06/08/2026
السلام علیکم! کنٹرولر امتحانات اور چیف کوآرڈینیٹر لاء سٹڈی سنٹرز (بی زیڈ یو ) کے لاء طلباء کے ساتھ مظالم ، زیادتی ، نا انصافی اور لاقانونیت کی متعدد داستانوں میں سے ایک داستان پانچ سالہ پروگرام کے لاء طلباء کی کچھ یوں ہے ،
1) 7 ستمبر 2022 کو ساہیوال ڈویژن اور 5 دسمبر 2022 کو ملتان و ڈیرہ غازی خان ڈویزنز کے لاء کالجز کا الحاق پانچ سالہ پروگرام میں یونیورسٹی نے ختم کر دیا تو سپریم کورٹ کی ججمنٹ رپورٹڈ 2019 SCMR صفحہ 389 کے تحت ان تواریخ سے ہی فوری طور پر یونیورسٹی پر ذمہ داری عائد ہوگی کہ وہ ان کالجز کے متاثرہ طلباء کی ڈگری مکمل کرواہے اور زیر دفعہ 19 بی زیڈ یو ایکٹ 1975 اور ایل ایل بی ریگولیشنز نمبر 8,9,10,11 کی رو سے مزید یہ ذمہ داری کنٹرولر امتحانات پر عائد ہوگی کیونکہ یہ قانونی شقیں امتحانات کے انعقاد اور امتحانات کے متعلقہ دیگر تمام معاملات کی ذمہ داری کنٹرولر امتحانات پر ڈالتی ہیں لیکن کسی نے اس قانونی ذمہ داری کی پرواہ نہ کی اور طلباء کے ساتھ ظلم ، زیادتی ، ناانصافی اور لا قانونیت کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ۔
2) سینٹ بی زیڈ یو نے تیرویں اور چودھویں میٹنگز منعقدہ بالترتیب 10 نومبر 2023 اور 9 مئ 2024 کو اپیلانٹ کالجز کی اپیلز برخلاف ختم کیے جانے الحاق منظور کر لیں اور اس طرح کالجز کی قانونی حیثیت تبدیل ہوگی اور غیر الحاق شدہ والی حیثیت قاہم نہ رہی لیکن مختلف ٹیکنیکل حربوں اور بہانوں سے پرنسپل گیلانی لاء کالج / چیئرپرسن ایفیلیشن/ انسپکشن کمیٹی نے مبینہ ذاتی مفاد اور لالچ ( سٹڈی سنٹرز کا قیام وغیرہ) کے تحت کسی ایک بھی کالج کو آج تک عملی طور پر بحال نہ ہونے دیا ہے جبکہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور اور پنجاب یونیورسٹی لاہور نے جن کالجز کا الحاق ختم کیا ان کو صرف مزید داخلہ جات کرنے سے روکا گیا اور پہلے سے داخل شدہ طلباء کی ڈگری انہیں کالجز سے ہی مکمل کروائ گی اور وہ طلباء ڈگری مکمل کر کے کب سے وکیل بھی بن گے ہیں،
3) تین سال گزر جانے کے بعد خدا خدا کر کے سینڈیکیٹ نے میٹنگ منعقدہ مورخہ 16 اگست 2025 کو غیر الحاق شدہ کالجز کے متاثرہ تمام طلباء کی بلا تفریق ڈگری مکمل کروانے کے لیے سٹڈی سنٹرز قائم کرنے کی منظوری دے دی جس کی پبلک کو اطلاع بذریعہ اعلامیہ مورخہ 28 اگست 2025 کو کی گی ،
4) چیف کوآرڈینیٹر سٹڈی سنٹرز نے غیر الحاق شدہ اور بعد ازاں مبینہ گھوسٹ کالجز کے طلباء کو سٹڈی سنٹرز میں انرولڈ کرنے کی بابت یونیورسٹی کے لیگل ایڈوائزر سے قانونی مشورہ طلب کیا جس پر ایڈوائزر نے مشورہ دیا کہ پانچ سالہ پروگرام کے طلباء کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت / زیر اعتراض نہ ہے لہذا ان کو سٹڈی سنٹرز میں رجسٹرڈ / انرولڈ کیا جا سکتا ہے اور ان طلباء میں سے جن کے رزلٹس مبینہ گھوسٹ کالج یا دیگر کسی اعتراض کی بنا پر روکے ہوہے تھے اور وہ پاس تھے ان کو بھی سینڈیکیٹ کی منظوری کے ساتھ اگلے پارٹس میں سٹڈی سنٹرز میں رجسٹرڈ / انرولڈ کر لیا گیا اور ان طلباء سے بھاری بھرکم ٹیوشن و امتحانی فیس ہاہے بھی وصول کر لی گئیں اور ان طلباء نے حسب معمول کلاسز بھی لینا شروع کردیں اور اس طرح یہ طلباء امتحانات دینے کے لیے قانونی طور پر ہر طرح اہلیت اختیار کر گے ،
5) چیف کوآرڈینیٹر نے مندرجہ بالا پانچ سالہ پروگرام کے طلباء کی ایک کثیر تعداد کے داخلہ جات براہے امتحانات پارٹ دوم سالانہ 2022 اور پارٹ سوم ، چہارم ، پنچم سالانہ 2023 ( انعقاد شیڈول 9 فروری 2026) نہ بھجواہے اور اس بابت طلباء کی بار بار گزارش کرنے پر قانون کی تعلیم میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے والی محترمہ صاحبہ نے تحریری حکم کی بجائے شہنشاہانہ زبانی حکم صادر کیا کہ آپ کے داخلہ جات نہیں بھجواہے جاہیں گے اور آپ امتحانات دینے کے اہل نہ ہیں ،
6) کچھ طلباء نے ڈاکٹر صاحبہ کے زبانی شہنشاہانہ حکم سے متاثرہ ہو کر ہائ کورٹ میں رٹ پٹیشنز داہر کر کے امتحانات دینے کا عبوری حکم / ریلیف حاصل کرلیا لیکن قانون کی تعلیم کے ماہرین اور کنٹرولر امتحانات نے اپنے ان بچوں کے خلاف مبینہ ضد ، آنا ، بغض ، تعصب اور عناد کو تقویت دینے کے لیے اور ہائ کورٹ کے عبوری حکم کو غیر موثر کرنے کے لیے بد نیتی سے 5 فروری 2026 کو یہ امتحانات ہی ملتوی کر دیے،
7) بعد ازاں قانون کی تعلیم کے ان ماہرین اور کنٹرولر امتحانات نے باہمی بد نیتی سے مندرجہ بالا ملتوی شدہ امتحانات کے انعقاد کے لیے مورخہ 13 مارچ 2026 بروز جمعتہ المبارک کی شام کو ڈیٹ شیٹ براہے آغاز امتحانات مورخہ 16 مارچ 2026 بروز سوموار جاری کر دی تاکہ مندرجہ بالا طلباء دوبارہ ہائ کورٹ سے اپنے حق میں کوئ فیصلہ نہ لے سکیں کیونکہ ہفتہ اور اتوار کو ہائ کورٹ کی چھٹی ہوتی ہے اور سوموار کو پہلا پیپر تھا۔ یہ ہیں جی وہ اساتذہ نما اشخاص جو اپنے ہی بچوں سے نا انصافی ، ظلم اور زیادتی کرتے ہیں اور اپنی چالاکی اور بدنیتی سے طلباء کو ہائ کورٹ سے بھی ریلیف لینے میں تکنیکی طور پر رکاوٹ ڈال لیتے ہیں،
8) اب پارٹ اول و دوم دوسرا سالانہ امتحانات 2022 اور پارٹ سوم ، چہارم ، پنجم دوسرا سالانہ امتحانات 2023 مورخہ 26 اگست 2026 سے شروع ہو رہے ہیں جن کے لیے داخلہ جات بھجنے کی سنگل فیس کے ساتھ آخری تاریخ 10 اگست 2026 ہے لیکن قانون کی تعلیم کے ماہرین اور کنٹرولر امتحانات ایک دفعہ پھر مندرجہ بالا طلباء کے داخلہ جات ان امتحانات کے لیے ڈاکٹر صاحبہ کے زبانی شہنشاہانہ حکم کے تحت نہیں بھیجے جارہے اور طلباء کی گزارش کے باوجود داخلہ جات نہ بھیجے جانے کا کوئ تحریری حکم نامہ بھی نہیں جاری کیا جارہا جس کا کوئ قانونی جواز نہ ہے اور صاف نظر آ رہا ہے کہ طلباء کی قانونی اہلیت ہونے کے باوجود ان اپنے ہی بچوں کو کسی مبینہ ذاتی مفاد ، بغض ، عناد ، تعصب اور دشمنی کے تحت سزا دی جا رہی ہے اور طلباء دادرسی کے لیے مختلف درخواستیں دیتے پھر رہے ہیں اور ہائ کورٹ میں پٹیشنز داہر کرنے کے لیے دھکے کھاتے پھر رہے ہیں،
, میرا رب ان سب کو طلباء پر رحم کرنے کی ہدایت و توفیق عطا کرے آمین،
شکریہ, دعاگو ! فلک شیر وٹو ایڈووکیٹ ہائی کورٹ ملتان