Sardar Qasim Bin Sajjad Tangwani Adv

Call Directions Website

Sardar Qasim Bin Sajjad Tangwani Adv Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Sardar Qasim Bin Sajjad Tangwani Adv, Lawyer & Law Firm, High Court, Multan.

⚖️ ہر قانونی مسئلہ کا درست اور بااعتماد حل!
روزمرہ کی زندگی میں اپنے قانونی حقوق کو سمجھیں اور بروقت رہنمائی حاصل کریں۔
✨ انسانیت سے محبت | ⚖️ انصاف کے لیے مسلسل جدوجہد
📲 رابطہ: 03008761995 | 03006763367

04/10/2026

زمین و جائیداد کے قدیم ریکارڈ (مثلاً 1880ء یا 1884ء کے بندوبست کی جمع بندیاں) کو دیکھنا اور ان کی قانونی صحت کو سمجھنا ایک انتہائی باریک اور فنی کام ہے [00:23]۔ اکثر اوقات جب سائل یا وکیل کو ریکارڈ روم سے پرانی جمع بندی دیکھنے کا موقع ملتا ہے تو معلومات نہ ہونے کے باعث وہ مطلوبہ حقائق تک نہیں پہنچ پاتے۔ اس لیکچر میں ریکارڈ روم میں پرانا ریکارڈ ڈھونڈنے اور معائنہ کرنے کی اہم تکنیکیں بیان کی گئی ہیں [00:31]۔
۱۔ تحصیل و ڈی سی آفس کے ریکارڈ روم کے رجسٹر کا معائنہ [00:42]
جب بھی آپ پرانا مالکانہ ریکارڈ دیکھنے ریکارڈ روم میں جائیں تو درج ذیل مراحل سے گزرنا ہوتا ہے:
تحصیل رجسٹر کی پڑتال: ڈی سی (DC) آفس یا تحصیل ریکارڈ روم میں ہر تحصیل کے ۳ سے ۴ مخصوص رجسٹر موجود ہوتے ہیں [00:49]۔
موضع یا چک کا صفہ: اس رجسٹر کا ایک پورا صفحہ مخصوص موضع (یا چک) کے لیے مختص ہوتا ہے [00:54]۔ صفحے کے اوپر موضع یا چک کا نام درج ہوتا ہے۔
جمع بندیوں اور انتقالات کی فہرست: اس صفحے پر اس موضع کی تمام تاریخی جمع بندیوں، پاس شدہ اور زیرِ التواء انتقالات، اور کاغذات کی وصولی/جمع آوری کی رپٹ درج ہوتی ہے [01:07]۔ اس اندراج سے تصدیق ہوتی ہے کہ متعلقہ موضع کا کون کون سا ریکارڈ دفتری تحویل میں موجود ہے۔
۲۔ موضع کا بستہ اور مثلِ حقیت [01:28]
کپڑے کا بستہ (Basta): ہر موضع کا تمام قدیم ریکارڈ سیاہ یا سفید رنگ کے کپڑے کے ایک مخصوص "بستے" میں محفوظ رکھا جاتا ہے [01:28]۔
ریکارڈ روم میں منتقلی: قانون کے مطابق ہر چار سال بعد جب نئی جمع بندی مرتب ہوتی ہے، تو ۲۰ سال یا اس سے زیادہ پرانا ریکارڈ تحصیل ریکارڈ روم منتقل کر دیا جاتا ہے [01:47]۔
مثلِ حقیت (Misal-e-Haqiyyat): بندوبست (Settlement) یا اشتمال/کاشت کے دوران زمین کی ملکیت کے تعین کے بعد جو بنیادی ریکارڈ بنتا ہے اسے 'مثلِ حقیت' کہتے ہیں، جو اسی بستے میں محفوظ ہوتا ہے [02:06]۔
۳۔ پاس شدہ اور خارج شدہ انتقالات میں تفریق [02:13]
پرانی جمع بندی کا مطالعہ کرتے وقت انتقالات کو تلاش کرنے کا طریقہ کار انتہائی اہم ہے:
پاس شدہ انتقالات (Sanctioned Mutations): جمع بندی کا رجسٹر کھولتے ہی اس کے آخری حصے میں ایک نتھی یا جتھا لگا ہوتا ہے جس میں اس دورانیے کے تمام پاس شدہ (منظور شدہ) انتقالات اٹیچ ہوتے ہیں [02:25]۔
خارج شدہ انتقالات (Rejected Mutations): اگر آپ کسی خارج شدہ (منسوخ یا رد شدہ) انتقال کو ڈھونڈ رہے ہیں، تو وہ جمع بندی کے ساتھ اٹیچ نہیں ہوتا، بلکہ اس کا ریکارڈ تحصیل آفس کے بنیادی رجسٹروں میں جا کر تلاش کرنا پڑتا ہے [02:40]۔
رجسٹر میں اندراج کی تصدیق: تحصیل رجسٹر سے دیکھا جا سکتا ہے کہ آیا انتقال کا اندراج ہوا تھا یا نہیں؛ اگر وہاں نہیں تو پٹواری کے روزنامچے یا ریکارڈ میں اس کا سراغ لگایا جاتا ہے [02:50]۔
۴۔ نتھی میں منسلک بنیادی قانونی دستاویزات کی تلاش [03:12]
موضع کے بستے کے آخر میں ایک خصوصی فائل یا نتھی لگی ہوتی ہے جو قانونی تحقیقات کے لیے خزانے کی حیثیت رکھتی ہے [03:18]:
تائیدی دستاویزات: جب کسی رجسٹری، الاٹمنٹ، یا عدالتی ڈگری کی بنیاد پر انتقال درج ہوتا ہے تو اس کی اصل یا نقل اس نتھی میں شامل کر دی جاتی ہے [03:23]۔
قدیم حکم نامے: اکثر اوقات پرانے الاٹمنٹ لیٹر (Allotment Letters)، آر ایل-۲ (RL-2) فارم، عدالت کی ڈگریاں یا سرکاری آرڈرز جن کی تلاش عام طور پر مشکل ہوتی ہے، اس نتھی کو کھولنے پر باآسانی مل جاتے ہیں [03:34]۔
۵۔ شرط واجب العرض کی قانونی اہمیت [03:52]
ہر موضع کے بستے میں ایک اہم ترین تاریخی و قانونی دستاویز "شرط واجب العرض" بھی شامل ہوتی ہے [03:52]۔ اس میں موضع کے تمام حقوق اور زمین کے استعمال کے قواعد و ضوابط درج ہوتے ہیں:
زمین کی تقسیم کی تفصیل: موضع میں آبادی دہ (آبادی کی زمین)، شاملات (مشترکہ زمین)، چراگاہوں، نمبردار کے کوٹے، اور گاؤں کے دیگر پیشہور افراد (کمیوں) کے حقوق کی صراحت ہوتی ہے [04:04]۔
حکومتی و قانونی حقوق: سنٹرل گورنمنٹ کی ملکیت، درختوں کے کٹاؤ کے قوانین، اور رہن و مرتحن (Mortgage & Mortgagee) کی شرائط کی مکمل تفصیل درج ہوتی ہے [04:24]۔
حاصلِ کلام [04:32]
قانونی طلبہ (LLB Students) اور مالکانہ حقوق کے وکلائے کرام کے لیے پرانی جمع بندی اور ریکارڈ روم کی دستاویزات کا بغور معائنہ کرنا انتہائی فائدہ مند ہے۔ اگر آپ بستے کے اندر موجود نتھی، رجسٹر کے اندراجات، اور شرط واجب العرض کو صحیح طریقے سے پڑھنا سیکھ لیں تو زمین کے دہائیوں پرانے تنازعات اور اصل ملکیت کی حقیقت منٹوں میں واضح ہو جاتی ہے۔

03/10/2026

01/10/2026

پاکستان میں کسی بھی موبائل نمبر کی کال ہسٹری (CDR) معلوم کرنے کا مکمل قانونی طریقہ
پاکستان میں کال ڈیٹیل ریکارڈ (CDR - Call Detail Record) حاصل کرنے اور اس کی عدالتی اہمیت کے حوالے سے اکثر لوگ رہنمائی تلاش کرتے ہیں۔ وکیل ایڈووکیٹ قاسم بن سجاد (ایل ایل ایم) کی یوٹیوب ویڈیو [00:00] کی روشنی میں، پاکستان کے قوانین اور ٹیلی کام ضوابط کے مطابق CDR حاصل کرنے کا مکمل قانونی اور آئینی طریقہ کار ذیل میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
1. کال ڈیٹیل ریکارڈ (CDR) کیا ہے؟
CDR (کال ڈیٹا ریکارڈ یا کال ڈیٹیل ریکارڈ) ایک اہم الیکٹرانک دستاویز ہے جو تمام ٹیلی کام کمپنیاں (جاز، ٹیلینار، زونگ، یوفون) اپنے سرورز پر محفوظ رکھتی ہیں۔ اس ریکارڈ میں درج ذیل اہم معلومات موجود ہوتی ہیں:
کال اور SMS کا ریکارڈ: موصول ہونے والی اور کی جانے والی تمام کالز کا وقت، تاریخ اور دورانیہ۔
جغرافیائی لوکیشن (Location): کال کے وقت صارف کس سیل ٹاور کی حد (Tower Location) میں موجود تھا، اس کا مکمل لوکیشن ڈیٹا۔
2. پولیس اور قانونی ذرائع سے CDR حاصل کرنے کا طریقہ
کسی بھی شہری کی پرائیویسی کا تحفظ آئینِ پاکستان کا حصہ ہے، اس لیے کسی دوسرے فرد کا CDR بغیر قانونی اجازت حاصل کرنا جرم ہے۔ تاہم قانونی یا تفتیشی امور کی صورت میں درج ذیل دو طریقوں سے ریکارڈ حاصل کیا جا سکتا ہے:
(الف) FIR درج ہونے سے پہلے (DPO کو درخواست)
اگر کسی جرم یا مشکوک کارروائی کی شکایت ابھی باقاعدہ ایف آئی آر (FIR) کی صورت میں درج نہ ہوئی ہو، تو متاثرہ فرد متعلقہ ضلع کے ڈی پی او (District Police Officer - DPO) کے نام تحریری درخواست جمع کروا سکتا ہے [00:26]۔ درخواست منظور ہونے کی صورت میں پولیس کا بااختیار آئی ٹی سیل ٹیلی کام کمپنی سے مطلوبہ نمبر کا ریکارڈ حاصل کرتا ہے۔
(ب) FIR درج ہونے کے بعد (تفتیشی عمل کے دوران)
اگر کسی معاملے کی ایف آئی آر (FIR) درج ہو چکی ہو، تو تفتیشی افسر (Investigating Officer) کیس کی باقاعدہ تفتیش آگے بڑھانے کے لیے اعلیٰ پولیس حکام کی منظوری سے متعلقہ ٹیلی کام ڈائریکٹوریٹ کو CDR کی فراہمی کے لیے خط بھیجتا ہے [01:41]۔
3. عدالتی کارروائی اور شہادت (Evidentiary Value in Court)
فوجداری مقدمات (Criminal Cases) میں CDR کو ایک اہم اور ٹھوس ثبوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے [02:00]:
1. بے گناہی کا ثبوت (Alibi): اگر کسی شخص پر غلط یا جھوٹا مقدمہ بنا دیا جائے، تو وہ اپنے موبائل کی CDR اور لوکیشن کے ذریعے عدالت میں یہ ثابت کر سکتا ہے کہ وقوعہ کے وقت وہ موقع پر موجود ہی نہیں تھا بلکہ کسی دوسرے شہر (مثلاً لاہور یا اسلام آباد) میں موجود تھا [02:35]۔
2. گواہان کا شیڈول (Schedule of Witnesses): عدالتی فیصلوں کے مطابق، CDR کو قانون کے مطابق درست ثبوت ماننے کے لیے ضروری ہے کہ جس تفتیشی افسر یا اتھارٹی نے یہ ریکارڈ نکالا ہے، اس کا نام چالان میں شیڈول آف وٹنس (Schedule of Witnesses) کے طور پر شامل کیا جائے [02:07]۔ اگر یہ قانونی تقاضا پورا نہ کیا جائے تو ثبوت کا فائدہ ملزم کے حق میں جا سکتا ہے۔
4. اپنے ذاتی نمبر کی کال ہسٹری معلوم کرنے کا طریقہ
اگر آپ کو اپنے ذاتی نمبر کا کال اور ایس ایم ایس ریکارڈ درکار ہو، تو اس کے لیے پولیس یا عدالت جانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تمام ٹیلی کام کمپنیوں نے صارفین کی سہولت کے لیے آفیشل موبائل ایپس متعارف کروا رکھی ہیں:
Jazz World App: ایپ میں "History" سیکشن پر جا کر پچھلے چند دنوں کی کالز، ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ استعمال کی تفصیل دیکھی جا سکتی ہے۔
MyTelenor App: "Usage Details" یا "History" آپشن سے روزانہ کی کال ہسٹری دستیاب ہوتی ہے۔
My Zong App: "History" مینو سے استعمال کا مکمل ڈیٹا دیکھا جا سکتا ہے۔
My Ufone App: "Call History" میں جا کر اکاؤنٹ کی تفصیلات چیک کی جا سکتی ہیں۔
5. پرائیویسی اور اخلاقی انتباہ
قانون کے مطابق کسی بھی فرد کی پرائیویٹ زندگی میں مداخلت یا گھریلو شک و شبہات کی بنیاد پر کسی دوسرے کا ریکارڈ غیر قانونی طریقوں سے حاصل کرنا سنگین جرم ہے [01:08]۔ CDR کا بنیادی مقصد صرف اور صرف قانونی بالادستی اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
خلاصہ (Summary Table)

24/09/2026

Sardar Qasim Bin Sajjad Tangwani Adv sajjankhan

22/09/2026

وراثتی انتقال کو چیلنج کرنے کی میعاد (Limitation Period): قانونی و شرعی اصول اور عدالتی فیصلے
تعارف
پاکستان کے نظامِ اراضی اور قانونی فریم ورک میں وراثت کا حصول ایک انتہائی اہم شرعی اور قانونی حق ہے۔ جب کسی زمین یا جائیداد کے مالک کا انتقال ہوتا ہے تو محکمہ مال (ریونیو ڈیپارٹمنٹ) میں اس کی جگہ متوفی کے تمام قانونی ورثاء کے نام اراضی منتقل کرنے کے لیے "وراثتی انتقال" (Inheritance Mutation) کی منظوری دی جاتی ہے۔ قانون اور شریعت کا یہ بنیادی تقاضا ہے کہ تمام شرعی ورثاء کو ان کے مقررہ حصے کے مطابق وراثت دی جائے۔
تاہم، عملاً دیکھا گیا ہے کہ اکثر اوقات چالاک ورثاء، بالخصوص مرد ورثاء، خواتین (بہنوں یا بیواؤں) یا دور کے دیگر شرعی ورثاء کو محروم کرنے کے لیے پٹواری اور ریونیو عملے کی ملی بھگت سے وراثتی انتقال غلط یا ناقص طریقے سے درج کروا لیتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں یہ سوال سب سے اہم بن کر سامنے آتا ہے کہ غلط یا فرضی وراثتی انتقال کو چیلنج کرنے کے لیے قانون میں کیا میعادِ حد (Limitation Period) مقرر ہے؟ کیا دہائیوں بعد بھی وراثتی انتقال کو چیلنج کیا جا سکتا ہے؟
وراثت اور قانونِ میعاد (Limitation Act 1908) کا بنیادی اصول
پاکستان کے قانونی نظام اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے قائم کردہ نظائر کے مطابق وراثت کے معاملات میں قانونِ میعاد کا بنیادی فلسفہ درج ذیل اصولوں پر مبنی ہے:
1. وراثت کے دعوے پر میعاد لاگو نہ ہونا:
اسلامی قانونِ وراثت اور اعلیٰ عدلیہ کے دیرینہ فیصلوں کے تحت یہ بنیادی اصول قائم ہے کہ "وراثت کے شرعی حق پر میعادِ حد لاگو نہیں ہوتی" (There is no limitation against inheritance)। شریعتِ اسلامیہ کے مطابق جیسے ہی کسی شخص کی وفات ہوتی ہے، اس کی ملکیت خود بخود اس کے تمام شرعی ورثاء میں منتقل ہو جاتی ہے۔ لہٰذا، محض وقت گزرنے سے کسی وراث کا شرعی حق ختم نہیں ہوتا۔
2. شریکِ کھاتہ (Co-sharer) کا تصور:
اراضی قوانین کے تحت، جب تک مشترکہ جائیداد کی باقاعدہ قانونی تقسیم (Partition) نہ ہو جائے، تمام ورثاء "شریکِ کھاتہ" (Co-sharers) تصور ہوتے ہیں۔ قانون کا اصول ہے کہ ایک شریکِ کھاتہ کا قبضہ تمام شرکاء کی طرف سے قبضہ سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے، جب تک جائیداد میں مشترکہ ملکیت یا قبضہ قائم ہے، کسی ایک شریک کے خلاف میعادِ حد کا وقت شمار نہیں ہوتا۔
قانونِ میعاد کے اہم آرٹیکلز اور علم ہونا (Date of Knowledge)
اگر کسی وراث کو وراثتی انتقال سے محروم کر دیا گیا ہو یا اس کے ساتھ دھوکہ دہی کی گئی ہو، تو سول کورٹ میں دعویٰ دائر کرتے وقت قانونِ میعاد 1908 کے درج ذیل آرٹیکلز اور دفعات اہم کردار ادا کرتے ہیں:
آرٹیکل 120 (قانونِ میعاد): استقرارِ حق (Suit for Declaration) کے دعوے کے لیے عام میعاد 6 سال ہے۔ لیکن اس 6 سالہ میعاد کا آغاز اس دن سے ہوتا ہے جب وراث کے حق کا انکار کیا جائے یا اسے پہلی بار اس ناانصافی کا علم حاصل ہو (Cause of Action / Knowledge)۔
آرٹیکل 91 (قانونِ میعاد): اگر انتقالِ وراثت کی منسوخی (Cancellation) درکار ہو، تو قانونی طور پر علم ہونے کی تاریخ سے 3 سال کی میعاد مقرر ہے۔
دفعہ 18 (Section 18 of Limitation Act - Fraud): اگر وراثتی انتقال میں فراڈ، جعل سازی یا خلوتِ راز سے کام لیا گیا ہو اور متاثرہ وراث کو اندھیرے میں رکھا گیا ہو، تو دفعہ 18 کے تحت میعادِ حد کا وقت اس تاریخ سے شروع ہوگا جب متاثرہ شخص کو پہلی بار اس فراڈ اور ناانصافی کا علم حاصل ہوگا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کے جدید فیصلوں کی روشنی میں استثناء (Exceptions)
اگرچہ عام تاثر یہی ہے کہ "وراثت میں کوئی میعاد نہیں ہوتی"، لیکن سپریم کورٹ آف پاکستان کے جدید فیصلوں نے اس اصول میں انتہائی اہم استثناء اور باریکیاں واضح کی ہیں:
1. طویل خاموشی اور رضامندی (Principle of Acquiescence):
اگر کوئی وراث اپنے حق کی محرومی سے مکمل طور پر واقف ہونے کے باوجود طویل عرصے (مثلاً 30، 40 یا 50 سال) تک خاموش رہے اور اپنے حق کے لیے کوئی قانونی اقدام نہ کرے، تو عدالتیں یہ فرض کر سکتی ہیں کہ اس نے خاموش رضامندی (Acquiescence) دے دی تھی۔ ایسی صورت میں تاخیر کی معقول وجہ بیان کیے بغیر دعویٰ خارج کیا جا سکتا ہے۔
2. تیسرے فریق کے حقوق کا قیام (Third Party Interest):
اگر وراثتی انتقال کے بعد طویل عرصہ گزرنے کے دوران جائیداد کسی اور فریق کو فروخت کر دی گئی ہو اور خریدار نے ریونیو ریکارڈ پر اعتماد کرتے ہوئے نیک نیتی سے رقم ادا کی ہو (Bona Fide Purchaser)، تو دہائیوں بعد وراثتی انتقال کو چیلنج کرنے سے تیسرے فریق کا حق متاثر ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ کے مطابق ایسے حالات میں عدالت تاخیر کی بنیاد پر دعویٰ خارج کر سکتی ہے تاکہ بے قصور خریدار کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔
وراثتی انتقال کو چیلنج کرنے کا عملی طریقہ کار
متاثرہ وراث اپنے حق کے حصول کے لیے درج ذیل قانونی راستے اختیار کر سکتا ہے:
1. ریونیو فورم (Revenue Courts):
اگر وراثتی انتقال میں پٹواری یا تحصیلدار سے کوئی کلریکل غلطی یا باضابطہ بے ضابطگی ہوئی ہو، تو اسسٹنٹ کمشنر (کلکٹر) یا ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) کے پاس اپیل یا نظرسانی (Appeal / Revision) دائر کی جا سکتی ہے۔
2. سول کورٹ (Civil Court):
اگر وراثتی انتقال میں فراڈ، جعل سازی یا ملکیت کا باقاعدہ تنازعہ موجود ہو، تو سول جج کی عدالت میں "دعویٰ استقرارِ حق بمعہ منسوخیِ انتقال و انسدادِ دوامی" (Suit for Declaration, Cancellation of Mutation, and Permanent Injunction) دائر کیا جاتا ہے۔
نتیجہ (Conclusion)
مجموعی طور پر، پاکستان کے قانون میں وراثتی انتقال کو چیلنج کرنے کے لیے محض دن اور سال گننا کافی نہیں ہے، بلکہ علم ہونے کی تاریخ (Date of Knowledge)، جائیداد کا قبضہ، فراڈ کا عنصر، اور تیسرے فریق کے حقوق کا وجود سبھی کو دیکھا جاتا ہے۔ وراثت کا حق شرعی اور بنیادی حق ہے، لیکن قانونی پیچیدگیوں اور تاخیر کے نقصانات سے بچنے کے لیے جیسے ہی کسی وراث کو وراثتی انتقال میں نامکمل یا غلط اندراج کا پتہ چلے، اسے بلا تاخیر قانون کا دروازہ کھٹکھٹانا چاہیے۔

21/09/2026

پٹواری کے پاس جانے سے پہلے 6 اہم قانونی باتیں | پٹواری کا کیا مطلب اور کام ہے؟
زمین و جائیداد کی خرید و فروخت، انتقالِ وراثت، حد براری یا زمینی تنازعات کے حل کے لیے اکثر شہریوں کو پٹوار خانہ یا اراضی ریکارڈ سینٹر کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ لیکن مناسب قانونی معلومات نہ ہونے کی وجہ سے عام لوگ پریشانی کا شکار ہوتے ہیں۔ اس مضمون میں پٹواری کے بنیادی کردار اور پٹوار خانہ جانے سے قبل 6 انتہائی اہم قانونی نکات کو تفصیلاً بیان کیا گیا ہے۔
1. پٹواری کا کیا مطلب اور بنیادی ذمہ داری کیا ہے؟
لفظ "پٹواری" ریونیو انتظامیہ کا وہ بنیادی سرکاری اہلکار ہے جو گاؤں یا مخصوص موضع (Revenue Estate) کی اراضیات کا حساب کتاب اور مالکانہ حقوق کا ریکارڈ رکھتا ہے۔ پٹوار کا نظام برصغیر میں شیر شاہ سوری اور اکبر اعظم کے دور میں شروع ہوا جسے انگریز دور میں باقاعدہ لینڈ ریونیو ایکٹ کے تحت منظم کیا گیا۔
پٹواری کی بنیادی ذمہ داریوں میں درج ذیل شامل ہیں:
زمین کے مالکانہ حقوق کا ریکارڈ رکھنا (وراثت، بیع، ہبہ اور تبادلہ کا اندراج)۔
فصلوں کی گرداوری کرنا اور کاشت کاری کا ریکارڈ تیار کرنا۔
زمینی ریکارڈ کی صحت کو برقرار رکھنا اور ریونیو افسران (تہسیلدار/نائب تہسیلدار) کی معاونت کرنا۔
2. پٹوار خانہ یا اراضی ریکارڈ سینٹر جانے سے پہلے 6 اہم قانونی نکات
نکتہ 1: جمع بندی (Jamabandi) اور ملکیت کے اندراج کو سمجھیں
زمین کی ملکیت کا سب سے اہم ترین کاغذ جمع بندی ہوتا ہے، جسے ہر چار سال بعد اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے۔ پٹواری کے پاس جانے سے پہلے اپنی زمین کا کھیوٹ نمبر (Khewat)، کھتونی نمبر (Khatoni) اور خسرہ نمبر (Khasra Number) لازمی نوٹ رکھیں۔ کھیوٹ سے مالکان کی تفصیل، کھتونی سے کاشت کار یا قبضے کی تفصیل اور خسرہ نمبر سے زمین کے مخصوص ٹکڑے کا پتہ چلتا ہے۔
نکتہ 2: گرداوری (Girdawri) اور موقع کے قبضے کی تصدیق
صرف کاغذات میں نام ہونا کافی نہیں ہوتا بلکہ خسرہ گرداوری میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ موقع پر زمین کس کے زیرِ کاشت ہے۔ گرداوری سال میں دو بار (خریف اور ربیع) کی جاتی ہے۔ اگر کسی شخص کا غلط قبضہ درج ہو جائے تو بعد میں دیوانی عدالتوں میں لمبی مقدمے بازی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لیے گرداوری کا باقاعدہ معائنہ کریں۔
نکتہ 3: رپٹ روزنامچہ (Rapat Roznamcha Waqiati) کا اندراج
اگر آپ نے زمین کا کوئی زبانی معاہدہ، بَیَع، یا تحویلِ قبضہ کا عمل کیا ہے تو پٹواری کے پاس موجود روزنامچہ واقعیاتی میں اس کی رپٹ درج کروائیں۔ یہ رپٹ بعد میں انتقال (Mutation) کے اندراج کے لیے بنیادی قانونی دستاویز کے طور پر کام کرتی ہے۔
نکتہ 4: فردِ بدر (Fard Badar) اور کلریکل غلطیوں کی اصلاح
اگر جمع بندی میں آپ کے نام، ولدیت، قوم، یا رقبے کے انداراج میں کوئی معمولی غلطی (Clerical Error) ہو گئی ہو تو اس کے لیے نیا مقدمہ درج کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ غلطی پٹواری فردِ بدر کی تجویز تیار کر کے اور اسسٹنٹ کلکٹر (AC/Tehsildar) کی منظوری سے درست کر سکتا ہے۔
نکتہ 5: مثلِ حقیقت (Misl Haqiat) اور مثلِ میعادی (Misl Miadi)
مثلِ حقیقت: جب کسی موضع میں نیا بندوبست (Settlement) ہوتا ہے تو جو بنیادی ریکارڈ بنتا ہے اسے مثلِ حقیقت کہتے ہیں۔
مثلِ میعادی: ہر چار سال بعد جو کاغذی جمع بندی تیار کی جاتی ہے، اسے قانونی اصطلاح میں مثلِ میعادی کہا جاتا ہے۔
پرانے یا پیچیدہ زمینی تنازعات کے حل کے لیے ان دونوں دستاویزات کا مطالعہ انتہائی ضروری ہے۔
نکتہ 6: قدیم ریکارڈ کی جانچ اور کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ کی مطابقت
پاکستان کے اکثر اضلاع میں اب اراضی ریکارڈ سینٹر (ARC) کے ذریعے کمپیوٹرائزڈ فرد جاری کی جاتی ہے۔ لیکن قدیم یا تنازع والی اراضی کی صورت میں کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا کا پٹوار خانے کے دستی (Manual) شجرہ نسب اور پرانے ریکارڈ سے موازنہ ضرور کریں۔ اگر دونوں ریکارڈز میں کوئی فرق ہو تو انتقال سے قبل اس کی اصلاح کروائیں۔
خلاصہ و ہدایت:
زمین یا جائیداد کا کوئی بھی سودا کرنے یا پٹوار خانے جانے سے قبل اپنے رقبے کے تمام تر اعداد و شمار (کھیوٹ، کھتونی، خسرہ اور شجرہ نسب) اپنے پاس رکھیں تاکہ آپ کسی بھی دھوکہ دہی سے محفوظ رہ سکیں۔
6 Tips Patwari Ka Tarika & Meaning
یہ ویڈیو پٹواری کے نظام، بنیادی ریونیو اصطلاحات اور پٹوار خانے جانے سے قبل ضروری قانونی رہنمائی حاصل کرنے کے لیے انتہائی اہم اور مفصل ہے۔

20/09/2026

عنوان: اسلام میں قانونِ وراثت اور بہنوں و بیٹیوں کو جائیداد سے محروم کرنے پر سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم فیصلہ
مقدمہ
اسلامی شریعت میں وراثت کا نظام عدل، انصاف اور معاشی توازن پر مبنی ایک حتمی اور الٰہی قانون ہے۔ اسلام سے قبل دورِ جاہلیت میں عورتوں اور بچوں کو وراثت سے محروم رکھا جاتا تھا اور تمام تر جائیداد صرف مرد رشتہ داروں میں تقسیم کر دی جاتی تھی۔ اسلام نے اس ظالمانہ اور غیر انسانی رواج کا خاتمہ کیا اور قرآنِ مجید کے ذریعے عورتوں (بیٹیوں، بہنوں، بیویوں اور ماؤں) کے لیے وراثت میں مستقل اور ناقابلِ تنسیخ حقوق مقرر کیے۔
تاہم، ہمارے معاشرے میں آج بھی زبانی ہبہ (شفاہی تحفہ)، جعلی دستاویزات، اور خاندانی دباؤ کے ذریعے عورتوں کو ان کے شرعی اور قانونی حق سے محروم کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ اس تناظر میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک تاریخ ساز فیصلہ جاری کیا ہے جس میں خواتین کے شرعی و آئینی حقِ وراثت کا تحفظ کرتے ہوئے ظالمانہ اور فرسودہ طریقوں کا خاتمہ کر دیا ہے۔
اسلام میں قانونِ وراثت کی شرعی حیثیت
قرآنِ پاک کی سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ نے وراثت کی تقسیم کے واضح قوانین بیان فرمائے ہیں۔ اللہ کا ارشاد ہے کہ مردوں کے لیے اس مال میں حصہ ہے جو والدین اور رشتہ دار چھوڑ جائیں اور عورتوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے جو والدین اور رشتہ دار چھوڑ جائیں، خواہ وہ مال کم ہو یا زیادہ، یہ حصہ اللہ کی طرف سے مقرر کردہ ہے۔
اسلامی فقہ کے مطابق، کسی بھی انسان کی وفات کے فوری بعد اس کی ملکیت تمام قانونی اور شرعی ورثاء میں ازخود منتقل ہو جاتی ہے۔ یہ کسی مرد رشتہ دار کی سخاوت یا احسان نہیں بلکہ رب العزت کا صریح حکم ہے۔ اسلام میں وراثت سے کسی کو محروم کرنا (Disinheritance) یا عورتوں پر دباؤ ڈال کر ان سے حق بخشوانا شدید گناہ اور شریعتِ اسلامیہ کی سنگین خلاف ورزی شمار ہوتا ہے۔
پاکستان میں وراثت سے محروم کرنے کے ہتھکنڈے
پاکستانی معاشرے میں بدقسمتی سے کئی دہائیوں سے یہ منفی رجحان دیکھنے میں آیا ہے کہ والد یا سرپرست کی وفات کے بعد بھائی اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو جائیداد میں حصہ دینے سے گریز کرتے ہیں۔ اس کے لیے مختلف غیر قانونی طریقہ ہائے کار اختیار کیے جاتے ہیں:
1. شفاہی ہبہ (Oral Gift) کا جعلی دعویٰ: بھائی یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ متوفی نے اپنی زندگی میں تمام جائیداد انہیں زبانی طور پر تحفہ کر دی تھی۔
2. جعلی انتقالِ ملکیت (Fraudulent Mutation): پٹوار خانے یا ریونیو ریکارڈ میں سازش کے تحت وراثت کی فہرست سے خواتین کے نام خارج کروانا یا غلط اندراج کروانا۔
3. رسم و رواج اور خاندانی دباؤ: 'حق بخشوائی'، 'چادر' یا خاندانی غیرت کے نام پر خواتین کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ اپنا حصہ ترک کر دیں۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کا حالیہ تاریخی فیصلہ
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے حالیہ اہم فیصلے میں اس ناانصافی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے انتہائی واضح قانونی اصول وضع کیے ہیں:
شفاہی ہبہ (Hiba) پر بارِ ثبوت: عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ متوفی نے اسے شفاہی طور پر جائیداد تحفے میں دی تھی، تو اس دعوے کو ثابت کرنے کی تمام تر قانونی ذمہ داری (Burden of Proof) اس شخص پر ہوگی۔ محض زبانی دعویٰ یا ریونیو ریکارڈ میں اندراج ملکیت کا ثبوت نہیں بن سکتا۔
انتقالِ ملکیت (Mutation) کی قانونی حقیقت: عدالت نے واضح کیا کہ ریونیو ریکارڈ یا پٹوار خانے میں انتقالِ ملکیت کا اندراج صرف انتظامی اور مالیاتی مقاصد (Fiscal Purposes) کے لیے ہوتا ہے۔ یہ نہ تو کسی کے حقِ ملکیت کو تخلیق کرتا ہے اور نہ ہی کسی قانونی وارث کا اصل حق ختم کر سکتا ہے۔
تاخیر کی بنیاد پر دعویٰ رد نہ ہونا: سپریم کورٹ نے اس نقطے کو بھی مسترد کر دیا کہ اگر خواتین نے کئی سالوں بعد عدالت سے رجوع کیا تو ان کا دعویٰ ختم ہو جائے گا۔ عدالت کے مطابق وراثت کا حق وفات کے وقت ہی خودبخود قائم ہو جاتا ہے اور وقت گزرنے سے یہ حق ختم نہیں ہوتا۔
آئینی و دینی ضمانتیں: فیصلے میں آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 2A، 23، 24، 25 اور 35 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ مساوات، ملکیت کے تحفظ اور خاندانی نظام کی حفاظت کے تحت ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عورتوں کے حقوق کو عملی طور پر نافذ کرے۔
نتیجہ و معاشرتی پیغام
سپریم کورٹ آف پاکستان کا یہ فیصلہ اسلامی احکامات اور آئینی اقدار کی سچی ترجمانی کرتا ہے۔ یہ فیصلہ ان تمام لوگوں کے لیے ایک واضح تنبیہ ہے جو فریب، فرسودہ رسوم یا خاندانی دباؤ کا سہارا لے کر بہنوں اور بیٹیوں کو ان کے حقوق سے محروم کرتے ہیں۔
وراثت میں خواتین کو ان کا پورا اور جائز حصہ دینا نہ صرف قانونی فرض ہے بلکہ ایک دینی اور اخلاقی فریضہ بھی ہے۔ ریاست، عدلیہ، میڈیا اور علمائے کرام سب پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس پیغام کو عام کریں تاکہ ہر عورت کو بلا تاخیر اور بلا خوف اپنا شرعی اور قانونی حق مل سکے۔

Address

High Court
Multan

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sardar Qasim Bin Sajjad Tangwani Adv posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share