ سکتا، جیسا کہ عدالتی نظائر میں بھی تسلیم کیا جا چکا ہے۔

ڈی این اے رپورٹ کے حوالے سے محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب نے سائنسی بنیادوں پر اکثریتی فیصلے کی کمزوری واضح کی۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی میں ڈی این اے کو بروقت extract کر کے محفوظ کیا جاتا ہے، جو برسوں تک قابلِ اعتماد رہتا ہے۔ محض buccal swab کے مبینہ طور پر ضائع ہونے کے امکان کو بنیاد بنا کر ڈی این اے رپورٹ کو مشکوک قرار دینا نہ سائنسی ہے اور نہ ہی قانونی طور پر درست۔

اختلافی نوٹ کا سب سے اہم اور حساس پہلو وہ ہے جہاں اکثریتی فیصلے میں ریپ (دفعہ 376 PPC) کو رضامندی پر مبنی فعل (دفعہ 496-B PPC) میں تبدیل کیا گیا۔ محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ یہ دونوں الگ الگ جرائم ہیں جن کے اجزاء مختلف ہیں۔ اگر رضامندی ثابت نہیں تو محض سزا کم کرنے کے لیے جرم کی نوعیت بدلنا قانون کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ریپ ثابت نہ ہونے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ رضامندی خودبخود ثابت ہو گئی۔

انہوں نے نہایت اہم سوال اٹھایا کہ اگر ڈی این اے رپورٹ ریپ کے الزام کے لیے ناقابلِ اعتبار سمجھی جا رہی ہے تو اسی رپورٹ کو رضامندی پر مبنی جرم کے لیے کیسے قابلِ قبول مانا جا سکتا ہے؟ قانون مفروضوں پر نہیں بلکہ ناقابلِ تردید ثبوت پر عمل کرتا ہے۔

محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب نے اپنے اختلافی نوٹ کا اختتام انسانی وقار کے قرآنی تصور پر کیا، جو اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ انسان کی عزت اور حرمت ہر قانونی بحث سے بالاتر ہے۔ یہ اختلافی نوٹ دراصل صرف ایک فیصلے سے اختلاف نہیں بلکہ اس سوچ کے خلاف ایک مضبوط اعلان ہے جو مظلوم کی خاموشی کو اس کے خلاف ثبوت بنا دیتی ہے۔

یہ اختلافی رائے مستقبل کے لیے ایک واضح رہنما اصول ہے کہ انصاف صرف شکوک و شبہات کی بنیاد پر نہیں بلکہ سماجی حقیقتوں، انسانی نفسیات اور قانون کے مسلمہ اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر دیا جانا چاہیے۔ اگر خاموشی کو جرم اور کمزوری کو رضامندی سمجھا جائے تو یہ انصاف نہیں بلکہ خوف کی توثیق ہو گی۔

06/06/2026

پنجاب پراپرٹی اونر شپ ترمیمی ایکٹ، 36 اضلاع میں ٹربیونلز نامزد
لیہ میں محمد پرویز نواز ایڈیشنل سیشن ججز پر مشتمل ٹربیونل مقرر

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب کے 36 اضلاع میں ایڈیشنل سیشن ججز کو ٹربیونلز مقرر کرکے فہرست پنجاب حکومت کو ارسال کردی جبکہ مجموعی طور پر 575 کیسز میں حکمِ امتناعی ختم کرتے ہوئے تمام کیسز ٹربیونلز کو بھجوا دیئے گئے ہیں۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب پراپرٹی ترمیمی ایکٹ کے تحت 36 ایڈیشنل سیشن ججز کو بطور ٹربیونلز نامزد کیا ہے۔

لاہور میں ایڈیشنل سیشن جج سیف اللہ سوہل، قصور میں محمد اشفاق، اٹک میں ندیم احمد سہیل چیمہ، بہاولنگر میں محمد صلابت جاوید، بہاولپور میں ساحر اسلام، بھکر میں محمد اعظم جاوید، چنیوٹ میں نعیم عباس، چکوال میں قاسم علی بھٹی، ڈیرہ غازی خان میں سرفراز حسین، فیصل آباد میں عمران شفیع خان، گوجرانوالہ میں محمد فرحان نبی، گجرات میں مظفر نواز ملک، حافظ آباد میں عمر رشید، جھنگ میں عمر فاروق خان، جہلم میں مرزا اورنگ زیب، خانیوال میں عبداللہ عثمان، خوشاب میں محمد بشیر، لودھراں میں حمد ایاز۔۔۔

لیہ میں محمد پرویز نواز، منڈی بہائوالدین میں محمد فخر آفتاب احمد، میانوالی میں عبدالغفور، ملتان میں غزالہ یاسمین، مظفرگڑھ میں محمد احمد حسنین خان، نارووال میں عالم شیر، ننکانہ صاحب میں مجاہد شیر دل چیمہ، اوکاڑہ میں خلیل احمد خان، پاکپتن میں اسد حفیظ، راولپنڈی میں چودھری قاسم جاوید، راجن پور میں محمد اشرف، رحیم یار خان میں محمد بلال، ساہیوال میں محمد نعیم، سیالکوٹ میں عابد رضا خان، شیخوپورہ میں عبدالحمید، سرگودھا میں ظفر حیات، ٹوبہ ٹیک سنگھ میں محمد کاشف اور وہاڑی میں محمد عمران فرائض انجام دیں گے۔

ڈپٹی کمشنرز کی سربراہی میں کمیٹی نے زمینوں پر قبضوں کے خلاف سفارشات مرتب کرکے ٹربیونلز کو بھجوا دی ہیں۔

ٹربیونلز کو اختیار ہوگا کہ وہ قبضہ پولیس کے ذریعے واگزار کروائیں اور جرم ثابت ہونے پر ملزموں کو 3 سے 10 سال تک قید اور لاکھوں روپے جرمانے کی سزا دے سکیں، اگر کوئی کیس کسی عدالت میں زیر التوا ہوگا تو دونوں میں سے کوئی بھی فریق درخواست دے کر اسے ڈی سی کی سربراہی میں قائم کمیٹی کو منتقل کرنے کی استدعا کرسکے گا ،تاہم حتمی فیصلہ عدالت کا ہوگا۔

اس سے قبل چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب پراپرٹی اونرشپ ایکٹ کے مبینہ غلط استعمال پر حکم امتناعی جاری کیا تھا۔ بعد ازاں پنجاب حکومت نے قانون میں ترمیم کی، جس کے بعد ہائیکورٹ میں زیر التوا تمام حکم امتناعی ختم کر دئیے گئے۔

علاوہ ازیں ایڈیشنل سیشن ججز ٹربیونلز میں فرائض انجام د یں گے، فہرست پنجاب حکومت کو ارسال کر دی گئی ہے جبکہ حکم امتناعی ختم کرکے 575 کیسز ٹربیونلز کو بھیج دئیے گئے ہیں، ٹربیونلز کو قبضہ پولیس کے ذریعے واگزار کرانے ،جرم ثابت ہونے پر ملزموں کو 3 سے 10 سال تک قید اور لاکھوں روپے جرمانے کی سزا دینے کا اختیار دیا گیا ہے۔
Waqass shamas adv high school
03014550993

04/06/2026
03/06/2026

2026 MLD 816
The jurisdiction of the Civil Court is barred in matters arising out of the West Pakistan Consolidation of Holdings Ordinance, 1960.
Civil Revision-811-25
GHULAM MUSTAFA VS
POP ETC

03/06/2026

2026 MLD 844
Horse Breeding Tenancy, though non-heritable, mandates fair consideration of legal heirs. Resumption of tenancy without a proper factual inquiry violates principles of natural justice. Alleged breaches must be established through on-site verification in presence of affected heirs. Heirs of deceased tenants are entitled to priority consideration, subject to suitability. Mechanical imposition of Tawan without examining compliance with breeding obligations is unlawful.
WP. 16125-22
KHIZAR HAYAT VS
MEMBER (COLONIES) BOR ETC

اسلام آباد ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ اگر فیملی کورٹ خلع (Khula) کی ڈگری اس شرط کے ساتھ دیتی ہے کہ بیوی مہر/حق مہر (مثلاً س...
03/06/2026

اسلام آباد ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ اگر فیملی کورٹ خلع (Khula) کی ڈگری اس شرط کے ساتھ دیتی ہے کہ بیوی مہر/حق مہر (مثلاً سونا وغیرہ) شوہر کو واپس کرے گی، تو بیوی پر اس شرط کی پابندی لازم ہے۔ اس کیس میں بیوی کو 25 تولہ سونا واپس کرنے کا حکم دیا گیا تھا مگر اس نے سونا واپس نہیں کیا، جس پر شوہر نے عدالتی حکم پر عملدرآمد (Ex*****on) کے لیے درخواست دائر کی۔ عدالت نے واضح کیا کہ فیملی کورٹ صرف خلع کی ڈگری ہی نہیں دیتی بلکہ اپنے فیصلے پر عملدرآمد بھی کرا سکتی ہے، اور اگر خلع مہر واپس کرنے کی شرط کے ساتھ ہوئی ہو تو بیوی مہر واپس کرنے کی پابند ہوگی۔ عدالت نے بیوی کو 25 تولہ سونا شوہر کو واپس کرنے کا حکم دیتے ہوئے شوہر کی درخواست منظور کرلی۔

Address

Okara

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Waqas shamas associates and legal consultant posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category