31/05/2026
راجا ثاقب مجید کو یہ کریڈٹ بھی جاتا ہے کہ آپ نے زنگ لگی مشینوں کو ایسا دم کیا ہے جس کے بعد وہ حرکت میں آئی ہیں۔
وہ دم کیا تھا؟
دم یہ تھا کہ، آئیے اپنے لوگوں کو ان کے حقوق دیں۔۔۔۔
آئیے لوگوں کے مسائل حل کرنے میں کردار ادا کریں۔۔لوگوں کی بنیادی ضروریات کے لیے رسوا نا کریں
اپنے حلقے کے عوام کی تعلیم کےفروغ کے لیے کردار ادا کریں۔۔۔۔
ہر یونین کونسل میں صحت کے مسائل حل کریں،
نوجوان کو روزگار کے نئے مواقع فراہم کریں۔۔۔
اس کے بعد ،راجا ثاقب مجید نے کہا۔۔۔۔۔ شف۔۔۔۔۔۔
شف ہوتے ہی پرانے پرزے بھی فعال ہوئے،حرکت میں آئے۔۔۔اور مسافروں کو یقین کرانے نکل پڑے کہ ہم ہی وہ نایاب پرزے ہیں جو آپ کو منزل تک پہنچائیں گئے۔۔۔
مگر اب مسافر پڑھے لکھے ہیں۔۔مسافر نئی نسل ہے۔۔ جو کسی مضبوط ڈرائیور کے آسرے ہی سفر کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔۔