Motivated Lawyers

Motivated Lawyers Law is the protection for every citizen For this mentioned purpose, page has been created. Thank you.

Team "Language of Law" is working on the basics of law to make an ease way to learn the law for junior lawyers as well as common public. Stay in touch and inbox is always open to ask the queries at any time, your suggestions always would be welcomed.

جعلی وکیل  پکڑنے کا طریقہپنجاب بار کونسل کا شاندار اقدام — اب جعلی و اصلی وکیل کی شناخت چند سیکنڈ میں ممکنعوام کی سہولت،...
25/06/2026

جعلی وکیل پکڑنے کا طریقہ
پنجاب بار کونسل کا شاندار اقدام —
اب جعلی و اصلی وکیل کی شناخت چند سیکنڈ میں ممکن
عوام کی سہولت، قانونی پیشے کے وقار کے تحفظ اور شفافیت کے فروغ کے لیے پنجاب بار کونسل نے Lawyer Verification Portal متعارف کرا دیا ہے۔
اب اگر آپ کسی وکیل کی حیثیت اور رجسٹریشن کی تصدیق کرنا چاہتے ہیں تو صرف اس کا شناختی کارڈ نمبر (CNIC) یا رجسٹرڈ موبائل نمبر درج کرکے معلوم کر سکتے ہیں کہ آیا وہ پنجاب بار کونسل کے ساتھ باقاعدہ رجسٹرڈ وکیل ہے یا نہیں۔
یہ اقدام جعلی وکلاء کی نشاندہی، عوام کو دھوکہ دہی سے بچانے اور قانونی نظام پر اعتماد کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
✔ وکیل کی خدمات حاصل کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کریں۔
✔ اپنے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے مستند وکیل کا انتخاب کریں۔
✔ جعلی وکلاء سے ہوشیار رہیں اور پنجاب بار کونسل کے پورٹل سے فوری جانچ کریں۔
وکیل کی تصدیق کے لیے:
https://portal.pbbarcouncil.com/pbc-lawyers?fbclid=IwdGRzaASpvF9jbGNrBKm8TmV4dG4DYWVtAjExAHNydGMGYXBwX2lkDDM1MDY4NTUzMTcyOAABHt5gNNxR1pwYu0a4KR2T9kF-xYaBUuAyTOvyTuyJfm1hLTbFIUwfAolnTHcL_aem_KldDThSN2tqmvDwc1YPl1A
مستند وکیل، محفوظ قانونی رہنمائی اور مضبوط نظامِ انصاف کی ضمانت ہے۔

The Punjab Bar Council has launched the Lawyer Verification Portal a significant step towards transparency, accountability, and protecting the integrity of the legal profession.

The portal allows the public to verify whether an advocate is officially enrolled with the Punjab Bar Council by simply entering the lawyer’s CNIC number or registered mobile number.

This initiative will help curb the practice of fake lawyers, strengthen public confidence in the legal system, and uphold the dignity of the legal community.

🔗 Verify a lawyer here:
https://portal.pbbarcouncil.com/pbc-lawyers

حکومت ‏پاکستان نے ملک بھر کے چھوٹے دکانداروں کے لئے فکسڈ ٹیکس سکیم کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ 20 کروڑ یا اس سے کم سالانہ فر...
11/06/2026

حکومت ‏پاکستان نے ملک بھر کے چھوٹے دکانداروں کے لئے فکسڈ ٹیکس سکیم کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ 20 کروڑ یا اس سے کم سالانہ فروخت والے دکاندار اس سکیم کا حصہ بن سکتے ہیں جس کے تحت دکاندار اپنی آمدن پر ایک فیصد فکسڈ ٹیکس ادا کریں گے۔ دکاندار ودہولڈنگ ٹیکس بھی ایڈجسٹ کر اسکیں گے البتہ یہ شرط لاگو ہوگی کہ گوشوارہ جمع کراتے وقت کم از کم 25 ہزار روپے نقد جمع کرانے ہوں گے۔

سکیم کا حصہ بننے والے دکاندار کو ایف بی آر کی طرف سے رجسٹریشن پلیٹ ملے گی جو وہ اپنی دکان کے باہر آویزاں کرے گا۔ اس پلیٹ کی موجودگی میں کوئی ٹیکس اہلکار جانچ پڑتال کے لیے دکان میں داخل نہیں ہوسکے گا۔

10/06/2026

قومی بچت کی اسکیموں پر منافع کی نئی شرح کا اعلان کر دیا گیا
اس حوالے سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق بہبود اور پنشن اکاؤنٹ میں شرح منافع میں 1.2 فیصد اضافہ کر دیا گیا جو 12 سے بڑھ 13.2 فیصد ہوگئی۔
اعلامیے کے مطابق قومی بچت کے شریعہ سروا اکاؤنٹ میں منافع کی شرح 0.9 فیصد بڑھا کر 11.88 فیصد کر دی گئی، اسپیشل سیونگ سرٹیفکیٹس پر شرح منافع میں 0.54 فیصد اضافہ کر دیا گیا جس کے بعد نئی شرح 12.11 فیصد ہوگئی۔
اعلامیے میں بتایا گیا کہ ریگولر انکم سرٹیفکیٹ پر شرح منافع 0.042 فیصد بڑھا 12.24 فیصد کر دی گئی، اس طرح شارٹ ٹرم سیونگ سرٹیفکیٹ پر شرح منافع 0.54 فیصد بڑھا 1 لاکھ پر 11770 کر دی گئی۔
قومی بچتوں اسکیموں کی نئے شرح منافع کا اطلاق 10 جون سے ہوگا۔مکمل تفضیل بہت جلد شائع کی جائیں گی

09/06/2026

*پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 میں 2026 کی تاریخی ترامیم: "کاغذ سے کلاؤڈ تک"*

*21 مئی 2026* کو پنجاب اسمبلی نے "The Punjab Land Revenue Amendment Act 2026" منظور کر کے 1967 کے 58 سال پرانے نظام کی جڑیں ہلا دیں۔ یہ ترامیم محض الفاظ کی تبدیلی نہیں، بلکہ پنجاب کی 6 کروڑ عوام کی زمین کا نظام "پٹواری کلچر سے ARC کلچر" کی طرف شفٹ کر گئی ہیں۔

*1. مسئلہ کیا تھا؟ 3 بڑی بیماریاں*
1. *تاخیر*: وراثتی تقسیم 20-25 سال۔ "دادا کا کیس، پوتا لڑ رہا تھا"
2. *بدعنوانی*: انتقال = پٹواری کی جیب۔ بغیر 20-50 ہزار کام نہیں ہوتا تھا
3. *لٹکاؤ*: AC کا فیصلہ → کلکٹر اپیل → کمشنر ریویژن → بورڈ ریویژن → سول کورٹ۔ ایک کیس 4 فورم پر

*2. 2026 کا حل: 7 انقلابی تبدیلیاں*

*1. رجسٹری = انتقال*
اب رجسٹرار کی ڈیجیٹل اطلاع ملتے ہی زمین ریکارڈ خود اپ ڈیٹ ہو جائے گی۔ AC صرف 1 ماہ میں "تصدیق" کرے گا۔ پٹواری کے چکر ختم۔ PLRA + ای-اسٹامپ + لینڈ ریکارڈ ایک ہو گئے۔

*2. تقسیم 60 دن میں، لازمی*
نئی دفعہ 142-A: وراثتی انتقال منظور ہوتے ہی AC کے پاس 60 دن کی ڈیڈ لائن۔ فیصلہ نہ کیا تو کیس خود کلکٹر کے پاس چلا جائے گا اور AC کے خلاف محکمانہ کارروائی۔ تاریخ پر تاریخ کا کھیل ختم۔

*3. AC کو مکمل اختیار*
دفعہ 44، 117، 141 کے تحت اب تحصیلدار خود:
- زمین کے عنوان کا تنازعہ سنے گا
- ناجائز قابض سے 10,000 جرمانہ لے کر قبضہ واپس دلائے گا
- حدبندی کرے گا، پولیس ساتھ لے جائے گا

*4. سول کورٹ کا دروازہ بند*
دفعہ 172: زمین کا ریکارڈ، انتقال، تقسیم، حدبندی - یہ سب "ریونیو کا کام" ہے۔ سول کورٹ دخل نہیں دے سکتی۔ 30 سال کی فورم شاپنگ ختم۔

*5. جرمانے 200 گنا بڑھ گئے*
دفعہ 118: حدبندی میں رکاوٹ = 50 روپے سے 10,000 روپے
دفعہ 175-A: ریکارڈ میں جعل سازی = 500 روپے سے 1 لاکھ روپے
دفعہ 134: ریکارڈ میں ردوبدل = کلکٹر 10 لاکھ تک جرمانہ کرے گا

*6. "بھائی خود بانٹ لو" سکیم*
نئی دفعہ 135-A: ورثاء اگر آپس میں راضی ہیں تو 1 سال کے اندر "پرائیویٹ پارٹیشن اسکیم" AC سے تصدیق کروا لیں۔ AC صرف چیک کرے گا۔ نہ بانٹو تو AC 60 دن میں زبردستی بانٹ دے گا۔

*7. ڈیجیٹل نوٹس + ڈیجیٹل سروے*
دفعہ 6: سمن اب واٹس ایپ، SMS، ای میل پر بھی جائے گا۔ 7 دن کا وقت۔
دفعہ 119: موضع کی GPS/ڈرون سروے کا خرچہ مالکان دیں گے۔ نہ دو تو زمین سے وصولی۔

*3. عام آدمی کو کیا فائدہ؟*
1. *زمین بیچو*: رجسٹری کرو، گھر جاؤ۔ انتقال خود ہو جائے گا
2. *وراثت لو*: والد کے مرنے کے بعد 60 دن میں زمین اپنے نام + حصہ الگ
3. *قبضہ چھڑاؤ*: کسی نے زمین دبا لی؟ AC کو درخواست دو، وہ ناپ کر پولیس کے ساتھ واپس دلائے گا
4. *فراڈ سے بچو*: جھگڑے والی زمین پر AC فوراً "فروخت ممنوع" لگا دے گا۔ کوئی بیچ نہیں سکے گا

*4. نتیجہ: 1 لائن کا خلاصہ*
2026 کی ترامیم کا مقصد صرف ایک ہے: *"زمین کا انصاف 120 دن میں، پٹواری کے بغیر، سول کورٹ کے بغیر"*۔

یہ ایکٹ 21 مئی 2026 سے پورے پنجاب میں نافذ ہے۔ اب اگر آپ کی زمین کا کوئی مسئلہ ہے تو وکیل کے بجائے تحصیلدار کے دفتر جائیں اور دفعہ 142-A کے تحت درخواست دیں۔ 60 دن کی ڈیڈ لائن قانون نے لکھ دی ہے۔

زمین اب کاغذ پر نہیں، کلاؤڈ پر ہے۔ اور انصاف اب فائل پر نہیں، ڈیڈ لائن پر ہے۔

03008862146
M.Umair Jutt Advocate 🖊️

پنجاب میں ویپ اور پوڈ پر مکمل پابندی: قوانین اور کارروائیپنجاب حکومت نے صوبے بھر میں ویپ اور پوڈ کے استعمال اور فروخت پر...
07/06/2026

پنجاب میں ویپ اور پوڈ پر مکمل پابندی: قوانین اور کارروائی
پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں ویپ اور پوڈ کے استعمال اور فروخت پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ اس اقدام کے تحت تعلیمی اداروں اور مارکیٹوں میں سخت کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیا ہے۔
نئے قوانین کے مطابق:
پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کی جائے گی۔
ملزمان کو 6 ماہ قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
5 لاکھ روپے تک جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔
عوام سے گزارش ہے کہ ان قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔

*نیا انکم ٹیکس ریٹرن فارم 2026: آسان ریٹرن کا دور ختم، مکمل مالی شفافیت کا آغاز*فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹیکس سال 2026 کے...
02/06/2026

*نیا انکم ٹیکس ریٹرن فارم 2026: آسان ریٹرن کا دور ختم، مکمل مالی شفافیت کا آغاز*

فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹیکس سال 2026 کے لیے نیا مجوزہ الیکٹرانک انکم ٹیکس ریٹرن فارم جاری کر دیا ہے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق یہ ڈرافٹ فارم *SRO 835(I)/2026* کے تحت جاری کیا گیا ہے اور اسٹیک ہولڈرز، ٹیکس پریکٹیشنرز، بزنس کمیونٹی اور ٹیکس گزاروں سے سات دن کے اندر تجاویز اور اعتراضات طلب کیے گئے ہیں۔ یہ فارم ابھی حتمی نہیں بلکہ مجوزہ مرحلے میں ہے، مگر اس کے خدوخال یہ بتا رہے ہیں کہ ایف بی آر اب ریٹرن کو صرف آمدنی کے ایک سادہ بیان کے بجائے مکمل مالی سرگرمیوں کی سالانہ سمری بنانا چاہتا ہے۔

اس نئے فارم کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ ٹیکس گزار کو اب اپنی معاشی سرگرمیوں کی تفصیل زیادہ منظم انداز میں دینی ہوگی۔ ایف بی آر کے ڈرافٹ انسٹرکشنز کے مطابق سسٹم میں موجود معاشی لین دین کا ڈیٹا اشارتی ہوگا اور وقت کے ساتھ اپڈیٹ ہوتا رہے گا، مگر درست آمدنی اور درست ٹیکس رپورٹ کرنا پھر بھی ٹیکس گزار کی اپنی ذمہ داری رہے گی۔

*تنخواہ دار طبقہ سب سے پہلے متاثر ہوگا*

نئے فارم میں تنخواہ دار افراد کو صرف سالانہ تنخواہ لکھنے سے کام نہیں چلے گا۔ انہیں اپنے ایمپلائر کا نام، رجسٹریشن نمبر اور سال بھر میں کاٹے گئے ٹیکس کی تفصیلات بھی فراہم کرنا ہوں گی۔ اس کا عملی اثر یہ ہوگا کہ اگر کوئی کمپنی اپنے ملازمین کی تنخواہ سے قانون کے مطابق ٹیکس نہیں کاٹ رہی تو ریٹرن فائل کرنے والے ملازمین کے ڈیٹا سے ایف بی آر کو فوراً اندازہ ہو جائے گا کہ فلاں ایمپلائر نے تنخواہ دی مگر ودہولڈنگ ٹیکس جمع نہیں کرایا۔

یہاں سے *سیکشن 161* کے تحت ایمپلائر کے خلاف کارروائی کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے، کیونکہ جہاں ودہولڈنگ ایجنٹ ٹیکس کاٹنے کا پابند تھا مگر اس نے ٹیکس نہیں کاٹا، وہاں محکمہ اس واجب الادا رقم کا مطالبہ ودہولڈنگ ایجنٹ سے کر سکتا ہے۔ اسی لیے تنخواہ دار افراد اور ایمپلائرز دونوں کو جون 2026 کے اختتام سے پہلے اپنی ودہولڈنگ پوزیشن درست کر لینی چاہیے۔

*کرایہ، زرعی آمدنی اور دیگر آمدنی میں بھی تفصیل لازمی ہوگی*

پہلے کئی ٹیکس گزار پراپرٹی انکم، دیگر آمدنی یا زرعی آمدنی کو ایک ہی مجموعی رقم کے طور پر ظاہر کر دیتے تھے۔ اب رجحان یہ ہے کہ ہر پراپرٹی، ہر ادارے، ہر ذریعہ آمدنی اور زرعی زمین کی تفصیلات الگ الگ مانگی جائیں گی۔ پراپرٹی رینٹ کی صورت میں یہ بتایا جائے گا کہ کس پراپرٹی سے کتنا کرایہ آیا، اس کے خلاف کون سے قابل قبول اخراجات کلیم کیے گئے، اور خالص آمدنی کیا بنی۔

اسی طرح زرعی آمدنی میں صرف ایک رقم لکھ دینا کافی نہیں رہے گا۔ زرعی زمین کی جگہ، کھاتہ یا سروے نمبر، رقبہ، فصل، آمدنی اور متعلقہ صوبائی ریکارڈ سے مطابقت اہم ہو سکتی ہے۔ سندھ، پنجاب اور دیگر صوبوں میں زرعی آمدنی کے صوبائی قوانین کے تحت پہلے سے جمع شدہ ریکارڈ کو انکم ٹیکس ریٹرن سے ہم آہنگ رکھنا ضروری ہوگا۔

*کاروباری طبقے کے لیے سب سے بڑا خطرہ: ودہولڈنگ ٹیکس کی کراس میچنگ*

نئے فارم کا اصل مقصد صرف آمدنی پوچھنا نہیں بلکہ پورے مالی نظام کو کراس میچ کرنا ہے۔ کاروباری ادائیگیاں، وصولیاں، ودہولڈنگ ٹیکس، بینک ٹرانزیکشنز، سپلائرز اور کسٹمرز کا ڈیٹا ایک دوسرے سے ملایا جا سکے گا۔ اگر ایک شخص اپنے ریٹرن میں کسی کمپنی سے آمدنی یا ادائیگی ظاہر کرتا ہے، مگر دوسری طرف کمپنی نے اس پر ٹیکس نہیں کاٹا یا جمع نہیں کرایا، تو ایف بی آر کے لیے سیکشن 161 کے تحت سوال اٹھانا آسان ہو جائے گا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اب ریٹرن فائلنگ صرف “آمدنی لکھنے” کا کام نہیں رہے گا بلکہ ہر رقم کے پیچھے یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ کاروباری ہے یا نان بزنس، قابل ٹیکس ہے یا نہیں، اس پر ٹیکس کٹنا چاہیے تھا یا نہیں، اور اگر کٹا ہے تو CPR یا ودہولڈنگ اسٹیٹمنٹ سے اس کا ثبوت موجود ہے یا نہیں۔

*ریفنڈ سسٹم میں ممکنہ بہتری*

ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ نئے فارم میں ریفنڈ کے لیے بینک اکاؤنٹ اور ودہولڈنگ ڈیٹا کو زیادہ منظم طریقے سے شامل کرنے کا تصور نظر آتا ہے۔ اگر یہ نظام عملی طور پر درست کام کرے تو ٹیکس گزار کو ریفنڈ کے لیے بار بار ٹیکس آفس جانے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ سہولت اسی وقت کارآمد ہوگی جب ودہولڈنگ سرٹیفکیٹس، CPRs، بینک اکاؤنٹ، CNIC/NTN اور ریٹرن کا ڈیٹا آپس میں مکمل طور پر میچ کر رہا ہو۔

*فارم مئی میں جاری ہونا ایک بڑا اشارہ ہے*

عام طور پر ریٹرن فارم جولائی کے قریب آتے رہے ہیں، لیکن اس سال مئی میں ڈرافٹ فارم سامنے آنا اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت ممکنہ طور پر فائلنگ سیزن کو یکم جولائی 2026 سے منظم طریقے سے شروع کرنا چاہتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ٹیکس ماہرین بھی یہی سمجھتے ہیں کہ جلد ڈرافٹ جاری کرنے کا مقصد ٹیکس گزاروں کو یکم جولائی سے 30 ستمبر 2026 تک مکمل فائلنگ وقت دینا ہو سکتا ہے۔

*ٹیکس گزاروں کے لیے عملی احتیاط*

ٹیکس سال 2026 کے لیے ہر ٹیکس گزار کو 30 جون کے بعد فوراً اپنا مکمل ڈیٹا ترتیب دینا چاہیے۔ بینک اسٹیٹمنٹ، تنخواہ سرٹیفکیٹ، کرایہ نامہ، پراپرٹی تفصیل، زرعی آمدنی کا ریکارڈ، خرید و فروخت، ودہولڈنگ سرٹیفکیٹس، CPRs، گاڑی، جائیداد، بینک بیلنس اور سرمایہ کاری کی مکمل تفصیل پہلے سے تیار رکھی جائے۔

تنخواہ دار افراد خاص طور پر اپنے ایمپلائر سے یہ تصدیق کریں کہ ان کی تنخواہ سے قانون کے مطابق ٹیکس کاٹا اور جمع کرایا گیا ہے یا نہیں۔ اگر ایمپلائر نے ٹیکس نہیں کاٹا اور ملازم نے ریٹرن میں تنخواہ ظاہر کر دی تو بعد میں ایمپلائر پر ٹیکس، ڈیفالٹ سرچارج اور جرمانے کا معاملہ بن سکتا ہے۔ پھر ایمپلائر ملازم سے رقم مانگے گا، جبکہ ملازم یہ کہے گا کہ اس نے اپنی طرف سے ریٹرن کے ساتھ ٹیکس ادا کر دیا تھا۔ اس لیے بہتر ہے کہ جون کے اندر اندر سالانہ ٹیکس کی پوزیشن صاف کر لی جائے۔

نیا ریٹرن فارم بظاہر مشکل، تفصیلی اور عام آدمی کے لیے پیچیدہ ہے، مگر اس کا پیغام واضح ہے: اب ایف بی آر صرف اعلان کردہ آمدنی نہیں دیکھے گا بلکہ بینک، ودہولڈنگ، کاروباری لین دین، تنخواہ، کرایہ، زرعی آمدنی اور دیگر معاشی سرگرمیوں کو ایک دوسرے سے ملا کر دیکھے گا۔

لہٰذا اس سال ریٹرن فائلنگ میں جلد بازی، اندازے، غیر مکمل بینک سمری، یا بغیر قانونی سمجھ بوجھ کے فارم جمع کرانا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ہر ٹیکس گزار کو چاہیے کہ وہ اپنا ریٹرن کسی ایسے ماہر سے تیار کرائے جو صرف فارم بھرنا نہ جانتا ہو بلکہ قانون، اکاؤنٹس، بینکنگ ٹرانزیکشنز، ودہولڈنگ ٹیکس اور قابل قبول اخراجات کی مکمل سمجھ رکھتا ہو۔

ٹیکس ریٹرن اب صرف ایک سالانہ رسم نہیں رہا، بلکہ آپ کی مکمل مالی پروفائل کا قانونی بیان بن چکا ہے۔ اس لیے احتیاط، تیاری اور درست مشاورت ہی بہترین تحفظ ہے.

Corporate Lawyer & Tax Consultant
M.Umair Jutt Adv
Member- MTBA
03008862146

Address

New Multan Colony Multan
Multan
60000

Telephone

+923008862146

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Motivated Lawyers posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Motivated Lawyers:

Share