01/09/2026
سپریم کورٹ / ہائی کورٹ کا حالیہ فیصلہ: باپ سے خریدی گئی زمین پر بہن کا حق وراثت
پاکستان کے معاشرے میں اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ والد کی زندگی میں یا ان کی وفات کے وقت بیٹیوں اور بہنوں کو وراثت اور جائیداد سے محروم کرنے کے لیے مختلف قسم کے حیلے بہانے تراشے جاتے ہیں [00:00]۔ ان میں سب سے عام طریقہ کار یہ اپنایا جاتا ہے کہ بیٹے والد کی زندگی ہی میں جائیداد اپنے نام منتقل کروا لیتے ہیں اور بعد میں دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ جائیداد انہوں نے والد سے باقاعدہ رقم دے کر "خریدی" (Sale/Bai) تھی، اس لیے یہ وراثت کا حصہ نہیں رہی [00:07]۔
اس حوالے سے اعلیٰ عدلیہ کا حالیہ اہم اور قانونی تحویل دینے والا فیصلہ بیٹیوں اور بہنوں کے شرعی و قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے انتہائی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے [00:23]۔
کیس کے اہم نکات اور عدالتی فیصلہ
عدالتی فیصلے اور قانونی اصول کے مطابق، اگر کوئی بھائی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے اپنے والد سے زمین باقاعدہ رقم کے عوض خریدی تھی اور اس کا "انتقال بیع" (Mutation of Sale) یا رجسٹرڈ سیل ڈیڈ ہو چکی تھی، تب بھی بہنوں کا حقِ وراثت اتنی آسانی سے ختم نہیں ہوتا [00:23]۔
1. ثبوت کی بھاری ذمہ داری (Burden of Proof):
عدالت نے یہ واضح کیا ہے کہ جب بھی والد اور بیٹے کے درمیان کسی بھی قسم کی سیل ڈیڈ یا انتقالِ بیع کا تنازع سامنے آئے اور بہنیں اسے چیلنج کریں، تو رقم کی ادائیگی کا محض برائے نام ثبوت کافی نہیں ہوتا [00:29]۔ اصل اور حقیقی ثبوت فراہم کرنے کی تمام تر ذمہ داری بھائی (خریدنے والے) پر عائد ہوتی ہے [00:36]۔
2. بغیر کسی دباؤ اور آزادانہ رضا مندی (Free Consent):
اگر بینک ٹرانزیکشن یا رقم کی منتقلی کے شواہد موجود بھی ہوں، تب بھی بھائی کو عدالت میں یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ:
والد نے یہ فیصلہ مکمل طور پر اپنی آزادانہ مرضی اور بغیر کسی ذہنی یا جسمانی دباؤ کے کیا تھا [00:36]۔
والد پر کسی قسم کا جبر، دھونس، یا غلط بیانی (Misrepresentation/Undue Influence) استعمال نہیں کی گئی تھی [00:45]۔
والد کو اس معاہے کی تمام قانونی اور مالی باریکیوں کا علم تھا [00:45]۔
3. خاندانی تعلقات اور برائے نام بیع (Fiduciary Relationship):
قانون کی نظر میں والد اور بچوں کے درمیان کا تعلق "اعتماد کا تعلق" ہوتا ہے۔ جب ایسے رشتے کے درمیان جائیداد کی اتنی بڑی منتقلی ہو، تو عدالتیں اسے شک کی نظر سے دیکھتی ہیں تاوقتیکہ بھائی مکمل طور پر یہ ثابت نہ کر دے کہ یہ سودا واقعی مارکیٹ ویلیو پر ہوا تھا اور رقم کا استعمال والد نے اپنی مرضی سے کیا تھا۔
بہنوں کو محروم کرنے والے عام حیلے اور ان کی قانونی حقیقت
عموماً قانونی مشوروں کے ذریعے لوگ تملیق (Gift/Tamleek) کے بجائے بیع (Sale) کا ڈرامہ رچاتے ہیں تاکہ بعد میں کوئی اسے وراثت کا تنازع نہ بنا سکے [00:07]۔ لیکن عدلیہ کا یہ حالیہ فیصلہ اس قسم کی تمام چالاکیوں کا باب بند کرتا ہے:
فرضی دستاویزات کی منسوخی: اگر بیٹے یہ ثابت نہ کر سکیں کہ والد کو زمین کی اصل مارکیٹ قیمت ادا کی گئی تھی اور سودا شفاف تھا، تو عدالتیں اس قسم کی بیع اور انتقال کو کالعدم (Null & Void) قرار دے دیتی ہیں۔
وراثت کا بحال ہونا: جیسے ہی فرضی انتقالِ بیع منسوخ ہوتا ہے، وہ جائیداد دوبارہ والد کی متروکہ جائیداد (Inherited Property) شمار ہوتی ہے اور تمام شرعی وارثان (بشمول بہنوں) میں ان کے شرعی حصص کے مطابق تقسیم کی جاتی ہے۔
خواتین کے لیے اس فیصلے کی اہمیت
یہ فیصلہ ان تمام خواتین اور بہنوں کے لیے امید کی ایک بڑی کرن ہے جنہیں خاندانی دباؤ یا فرضی قانونی دستاویزات کے ذریعے جائیداد سے محروم کر دیا گیا تھا [00:52]۔
قانونی تحفظ: اب بھائی محض انتقال بیع دکھا کر اپنا پیچھا نہیں چھڑا سکتے۔
عدالتی رویہ: اعلیٰ عدلیہ نے خواتین کے شرعی حقوقِ وراثت کے تحفظ کے لیے سخت ترین معیار قائم کیے ہیں تاکہ کوئی بھی شخص جعل سازی یا اثرو رسوخ کے ذریعے بہنوں کا حق نہ مار سکے۔
اگر آپ یا آپ کا کوئی بھی واقف کار اس قسم کے خاندانی وراثتی تنازع کا شکار ہے، تو اس فیصلے کی روشنی میں عدالت سے رجوع کر کے اپنا شرعی اور قانونی حق حاصل کیا جا سکتا ہے [