07/06/2026
حق مہر میں دی گئی زمین کی قیمت یا زمین خود؟
معزز جج سلطان تنویر احمد نے قرار دیا کہ نکاح نامہ ایک سول معاہدہ ہے اور اس کی شرائط کی تشریح فریقین کی اصل نیت کو مدنظر رکھ کر کی جائے گی، نہ کہ صرف نکاح نامہ کے کالموں کے عنوانات کو دیکھ کر۔
مقدمہ کا پس منظر
* نکاح 05.01.2015 کو ہوا۔
* نکاح نامہ کے کالم نمبر 16 میں درج تھا کہ دولہا اپنی دلہن کو موضع محمد پور میں دو ایکڑ زمین منتقل کرے گا۔
* اسی کے ساتھ زمین کی قیمت 16 لاکھ روپے بھی درج تھی۔
* فیملی اپیلیٹ کورٹ نے قرار دیا کہ بیوی زمین کے بجائے صرف 16 لاکھ روپے وصول کرنے کی حق دار ہے۔
درخواست گزار (بیوی) کا مؤقف
بیوی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ:
* 16 لاکھ روپے صرف 2015 میں زمین کی اُس وقت کی قیمت تھی۔
* اصل حق مہر دو ایکڑ زمین تھا۔
* اگر زمین دینا ممکن نہ ہو تو موجودہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق قیمت ادا کی جائے، نہ کہ 2015 والی قیمت۔
عدالت کا فیصلہ
عدالت نے قرار دیا کہ:
* نکاح نامہ کی عبارت سے واضح ہوتا ہے کہ اصل حق مہر دو ایکڑ مخصوص زمین تھی۔
* 16 لاکھ روپے صرف اس زمین کی اُس وقت کی مالیت ظاہر کرتے تھے۔
* ایک عام اور معقول شخص بھی یہی سمجھے گا کہ زمین دینا مقصود تھی، نہ کہ صرف 16 لاکھ روپے۔
* اپیلیٹ کورٹ نے فریقین کی اصل نیت معلوم کرنے اور نکاح نامہ کی درست تشریح کرنے کی مناسب کوشش نہیں کی۔
نتیجہ
* اپیلیٹ کورٹ کا فیصلہ اس حد تک کالعدم (Set Aside) کر دیا گیا۔
* مقدمہ دوبارہ فیصلہ کے لیے اپیلیٹ کورٹ کو واپس بھیج دیا گیا تاکہ نکاح نامہ کی شرط کی درست تشریح کرکے فیصلہ کیا جائے۔
* درخواست منظور کر لی گئی۔
قانونی اصول
1. نکاح نامہ ایک معاہدہ ہے اور اس کی تشریح فریقین کی اصل نیت کے مطابق ہوگی۔
2. دلہن کو نکاح نامہ میں دیے گئے حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
3. اگر نکاح نامہ میں ابہام ہو تو، مناسب شواہد نہ ہونے کی صورت میں، اس کا فائدہ بیوی کو دیا جائے گا۔
4. عدالتوں پر لازم ہے کہ وہ نکاح نامہ کی شرائط کی حقیقی روح اور مقصد کو سامنے رکھ کر فیصلہ کریں