Senate of Justice Law Firm

Call Directions Website

Senate of Justice Law Firm Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Senate of Justice Law Firm, Lawyer & Law Firm, Office no 84 tahir Wattoo block District Court multan, Multan.

Senate of Justice law Firm
Justice • Integrity • Excellence
Professional Legal Services & Consultancy
Civil | Criminal | Corporate | Family | Constitutional Matters
Contact Us for Legal Assistance
03457400872

Justice Raheel Kamran Resigned From His services..
03/09/2026

Justice Raheel Kamran Resigned From His services..

Our services
30/08/2026

Our services

10/08/2026

رات کے تین بجے ایک خاتون اپنے تین بچوں سمیت ہنڈا سِوک میں لاہور سے موٹروے کے ذریعے سیالکوٹ کی طرف جارہی تھی کہ اچانک گاڑی کا پٹرول ختم ہوگیا اور وہ بند ہوگئی۔ خاتون نے گوجرانوالہ میں اپنے ایک عزیز کو فون پر صورتِ حال بتائی، جس نے اسے کہا کہ وہ 130 ہیلپ لائن پر کال کرے۔ خاتون ابھی پٹرول کے انتظار میں کھڑی تھی کہ دو نامعلوم مسلح افراد آئے، گاڑی کا شیشہ توڑ کر اسے بچوں سمیت باہر نکالا اور جنگل میں لے گئے، جہاں دونوں نے یکے بعد دیگرے اس کا ریپ کیا۔ جاتے ہوئے وہ خاتون کا ہینڈ بیگ بھی ساتھ لے گئے، جس میں نقدی، زیورات اور تین عدد اے ٹی ایم کارڈ تھے۔

یہ 9 ستمبر 2020 کی رات تھی۔ ڈکیتی، ریپ، اقدامِ قتل اور دہشت گردی جیسی سنگین دفعات کے تحت FIR درج ہوگئی۔ جائے وقوعہ سے خون، متاثرہ خاتون کے کپڑوں سمیت دیگر شواہد اکٹھے کیے گئے۔ خاتون کا طبی معائنہ کیا گیا اور DNA تجزیے کیلئے نمونے حاصل کیے گئے۔ فرانزک لیبارٹری میں جب DNA کا تجزیہ ہوا تو ایک نمونہ ریکارڈ میں پہلے سے موجود ایک نمونے سے میچ ہوگیا۔ یہ نمونہ عابد ملہی نامی شخص کا تھا، جس کا ڈی این اے 2013 میں ایک پرانے مقدمے کے سلسلے میں محفوظ کیا گیا تھا۔ بعد ازاں جیو فینسنگ اور عابد ملہی کے کال ڈیٹا ریکارڈ کی مدد سے دوسرے ملزم شفقت عرف بگا کا سراغ بھی لگالیا گیا۔ شفقت کا DNA بھی جائے وقوعہ اور متاثرہ خاتون سے حاصل ہونے والے نمونوں سے میچ کرگیا۔

شفقت کو 14 ستمبر، جبکہ عابد ملہی کو تقریباً ایک ماہ بعد فیصل آباد کے قریب سے گرفتار کیا گیا۔ ملہی عادی مجرم نکلا، جس کیخلاف اس سے قبل بھی چوری، ڈکیتی اور ریپ کے مقدمات درج تھے۔ گرفتاری کے بعد ملزمان کی جیل میں شناخت پریڈ کروائی گئی۔ خاتون نے ڈمی افراد کی قطار میں سے دونوں ملزمان کو پہچان لیا۔

انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں ٹرائل چلا۔ استغاثہ کی جانب سے متاثرہ خاتون سمیت تقریباً 37 گواہان پیش کیے گئے۔ ملزمان نے صحتِ جرم سے انکار کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ انہیں جھوٹے مقدمے میں پھنسایا گیا ہے۔ ٹرائل کورٹ کے جج ارشد حسین بھٹہ نے 20 مارچ 2021 کو جرم ثابت ہونے پر دونوں ملزمان کو سزائے موت، عمر قید اور بھاری جرمانوں کی سزائیں سنائیں۔ ملزمان نے اس فیصلے کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیلیں دائر کردیں۔

جہاں ملزمان کے وکلاء نے دلائل دیے کہ وقوعہ رات کے اندھیرے میں پیش آیا، لہٰذا شناخت مشکوک ہے۔ مزید یہ کہ شناخت پریڈ بھی کافی تاخیر سے ہوئی۔ اکیلی متاثرہ خاتون کی گواہی کی بنیاد پر سزائے موت نہیں دی جاسکتی، جبکہ بچوں کو بھی عدالت میں بطور گواہ پیش نہیں کیا گیا۔ مقدمہ مشکوک ہے، انہیں بری کیا جائے۔

ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ نے گزشتہ جون میں کیس کی حتمی سماعت کی اور جسٹس طارق محمود باجوہ نے فیصلہ تحریر کیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ ملزمان کی شناخت درست طور پر ثابت ہوئی ہے۔ متاثرہ خاتون نے جیل میں مجسٹریٹ کے سامنے ملزمان کو بلا جھجک شناخت کیا۔ ملزمان کا یہ اعتراض کہ شناخت میں تاخیر ہوئی، درست نہیں، کیونکہ ملزمان مفرور تھے اور ان کی گرفتاری کے فوراً بعد بغیر کسی غیر ضروری تاخیر کے شناخت پریڈ کروائی گئی۔ نیز جب ملزمان نے حملہ کیا تو گاڑی کی لائٹس آن تھیں اور اسی دوران ایک اور گاڑی ہائی بیم لائٹس کے ساتھ وہاں سے گزری۔ اسکی روشنی میں اور وقوعے کے طویل دورانیے میں خاتون کو ملزمان کے چہرے واضح طور پر دیکھنے اور پہچاننے کا پورا موقع ملا۔

لیڈی ڈاکٹر کی رپورٹ کے مطابق خاتون کے جسم پر زخموں اور رگڑ کے نشانات موجود تھے، جن سے واضح ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی اور اس نے مزاحمت کی۔ ڈاکٹر نے بھی ریپ کی تصدیق کی۔ عابد ملہی کے طبی معائنے میں اس کی بائیں کہنی پر شیشے سے لگنے کا زخم پایا گیا، جو ثبوت تھا کہ اس نے گاڑی کا شیشہ توڑا تھا اور اسی دوران اس کا خون گاڑی پر گرا تھا۔

قانونِ شہادت کے تحت گواہوں کی تعداد نہیں بلکہ انکی گواہی کا معیار دیکھا جاتا ہے۔ زیادتی کا شکار خاتون کی گواہی اگر سچی، مضبوط اور قابلِ اعتماد ہو، اور اسے فرانزک شواہد کی تائید بھی حاصل ہو، تو اس کی اکیلی گواہی بھی ملزم کو سزا دینے کے لیے قانوناً کافی ہوسکتی ہے۔ فرانزک رپورٹ نے ثابت کیا کہ ملزمان کے ڈی این اے پروفائلز جائے وقوعہ سے ملنے والے نمونوں اور متاثرہ خاتون کے لباس سے حاصل کیے گئے نمونوں سے میچ کرتے ہیں۔

کم سن بچے کم عمری کے باعث عدالت میں گواہی دینے کے اہل نہیں تھے، لہٰذا انہیں بطور گواہ پیش نہ کیے جانے سے استغاثہ کے مقدمے پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا۔ ملزمان کو جھوٹا نہیں پھنسایا گیا، متاثرہ خاتون کی ملزمان سے کوئی سابقہ دشمنی نہیں تھی۔ ایک عزت دار عورت بلاوجہ اپنی اور اپنے خاندان کی عزت کو داؤ پر لگا کر کسی نامعلوم شخص پر جنسی زیادتی کا جھوٹا الزام عائد نہیں کرتی۔

تین کم سن بچوں کو جان سے مارنے کی دھمکی دے کر اغوا کرنا اور انہیں جنگل میں لے جاکر انکی مرضی کیخلاف حبسِ بے جا میں رکھنا واضح طور پر ایسے سنگین افعال ہیں جو انسدادِ دہشت گردی عدالت کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں۔

ملزمان نے رات کی تاریکی میں سنسان موٹروے پر پھنسی ہوئی ایک مجبور عورت اور اسکے معصوم بچوں کو اغوا کیا، بچوں کو قتل کرنے کی دھمکیاں دیں اور پھر خاتون کو گینگ ریپ کا نشانہ بنایا۔ اس انسانیت سوز جرم نے پورے معاشرے، بالخصوص خواتین میں خوف اور عدم تحفظ پیدا کیا۔ ایسے جرائم، جن میں انسانی وقار کی اس حد تک پامالی کی جائے، کسی ہمدردی یا رعایت کے مستحق نہیں۔ لہٰذا ٹرائل کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت بالکل درست ہے۔

ہائیکورٹ نے ملزمان کی اپیلیں خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کی جانب سے دی گئی تمام سزائیں برقرار رکھیں۔

از: محمد رضوان ایڈووکیٹ ہائیکورٹ، لاہور

Our Corporate Services
10/08/2026

Our Corporate Services

22/07/2026

Congratulations to new appointed additional judges of Lahore high court
‏لاہور ہائیکورٹ میں نئے ججز کی تقرریوں کا معاملہ

‏چیف جسٹس پاکستان کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس

‏اجلاس میں سید فرہاد علی شاہ کو لاہور ہائیکورٹ کا جج بنانے کی منظوری

‏امجد پرویز کو لاہور ہائیکورٹ کا جج بنانے کا منظوری

‏اسد باجوہ کو لاہور ہائیکورٹ کا جج بنانے کی منظوری

‏ غلام سرور نہنگ کو لاہور ہائیکورٹ کا جج بنانے کی منظوری

‏شیریں عمران کو لاہور ہائیکورٹ کا جج بنانے کی منظوری

‏عثمان غنی راشد چیمہ کو لاہور ہائیکورٹ کا جج بنانے کی منظوری

‏منور دوگل کو لاہور ہائیکورٹ کا جج بنانے کی منظوری

‏امیر عجم ملک کو لاہور ہائیکورٹ کا جج بنانے کی منظوری

‏خالد ابن عزیز کو لاہور ہائیکورٹ کا جج بنانے کی منظوری

‏اجمل خان کو لاہور ہائیکورٹ کا جج بنانے کی منظوری

27/06/2026

عدالت میں گواہ کا بیان ریکارڈ ہونا صرف سوال و جواب کا عمل نہیں بلکہ ایک مکمل فن ہے۔ خصوصاً جرح وہ مرحلہ ہے جہاں ایک وکیل کی قانونی مہارت، نفسیات کی سمجھ، مشاہدہ اور حکمتِ عملی کا حقیقی امتحان ہوتا ہے۔

اکثر لوگ Examination-in-Chief اور جرح کو ایک ہی چیز سمجھتے ہیں، حالانکہ دونوں میں بنیادی فرق ہے۔

Examination-in-Chief میں گواہ کو اپنا مؤقف خود بیان کرنے دیا جاتا ہے۔ اس مرحلے پر عموماً Leading Questions نہیں پوچھے جا سکتے۔

جبکہ جرح میں ایک ماہر وکیل پہلے سے طے شدہ حکمتِ عملی کے تحت آگے بڑھتا ہے۔ ہم عموماً ہر معاملے کو Theme-wise لے کر چلتے ہیں۔ ایک موضوع کو مکمل کرتے ہیں، اس سے متعلق تمام ضروری سوالات پوچھتے ہیں، اور آخر میں اسی موضوع پر اپنی Suggestion دیتے ہیں تاکہ عدالت کے سامنے یہ بات واضح ہو جائے کہ گفتگو کس واقعے یا پہلو سے متعلق تھی۔

میرے نزدیک جرح کا مقصد کسی گواہ کو الجھانا یا تنگ کرنا نہیں، بلکہ عدالت کو حقیقت تک پہنچنے میں مدد دینا ہے۔

اسی طرح جس فریق کے گواہ یا کلائنٹ پر جرح ہو رہی ہو، اس کے وکیل کی بھی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ مقدمے سے پہلے اپنے کلائنٹ کو اچھی طرح تیار کریں، لیکن جب عدالت میں جرح شروع ہو جائے تو پھر اسے اعتماد کے ساتھ جواب دینے دیں۔ ہر سوال پر بلاوجہ مداخلت، غیر ضروری اعتراضات یا رکاوٹیں کھڑی کرنا ہمیشہ دانشمندانہ حکمتِ عملی نہیں ہوتی۔

ایک اچھا وکیل عدالت کی معاونت کرتا ہے، انصاف کے عمل کو آسان بناتا ہے، اور اپنے پیشہ ورانہ رویے سے ثابت کرتا ہے کہ اس کا مقصد صرف مقدمہ جیتنا نہیں بلکہ عدالت کو درست فیصلہ کرنے میں مدد دینا بھی ہے۔

میں ہمیشہ کہتا ہوں:

“جرح کا مقصد جھوٹ کو چھپانا نہیں، بلکہ سچ کو عدالت کے سامنے لانا ہے۔”

قانون صرف کتابوں میں لکھی دفعات کا نام نہیں، بلکہ انہیں عدالت میں مؤثر انداز سے پیش کرنے کا فن بھی ہے، اور اس فن کا سب سے خوبصورت اظہار جرح ہے۔

⬅️ ٹیکس ریٹرن کی ٹینشن ختم نان فائلر ہیں؟ تو نقصان ہی نقصان... فائلر بنیں، سکون پائیں ❗  ٹیکس آدھا، ویزا آسان، قانونی تح...
14/06/2026

⬅️ ٹیکس ریٹرن کی ٹینشن ختم

نان فائلر ہیں؟ تو نقصان ہی نقصان...
فائلر بنیں، سکون پائیں ❗
ٹیکس آدھا، ویزا آسان، قانونی تحفظ مکمل.

انکم ٹیکس ریٹرن - سیلری اور بزنس - فائل کروائیں
رابطے کے لیے Inbox کریں

پنجاب حکومت کا بڑا قدم30 جون کے بعد مینوئل پٹوار خانے سے فرد کا اجرا مکمل بنداب زمین کی ملکیت کے لیے جدید 'گرین سرٹیفکیٹ...
08/06/2026

پنجاب حکومت کا بڑا قدم

30 جون کے بعد مینوئل پٹوار خانے سے فرد کا اجرا مکمل بند
اب زمین کی ملکیت کے لیے جدید 'گرین سرٹیفکیٹ لیٹر' جاری ہوگا۔
شفاف، ڈیجیٹل اور آسان نظام کی طرف ایک اہم پیش رفت!

کوئی مائی دا لعل آکے سانوں ٹکرے : لاہور ہائیکورٹ کے ایک نائب قاصد نے ایس ایچ او سمیت 5 پولیس اہلکار نوکری سے برخواست کرو...
03/06/2026

کوئی مائی دا لعل آکے سانوں ٹکرے : لاہور ہائیکورٹ کے ایک نائب قاصد نے ایس ایچ او سمیت 5 پولیس اہلکار نوکری سے برخواست کروا کے جیل بھجوا دیے ۔۔۔۔ کچھ روز قبل پیش آیا سبق آموز واقعہ ۔۔۔پنجاب پولیس نے نائب قاصد کے گھر پر ریڈ کیوں کیا ؟ اس کیس کی سماعت لاہور ہائیکورٹ میں ہوئی ۔ دو روز قبل سماعت پر متعلقہ ڈی پی او عدالت عالیہ کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے جس پر لاہور ہائیکورٹ نے ریجنل پولیس آفیسر کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا تھا۔عدالت نے ریجنل پولیس آفیسر سے استفسار کیا کہ کیا قانون کے مطابق پنجاب پولیس لاہور ہائی کورٹ کے اہلکار کے گھر پر ریڈ کر سکتی ہے اور اسے گرفتار کر سکتی ہے۔جس پر سرکاری وکیل نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ اگر لاہور ہائی کورٹ کے ملازمین کے خلاف مقدمہ درج ہو جائے تو اس صورت میں پنجاب پولیس ہائی کورٹ ملازم کے گھر پر ریڈ نہیں کر سکتی اور نہ ہی گرفتار کر سکتی ہے۔قانونی طور پر رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ سے اجازت لینے کے بعد اہلکار کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔جس پر عدالت عالیہ نے پوچھا کہ کیا رجسٹرار صاحب سے اجازت لی گئی تھی۔جس پر سرکاری وکیل نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ رجسٹرار صاحب سے اجازت نہیں لی گئی تھی پولیس نے جان بوجھ کر اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھایا جس پر عدالت عالیہ نے پوچھا کہ کیا پولیس کے خلاف کوئی کاروائی کی گئی ۔جس پر سرکاری وکیل نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ ریجنل پولیس آفیسر ایک رپورٹ لے کر آئے ہیں جس میں اس معاملے میں ملوث پانچ پولیس اہلکاروں کو نوکری سے فارٖغ کر دیا گیا ہے جس میں ایک ایس ایچ او۔ ایک اے ایس ائی اور تین کانسٹیبل شامل ہیں ان تمام لوگوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔انکوائری کے دوران پانچ پولیس اہلکار ملوث پائے گئے جس پر مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے اور تمام اہلکاروں کو گرفتار کر کے جوڈیشل جیل بھیج دیا گیا ہے۔عدالت عالیہ نے مزید پوچھا کہ نائب قاصد کے گھر سے پولیس نے جو سامان اٹھایا ہے وہ کہاں ہے۔جس پر متعلقہ ریجنل پولیس آفیسر نے روسٹرم پر آ کر بتایا کہ متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف ڈ۔کیتی ک مقدمہ الگ سے درج کیاگیا ہے اور تمام سامان اور نقد رقم آج متعلقہ نمبردار کی موجودگی میں پہنچ جائے گی۔پولیس اہلکاروں کو ڈ۔کیتی کے مقدمے میں ریمانڈ پر لانا ہے لہذا وقت دیا جائے کہ میرٹ پر تفتیش کر کے پولیس اہلکاروں کو سزا دی جائے گی ۔لاہور ہائیکورٹ نے ریجنل پولیس آفیسر کی استدعا منظور کرتے ہوئے مورخہ 29 جون 2026 کو دفعہ 173 کی مکمل کاروائی رپورٹ کے ساتھ پیش ہونے کا حکم دے دیا ہے ۔

Address

Office No 84 Tahir Wattoo Block District Court Multan
Multan
66000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Senate of Justice Law Firm posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share